مٹی کی کشش

کھٹ پٹ کی آواز سن کر میں نے دروازہ کھولا، تو سامنے میری ہی عمر کا ایک لڑکا سفری بیگ اٹھائے کھڑا تھا۔ بھرے بھرے جسم کے ساتھ نکلتا ہوا قد اس کی شخصیت کو مزید پرکشش بنا رہا تھا۔ اس کے چہرے کی معصومیت کسی شیر خوار بچے کی سی تھی، لیکن ان سب سے خاص اس کی آنکھیں تھیں۔ پتا نہیں کیا تھا، ان آنکھوں میں، میں آج تک نہیں جان پایا۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ میں زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں جھانک نہیں سکا تھا۔ ’’میرا نام علی ہے اور میں آپ کا نیا روم میٹ ہوں۔‘‘ اس نے سلام کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ میں اس کی شخصیت کے سحر میں اس طرح جکڑا ہوا تھا کہ مجھے دھیان ہی نہیں رہا کہ اسے سلام کروں اور اندر آنے کے لیے راستہ دوں۔ خیر، یہ علی سے میرا پہلا تعارف تھا۔ میں یونیورسٹی ہاسٹل میں رہتا تھا اور یہ میرا ہاسٹل میں پانچواں سال تھا۔ ان پانچ برسوں کے دوران بہت سے لڑکے میرے روم میٹ بنے۔ طلبہ سیاست میں حصہ لینے کی وجہ سے میرا حلقۂ احباب کافی وسیع تھا، لیکن نہ جانے کیوں، علی مجھے ان سب لڑکوں سے ذرا مختلف لگا۔ اتفاقاً میرا اور علی کا ڈیپارٹمنٹ بھی ایک ہی تھا۔ وہ بہت خاموش مزاج تھا۔ کلاس میں اس نے کبھی کسی سے بات یا دوستی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ عجیب سی پراسراریت تھی اس میں۔ ٹیچرز اسے بہت پسند کرتے تھے کیوں کہ اس کا مطالعہ کلاس کے تمام طلبہ سے زیادہ وسیع تھا اور پھر ذہانت کے ساتھ ساتھ حاضر جوابی نے تو اسے بیشتر ٹیچرز کا پسندیدہ ہی بنا دیا تھا۔

اسے کبھی ہم نے کسی لڑکی سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے، ان کا نمبر مانگتے یا پھر ان سے نوٹس کے تبادلے کا بہانہ کر کے راہ و رسم بڑھانے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا۔ اس کی اسی بے نیازی کی وجہ سے کسی نے کلاس میں یہ بات اڑادی کہ ’’علی کی بات کہیں پکی ہوچکی ہے، اس لیے وہ کسی لڑکی کو لفٹ نہیں دیتا۔‘‘ جب کہ کچھ کا خیال تھا کہ یونیورسٹی کے باہر اس کی کئی لڑکیوں سے دوستی ہے، بس یونیورسٹی میں اپنا امیج بنانے کے لیے وہ اسی طرح بے نیازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بہرحال جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن اس کے باوجود میں نے کبھی اسے کسی بات کا برا مناتے، اپنے حوالے سے کی جانے والی باتوں کی تردید یا اپنے بارے میں کسی قسم کی صفائی پیش کرتے نہیں دیکھا۔ ایک ہی کمرے میں رہنے کی وجہ سے ہماری تھوڑی بہت بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ میں نے کئی بار اسے کریدنے، اس کے اور اس کے گھر والوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کی، لیکن وہ بہت گہرا تھا۔ اپنے بارے میں میرے کئی سوال پوچھنے کے بعد اس نے صرف اتنا بتایا کہ وہ بالکل اکیلا ہے۔ والدین کا انتقال ہوچکا ہے اور رشتے داروں میں ایک دور کے چچا ہیں، جو گاؤں میں رہتے ہیں اور ان ہی سے بس تھوڑا بہت تعلق ہے۔

وقت کے آنچل سے لپٹے دن اسی طرح گزرتے رہے۔ دنیا میں شاید وقت ہی ایک ایسی چیز ہے، جس پر امیر اور غریب، آقا اور غلام کسی کا بس نہیں چلتا۔ سب اس کے آگے بے بس ہیں۔ اسے روکنے، تھامنے کی خواہش تو فرعونوں کی بھی تھی، مگر وقت تو بے رحم موجوں کی طرح، کسی کا لحاظ کیے بغیر گزر جاتا ہے۔

یونیورسٹی میں ہمارا آخری سال تھا۔ اس عرصے میں علی ہمارے گروپ کے ساتھ، جس میں دو لڑکیاں اور کئی لڑکے شامل تھے، اٹھنے بیٹھنے لگا۔ ہم لوگ اکثر گھنٹوں مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہتے۔ میں کافی دنوں سے نوٹ کر رہا تھا کہ ثنا علی میں خاصی دلچسپی لینے لگی تھی۔ وہ اس کی پسندوناپسند کا خیال رکھتی۔ کلاس میں باقاعدگی سے حاضری کے باوجود یہ کہہ کر اس کی ڈائری گھر لے جاتی کہ ’’مجھے لیکچر نوٹ کرنا ہے۔‘‘ حالاں کہ علی کو اس کی کلاس میں موجودگی کے بارے میں علم ہوتا تھا، مگر مجال ہے کہ اس نے کبھی پوچھا ہو کہ وہ اس کی ڈائری کیوں لے جاتی ہے۔ بہرکیف جو بھی تھا، کم از کم میں تو بہت خوش تھا کہ کوئی تو ہے، جو علی کا خیال رکھنے لگا ہے۔

ان دنوں بھی شہر کے حالات کچھ خراب تھے۔ ہم لوگ یونیورسٹی سے آکر بس ہاسٹل ہی کے ہوکر رہ جاتے۔ اس روز میں یونیورسٹی سے ذرا جلدی آگیا۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیتا ہوں، جب علی آئے گا، تو ساتھ ہی کھانا کھالیں گے۔ عصر کی اذان کی آواز سن کر آنکھ کھلی تو اندازہ ہوا کہ میں کافی دیر سوچکا ہوں۔ علی کا بیڈ خالی تھا، اس کا مطلب ہے کہ وہ اب تک نہیں آیا ہے۔ میں نے اس کے موبائل پر کال کی تو وہ بند تھا۔ پھر سوچا لائبریری میں ہوگا، اس لیے نمبر آف ہے، مگر جب مغرب کی اذان ہوئی تو میری پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ شہر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ اس وقت وہ کہیں اور جاتا۔ پھر میں نے کلاس فیلوز سے رابطہ کرنا شروع کیا، ممکنہ طور پر جہاں جہاں اس کے ہونے کے امکانات تھے، سب جگہ پوچھا، مگر وہ کہیں بھی نہیں تھا۔ انتظار کرتے کرتے رات کے دس بج گئے۔ اب میری پریشانی اضطراب میں بدل رہی تھی۔ ابھی میں پولیس کو اطلاع دینے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوا۔ ’’کہاں تھے تم، موبائل کیوں آف تھا؟‘‘ اندازہ ہے تمہیں شہر کے حالات کتنے خراب ہیں؟؟‘‘ میں اس کی غیر ذمے داری پر پھٹ پڑا۔ اس نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا، لیکن اس کی آنکھیں ہمیشہ کی طرح بول رہی تھیں۔ میں نے اس کی آنکھوں میں وحشت کے سائے دیکھے، تو اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا کہ ’’علی! سیدھی طرح بتاؤ، کہاں تھے تم؟‘‘ اس نے میری طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔ ’’ویسے ہی سڑکیں ناپ رہا تھا۔‘‘ حالات دیکھے ہیں تم نے، جو اس قسم کی بکواس کر رہے ہو؟‘‘ میں نے کہا۔ تو وہ بولا: ’’مجھے خالی سڑکوں پر گھومنا اچھا لگتا ہے۔‘‘

مجھے اس کی لاپرواہی پر شدیدغصہ آرہا تھا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ اس پرغصہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کافی دیر خاموشی چھائی رہی۔ پھر میں نے ماحول کی سنجیدگی کم کرنے کی غرض سے کہا: ’’یار! صبح سے بھوکا بیٹھا ہوں، تمہارے انتظار میں۔ جلدی ہاتھ، منہ دھولو، تو کھانا کھائیں۔‘‘ وہ خاموشی سے اٹھا اور ہاتھ دھونے چلا گیا۔ شاید وہ رات کا آخری پہر تھا، جب میں پانی پینے کے لیے اٹھا، تو دیکھا کہ علی کا بیڈ خالی ہے۔ میں نے دروازہ چیک کیا جو اندر سے بند تھا۔ میں کچن کی طرف جانے لگا، تو میری نظر گیلری پر پڑی، وہ وہاں بیٹھا تھا۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، تو جیسے اسے کرنٹ سا لگا۔ اس نے پیچھے مڑ کر میری جانب دیکھا، تو اب کی بار حیرت کا جھٹکا مجھے لگا، کیوں کہ وہ زار و قطار رو رہا تھا۔ میں نے اس کے آنسو پونچھے اور کمرے میں لے آیا۔ پھر پانی پلایا، مگر جان بوجھ کر کچھ پوچھا نہیں ، کیوں کہ میں جانتا تھا کہ اگر اس کو کچھ بتانا ہوگا تو خود بتائے گا، ورنہ لاکھ اصرار پر بھی زبان نہیں کھولے گا۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد بالآخر خود ہی بول اٹھا: ’’یار! اپنا گھر چھوڑنے والے ہمیشہ بے گھر ہی رہتے ہیں۔ انھیں کہیں بھی جائے پناہ نہیں ملتی، یہاں تک کہ کفن بھی نہیں۔‘‘ اس کی آواز مجھے کہیں دور سے آتی سنائی دی۔ میں نے کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں اسے دیکھا، تو وہ کہنے لگا: ’’میں ہاسٹل کی طرف آرہا تھا کہ میرے بالکل سامنے موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکے آکر رکے اور پھر ایک فائر کی آواز آئی۔ میں نے خود سے چند قدم دور ایک آدمی کو گرتے دیکھا۔ موٹر سائیکل سوار نہ جانے کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے۔ میں بھاگتا ہوا اس شخص کے پاس پہنچا، تو اس کے کپڑے خون سے سرخ ہوچکے تھے۔ وہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ وہ کچرا چننے والا ایک نوجوان تھا۔ پاس ہی اس کے کچرے کا تھیلا بھی پڑا تھا۔ جس میں اس کی دن بھر کی محنت موجود تھی۔ ہمارے پاس سے کچھ گاڑیاں گزریں، لیکن کسی نے بیچ سڑک پر پڑے اس شخص پر توجہ نہیں دی یا شاید حالات ہی ایسے ہیں کہ کوئی شخص، کسی دوسرے پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں۔ کافی دیر بعد ایک ایمبولینس آئی اور ہم اسے اسپتال لے گئے۔ وہاں شہر کے مختلف علاقوں سے اور بھی کئی زخمی لائے گئے تھے۔ ایک کچرا چننے والے کی طرف جب تک کوئی توجہ دیتا، وہ دنیا کے غموں سے آزاد ہوچکا تھا۔ پتا نہیں کون تھا وہ؟ نہ اس کی کوئی شناخت اور نہ ہی گھر کا پتا۔ شاید ایسے لوگوں کا کوئی گھر ہوتا ہی نہیں۔ فٹ پاتھ ہی ان کا سب کچھ ہوتا ہے۔ اسپتال میں اور بھی کئی لاشیں موجود تھیں۔ لواحقین آہستہ آہستہ مرنے والوں کی لاشیں لے کر چلے گئے، لیکن اس نوجوان کی لاش وہیں پڑی رہی، بے آسرا اور لاوراث۔‘‘ ایک لمحے کو لگا جیسے وہ شکوہ کر رہا ہو کہ زندگی نے تو ہمیں کچھ نہیں دیا، لیکن موت کے بعد بھی شاید کفن ہمارے نصیب میں نہیں۔

مون سون کی بارشیں سروع ہوئیں، تو ساتھ ہی سیلاب کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔ علی کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ کلاس میں سب نے اس کی پریشانی محسوس کی۔ کھانے پینے کے معاملے میں تو وہ شروع ہی سے لاپروا تھا، مگر اب دن میں بہ مشکل ایک ہی بار کچھ کھاتا، وہ بھی میرے بار بار اصرار کے بعد۔ رات کو جب بھی میری آنکھ کھلی میں نے اسے جاگتے ہوئے ہی پایا۔ آخر ایک دن تنگ آکر میں نے اسے کہہ ہی دیا: ’’یار! جب گاؤں میں تمہارا کوئی ہے نہیں، تو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ اس نے پلٹ کر میری جانب دیکھا، جیسے کچھ بتانا چاہتا ہو، لیکن پھر پل بھر میں اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ کہنے لگا ’’ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، جب میرا وہاں کوئی ہے ہی نہیں، تو مجھے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ کیفیات پر قابو پانے میں تو مہارت حاصل تھی اسے۔

ثناء علی کے معاملے میں سنجیدہ ہوتی جا رہی تھی، لیکن علی نے اسے کبھی ہلکا سا بھی اشارہ نہیںدیا تھا کہ وہ ثنا کے جذبات و احساسات کو کچھ اہمیت دیتا ہے۔ پیپرز کب شروع ہوئے اور کب ختم، پتا ہی نہیں چلا۔ جس روز آخری پیپر تھا، ہم سب ڈیپارٹمنٹ کے سامنے لان میں بیٹھے، اپنے اپنے مستقبل کے پلان ڈسکس کر رہے تھے۔ شایان کا پاپا کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹانے کا ارادہ تھا، تو عبید بیرون ملک جانے کے خواب دیکھا رہا تھا۔ سحرش نے ابھی کچھ سوچا نہیں تھا۔ میری باری آئی تو میں نے کہا کہ مجھ پر گھر کی ذمے داریاں ہیں، اس لیے فوراً ہی ملازمت تلاش کروں گا۔ ثناء نے علی کی طرف دیکھا اور کہا: ’’کچھ لوگوں کا مستقبل دوسروں کے فیصلوں سے منسلک ہوتا ہے۔‘‘ اور پھر ہنستے ہوئے کہنے لگی: ’’فی الحال کچھ سوچا نہیں ہے۔‘‘ اب سب کی نظریں علی پر تھیں۔ سحرش نے اس سے پوچھا تو وہ بڑی سہولت سے بولا: ’’میرا کیا ہے یار، اکیلا بندہ ہوں، کسی مزار پر ہی بیٹھ جاؤں گا دو وقت کا کھانا تو مل ہی جائے گا۔ میں نے ثناء کی طرف دیکھا۔ آج پہلی بار اس کے چہرے پر مایوسی تھی۔ میری نظریں علی کی طرف اٹھیں، اسے تو جیسے کسی بات کی فکر ہی نہیں تھی۔ وہ واقعی عجیب تھا، بہت عجیب تھا۔

سب کو زرلٹ کا انتظار تھا۔ مجھے ایک فرم میں عارضی طور پر ملازمت مل گئی، جب کہ علی کی وہی روٹین تھی۔ صبح سویرے ہی کہیں نکل جانا اور پھر سرِشام ہی اس کی واپسی ہوتی۔ میں کسی حد تک اس کے مزاج کو سمجھ چکا تھا، اس لیے زیادہ پوچھ کچھ نہیں کرتا تھا۔ ایک دن شایان اور عبید ہم سے ملنے ہاسٹل آئے، تو عبید نے علی سے پوچھا: ’’تم کہاں رہتے ہو سارا دن؟‘‘ کہنے لگا ’’کہیں نہیں، بس سڑکیں ناپتا ہوں۔‘‘ شایان بولا: ’’علی! اگر تم سنجیدہ ہو جاؤ، تو میںپاپا سے بات کرتا ہوں۔ وہ اپنے آفس میں تمہیں سیٹ کروا دیں گے۔‘‘ لیکن اس نے گول مول سے جواب دے کر بات ٹال دی۔ اگلے روز اتوار تھا۔ میری دفتر سے چھٹی تھی، اس لیے صبح دیر سے اٹھا۔ علی کچن میں چائے بنا رہا تھا۔ میں منہ، ہاتھ دھوکر واپس آیا، تو وہ چائے پی چکا تھا اور پاس ہی اس کا سفری بیگ تیار رکھا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اس نے اچانک کہاں کا پروگرام بنا لیا۔ میں نے پوچھا: ’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ کہنے لگا ’’گاؤں۔۔۔۔!!‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’خیریت آج گاؤں کی یاد کیسے آگئی تمہیں؟‘‘ خیر چھوڑو، یہ بتاؤ کتنے دن کے لیے جا رہے ہو اور واپسی پر میرے لیے کیا لاؤگے؟‘‘، ’’ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔!!‘‘ اس نے جواب دیا۔ مجھے حیرت کا دوسرا جھٹکا لگا۔ ’’پاگل تو نہیں ہو تم، کون ہے تمہارا وہاں؟‘‘ اور کیا کروگے تم وہاں جاکر؟ یار! کبھی تو زندگی کو سنجیدہ لیا کرو۔‘‘ کہنے لگا ’’پہلی بار تو زندگی کو سنجیدہ لے رہا ہوں، اسی لیے یہ فیصلہ لیا ہے۔‘‘میں پریشان ہوگیا۔ نہ جانے کیوں میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے دور ہوجائے۔ میں نے پوچھا: ’’گاؤں میں کیا کروگے تم؟‘‘ وہ بولا: ’’کرنے کو بہت کچھ ہے، اپنی زمین پر کاشت کاری کروں گا، ہل چلاؤں گا، مختلف موسموں میں مختلف فصلیں اگاؤں گا اور گاؤں کے لوگوں، ان کی عورتوں اور ان کے بچوں کو پڑھاؤں گا۔ ان لوگوں کو میری ضرورت ہے، جو پورا دن والدین کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتے ہیں، لیکن تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ کیا کم کام ہے؟‘‘ مجھے لگا، وہ مذاق کر رہا ہے، لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، وہ بولا: ’’کبھی منڈی میں ٹرکوں پر مال لوڈ کرتے اور اتارتے ہوئے مزدوروں کو دیکھا ہے؟ اپنے سے زیادہ بوجھ کی بوریاں اٹھاتے اٹھاتے ان کی کمر جھک جاتی ہے، لیکن ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اپنے گھروں سے دور اپنے بیوی، بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے وہ گھروں سے نکلتے ہیں اور جب ان کا جسم مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا، تو انھیں ناکارہ کہہ کر واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے اور پھر وہ خود گھر والوں کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔ پوری زندگی پردیس میں رہ کر جب واپس اپنے دیس جاتے ہیں، تو وہاں بھی وہ اجنبی ہوچکے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ تب وہ پیسا کمانے والی مشین نہیں رہتے۔ اگر اتنی ہی محنت وہ اپنے دیس میں رہ کر کریں تو دو وقت کی روٹی تو پھر بھی انھیں مل ہی جائے گی۔‘‘

اس نے اپنا بیگ اٹھایا، مجھ سے گلے ملا اور بولا: ’’یار! جڑیں اپنی مٹی ہی میں ہوں، تو انسان پھلتا پھولتا ہے، مٹی سے دو رتو جائے پناہ بھی نہیں ملتی۔‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرایا۔ اس کی آنکھیں آج بھی بول رہی تھیں، مگر آج میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں اطمینان، سکون اور خوشی دیکھی اور شاید پہلی بار ہی میں اس کی آنکھوں کو ٹھیک سے پڑھ پایا تھا۔ اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور چل دیا۔ اور ۔۔۔۔۔ میں عجیب سی کیفیت میں اسے جاتا دیکھتا رہا۔ جانے کیوں چاہتے ہوئے بھی میں اسے روک نہ سکا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بشریٰ ترنم

Leave a Reply