5

خواتین اور اسلام

اللہ تعالیٰ اپنی آخری کتاب قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:

’’بے شک اسلام کا کام کرنے والے مرد اور اسلام کا کام کرنے والی عورتیں اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں اور فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں برداری کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور بہ کثرت اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (الاحزاب:۳۵)

دنیا بھر کے مذاہب کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ جو عزت، احترام، مرتبہ اور حقوق اسلام نے عورتوں کو دیے ہیں وہ دنیا کا کوئی مذہب نہ دے سکا۔ بلکہ اسلام سے پہلے عورت کس قدر ذلت اور پستی کی زندگی گزار رہی تھی یہ ناقابل بیان ہے۔ مذاہب عالم میں نہ تو عورت کو وراثت کا حق حاصل تھا، نہ جائیداد رکھنے کا، نہ طلاق کا اور نہ خاوند کی وفات کے بعد دوسری شادی کا بلکہ ہندو مذہب میں لازم تھا کہ عورت کو خاوند کے مرنے پر ستی کیا جائے۔ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے طورپر نہ صرف عزت و احترام سے نوازا ہے بلکہ تمام حقوق دیے جس کی وہ حق دار تھی جیسا کہ درج بالا آیت میں واضح ہے۔ اللہ کے نزدیک مغفرت اور اجر عظیم کے مستحق وہ لوگ ہیں جو اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں، چاہے وہ مرد ہوں یا عورت۔

آج مغرب اسلام اور مسلمانوں پر خواتین کے حقوق اور آزادی کے مسئلے کو لے کر شدید حملے کر رہا ہے اور پوری دنیا میں اس بات کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام عورت کی آزادی کا مخالف ہے اور یہ کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق و آزادی کا تصور نہیں لیکن اگر دنیا اس کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتا چلے گا کہ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ۱۹۲۵ سے پہلے مرد وارث کے ہوتے ہوئے عورت کو حق وراثت سے محروم کر دیا جاتا تھا اور جہاں ۱۹۳۲ تک عورت کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا اور جہاں شادی کی صورت میں عورت کو اپنی تمام جائیداد سے دست بردار ہونا پڑتا تھا۔ مختصر یہ کہ عورت کو انسان نہیں بلکہ بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ جب کہ آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام نے عورت کو نہ صرف جائیداد رکھنے کی آزادی دی، وراثت میں حق دار بنایا بلکہ ہر لحاظ سے تحفظ فراہم کیا۔ عورت کا کھانا پینا اور رہائش سب مرد کے ذمے ہے۔ ماں کو اتنی عزت دی کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ بیٹی کے حقوق یہاں تک واضح کیے کہ شادی سے پہلے اس کی رضا مندی لازم قرار دی گئی۔ جہاں تک بات حقوق زوجین کی ہے اور جو بڑی اہمیت کا حامل موضوع ہے تو سورہ بقرہ میں ارشاد ربانی ہے ’’عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسا دستور کے مطابق مردوں کا (عورتوں پر) البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔‘‘ اللہ پاک نے مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق قرآن پاک میں واضح فرما دیے کہ دونوں کا ایک دوسرے پر برابری کا حق ہے البتہ مردوں کو عورتوں پر کچھ فضیلت ہے۔ جسمانی لحاظ سے، کمانے کے لحاظ سے، اخلاقی لحاظ سے اور بعض دوسرے معاملات میں۔ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، تم نے اللہ کی امانت سے انہیں لیا ہے۔ ایک اور موقع پر آپؐ نے فرمایا تم میں سے بہترین ہے وہ شخص جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے۔ ایک روایت میں بیان ہے ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا ہماری عورتوں کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا جب تم کھاؤ اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو، اسے گالیاں نہ دو، اس سے روٹھ کر کہیں اور نہ بھیج دو اور گھر میں ہی رکھو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے میں بھی اپنی زینت کروں، جس طرح وہ مجھے خوش کرنے کے لیے اپنا بناؤ سنگھار کرتی ہے (بہ حوالہ تفسیر ابن کثیر) اللہ پاک نے عورتوں کو بے شمار حقوق دیے جیسے شادی کے موقع پر حق مہر جو کہ مرد پر لازم کر دیا گیا ہے کہ جب وہ شادی کرے تو عورت کو اس کا مہر دے اور اس مہر سے وہ کچھ واپس نہیں لے سکتا، سوائے اس کے کہ عورت اپنی خوشی سے دے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والا ہو۔ میں اپنی بیویوں سے بہت اچھی گھر داری برتتا ہوں۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت مروت و خوشی سے بہت نرمی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے، کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے۔ ایسی خوش طبع باتیں کرتے جن سے وہ ہنس دیتیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کے ساتھ دوڑ لگائی، جس دوڑ میں وہ آگے نکل گئیں۔ کچھ مدت بعد پھر دوڑ ہوئی، تو وہ پیچھے رہ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادلا بدلا ہوگیا۔ (بہ حوالہ تفسیر ابن کثیر) الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو رکھتے تھے۔ پس مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی اور محبت و پیار سے پیش آئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہے۔ اللہ کے نزدیک بڑائی والا وہ ہے جس کے اعمال اچھے ہیں چاہے مرد ہو یا عورت۔ سورۃ النساء میں فرمایا گیا: ’’اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
ابتسام فہیم

تبصرہ کیجیے