5

کاش!

ساسوں ماں ہم سے اتنا خوش نہیں۔‘‘ ایک بہو نے کہا۔ دوسری بولی، وہ ہمارے ہر پکوان پر نکتہ چینی کرتی ہیں کبھی کہتی ہیں کھانے میں نمک بالکل نہیں، سالن میں سمندر امنڈ آیا۔ کیا گھر میں مرچ مسالوں کا کال پڑ گیا۔ دیکھو تو روٹی پر آسمان سے تارے اتر آئے۔ چھوٹی بہو جو تعلیم یافتہ تھی بولی کہ بات ایسی نہیں ہے۔ حقیقت میں ہم میں بہت کچھ کمی ہے۔ بہتر ہے درست کرلیں، چلو ایک اور بار بڑی بھابی (جٹھائی) سے پوچھ لیں آخر راز کیا ہے وہ کیسے پکاتی ہیں اور ان ہی کے پکوان مزے دار ہوتے ہیں۔

اتفاق سے بڑی بی پڑوس میں گئی ہوئی تھیں۔ تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تینوں دیورانیوں نے جٹھانی سے بہت عاجزی سے التجا کی، چھوٹی دیورانی نے سب کی طرف سے ترجمانی کرتے ہوئے پوچھ ہی لیا، تب بڑی بہو مسکراتے ہوئے کچھ خفگی سے فرمایا، کتنی بار سمجھایا مگر اس پر دھیان نہیں دیا جاتا۔ میں نے ایک جٹ کہا، بھابی آخری بار سمجھائیں، قسم ہے ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ وہ مسکراتے ہوئے سمجھانے جا رہی تھیں ’’مجبوری کے دنوں کے علاوہ ہر وقت باوضو رہنا، ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا نہ بھولیں، رسوئی گھر میں بھی ذکر اللہ چلتا رہے حتی کہ پیاز بھی کاٹنی ہو تو بسم اللہ کہہ کر شروع کریں۔ دوران پکوان وردِ درود شریف من ہی من میں جاری و ساری رہے۔ اختتام پکوان اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا، اے اللہ اس میں خیر و برکت عطا فرما۔‘‘ یہ سننا تھا تینوں دیورانیاں فرط مسرت سے جٹھانی سے لپٹ گئیں۔

چند دنوں بعد وہی ساس جو کل تک کچھ نہ کچھ عیب نکالتیں، تینوں بہوؤں کو مسکراتے ہوئے دعائیں دے رہی تھیں۔ اے میرے مالک تو میرے گھر میں برکت عطا فرما، اور آنے والی نسلوں میں بھی، اور ان سب کو نیکی اور خیر کی راہ پر قائم و دائم رکھ۔

سوچتا ہوں کاش ہر گھر ایسا ہوجائے اور اس کے گھر والے بھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمدمصطفی علی انصاری

تبصرہ کیجیے