گناہ کو ترک کرنا

حضرت ابو قتادہؓ اور ابو دھماء بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک صحرا نشین کے پاس آئے۔ اس نے ہم سے بیان کیا کہ ایک بار اللہ کے رسول ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر دو باتیں سکھلانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھلائی تھیں۔ ان میں ایک بات یہ تھی کہ آپﷺنے فرمایا: ’’یقین مانو، اللہ تعالیٰ کے ڈر سے جو کوئی عمل ترک کرے گا، اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔‘‘ (مسند احمد)

یہ پیار ی حدیث نبوی ہر متقی مومن کیلیے بہترین الوہی تحفہ ہے۔ اس میں مومن کے لیے تسلی و اطمینان کا سامان ہے کہ ہروہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اگر وہ بظاہر صحیح بھی لگے تو اخروی طور پر اس کے ترک میں ہی مسلم کے لیے خیر ہے۔ لہٰذا اگر کوئی مومن بندہ اس چیز کو چھوڑ دیتا ہے یا کسی اور کو اپنے اوپر ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ جلد یا دیر میں اس سے بہتر اور عمدہ چیز کی صورت میں دیتا ہے۔ اس فرمان نبویؐ کی تہہ تک پہنچنے اور اس سے مکمل طور پر مستفید ہونے کے لیے حدیث کے تینوں حصوں پر غور کرنا ضروری ہے۔

ترک کرنا

اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اس چیز کو اپنانے یا کام کو عملی جامہ پہنا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور اس پر عمل کرنا اس کے بس سے باہر نہیں جیسے ایک شخص فحاشی اپنانے پر قدرت رکھتا ہے، اور اس کے اسباب اس کے پاس مہیا ہیں لیکن قدرت کے باوجود اسے نہیں اپناتا تو وہ اجر کا مستحق ہے۔ اسی طرح ایک بندے کو غصہ آتا ہے اور اپنے غصے کو عملی جامہ پہنا دینے پر وہ قدرت بھی رکھتا ہے، لیکن وہ غصہ پی جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کے پاس فخر و مباہات کے سامان موجود ہیں، اس کے باوجود تواضع و انکساری سے کام لیتا ہے تو وہ اس اجر کا مستحق ہے۔ البتہ وہ شخص جس کے پاس فحاشی اپنانے کے وسائل نہیں ہیں، وہ کمزور ہے، غصے کی حالت میں اپنے مخالف سے بدلہ نہیں لے سکتا یا اس کے پاس فخر و مباہات کے سامان مہیا ہی نہیں تو وہ اس اجر کا مستحق نہ ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے اجر نہیں ملے گا، ایسا نہیں بلکہ اس حدیث میں وارد انعام سے وہ محروم رہے گا۔

اللہ کا ڈر

یہ جملہ بھی بہت اہم ہے، کیوں کہ بسا اوقات ایک شخص بہت سے گناہ کے کام اس لیے ترک کرتا ہے کہ اس عمل کی طرف اس کا میلان ہی نہیں ہوتا۔ یا اس کے پاس گناہ کرنے کے وسائل ہی نہیں ہوتے۔ یا اس کام کو لوگوں کے خوف سے یا اپنے کسی دنیاوی فائدہ یا دنیاوی نقصان سے بچنے کے لیے ترک کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسا شخص بھی اس اجر عظیم کا مستحق نہیں ٹھہرے گا۔ جیسے ایک شخص شہوت نہیں رکھتا یا غریب و فقیر ہونے کی وجہ سے یا بدصورت و کمزور ہونے کی وجہ سے اسے فحاشی اپنانے کا موقع نہیں ملتا یا اپنی بے عزتی یا دنیاوی سزا کے خوف سے وہ یہ قدم نہیں اٹھاتا۔ اسی طرح اس شخص کو غصہ تو آتا ہے لیکن کمزوری یا کسی دنیاوی مجبوری کی وجہ سے اپنے غصہ کو نافذ نہیں کرسکتا وغیرہ۔ تو ایسا شخص بھی اس اجر عظیم کا مستحق نہ ٹھہرے گا۔

درج بالا دونوں باتوں کو اس فرمان الٰہی میں واضح کیا گیا ہے ’’اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف کھائے اور اپنے نفس کو خواہش سے روکے تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔‘‘ (النازعات:۴۰-۴۱) ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص عمدہ اور فخر و مباہات کے لباس کو بطور خاک ساری اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے حالاں کہ وہ اس لباس کو استعمال کر سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے یہ اختیار دے گا کہ ایمان کے جس جوڑے کو چاہے زیب تن کرے۔ (ترمذی)

اچھا بدلہ

یہ بدلہ مادی بھی ہوسکتا ہے اور معنوی بھی۔ فوری بھی ہوسکتا ہے اور تاخیر سے بھی۔ دنیا میں بھی ہوسکتا ہے اور آخرت میں بھی۔ جس چیز کو چھوڑا ہے اسی کے جنس سے بھی ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور صورت میں بھی جیسا کہ متقدمین و متاخرین کی بہت سی مثالیں قرآن و حدیث اور سلف کے تذکرے میں موجود ہیں۔ چناں چہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جہاد کے لیے تیار کردہ گھوڑوں کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہوا کی نعمت سے نوازا، جس کے ذریعے ایک ماہ کی مسافت صرف صبح کے وقت یا شام کے وقت طے کرلیا کرتے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی شہوت کو قابو میں رکھا تو انہیں پورے مصرکی حکومت حاصل ہوگئی وغیرہ۔ اور یہی کیا کم ہے کہ اگر ایمان زندہ ہے تو کسی بھی برائی کے ترک پر ایک مومن افسوس نہیں کرتا بلکہ اسے سکون و اطمینان کی نعمت حاصل رہتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صالحہ مجید فلاحی

Leave a Reply