6

چائے کے دو خالی مگ

بوڑھے شخص نے کھڑکی سے نیچے کی سمت جھانکتے ہوئے گلی کا جائزہ لیا۔ گلی چھت پر بنے پانی کے ٹینک کی طرح خالی دکھائی دی، جیسے ہی پلمبر نے گلے سڑے پائیوں کو ہٹاتے ہوئے کہا کہ زنگ آلودہ پائپوں نے ٹینک کے پانی میں دھاتی ذرات بھر دیے ہیں جو کہ اب دھیرے دھیرے لائنوں سے اتر کر انسانی گردوں کو چوک کرنے کا سبب بن سکتے ہیں تو بوڑھے کو یاد آیا کہ کچھ عرصے سے جسمانی عارضوں میں گردوں کی تکلیف بھی شامل ہوگئی تھی، تب اس نے فوراً ٹنکی خالی کرنے اور پائپ تبدیل کرنے کا حکم دے ڈالا، مگر پلمبر صبح کا گیا اب تک لوٹ کر نہیں آیا تھا۔ سارا کام ادھورا پڑا ہوا تھا۔

خدا معلوم پیسے لے کر بھاگ نہ گیا ہو۔ بوڑھے نے سوچا، اس کے ساتھ پہلے بھی کئی بار ایسا ہوچکا تھا۔ وہ اور اس کی بیوی عرصے سے بیمار رہنے لگے تھے۔ عدم توجہ کی بنا پر پرانا گھر دھیرے دھیرے کھنڈر میں تبدیل ہو رہا تھا۔ دیواریں موسموں کے تغیرات کے سبب اپنے سارے رنگ کھوچکی تھیں اور اب بے رنگ پلاستر صاف دکھائی دیتا تھا۔ بلکہ کہیں کہیں سے پلاستر کے نیچے پوشیدہ بلاک بھی جھلکنے لگے تھے، جس طرح بوڑھے کے اپنے بدن پر گوشت کے نیچے چھپی ہڈیاں اپنی گولائیوں اور ابھاروں کے ساتھ نمایاں ہونے لگی تھیں۔ ابھری نسوں والے دروازے، کھڑکیاں اور جگہ جگہ سے دھنسے ہوئے فرش والے گھر اور بوڑھے کے درمیان سال خوردگی کی کئی علامتیں مشترک تھیں۔ گھر انسانوں کی توجہ چاہتا تھا اور بوڑھا شخص بچوں کی توجہ کا منتظر تھا۔ وہ اکثر سوچتا کہ بچے گھر میں ماہانہ بنیاد پر اتنی عجلت میں داخل ہوتے ہیں، جتنی عجلت میں مسافر بس میں سوار ہوتے ہیں۔ کنڈیکٹر کو کرایہ ادا کیا، خالی سیٹ مل گئی تو بیٹھ گئے ورنہ لٹکے ہوئے پائپوں سے خود کو لٹکا کر مطلوبہ اسٹاب کے منتظر رہتے ہیں جوں ہی منزل قریب آنے کا اشارہ ملتا ہے تو خارجی دروازے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

بوڑھے کو شکایت کے لفظ سے چڑ تھی اور اس کی بیوی تو اس سے بھی دو قدم آگے تھی۔ بڑھتی ہوئی مصیبتوں کے ساتھ ساتھ اس کا شکر بھی بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ بوڑھے سے اس نے شادی اپنی مرضی سے کی تھی۔ ماں نے سمجھاتے ہوئے کہا تھا کہ تم ایک ایسے شخص کی زندگی میں داخل ہونا چاہتی ہو جو کاملیت پسند ہونے کے باوجود اپنے سر کے اوپر خالی خیالی گٹھری کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے۔ مگر وہ بوڑھا، جب وہ بوڑھا بھی نہیں تھا، اسے اپنے پورے خالی پن کے باوجود اچھا لگتا تھا۔ وہ اس کے ساتھ زندگی کا ہر دکھ سہنے کو تیار تھی۔ رفاقت کی چار دہائیاں گواہ تھیں کہ اس نے اپنی زبان پر کبھی حرف شکایت نہیں آنے دیا تھا۔

بوڑھے کو سماج سے بھی کوئی شکایت نہیں تھی جس کی بے حسی نے اس کی قدر و منزلت کو گہنا دیا تھا اور اس نے اپنے خدا سے بھی کوئی شکوہ نہیں اسے عمر کی طوالت عطا کرتے ہوئے بیماریوں کا بوجھ اس کے کاندھوں پر دھر دیا تھا، جس کی وجہ سے اس کا لمبا قد، کمر اور ناتواں ٹانگوں کے خم کے سبب خاصا کم دکھائی دیتا تھا۔ اب حالت یہ تھی کہ چلتے ہوئے اس کے قدم لڑکھڑاتے اور وہ سہارا لینے پر مجبور ہو جاتا ایسے ہی ایک بار سہارا لیتے ہوئے جب اس نے جگہ جگہ سے ادھڑے ہوئے پلائی والے دروازے کو تھامنے کی کوشش کی تو اس کا ہاتھ چوکھٹ اور دروازے کے درمیان آگیا۔ انگلیاں بھی زخمی ہوئیں اور ایک ناخن خزاں رسیدہ پتے کی طرح پتلی شاخ جیسی انگلی سے جھڑ گیا۔ کئی دن تک وہ لکھنے سے معذور ہوگیا۔ وہ جس کتاب پر بڑی عرق ریزی سے کام کر رہا تھا وہ وقت پر مکمل نہ ہونے کے سبب اشاعت پذیر نہ ہوسکی۔

خالی ذہن کو پرانی یادوں سے بھرنے کی کوشش میں بوڑھے کو اچانک ایسا لگا جیسے گلی کا سناٹا اس کے وجود میں اتر آیا ہو۔ اس نے کھڑکی کے پٹ کھلے چھوڑ دیے اور خود کرسی پر ڈھیر ہوگیا۔ یکایک اس کا جی چاہا کہ بیرونی دروازے کی کھنٹی یا فون کی بیل بجے اور بڑھتے ہوئے سناٹے کے ان گنت ٹکڑے کردے، یا گلی میں رہنے والے ملک صاحب کا پوتا زور زور سے رو پڑے، جیسا کہ وہ اکثر روتے ہوئے ملک صاحب کی محبت کو آزماتا ہے، جب ملک صاحب اپنی بہو سے غصے میں کہتے ہیں کہ تم سارے کام چھوڑ کر اسے سنبھالو۔ تیز لہجے میں کہا ہوا یہ جملہ اکثر بوڑھے کو ماضی میں دکھکیل دیتا، جہاں کتابوں والے کمرے میں کچھ بچے صفحوں کو پھاڑتے ہوئے کشتیاں بنا کر ہواؤں میں اڑاتے اور ہوائی جہاز بنا کر بالٹی میں چلانے کی کوشش کرتے۔ بوڑھے کو بچوں کی یہ حرکت فنٹاسی کی دنیا میں لے جاتی، جہاں وہ بچوں کو یہ بتانے سے گریز کر تاکہ کشتیاں پانی میں چلتی ہیں، اور جہاز ہواؤں میں اڑتے ہیں۔ بوڑھے کو بچوں کی معصومانہ حرکتیں اچھی لگتیں، مگر زندگی کے حقیقی سمندر میں چلنے والی کشتی کے مسافر نے دوسرے جزیروں کو آباد کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

بوڑھے کو کرسی پر بیٹھے بہت دیر ہوچکی تھی۔ پلمبر اب تک نہیں آیا تھا۔ اس نے کھڑکی کے باہر کا جائزہ لینے کے لیے کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی۔ درد کی ایک تیز لہر ٹانگوں سے کمر تک دوڑتی چلی گئی۔ اس نے دوبارہ کوشش کی تو پاؤں لرز کر رہ گئے۔ دن میں دو تین بار ایسا ہونا عام سی بات تھی۔ وہ دوسری یا تیسری کوشش میں ٹانگوں کے سہارے کھڑا ہونے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ اسی طرح اسے یہ بھی یقین تھا کہ بار بار کھڑکی سے جھانکنے کی صورت میں منظر بدل ہی جاتا ہے۔کسی راہ گیر کی موجودگی ہی گلی کے سناٹے کو کرچی کرچی کردے گی۔ بوڑھے نے اپنے پورے بدن کی قوت کو پیروں میں منتقل کرتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی۔ آخر کار اسٹک کا سہارا لیتے ہوئے وہ کھڑا ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

’’کاش…‘‘ بوڑھے کے لب کچھ کہنے کے لیے واہوے، مگر درد کی چبھن نے لفظوں کو مفلوج کر دیا۔ ادھورے لفظ کی بازگشت میں ان گنت سوال پوشیدہ تھے۔ شاید زندگی کی سات دہائیاں گزارنے کے باوجود بے اطمینانی کا اندیشہ روح کی آسودگی کے سفر کو ناتمام رکھے ہوئے تھا۔ بوڑھے نے دریچے سے ایک بار پھر جھانکا۔ گلی میں لگے درختوں کا سایہ سامنے والے گھر کی بلند دیوار سے سر پھٹول کر رہا تھا۔ اس کا مطلب شام نے اپنے پاؤں پسارنے شروع کر دیے ہیں۔ بوڑھے نے سوچا۔ پاؤں پسارنے سے اسے خود اپنے پیروں کی کپکپاہٹ کا احساس جاگ اٹھا۔ زندگی کی شام اس کے پیروں میں اتر آئی تھی۔ تو کیا زندگی کی رات کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ اسے یکایک خیال آیا کہ چھت والی ٹنکی میں پانی نہیں ہے اور پلمبر لوٹ کر اب تک نہیں آیا ہے۔ بوڑھے کو چند برس پہلے کے دن یاد آئے۔ جب ایسی صورت حال میں وہ دوڑ کر جاتا اور کام کرنے والے کو پکڑ لایا کرتا۔ مگر اب تو وہ دریچے میں کھڑے ہوکر انتظار کے کرب میں مبتلا ہونے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

بوڑھا دریچے کی جانب رخ کیے کھڑا ہوا تھا۔ اچانک اسے اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا اس کی بیوی چائے کے دو مگ ہاتھ میں لیے کھڑی ہوئی تھی۔ وہ بولا:

’’گھر میں پانی تو تھا نہیں، تم نے چائے کیسے بنائی؟‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘ بیوی نے درمیانی تپائی پر مگ رکھتے ہوئے حیرت سے کہا اور پھر برسوں سے سنتی چلی آئی بوڑھے کی بے ربط باتوں کو دھیان میں لاتے ہوئے بولی۔ ’’کھڑکی بند کیوں نہیں کردیتے۔ کمرے میں گرد جمع ہونے کی وجہ سے مجھے زیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے۔ اب مجھ سے اتنی جھاڑ پونچھ نہیں ہوتی۔‘‘

’’میری چیزوں سے گرد صاف مت کیا کرو۔ میں اب اس کا عادی ہونا چاہتا ہوں۔‘‘

بوڑھے نے خود کو مٹی سے بھری اندھیری قبر میں محسوس کرتے ہوئے مزید کہا ’’پلمبر اب تک کیوں نہیں آیا؟‘‘

’’آپ کس پلمبر کی بات کر رہے ہو؟‘‘ بیوی نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے مزید کہا: ’’آج سے ہم پھیکی چائے پیا کریں گے۔‘‘

’’تم مجھے برسوں سے پھیکی چائے ہی پلا رہی ہو۔‘‘ بوڑھا برسوں کا حساب لگانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا۔

’’پلمبر کو آپ نے کب بلوایا؟ ابھی پچھلے مہینے ہی تو وہ سارے پائپ تبدیل کرکے گیا ہے۔‘‘

بیوی جو بوڑھے کی عادتوں کا حساب کتاب برسوں سے سنبھالتی چلی آرہی تھی، نے بوڑھے کے پہلے سوال کا جواب دیا۔

’’میں تو دیر سے اسے گلی میں تلاش کر رہا ہوں۔ تم نے مجھے روکا کیوں نہیں۔‘‘ اس بار بوڑھے نے خیال کی ڈور کو مضبوطی سے تھام لیا تھا۔

’’آپ بھول رہے ہیں، کل تک آپ کو شکر والی چائے ہی پلائی ہے۔‘‘ بیوی کو یاد نہیں تھا کہ وہ جب سے شکر والی چائے پلانا بند کر دینا چاہتی تھی، وہ کل اب تک نہیں آئی۔

دونوں ہی اپنے سوالوں اور جوابوں کی ترتیب کو بھول کر گفتگو کر رہے تھے۔ بیوی آج بھی شکر والی چائے ہی بنا کر لائی تھی۔ وہی تین چمچ جو کئی دہائیوں سے بوڑھے کی زندگی کی کڑواہٹ کو کم کر رہے تھے۔ دونوں اپنے اپنے مگ اٹھا کر ہونٹوں سے لگاتے، چسکی لیتے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور خیال کی کوئی لہر بیدار کرنے سے پہلے آنکھوں کو ویرانی سے ڈھانپ لیتے۔ دونوں دیر تک کوئی بات کیے بغیر چائے پیتے رہے۔ گلی آج بھی روز کی طرح ویران نہیں تھی۔ سبزی فروش، قصاب اور جنرل اسٹور کے ہوتے ہوئے گلی ویران ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

چائے ختم ہوچکی تھی۔ بوڑھے نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر چھت سے منسلک دھیمی رفتار سے چلتے پنکھے کے پروں پر نظر جمانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔

’’تو کیا آج پھر تم وہی جواب دوگی کہ ہماری کوئی اولاد نہیں ہے؟‘‘ اس بار بوڑھا پھر ماضی کے کسی دن ادھورے رہ جانے والے مکالمے کی سمت لوٹ گیا تھا۔ برسوں سے دونوں نے اپنی گفتگو کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا تھا۔ وہ جب کبھی بات کرتے تو آغاز چھوڑ کر درمیان سے گفتگو شروع کردیتے اور جب اسے واضح انجام دینے سے قاصر رہتے تو کہیں درمیان ہی میں چھوڑ بھی دیتے۔ بیوی اسے خاموشی سے یوں دیکھ رہی تھی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر جیسے اسے کچھ یاد آگیا۔ وہ بولی۔ ’’آپ نے ایک بار مجھے اپنی ایک کہانی سنائی تھی، جس میں کچھ بچے کاغذ کی کشتیاں بنا کر ہواؤں میں اڑاتے ہیں اور کچھ ہوائی جہاز بنا کر پانی میں تیرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں تب ہی سمجھ گئی تھی کہ جن کشتیوں کے مقدر میں سمندر نہیں ہوتا، ان سے بادبان اور ہوائیں روٹھ جاتی ہیں۔‘‘

’’تم میری ایک بات یاد رکھنا کہ بچے ایک دن ضرور لوٹ آئیں گے۔‘‘ بوڑھے نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔ یہ کہتے ہوئے بوڑھے کے چہرے پر امید، یقین اور اضطراب کی پرچھائیاں پھیلی ہوئی تھیں۔

’’کھڑکی کے دوسری طرف آنکھیں کھول کر دیکھئے۔ گلی میں پوری دنیا آباد ہے۔‘‘ بیوی خالی مگ اٹھائے اور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے مزید بولی۔ ’’کاش میں نے اماں کی بات مان لی ہوتی۔‘‘

آج پہلی بار اس کی زبان پر حرف شکایت آیا تھا اور آج ہی پہلی بار ایسا بھی لگ رہا تھا جیسے وہ پورے ہوش و حواس میں ہو۔ بوڑھے نے پلٹ کر اسے دیکھا تو اس پر منکشف ہوا کہ جہاں اس کی بیوی کو ہونا چاہیے تھا، وہاں ہوا کے ایک بگولے کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اسے شدت سے تنہائی کا احساس ہوا۔ خوف کی ایک لہر اس کی رگوں میں اترتی چلی گئی۔ اس کا جی چاہا کہ ایک بار وہ خود کو دیکھے اور اپنے ہونے کا یقین کرے۔ مگر اسے یاد آیا کہ اس کے گھر میں ایسی کوئی شے نہیں، جس میں عکس اپنا وجود پاتے ہوں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد امین الدین

تبصرہ کیجیے