خواتین کے حقوق اور ہمارا معاشرہ

عورت چاہے مغربی معاشرے میں ہو یا پسماندہ افریقی ممالک میں، ہر جگہ مظلوم اور پریشان ہے۔ ترقی یافتہ مغربی ممالک میں جہاں اس کے حقوق اور آزادی کا غلغلہ ہے وہاں بھی نہ وہ سڑکوں پر محفوظ ہے اور نہ اپنے گھروں اور کام کی جگہوں پر۔ جنسی جرائم سے لے کر گھریلو تشدد تک نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جرائم کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہاں کل جرائم میں بڑا تناسب خواتین کے خلاف جرائم کا ہے اور ان میں سب سے بڑی وجہ تصور کی جاتی ہے شراب۔ جب کہ پسماندہ تصور کیے جانے والے افریقی ممالک میں تو اس کا برا حال ہے۔ کئی افریقی ملکوں میں یہی روایت ہے کہ عورتیں کام کرتی ہیں اور مرد آرام۔ یوگانڈا جیسے ملکوں میں آج بھی وہی فرد خوش حال تصور کیا جاتا ہے جس کے پاس بیویوں کی تعداد زیادہ ہو۔ چناں چہ وہاں ایک ایک مرد دو چار نہیں اس سے کہیں زیادہ بیویاں رکھتا ہے۔ اور جب وہ سب مل کر کماتی ہیں تو مرد کی خوش حالی تو ہوگی ہی۔

ہندوستانی سماج ہو یا پھر برصغیر کا معاشرہ، وہاں بھی عورت جس معاشرے میں رہتی ہے وہ اس کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھتا اور بنیادی حقوق تک مہیا نہیں کراتا۔ اور معاف فرمائیں اگر میں کہوں کہ اس معاملے میں مسلم اور غیر مسلم سبھی لوگ یکساں ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ الا ماشاء اللہ اور اس طرح کے اچھے لوگ آپ کو ہر سماج میں مل جائیں گے۔

بات اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب ایک عورت بچی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ جب وہ دنیا میں آنکھ کھولتی ہے تو وہ ان چاہی اولاد ہوتی ہے اور پھر زندگی کے تمام مراحل میں لڑکوں کے مقابلے میں تفریق کو جھیلتی ہوئی جوان ہوتی ہے تو شادی کا مرحلہ آتا ہے جو بڑا تکلیف دہ اور مشکل ہوتا ہے۔ یہاں بیٹی والا اپنی بیٹی کے ساتھ بھاری بھرکم جہیز اور مال و دولت دے کر جب رخصت کرتا ہے تب بھی پریشان ہوتا ہے کہ معلوم نہیں کہ اس کی بیٹی سسرال میں آرام سے رہ پائے گی یا اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسے جہیز کے سبب تنگ تو نہیں کیا جائے گا اور ماں باپ اگر غریب ہیں تو اس بات کا ڈر ہمیشہ ستاتا رہتا ہے کہ اس کی بیٹی کہیں کم جہیز لانے کے سبب مار نہ ڈالی جائے۔ یہ تو عام سماج کی بات ہے۔

خاص سماج کی بات بھی سن لیجیے: ایک لڑکی جو اپنے علم اور ذہانت کے ذریعہ ’ترقی‘ کے اس مقام کو پہنچی جس پر اچھے اچھے ذہین لڑکے نہیں پہنچ پاتے یعنی IAS بن گئی تو وہاں بھی اس کو محض لڑکی ہونے کے سبب بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر وہ چیخ اٹھی ’’ہے بھگوان اگلے جنم میں مجھے لڑکی نہ بنائیو!‘‘

یہ ہے ہمارے معاشروں میں عورت کا حال اور اس کا مقام و مرتبہ۔

اس کی وجہ سبھی معاشروں میں یہ نظر آتی ہے کہ وہ عورت کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ اگر عورت کا احترام ہوگا تو اس کی عزت بھی اسی طرح کی جائے گی جیسے مرد کی کی جاتی ہے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ پوری دنیا اس وقت خواتین کے حق میں قانون سازی کر رہی ہے مگر قانون سازی کی اپنی اہمیت اورافادیت کے باوجود عورت کو بہ حیثیت عورت احترام نہیں دلا سکتی جب کہ یہی ہر معاشرے میں اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ lll

٭٭

بد قسمتی سے خواتین کو پسماندہ رکھنے میں وہ غیر اسلامی رسم و رواج ذریعہ ہیں، جنہیں کچھ لوگوں نے دین اسلام کا حصہ سمجھ رکھا ہے۔ تعلیم سے محروم رکھنا اور حق وراثت سے محروم رکھنے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ خواتین کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور انہیں حق وراثت اور اپنے مال کا خود مالک بننے کا حق دلوانے کے لیے بڑی بے داری کی ضرورت ہے۔ یہ حقوق محض قوانین بنانے سے حاصل نہیں ہوسکتے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کے کمزور طبقات، غلاموں، مسافروں، ہاتھ سے محنت کر کے کمانے والوں اور خواتین کو اپنے حقوق کا احساس دلایا اور توحید کی تعلیم اس انداز سے پیش کی کہ اللہ کے خوف کے سوا کسی دوسرے کا خوف باقی نہ رہا۔ خواتین نے بھی اپنے جائز مقام کو سمجھ لیا اور رسم و رواج کے ذریعے انہیں ذلت کے جس غار میں پھینکا گیا تھا، اس سے نجات حاصل کرلی۔

اس میں شک نہیں ہے کہ خواتین کے خصوصی حالات کے پیش نظر ان کے لیے گھر میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ تاکید کردی گئی کہ انہیں مساجد میں آنے سے نہ روکا جائے۔ چناں چہ دورِ رسالتؐ اور دورِ خلافت راشدہ میں وہ مسجدوں میں حاضری دیتی رہیں۔ بعد میں علماء نے فتویٰ دے دیا کہ فتنے کا دور ہے، اس لیے خواتین گھروں میں رہیں۔ اس دور میں علماء کی بات پر لوگ کان دھرتے تھے، اس لیے خواتین نے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ رفتہ رفتہ معاشرے میں علماء کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور خواتین گھروں سے نکل کر بازاروں، سنیما گھروں، کلبوں اور زیب و زینت کے نمائش گھروں میں آنے لگیں، لیکن مسجد کے دروازے ان کے لیے بدستور بند ہیں۔ حالاں کہ اب فتنے کے دور میں فتنے کی روک تھام کا راستہ ہی یہی ہے کہ خواتین کے لیے مساجد کے دروازے کھول دیے جائیں۔

ان کے لیے الگ گیلریاں اور مساجد میں داخلے کے الگ دروازوں کا اہتمام کیا جائے۔ انھیں دینی اجتماعات میں شرکت کی دعوت دی جائے اور غیر اسلامی تہذیب کی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے خود خواتین کے اندر کے دینی جذبے کو ابھارا جائے۔ کام کرنے والی خواتین کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور ان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کرنا معاشرے کی بھی ذمہ دارہے ہے اور مسلم حکومتوں کی بھی۔

خواتین کے احترام کے لیے خصوصی مہمات چلانا، گھروں کے اندر بھی بیوی، بیٹی، بہن اور ماں کے حقوق ادا کرنے اور ان کا احترام بحال کرنے کے لیے مردوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور دین میں خواتین کے احترام کی اہمیت سمجھانے کی ضرورت ہے۔lllچاہے مغربی معاشرے میں ہو یا پسماندہ افریقی ممالک میں، ہر جگہ مظلوم اور پریشان ہے۔ ترقی یافتہ مغربی ممالک میں جہاں اس کے حقوق اور آزادی کا غلغلہ ہے وہاں بھی نہ وہ سڑکوں پر محفوظ ہے اور نہ اپنے گھروں اور کام کی جگہوں پر۔ جنسی جرائم سے لے کر گھریلو تشدد تک نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جرائم کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہاں کل جرائم میں بڑا تناسب خواتین کے خلاف جرائم کا ہے اور ان میں سب سے بڑی وجہ تصور کی جاتی ہے شراب۔ جب کہ پسماندہ تصور کیے جانے والے افریقی ممالک میں تو اس کا برا حال ہے۔ کئی افریقی ملکوں میں یہی روایت ہے کہ عورتیں کام کرتی ہیں اور مرد آرام۔ یوگانڈا جیسے ملکوں میں آج بھی وہی فرد خوش حال تصور کیا جاتا ہے جس کے پاس بیویوں کی تعداد زیادہ ہو۔ چناں چہ وہاں ایک ایک مرد دو چار نہیں اس سے کہیں زیادہ بیویاں رکھتا ہے۔ اور جب وہ سب مل کر کماتی ہیں تو مرد کی خوش حالی تو ہوگی ہی۔

ہندوستانی سماج ہو یا پھر برصغیر کا معاشرہ، وہاں بھی عورت جس معاشرے میں رہتی ہے وہ اس کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھتا اور بنیادی حقوق تک مہیا نہیں کراتا۔ اور معاف فرمائیں اگر میں کہوں کہ اس معاملے میں مسلم اور غیر مسلم سبھی لوگ یکساں ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ الا ماشاء اللہ اور اس طرح کے اچھے لوگ آپ کو ہر سماج میں مل جائیں گے۔

بات اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب ایک عورت بچی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ جب وہ دنیا میں آنکھ کھولتی ہے تو وہ ان چاہی اولاد ہوتی ہے اور پھر زندگی کے تمام مراحل میں لڑکوں کے مقابلے میں تفریق کو جھیلتی ہوئی جوان ہوتی ہے تو شادی کا مرحلہ آتا ہے جو بڑا تکلیف دہ اور مشکل ہوتا ہے۔ یہاں بیٹی والا اپنی بیٹی کے ساتھ بھاری بھرکم جہیز اور مال و دولت دے کر جب رخصت کرتا ہے تب بھی پریشان ہوتا ہے کہ معلوم نہیں کہ اس کی بیٹی سسرال میں آرام سے رہ پائے گی یا اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسے جہیز کے سبب تنگ تو نہیں کیا جائے گا اور ماں باپ اگر غریب ہیں تو اس بات کا ڈر ہمیشہ ستاتا رہتا ہے کہ اس کی بیٹی کہیں کم جہیز لانے کے سبب مار نہ ڈالی جائے۔ یہ تو عام سماج کی بات ہے۔

خاص سماج کی بات بھی سن لیجیے: ایک لڑکی جو اپنے علم اور ذہانت کے ذریعہ ’ترقی‘ کے اس مقام کو پہنچی جس پر اچھے اچھے ذہین لڑکے نہیں پہنچ پاتے یعنی IAS بن گئی تو وہاں بھی اس کو محض لڑکی ہونے کے سبب بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر وہ چیخ اٹھی ’’ہے بھگوان اگلے جنم میں مجھے لڑکی نہ بنائیو!‘‘

یہ ہے ہمارے معاشروں میں عورت کا حال اور اس کا مقام و مرتبہ۔

اس کی وجہ سبھی معاشروں میں یہ نظر آتی ہے کہ وہ عورت کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ اگر عورت کا احترام ہوگا تو اس کی عزت بھی اسی طرح کی جائے گی جیسے مرد کی کی جاتی ہے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ پوری دنیا اس وقت خواتین کے حق میں قانون سازی کر رہی ہے مگر قانون سازی کی اپنی اہمیت اورافادیت کے باوجود عورت کو بہ حیثیت عورت احترام نہیں دلا سکتی جب کہ یہی ہر معاشرے میں اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ lll

٭٭

بد قسمتی سے خواتین کو پسماندہ رکھنے میں وہ غیر اسلامی رسم و رواج ذریعہ ہیں، جنہیں کچھ لوگوں نے دین اسلام کا حصہ سمجھ رکھا ہے۔ تعلیم سے محروم رکھنا اور حق وراثت سے محروم رکھنے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ خواتین کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور انہیں حق وراثت اور اپنے مال کا خود مالک بننے کا حق دلوانے کے لیے بڑی بے داری کی ضرورت ہے۔ یہ حقوق محض قوانین بنانے سے حاصل نہیں ہوسکتے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کے کمزور طبقات، غلاموں، مسافروں، ہاتھ سے محنت کر کے کمانے والوں اور خواتین کو اپنے حقوق کا احساس دلایا اور توحید کی تعلیم اس انداز سے پیش کی کہ اللہ کے خوف کے سوا کسی دوسرے کا خوف باقی نہ رہا۔ خواتین نے بھی اپنے جائز مقام کو سمجھ لیا اور رسم و رواج کے ذریعے انہیں ذلت کے جس غار میں پھینکا گیا تھا، اس سے نجات حاصل کرلی۔

اس میں شک نہیں ہے کہ خواتین کے خصوصی حالات کے پیش نظر ان کے لیے گھر میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ تاکید کردی گئی کہ انہیں مساجد میں آنے سے نہ روکا جائے۔ چناں چہ دورِ رسالتؐ اور دورِ خلافت راشدہ میں وہ مسجدوں میں حاضری دیتی رہیں۔ بعد میں علماء نے فتویٰ دے دیا کہ فتنے کا دور ہے، اس لیے خواتین گھروں میں رہیں۔ اس دور میں علماء کی بات پر لوگ کان دھرتے تھے، اس لیے خواتین نے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ رفتہ رفتہ معاشرے میں علماء کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور خواتین گھروں سے نکل کر بازاروں، سنیما گھروں، کلبوں اور زیب و زینت کے نمائش گھروں میں آنے لگیں، لیکن مسجد کے دروازے ان کے لیے بدستور بند ہیں۔ حالاں کہ اب فتنے کے دور میں فتنے کی روک تھام کا راستہ ہی یہی ہے کہ خواتین کے لیے مساجد کے دروازے کھول دیے جائیں۔

ان کے لیے الگ گیلریاں اور مساجد میں داخلے کے الگ دروازوں کا اہتمام کیا جائے۔ انھیں دینی اجتماعات میں شرکت کی دعوت دی جائے اور غیر اسلامی تہذیب کی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے خود خواتین کے اندر کے دینی جذبے کو ابھارا جائے۔ کام کرنے والی خواتین کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور ان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کرنا معاشرے کی بھی ذمہ دارہے ہے اور مسلم حکومتوں کی بھی۔

خواتین کے احترام کے لیے خصوصی مہمات چلانا، گھروں کے اندر بھی بیوی، بیٹی، بہن اور ماں کے حقوق ادا کرنے اور ان کا احترام بحال کرنے کے لیے مردوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور دین میں خواتین کے احترام کی اہمیت سمجھانے کی ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ذکیہ شفیق دوحہ اور (قطر) بدریہ حسین قاضی

Leave a Reply