صبر اور اس کی اہمیت

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

صبر کیا ہے، صبر کے اصل معنی جمے رہنے کے ہیں یعنی نفس کو گھبراہٹ مایوسی اور دل برداشتگی سے بچا کر اپنے موقف پر جمائے رکھنا۔ صبر انسان کے اس قابل تعریف عمل کا نام ہے جس کا اظہار مختلف حالات میں مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’جان لو کہ صبر کے ساتھ کامیابی ہے اور مصیبت کے ساتھ کشادگی ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے‘‘ ایک اور جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرے گا اللہ اس کو صبر دے گا اور صبر سے زیادہ بہتر اور بہت سی بھلائیوں کو سمیٹنے والی بخشش اور کوئی نہیں۔‘‘ (بخاری)

صبر وہی انسان کر سکتا ہے جس کے اندر شکر کی صفت پائی جاتی ہے۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ صبر کی صفت اپنے اندر کتنی خوبیوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ صبر سے مراد آزمائش بھی ہے جس طرح سے کہ ایوب علیہ السلام نے بیماری پر صبر کیا، یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کے گم ہوجانے پر صبر کیا اور محمدؐ نے اسلام کے پھیلانے میں کفار کی اذیتوں پر صبر کیا۔ اس کا دوسرا پہلو دیکھا جائے تو یہ ہے کہ بندہ کا خدا پر اعتماد اور یقین ہو ’’نبیؐ نے فرمایا کہ آزمائش جتنی سخت ہوگی اتنا ہی بڑا انعام ملے گا، شرط یہ ہے کہ انسان مصیبت سے گھبرا کر راہِ حق سے بھاگ نہ کھڑا ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ اس شخص کو آزماتا ہے جسے اس کو محبت ہوتی ہے پس جو لوگ خدا کے فیصلے پر راضی رہیں اور صبر کریں تب جاکر اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ بس کسی مسلمان کو کوئی قلبی تکلیف، جسمانی بیماری، کوئی دکھ، غم پہنچتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کو معاف کرتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے ایک کانٹا چبھ جاتا ہے تو وہ بھی اس کے گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتا ہے۔‘‘

حضرت انس بن مالکؓ کی ایک روایت ہے کہ رسولؐ نے فرمایا جنت مشکلات سے گھیر دی گئی ہے اور دوزخ خواہشات و لذات سے گھری ہوئی۔ (مسلم) مشکلات میں صبر بھی شامل ہے۔ آپ نے ہر چیز کا ثواب بتایا ہے لیکن صبر ایک ایسی چیز ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں ہے وہ اللہ کے اختیار میں ہے جتنا چاہے ثواب دے۔

صبر سے متعلق قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’صبر اور نماز سے مدد لو بے شک یہ ایک سخت مشکل کام ہے مگر ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں‘‘ اور اسی صورت میں فرمایا گیا: ’’اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لو یقینا اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ موجودہ حالات میں ہمارے پاس صبر نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے اگر کسی کو کوئی بیماری آجاتی ہے یا کوئی آزمائش اللہ کی طرف سے اترتی ہے تو لوگ اس پر شکوے شکایت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بیوی اپنے شوہر کی کم آمدنی پر اس سے شکایت کرتی ہے۔ وہ اپنا اور اپنے گھر کا موازنہ دوسرے لوگوں سے کرتی ہے اور صبر کے بجائے شکوہ کی روش اپناتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ رزق دینے والا اللہ ہے اور وہ جس کو جس قدر چاہتا ہے دیتا ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا مومن کا عجب حال ہے اگر اسے بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ خدا کی تعریف کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو وہ خدا کی تعریف کرتا اور صبر اختیار کرتا ہے، پس مومن کو ہر ایک حالت میں اجر و ثواب ملتا ہے یہاں تک کہ جو لقمہ وہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں دیتا ہے اس میں اس کو اجر ملتا ہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان) lll

شیئر کیجیے
Default image
نازیہ احمد حسن

Leave a Reply