لائحہ عمل- رمضان کے بعد

روزہ کا اصل مقصد تقویٰ کی صفت پیدا کرنا ہے۔ وہ تقویٰ جو سفر حج میں زادِ راہ ہوتا ہے، وہ تقویٰ جو ایک ہاتھ سے کیے جانے والے صدقے کی خبر دوسرے ہاتھ کو بھی نہیں ہونے دیتا، وہ تقویٰ جو نماز میں خشیت اختیار کرواتا ہے…

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروں پر فرض کیے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔‘‘ (البقرۃ:۱۸۳)

یہ ایک پیغام تھا جو اس آیت کے ذریعے اللہ نے ہم تک پہنچایا کہ مقصد رمضان صفتِ تقویٰ پیدا کرنا ہے۔

’’شاید کہ تم میں تقویٰ پیدا ہوجائے۔‘‘

رب کائنات ہم سے ایک امید کر رہے ہیں تقویٰ کی امید۔

لیکن ندامت اور شرمندگی ہے کہ ہم انسان در حقیقت بڑے ناشکرے ہیں… ہم رمضان میں تو گناہوں سے رک ضرور جاتے ہیں عرف عام میں رمضان میں گناہوں کو Pause کر دیتے ہیں stop نہیں کرتے۔ گناہوں کو چھوڑ دینے کی نیت نہیں کرتے، بلکہ گناہ سے رکتے بھی اس خیال سے ہیں کہ رمضان کا مہینہ ہے رمضان کے بعد دیکھیں گے جیسے فلم دیکھنا فحش گائے سننا، جھگڑا کرنا اور بہت کچھ اور یوں وہ جو تقویٰ کی سر سبز لہلہاتی فصل کے لیے بیج بونے سے پہلے دل کی مٹی کو جو تیاری ملی جو ماحول ملا اس میں ہم نے بیج ہی نہیں بوئے۔

اللہ بڑا غفور ہے، رحیم … گناہوں کی پردہ پوشی کرنے والا ہے اور بار بار گناہ معاف کرنے والا ہے۔ الحمد للہ ہم سب نے رمضان کے ماہ کا اپنی طاقت کے مطابق حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے جسے اللہ قبول فرمائے (آمین) اب وقت ہے کہ ہم اپنے اس رب کے اس توقع کو پورا کریں… رمضان کا مقصد ’’تقویٰ پیدا کرنا‘‘ تھا، تقویٰ کے بیج دل میں بونا تھا اور اب اس تقویٰ کو پروان چڑھانے کا، اس تقویٰ کو نکھارنے کا کام اب ہمارا ہے اور یہ کام کوئی مشکل کام تو نہیں… بس ایک قدم بڑھانا ہے، ایک ہاتھ بڑھانا ہے، چلتے ہوئے اس کی جانب جانا ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ وہ دس قدم کو بڑھے گا، دس ہاتھ آگے آئے گا، دوڑتا ہوا… یہ اس کی رحمت و ہدایت ہوگی جو دوڑتی ہوئی ہماری طرف آئے گی… بس ہمیں پہل کرنی ہے۔

ماہِ رمضان میں جن چیزوں کا ہم بالخصوص اہتمام کرتے ہیں وہ بعد میں ہماری لاپرواہی کی نظر ہوجاتی ہیں۔ میں نے اپنے طور پر اس کی ایک List بنائی ہے۔ جو رہ گیا ہو وہ آپ اپنے طور پر بڑھا لیں…

۱- نمازوں کا اہتمام

۲- تلاوتِ قرآن

۳- پڑوسیوں و رشتہ داروں کا حق

۴- زبان کی حفاظت (یہ سب سے اہم ہے)

۵- نوافل کا اہتمام

۶- دیگر اعضا جیسے آنکھ، کان کی حفاظت!!

۷- دعاؤں کا اہتمام

ہم بالترتیب انہیں رمضان، بعد رمضان اور لائحہ عمل کے تحت ان پر غور کریں گے۔

نمازوں کا اہتمام

٭ رمضان … الحمد للہ دوران رمضان عبادتوں میں نمازوں کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں، بالخصوص مکمل نماز پڑھنا [سنت غیر موکدہ، نفل وغیرہ] فرض نمازوں کو اول وقت میں خشوع کے ساتھ پڑھنا، عام دنوں میں عشا کی نماز ہم اکثر اوقات نو رکعت ہی پڑھتے ہیں لیکن رمضان میں تراویح کی نماز بھی پڑھی جاتی ہے۔

٭ بعد رمضان: رمضان کے بعد بھی ہم نمازوں کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن بہت مرتبہ فجر، عصر یا عشا کی نماز چھوٹ جاتی ہے۔ تو کیا ہمیں نماز چھوٹنے کا ویسا ہی دکھ اور وہی شرمندگی ہوتی ہے جو رمضان میں نماز کے چھوٹنے پر ہوتی تھی! دوسری چیز کہ ہماری نمازیں آدھی ہوکر رہ جاتی ہے۔ جیسے عشا کی ۹؍ رکعت، مغرب سے دو نفل کم، اور ساتھ ہی وہ خشوع اور کیفیت بھی دھیرے دھیرے کم ہوتی جاتی ہے۔

٭ کیا کریں اب ہم؟: سب سے پہلے اس بات کو ہمیں ذہن نشیں کرنا ہوگا کہ نماز وہ عبادت ہے جس پر ہمارے دین کی عمارت قائم ہے۔ زکوٰۃ ادا نہ کرنا اچھے اور کم اچھے مسلمان کی پہچان ہے، دیگر برائیاں یا نیکی کے کام اچھے اور کم اچھے مسلمان میں تفریق کرتے ہیں لیکن نماز وہ عبادت ہے جو ایک مسلمان کو کافر سے الگ کرتی ہے تو کہیں انجانے میں اپنی نمازوں کو لاپروائی کی نظر کر کے ہم اس تفریق کو ختم تو نہیں کر رہے؟ اب ہمیں یہ کرنا ہے کہ اپنی نمازوں پر توجہ دینی ہے۔

۱- نماز کی پابندی

۲- نماز کی صحیح وقت پر ادائگی

۳- فرض، سنت [موکدہ، غیر موکدہ] نوافل رکعت کا اہتمام۔

۴- نماز میں اپنے دل کو بھی حاضر رکھنا اور دماغ کو بھی۔

یہ ہے نماز کے لیے ٹارگیٹ … کچھ دن بس اس پر فوکس رہیں کہ کوئی نماز قضا نہ ہو… اگر خدانخواستہ قضاء ہوجائے تو فوراً قضا پڑھ کر معافی مانگ لیں اور پھر اللہ سے اور خود سے عہد کریں کہ اب نماز نہ چھوٹے گی… پھر کچھ دن بعد مثلا ایک ہفتہ صرف نماز کی پابندی پر دھیان دیا جائے۔ اب اگلے ہفتے پابندی کے ساتھ اول وقت میں پڑھنے کی کوشش کریں… کاموں کی ترتیب اس طرح کریں کہ نماز کے اوقا ت کے ساتھ ان کا ٹکراؤ نہ ہو… دل و دماغ کو اس پر آمادہ کریں کہ ہر کام چھوڑ کر بس اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے… دل بہت نادان ہے… بہت ٹال مٹول کرتا ہے تو اسے اللہ کے احسانات یاد دلائیں، وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ہمارے گناہوں کے باوجود بھی ہمیں مل رہی ہیں، پھر اسے ڈرائیں اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے۔

اور پھر اس طرح دھیرے دھیرے ٹارگٹ بڑھا کر نماز کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔ ایک ایکشن پلان بنائیں اور جو نماز پڑھی اس پر صحیح کا نشان اور جو چھوٹ گئی اس پر غلط اور جو قضاء ہوئی اور بعد میں قضا ادا کرلی تو اس پر (ق) لکھ دیں۔ اور اس پلان پر عمل کرتے رہیں، یہاں تک کہ تمام نمازوں میں صحیح کا نشان ہو… اب الحمد للہ کہہ کر ٹارگٹ بڑھا دیں… اوپر کی طرح ہی خاکہ بنائیں لیکن اب ہر نماز میں دو چھوٹے خانے شامل کریں۔

اور اب یہاں صحیح کے نشان لگائیں … دیکھیں کہ وہ کون سے کام ہیں جو نماز کو اول وقت پر ادا کرنے سے روک رہے ہیں اور کیا سچ میں ہمارے کام اتنے اہم ہیں کہ ہم نمازوں پر انہیں فوقیت دیں اور ہماری نماز ہمارے کاموں کی فہرست میں آخر سے بھی آخر میں ہے۔ اگر ایسا ہے تو ڈریئے اس وقت سے جب اللہ بھی اپنی Priority بدل دے اور ہمارے کاموں سے اپنی رحمت، برکت اور مدد اٹھالے…

جب ساری نمازیں کثرت سے اول وقت میں ہی ادا ہونے لگیں تو اب ایک زینہ اور چڑھئے۔ اور اب صرف ایک نماز پر توجہ دیجیے: مثال کے طور پر صرف عشا کی نماز کا خاکہ ذہن میں تیار کیجیے کہ وہ اول وقت پر ہوئی یا آخر وقت میں، اسی طرح سنتوں اور نوافل کے ساتھ ہوئی یا صرف فرض، سنت موکدہ اور وتر ہی پر اکتفا کر لیا گیا۔

اسی طرح تمام نمازوں کے لیے بنالیں اور اب اس کے لیے کوشش کریں۔ ذہن بات کو دلیل سے سمجھنا چاہتا ہے اسے دلیل سے سمجھائیں، جہاں ہماری نماز (مختصر کر کے پانچ منٹ میں ہوتی ہے اگر مکمل پڑھی جائے تو دس منٹ لگیں گے تو کیا اس اضافی پانچ منٹ میں ہم دنیا فتح کرلینے والے ہیں جو نماز میں کٹوتی کر رہے ہیں۔ بلکہ اگر اسی تھوڑے وقت میں مکمل نماز اللہ کے لیے پڑھی جائے تو ساری زندگی میں تبدیلیاں آنے لگیں گی۔ (انشاء اللہ)

اور اب ہے خشوع و خضوع کی بات… دل کو اللہ کی طرف لگانے کی بات… یہ چیز مسلسل توجہ چاہتی ہے۔۔۔ دن کا سارا وقت ہم ادھر ادھر کی فکروں اور خیالات میں گزارتے ہیں تو پھر نماز کے وقت سارا دھیان صرف اللہ کی طرف لگانا کیا مشکل کام ہے؟ اور اس سلسلے میں ہماری کوتاہی اللہ رب العزت نے قابل قبول رکھی ہے کہ میرا رب سب سے برتر اور پاک ہے تو کیا اس آسانی سے ہم یہ فائدہ اٹھائیں کہ اگر دل و دماغ دوسری سوچوں میں ہو اور خیال آرہے ہوں تو فوراً جھٹک دیں۔ خود کو یہ احساس دلائیں کہ ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہیں… خود سپردگی کی کیفیت خود پر طاری کریں۔ خود کو اللہ کے احسانات یاد دلائیں۔ اپنے گناہ یاد کریں اور پھر یہ سوچیں کہ کیسے اللہ نے گناہوں کی پردہ پوشی کی ہے… اس طرح دل و دماغ کی سوچوں کے محور کو اللہ کی طرف پھیر دیں۔ شروع شروع میں مشکل ہوگی بہت بار دل و دماغ کو کھینچ کھینچ کر ان سوچوں کی طرف لانا پڑے گا لیکن پھر دھیرے دھیرے ہمارا دل اور دماغ عادی ہوجائیں گے اور اب جیسے ہی ہم نماز کے لیے کھڑے ہوں گے محور خود بخود اللہ کی ذات بن جائے گی ۔ ان شاء اللہ

تلاوتِ قرآن

رمضان کے بعد جو چیز سب سے زیادہ نظر انداز کی جاتی ہے وہ ہے قرآن… ایمانداری سے خود کا جائزہ لیں کہ رمضان کے بعد اب تک کیا ہم نے تلاوتِ قرآن کے معمول کو اپنائے رکھا؟ یا پھر جمعہ کے دن سورہ کہف اور چند ایک مخصوص قرآنی سورتوں کی تلاوت تک بات آگئی ہے؟ رمضان کے بعد جو چیز سب سے پہلے ہمارے معمول سے باہر نکل جاتی ہے وہ ہے بلا ناغہ تلاوتِ قرآن… مخصوص قرآنی سورتوں کی تلاوت بہت اچھی بات ہے ان کی بڑی فضیلت ہے لیکن انھیں ہی کل سمجھنا غلط ہے۔

کیا کریں اب ہم؟ کچھ نہیں… بس روزانہ صبح اور شام کے اوقات سے آدھا گھنٹہ نکال لیں اور تلاوتِ قرآن کو معمول بنالیں… اس ۲۴ گھنٹوں کا تحفہ دینے والے رب نے کچھ باتیں ہم سے کی ہے تو کیا ہم اس رب عظیم کی بات سننے کے لیے سمجھنے کے لیے جاننے کے لیے (جو صرف اور صرف اور صرف ہمارے بھلے کے لیے ہے) کچھ وقت نہیں نکال سکتے؟؟

سورۂ یٰسین: اپنے دن کا آغاز ہی اس سورہ کی تلاوت سے کیجیے… شروع میں اس کی تلاوت کے لیے آپ کو پندرہ منٹ لگیں گے لیکن جیسے جیسے آپ کی روٹین میں اس کی تلاوت رہے گی تو وقت کم ہوتا جاتا ہے کہ الفاظ ہماری زبان پر بیٹھنے لگتے ہیں…

عربی پڑھنے کے بعد دو سے تین منٹ نکال کر ترجمہ پر بھی ایک نظر ڈال دیں۔ دس پندرہ دن بعد یا پچیس دن بعد اگر آپ دھیان دیں تو آپ محسوس کریں گے کہ عربی پڑھتے وقت اس کا ترجمہ خود بخود ہمارے ذہن میں ابھرتا چلا جاتا ہے۔

سورۂ یٰسین کے بعد قرآن کی تلاوت کریں… زیادہ نہیں بس دو رکوعّ جی ہاں بس دو رکوع پڑھ لیں۔ اور دیکھیں کہ کتنا وقت لگتا ہے۔ اور اب اس کے ترجمہ پر بھی ایک نظر ڈال دیں۔ یقین مانیں کوئی نہ کوئی آیت ایسی ضرور ملے گی جسے ہم خود سے Relateکرسکیں گے جو ہمیں روشنی دکھائے گی ، ہم تکلیف میں ہوں گے تو درد کو کم کرے گی، تسلی دے گی، ہمت بندھائے گی اور امید کی ڈوری ہاتھ میں رہے گی۔

اور یوں تیس منٹ سے بھی کم وقت میں صبح کے اوقات میں تلاوتِ قرآن کا کورس ہوجائے گا۔ یہ آسان سی چیز ہے ان لوگوں کے لیے جو سچ میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کہ قرآن ان سے بات کرے اور یہ بھاری گزرے گا ان پر جنہیں قرآن سے محبت نہیں ہے۔ اور یوں ان کے لیے زندگی، ان کے معمولات اور مسائل بوجھ بنتے جائیں گے کہ نہ کوئی رہنمائی ان کے ساتھ ہوگی نہ روشنی، نہ امید، نہ تسلی، نہ ہمت۔

اب رات میں عشا کی نماز کے بعد یا سونے سے کچھ دیر پہلے سورۂ ملک: ۲۹ پارہ کے پہلے دو رکوع، تیس آیات، بمشکل دس منٹ لگیں گے تلاوت کے لیے لیکن یہ دس منٹ کی خالص اللہ کے لیے کی جانے والی تلاوت ہماری قبر کو روشنی سے بھردے گی۔ انشاء اللہ۔ احادیث سے اس سورہ کو رات میں سونے سے قبل تلاوت کرنے کی فضیلت آئی ہے۔ تو کیا ہم خود کے لیے بھی یہ نہ پڑھیں گے کہ جب قبر میں ہم اکیلے ہوں گے، کوئی مددگار نہ ہوگا، وہاں کا خوف، پر ہیبت اندھیرا ہوگا تو یہ وہ روشنی ہوگی جو ہمارے پاس ہوگی!!

اب ایک بار پھر سے جو آیات صبح پڑھی تھی (دو رکوع) ان کا ترجمہ ایک نظر دیکھ لیںّ اور کسی تفسیر سے ان کا Short explainatioin دیکھ لیں اگر انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں تو یو ٹیوب فرحت ہاشمی کی ان رکوع کی تفسیر سن لیجیے۔ شروعات میں Basic کے لیے مولانا مودودیؒ کی تفہیم القرآن بہتر رہے گی۔ اگر آج سے پہلے کبھی تفسیر پڑھنے کا موقع نہ ملا ہو تو تلخیص سے شروع کریں جس میں بہت ہی مختصراً آیت کو Explain کیا جاتا ہے۔

یوں دن بھر میں صرف ایک گھنٹہ تلاوت قرآن اور ترجمہ و تشریح ( صرف دو رکوع) بلا ناغہ کریں… چاہے کتنی ہی مصروفیت ہو قرآن کے بغیر ایک دن نہ گزرے اور پھر ان حیرت انگیز تبدیلیوں کا مشاہدہ کریں جو آپ خود میں، اپنے رویوں میں، زندگی میں اور اپنے دل میں محسوس کریں گے۔

قرآن اللہ کی رسی ہے، آج کے طوفان میں بچنے کا صرف ایک راستہ ہے قرآن۔

دوسری اہم چیز کہ اگر آپ صرف تلاوت کرنا چاہتی ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں مگر کیا کبھی سوچا ہے کہ ہمیں یہ طلب کیوں نہیں ستاتی کہ آخر اللہ کہنا کیا چاہتے ہیں ہم سے؟ یہ کتاب اتنی مقبول کیوں ہے؟ کیا ہے اس میں ایسا جسے سن کر عمرؓ جیسے سخت دل انسان رو پڑے [قبول اسلام کی وجہ بننے والا واقعہ] کیا ہے اس میں ایسا کہ اس کی آیتوں کو سن کر جنوں کی ایک جماعت رک گئی؟ اور یہ سب صرف عربی پڑھ کر سمجھ میں نہیں آتا۔ پھر قرآن دل میں نہیں اتر پاتا۔ تو زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں۔ انشاء اللہ

او رایک آخری بات جس پر میں ایک بار پھر کہنا چاہوں گی کہ وہ سورتیں جن کی تلاوت معمول میں ہو مثلاً سورہ کہف (جمعہ کے دن) سورہ جمعہ سورہ واقعہ، سورہ دخان، سورہ الرحمن وغیرہ تو ان کو اپنے تلاوتِ قرآن والے سیشن سے (دو رکوع مع ترجمہ و تشریح) سے ہرگز نہ ملائیں۔

چلیں تو مل کر اللہ کی رسی کو تھامتے ہیں۔اللہ ہماری مدد فرمائے ۔ آمین ثم آمینlll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ سمیہ تحریم

Leave a Reply