حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ ہماری رول ماڈل

انسانی تاریخ میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ طاہرہؓ کی طرح کی خواتین کم ہی نظر آتی ہیں، جنہوں نے خواتین کے لیے عمل کی راہیں آسان تر اور روشن تر بنائی ہیں۔ اُن کی یہ عظمت تو قابل رشک ہے ہی کہ وہ حضور نبی کریمﷺ پر پہلی ایمان لانے والی انسان ہیں، مگر ان کی یہ عظمت ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اس ذات بابرکات کو تلاش کیا اور منتخب کیا جس کے لیے اقبالؒ کہتے ہیں کہ!

آیۂ کائنات کا معنی دیر یاب تو

نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو

انہوں نے عرب کی مالدار ترین خاتون ہوتے ہوئے امیر ترین رؤسائے عرب کے رشتے ٹھکرائے اور اس در یتیم کوجسے محبوب دوجہاں، بننا تھا، اس وقت پہچانا جب ابھی اُن کے گوہر کو اللہ نے آشکار نہ کیا تھا۔ یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بصیرت کی انتہا تھی اور ان کی خوش نصیبی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سے پندرہ سال بڑی اور دو دفعہ بیوہ ہوجانے کے باوجود اُن کا پیغام قبول کیا اور روئے زمین کا سب سے خوش بخت جوڑا ہونے کا اعزاز پایا۔

آج دنیا میں عورت کے حقوق، مساوات اور آزادی کے نعرے بلند آہنگ کے ساتھ گونج رہے ہیں۔ اخبارات کے خصوصی ضمیمے نکلتے ہیں۔ سول سوسائٹی اور این جی اوز پنج ستارہ ہوٹلوں میں کانفرنسیں کرتی ہیں۔ کروڑوں روپے کے اخراجات سے مختلف سرگرمیاں انجام پاتی ہیں۔ حکومتیں بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں۔ بلند بانگ دعووں کے ساتھ سرکاری تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں اور دنیا بھر میں عورت کو انصاف دلانے اور اس کی حالت کو بہتر کرنے کے لیے نئے خطوط پر قانون سازی بھی کہی جا رہی ہے۔ مگر عام عورت کی قسمت میں وہی محرومی، مجبوری اور زندگی کی تلخیاں برقرار ہیں، کیوں کہ صرف اسی تلخی، محرومی اور مجبوری ہی کا ہر طرف آوازہ جو گونج رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں ہر باشعور فرد کا یہ فرض ہے کہ حقائق کی روشنی میں عورت کی زندگی کی ان تلخیوں اور محرومیوں کو بھی کم کرنے کی کوشش کرے اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کی ان خوشیوں اور رعنائیوں کا بھی ذکر کرے جو ہمارا معاشرہ، ہماری اقدار اور ہمارا دین ہماری زندگیوں میں شامل کرتا ہے۔

اگرچہ آج حقوق نسواں اور عورت کی آزادی اور مساوات کا بڑا چرچا ہے مگر ہم ان خواتین کا تاریخی معاشرتی رول دنیا کے سامنے نہیں لایا گیا ہے اور نہ ہی ہم اس پر عمل درآمد کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کر رہے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ کا یہ فیصلہ کہ انھوں نے حضورﷺ کو خود منتخب کیا۔ ان کی رائے کی آزادی اور ان کے حقوق کے حاصل ہونے کا ایسا اعلان ہے کہ جس کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ سیرت نبویﷺ پر غور کریں تو ایک عرب شاعر نے ان پر طنز کرتے ہوئے شعر کہا تھا کہ ’’جب سے اس دنیا میں محمدؐ آئے ہیں، عورت کے حقوق کا بڑا چرچا ہے۔‘‘

حضورﷺ نے ساری عمر خدیجہؓ کا بہت پیار اور احترام سے ذکر کیا، کیوں کہ انھوں نے وفا، محبت اور قربانی کی لازوال داستان رقم کی ہے۔ خاندانِ نبوت کی ایسی آبیاری کی کہ اس میں اپنا تن بھی جلایا، اپنے من کو بھی وفا کی بھٹی میں تپایا اور اپنے دھن کو بھی قربان کیا۔ وہ مکہ کی انتہائی کامیاب اور مشہور تاجر تھیں، جن کے تجارتی قافلے شام اور یمن تک تجارت کے لیے جایا کرتے تھے، لیکن پھر شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں تین سال تک آپؐ کے ساتھ ایثار و قربانی کا ایسا رشتہ نبھایا کہ تاریخ اس طرح کی مثال دینے سے قاصر ہے۔

سب سے پہلے حضور نبی کریمﷺ کی ایسی دلجوئی کی اور تسلی کے وہ تاریخی الفاظ رقم کیے، جن سے حضورؐ کی شفیق ہستی کو وحی کی گراںبار ذمہ داریاں سنبھالنے میں ڈھارس ملی۔ وہ نبوت کی پہلی ڈھال بنیں اور ہر جگہ اپنے محبوب شوہر کی غم گساری کی۔

حضور نبی کریمﷺ نے بھی ان کی ایسی حوصلہ افزائی کی کہ ان کی صلاحیتیں او ربھی پروان چڑھیں اور ان کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا۔ ان کے ہوتے ہوئے حضورؐ نے کوئی اور نکاح نہ کیا۔ یہ بھی ان کا ایک بہت مبارک اعزاز ہے کہ ان کی وجہ سے خانہ نبوت کو اولاد عطا ہوئی۔ ان کی اتنی منفرد اور بابرکت ذات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نوعِ انسانی کے سب سے مبارک گھرانے کا مرکز محبت بنایا۔ عورت اپنے خاندان اور گھر کا مرکز محبت ہوتی ہے، اسی لیے قرآن کریم میں صنفی مساوات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ رب العالمین فرماتا ہے:

’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔ خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۹۵)

حضور نبی کریمﷺ کے اعلانِ نبوت کے بعد حضرت خدیجہؓ نے ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر اسلام قبول کیا اور آپؐ کی نبوت کی تصدیق کرتے ہوئے آپؐ پر ایمان لائیں۔ علامہ ابن اثیر اپنی مشہور کتاب اسر الغلبۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں لکھتے ہیں کہ: ’’وہ خلق خدا میں سب سے پہلے اسلام لانے والی تھیں۔ اس معاملے میں نہ کسی مرد اور نہ کسی عورت نے ان سے سبقت کی۔‘‘

ہم بھی آج حضرت خدیجہؓ کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم معاشرے میں عورت کے لیے راہِ عمل متعین کریں۔ معاشرے میں اس کے استحصال پر کڑی نظر رکھیں اور اس کے لیے محبت اور حفاظت کا ماحول بنانے کا انتظام کریں۔ مردوں کے اس معاشرے میں حضورؐ کی سیرت کی شفقت کو عام کریں اور وہی ماحول بنائیں جس میں زندہ درگور ہوئی عورت کو انسانیت کا شرف ملا، سر اٹھا کر جینے کا حق ملا، اظہار رائے کی آزادی ملی اور اس کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس کے خاندان کے مرکز محبت ہونے کے کردار کو ہی اتنی اہمیت دی گئی کہ اس دور کی عورت کو اس غلط فہمی کا موقع ہی نہ مل سکا کہ گھر ایک قید خانہ ہے۔ اس نے گھر کو جنت بنا کر اسی کردار کو اتنے فعال طریقے سے ادا کیا کہ اس نے ایک ایسی نسل تیار کی کہ جس نے وہ معاشرہ تخلیق کیا جو آج بھی انسانوں کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے۔

حضرت خدیجہؓ کو بطور رول ماڈل سامنے رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا معاشرہ ان کے تاریخ ساز کردار سے عمل کی راہوں کو روشن کرے۔ ہم بھی اپنی عورتوں کو ویسے ہی حقوق دیں۔ ان کی اسی طرح سے حوصلہ افزائی کریں۔ انہیں محبت اور حفاظت کے حصار مہیا کریں، کیوں کہ ایک روایت کے مطابق بی بی حوا علیہا السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا اور پسلی دل کے قریب اور بازو کے نیچے ہوتی ہے۔ عورت کی فطرت کو اسی طور پر پیدا کیا گیا کہ وہ محبت سے حفاظت کی محتاج ہوتی ہے اور جس بھی عورت کو یہ حصار میسر آجائے وہ ہر ناممکن کام کو ممکن کر جاتی ہے۔ ہماری یہ بدقسمتی رہی ہے کہ جس تاریخ اور معاشرے کو مردوں اور عورتوں نے مل کر بنایا ہے، اس میں سے عورت کو غائب کر دیا گیا ہے۔ اسی لیے دنیا نے ہماری تاریخ اور معاشرے، دونوں کا ادھورا اور ناقص تصور لے لیا ہے۔

اسلام کا خوبصورت اور روشن چہرہ دنیا کو دکھانے کے لیے ہمیں ان منور کرداروں کو سامنے لانا ہوگا، جنہوں نے روایت شکن اقدامات کر کے عورت کو ان کے حقوق دلائے۔ آئیے ہم پھر سے انھی مدھم ہوتے ہوئے نقوش کو تازہ کریں اور اپنی اس کھوئی ہوئی عظمت کو بازیاب کرانے کے لیے حضرت خدیجہؓ کے قدموں میں بیٹھ کر اپنے لیے عمل کی راہیں تلاش کریں اور اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیں تاکہ دنیا کی خواتین کے سامنے وہ عملی ماڈل آسکے جس نے عورت کو عزت و عظمت عطا کی تھی۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

Leave a Reply