میں لوٹ آیا وہیں پر جہاں سے نکلا تھا!

میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا بچہ تھا، میرا دنیا میں آجانا ہی میرے والدین کے لیے دنیا میں ملنے والا سب سے بڑا تحفہ تھا۔ وہ اس قدر خوش تھے کہ میری پرورش میں ناز بردار کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ماں ہمیشہ مجھ پر نگاہیں گاڑے رہتی اور ابا کبھی گود سے اتارنا ہی نہیں چاہتے۔

بہت زیادہ ناز اور توجہ میں پلنے کے کچھ نقصانات تو ضرور ہوئے کہ مجھے آج بھی اپنے ذاتی کام خود پر گراں گذرتے ہیں لیکن ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میں تعلیم میں بہت اچھا ہو گیا تھا۔ اسکول کی تعلیم مکمل کرتے ہی میرا داخلہ امریکہ کی ایک اچھی ینورسٹی میں ہوگیا۔

اب میرے والدین دوبارہ بالکل تنہا ہوگئے تھے اور اب تنہائی کے ساتھ ایک فکر بھی ساتھ لگ گئی تھی۔ وہ تحفہ جس کے ملنے سے وہ اس قدر خوش تھے وہ صرف سترہ سالوں تک ان کے پاس رہا اور پھرہمیشہ کے لیے دور چلا گیا۔ مجھے رخصت کرتے وقت وہ عجیب آزمائش میں مبتلا تھے؛ بچے کی بہترین تعلیم دلوانے کی خواہش ایک طرف اور کلیجے سے لگائے رکھنے کی تمنا دوسری طرف لیکن میں نے ان کا فیصلہ آسان کردیا تھا کہ مجھے تو بہت اونچی پرواز بھرنی تھی۔

اب میں آدھا امریکی ہوچکا تھا اور کبھی اپنے ملک آنا ہوتا تو چند روز کے بعد بالکل بھی دل نہیں لگتا۔ ابا جان بوڑھے ہوچکے تھے اور بہت خاموش سے رہنے لگے تھے۔ یقین نہیں ہوتا تھا کہ یہ وہی شخص ہیں جو مجھے کاندھے پر بیٹھائے گھومتے رہتے تھے اور میری ناسمجھی کے ہر سوال کا جواب دیا کرتے تھے۔ میں نے ان کا چہرہ پڑھنے کی بہت کوشش کی لیکن کبھی بھی خاموشی کی یقینی وجہ معلوم نہیں ہوسکی؛ کبھی لگتا کہ مایوس ہوگئے ہیں، کبھی لگتا کہ تنہائی کی عادت پڑ گئی ہے، کبھی لگتا کہ زندگی سے اوب گئے ہیں اور کبھی لگتا کہ کسی فکر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ بارہا پوچھنے پر مسکراہٹ کے سوا کوئی جواب نہیں ملا۔

تعلیم مکمل کرتے ہی امریکہ میں میری ایک اچھی نوکری لگ گئی اور میں خوب پیسے کمانے لگا۔ وہیں ایک ہندوستانی لڑکی سے شادی کرلی اور ماں باپ کو جیسے بھول سا گیا۔ کبھی ہندوستان جانے کو جی چاہتا بھی تو کاموں سے چھٹی نہیں ملتی یہاں تک کہ اماں اور ابا کی وفات کی خبریں سن کر بھی ہندوستان آنا ممکن نہیں ہوا اور کچھ دنوں تک مخصوص اوقات میں انہیں یاد کرکے رویا مگر دھیرے دھیرے زندگی اپنے معمول پر آگئی۔ بہت شکرگذار ہوں اپنے ملک کی سماجی زندگی کا کہ پڑوسیوں نے میرے والدین کی آخری رسومات خود ہی ادا کردیں۔

اب میں خود بھی ستر سال کا ہوگیا ہوں اور امریکہ میں جی نہیں لگنے کی وجہ سے ہندوستان آگیا تھا کہ وہاں تو بچوں کے پاس میرے ساتھ ہنسنے بولنے کے لیے وقت ہی نہیں رہتا اور مجھے لگتا تھا کہ میں ان کی خوشگوار زندگی پر بوجھ بن گیا ہوں۔ شاید اپنے ملک میں مجھے کچھ لوگ مل جایا کریں جن کو میں اپنی زندگی کی روداد سنا دیا کروں اور اپنے زندہ رہنے کا احساس باقی رہے لیکن یہاں آکر دیکھا کہ اب تو یہ ملک بھی بدل چکا ہے، یہاں بھی لوگوں کے اوقات بہت قیمتی ہوچکے ہیں، یہاں بھی لوگ بلاوجہ اب کسی سے بات نہیں کرتے۔

جب میں ملک واپس آیا تو وطن کی خوشبو نے کچھ بچپن کی ایسی یادیں لوٹادیں کہ کچھ دنوں تک میں خود کو جوان محسوس کرتا رہا لیکن دھیرے دھیرے ایسا لگنے لگا کہ میں امریکہ سے ہندوستان اپنا کمرہ ساتھ لے کر آیا ہوں؛ وہی خاموشی، وہی تنہائی، وہی سناٹا۔

بالآخر انسانوں کی تلاش میں اب میں نے اولڈ ایج ہاوس میں داخلہ لی لیا ہے؛ یہاں میرے ساتھ ڈھیر سارے بزرگ رہتے ہیں اور ہمارے پاس ایک دوسرے کے لیے خوب وقت ہے کیوںکہ ہمارے اوقات اب بالکل بھی قیمتی نہیں رہے، ہم آپس میں خوب باتیں کرتے ہیں، ایک دوسرے کا خوب خیال رکھتے ہیں بس مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے ساتھی جب رخصت ہوتے ہیں تو ہمیشہ کے لیے ہی رخصت ہوتے ہیں۔

مجھے یہاں ایک بہت اچھا ساتھی مل گیا ہے جو میرا بہت خیال رکھتا ہے اور عمر میں مجھ سے دس سال بڑا ہونے کے باوجود آج بھی مجھ سے بہت مضبوط ہے اور کیوں نہ ہو عمر بھر اس نے محنت کے کام جو کیے ہیں کہ وہ اسی شہر میں رکشہ چلایا کرتا تھا۔ اور معلوم نہیں یہ اس کی خوش قسمتی تھی یا بد قسمتی کہ اس کا بیٹا آئی ایس آفسر بن گیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صلاح الدین ایوب

Leave a Reply