اسلام، قرآن او رمکارمِ اخلاق

اخلاق دین اسلام کا شعار ہے۔ اخلاق معاشرتی معاملات طے کرنے کے اصول سکھاتا ہے۔ مسلم معاشرے کی خوب صورتی، حسن، دل کشی اور شائستگی باہمی حسن اخلاق میں پنہاں ہے۔ اخلاق کی بدولت بھلائی اور برائی کی تمیز اجاگر ہوتی ہے۔ حسن اخلاق، فضائل و رذائل کا علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اخلاق ایسا جامع، مضبوط، مکمل اور خوب صورت ضابطہ ہے کہ جس کی پابندی کے بغیر خوش گوار اور حسین اجتماعی زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ تہذیب اخلاق، ایسا علم ہے جو لوگوں کو باہم تعلقات استوار کرنے کا شعور بخشتا ہے۔ اخلاق انسانوں کو ان کے پاکیزہ مقاصد پیش نظر رکھ کر آگے بڑھنا سکھاتا ہے۔ حسن اخلاق دین کی بنیاد ہے اور دین اسلام انسانی زندگی کو حسن اخلاق کی بنیادوں پر تشکیل دینا چاہتا ہے۔ چناں چہ حضور اکرمؐ نے اپنی بعثت کا مقصد ہی حسن اخلاق کی تکمیل قرار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’میں اس لیے بھیجا گیاہوں کہ حسن اخلاق کی تکمیل کروں۔‘‘

قرآن پاک دنیا کی وہ عظیم الشان کتاب ہے، جس نے انسانی زندگی کے ہر معاشرتی پہلو پر خصوصی توجہ دی ہے اور احسن طریقے سے سمجھا دیا ہے کہ قوم و فرد کی زندگی میں کس طرح کے اخلاقیات کی ضرورت ہے۔ اخلاق کے اصول کیا ہیں اور ان کا مرجع اور ماخذ کیا ہونا چاہیے؟ قرآن مجید نے فلسفہ اخلاق پر مفصل بحث کی ہے اور یہی وہ مقدس کلامِ الٰہی ہے، جو ہمیں مکمل ترین ضابطہ حیات عطا کرتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تم کو انصاف، احسان اور اہل قرابت کو دینے کا حکم فرمایا ہے اور بے حیائی اور بے ہودہ کاموں سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس لیے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرلو۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں اجمالی طور پر امر بالمعروف ، انصاف، احسان اور اہل قرابت کی مدد اور نہی عن المنکر، بے ہودہ باتوں اور ظلم و زیادتی اور غیر متواضع طریقہ کار یعنی تین اخلاقی فضیلتوں اور تین رذائل کی نشان دہی کی گئی ہے اور یہی اخلاق اور بداخلاقی کی بنیاد قرار دی جاسکتی ہے۔

قرآنی تعلیمات کا علم ہمیں خیر و شر، نیکی و بدی الغرض انسانی زندگی کے ہر پہلو کی اصلاح اور تربیت کا شعور عطا کر رہا ہے۔ قرآن کریم وہ مقدم و مقدس کلام ہے جس کی روشنی میں ہمیں تہذیب اخلاق کی افادیت معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی علم نصیب ہوتا ہے کہ اخلاق انسان کو جبری طور پر نیک نہیں بناتا، بلکہ نیکی کی فضیلت اور اہمیت کو صحیح طریقے پر واضح کرتا ہے۔ ساتھ ہی علم اخلاق کی بہ دولت ہماری قوت ارادی مستحکم اور مضبوط ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بہ حیثیت مسلمان ہم قرآنی اصول اخلاقیات سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔

فضائل اخلاق کی حفظ و بقا کے لیے محسن انسانیت سیدنا محمد ﷺ کی اخلاقی تعلیمات اور ہر سنت مبارکہ کی دل فریب خوشبو کو دل و دماغ میں سمونا ہوگا۔ اپنی زندگی کو آقائے دوجہاں، تاج دار حرمؐ کی خوب صورت زندگی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ آپؐ کے اخلاق کریمانہ اپنی زندگی میں داخل کر کے اللہ کے احکامات کی پاس داری کرنی ہوگی۔ تاکہ ہماری زندگی اطاعت الٰہی کا نمونہ بن جائے اور حقوق الٰہیہ اور حقوق العباد کی کماحقہ ادائی ہوجائے۔

ارشادِ خداوندی ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ کے سچے بندوں کے ساتھ ہوجاؤ۔‘‘ اللہ کے رسول کریمؐ نے فرمایا:

’’تم جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو اور جب برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلو، وہ اس کو مٹادے گی اور لوگوں کے درمیان اچھے اخلاق کے ساتھ رہو۔‘‘

’’تین اوصاف اللہ کے نزدیک اعلیٰ اخلاق ہیں۔ (۱)جو شخص تم پر ظلم کرے، تم اس کو معاف کردو (۲) جو شخص تم کو محروم کرے، تم اس کو دو (۳) جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔‘‘

’’تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔‘‘

عجز و انکساری، عفو و درگزر اعلیٰ ترین اخلاق کی علامت ہیں۔ اللہ کے سامنے بندے کی انکساری در حقیقت خشوع ہے اور یہی عجز انسان کا اللہ کے بندوں کے سامنے ظاہر ہو تو اسے تواضع کہا جاتا ہے۔ دراصل یہی شرعی یعنی اسلامی اخلاق ہے۔ جس کی تکمیل رسولؓ کریمؐ کی ذاتِ اقدس پر ہوتی ہے جو ہمارے لیے عظیم اور مشعل راہ ہے۔ آقائے کریم سیدنا محمدﷺ کے اخلاق کریمانہ کے اوصاف حمیدہ اپنائے بغیر ہمارا اخلاق مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ حضور اکرمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’میرے نزدیک لوگوں میں زیادہ پسندیدہ وہ ہے، جو زیادہ بااخلاق ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’بے شک! مسلمانوں میں سب سے کامل ایمان اس کا ہے، جس کا اخلاق سب سے بہتر ہے۔‘‘ ابن ماجہ میں مذکور ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو جو سب سے بڑا عطیہ ملا ہے وہ اس کے اچھے اخلاق ہیں۔‘‘

ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں خیال رکھنا ہے کہ ہمارے ہاتھ، زبان اور ہمارے کسی بھی عمل سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ ہماری وجہ سے کوئی رنجیدہ اور دکھی نہ ہو۔ خواب غفلت سے بے دار ہوکر تمام اخلاط کا سد باب اور ازالہ کیا جائے، خلق خدا کی دل جوئی اور غم گساری کی جائے، اخوت و بھائی چارے کی فضا قائم کی جائے۔ ہمیں دلوں سے بغض، کینہ، عداوت، شر، غیبت، حرص اور لالچ کو باہر نکالنا، امن و سلامتی کو شعار بنانا، اپنی زندگی کو کامل اتباعِ سنت کے مطابق گزارنا اور ایک شان دار، مضبوط اور مستحکم اور پاکیزہ مسلم معاشرے کے قیام کے لیے خود کو ایثار و قربانی کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خالدہ دانش ریاض

Leave a Reply