طلاق کا قرآنی طریقہ

گزشتہ شمارے میں ہم نے طلاق کے قرآنی طریقے کے بارے میں بے داری کی غرض سے طلاق سے پہلے کے ان مراحل کا ذکر کیا تھا جو قرآن نے بتائے ہیں۔ اگر لوگ اس سلسلے میں دی گئی قرآنی ہدایات پر عمل کریں تو بہت سی طلاقیں ہونے سے رک سکتی ہیں اور بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ لیکن ان کوششوں کے باوجود اگر کوئی حل نہ نکل سکے تو پھر اس مرحلۂ طلاق کو کیسے بہ حسن و خوبی انجام دیا جائے اس کے سلسلہ میں قرآنی ہدایات کا تذکرہ ہوگا۔

ہم مسلمانوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ طلاق کا یہ نظام معاشرے کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ اپنے ہی سماج میں ذرا نگاہ دوڑا کر دیکھئے کہ جہاں میاں بیوی کے درمیان نباہ کی صورت نہیں بن پاتی اور وہ طلاق کی نعمت سے محروم ہیں وہاں زندگی کس قدر اذیت ناک ہوتی ہے۔ ہر لمحہ عذاب اور ہر دن جہنم کا دن ہوتا ہے اور کبھی مرد اس عذاب سے چھٹکارے کے لیے تڑپتا ہے تو کبھی عورت اس سے نجات کی راہ ڈھونڈنے میں سر پھوڑتی نظر آتی ہے۔ جن معاشروں میں طلاق کو ناممکن حد تک مشکل بنا کر عدالتی نظام کے سپرد کیا گیا ہے وہاں سالوں سال لوگ عدالتوں کے چکر کاٹتے اور اپنی جوانیاں گھلاتے رہتے ہیں۔ کہیں ایسا ہے کہ طلاق کے خواہش مند کو اس کی بھاری مالی قیمت چکانی پڑتی ہے اور وہ دیوالیہ ہو جاتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت۔ جب ایک ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور طلاق کا حصول بھی دشوار نظر آتا ہے تو کہیں مرد خود کشی کرتے ہیں تو کہیں عورت خود ہی اپنی جان لے لیتی ہے، کہیں شوہر کو اس کی سسرال والے قتل کر دیتے ہیں تو کہیں عورت کو سسرال میں قتل کر دیا جاتا ہے۔

طلاق زندگی کو مشکل کے بجائے آسان اور ناخوش گوار سے خوش گوار بنانے کی خدائی ترکیب ہے کہ نباہ نہ ہونے کی صورت میں مرد و عورت ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں اور اپنے اپنے مطابق بہتر زندگی کی تلاش کرسکیں۔ حلال چیزوں میں طلاق کے ناپسندیدہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دین بنیادی طور پر رشتوں کو جوڑنے اور بہتر بنانے کا حامی ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو طلاق کی نعمت ان کے لیے موجود ہے کہ وہ اسے بہ حسن و خوبی استعمال کرتے ہوئے اپنے اپنے راستے الگ کرلیں اور اذیت کی زندگی سے خود کو نکال لیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسے اپنی بے دینی، لاعلمی اور بدعملی کے سبب اپنے لیے عذاب اور سماج کے لیے تضحیک و تنقید کا موضوع بنا دیا ہے۔ اس چیز نے عام سماج کو یہ تاثر دیا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق، طلاق، طلاق کہہ کر عورت کو جو ’’پتھر مارے‘‘ جاتے ہیں وہ عورت پر ظلم ہے اور یہ ظلم اگرچہ ایک جاہل اور بے دین فرد کرتا ہے مگر وہ اسلام کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، جب کہ دین میں ایسا کچھ نہیں۔ وہاں تو بہ سہولت مرحلہ وار اور منصوبہ بند طریقے سے بہ حسن و خوبی انجام دینے کا راستہ تجویز کیا گیا ہے مگر لوگ طلاق کا غلط طریقہ اختیار کر کے خود اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور عورت اور اسلام پر بھی زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

قرآن پاک سورہ بقرہ آیت ۲۳۰-۲۲۹ میں جہاں طلاق کا حکم ہے، واضح طور پر کہا گیا ہے:

’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، انہیں نہ پھلانگو اور جو اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پھلانگتے ہیں دراصل وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ اور آگے کہا گیا:

’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں یہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ یہ وہ ظلم ہے جو ہم اللہ کی مقرر کردہ حدود کو نظر انداز کر کے خود اپنے اوپر، عورت پر اور پورے مسلم معاشرے پر کرتے ہیں۔

سورہ طلاق کی شروعات ان الفاظ میں ہوتی ہے:

ترجمہ: ’’اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ (زمانہ عدت میں) نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی بھی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے، شاید اللہ اس کے بعد (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے جب وہ عدت کی مدت کے خاتمے کو پہنچیں تو یا تو انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہوجاؤ۔‘‘

قرآن مجید کی ان آیات پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ طلاق کوئی ایسی چیز نہیں کہ اسے جب اور جس حالت میں چاہا استعمال کرلیا بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے سوچ سمجھ اور ہوش و ہواس کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی بھی مطلوب ہے۔ چناں چہ فقہا نے لکھا ہے کہ طلاق عورت کو طہر اور پاکی کی حالت میں ہی دی جائے اور اس وقت بھی نہ دی جائے جب وہ حمل سے ہو اور اگر عورت کو ایسی حالت میں طلاق دی گئی تو اس کی عدت اس وقت ختم ہوگی جب وہ بچے کو جنم دے چکے، یہ بات صراحت کے ساتھ سورہ طلاق کی آیت تین میں کہی گئی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی صراحت کے ساتھ کہی گئی ہے کہ طلاق کے وقت کم از کم دو قابل اعتماد افراد کو اس کا گواہ بنایا جائے ساتھ ہی رجوع کی صورت میں بھی دو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے کہ معاشرہ جان لے کہ طلاق کے بعد زوجین نے رجوع کر لیا ہے۔

ہمارے معاشرے کی قرآن اور شرعی احکامات سے ناواقفیت کا عالم یہ ہے کہ لوگوں نے طلاق کو ’’ہزوا‘‘ یعنی مذاق بنا لیا ہے اور جب جی چاہا طلاق، طلاق، طلاق کہہ دیا اور بعد یں شرمندہ ہوتے ہیں کہ ہائے ہم نے یہ کیا کیا۔ اپنا گھر تباہ کرلیا اور پھر لوگوں سے فتوے مانگتے پھرتے ہیں کہ ’’شاید اللہ اس کے بعد بھی نباہ کی کوئی صورت پیدا کردے‘‘ غور کیجیے کہ غصہ اور جاہلانہ انداز کی طلاق کا تو ذکر ہی کیا کہ اس کے پیچھے نہ سوچ و فکر کی طاقت ہے اور نہ منصوبہ بندی، وہ تو منصوبہ بند طلاق کی صورت میں بھی نباہ کے امکانات اور واپسی کا راستہ کھلا رکھتا ہے۔ یہ تو خود ہماری جہالت ہے کہ اللہ کی رحمت کے دروزے ہم خود اپنے اوپر بند کرلیتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے اور تڑپتے ہیں۔ قرآن صاف کہتا ہے کہ :

’’جب وہ عدت کی مدت کے خاتمے کو پہنچیں تو یا تو انہیں بھلے طریقہ سے روک رکھو (رجوع کرلو) یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہوجاؤ۔‘‘

اب بعض لوگ اس پر بحث کرتے ہیں کہ بہ یک وقت تین طلاقوں کو تین مانا جائے یا ایک تصور کیا جائے۔ یہ اختلاف فقہا کا اختلاف ہے اور قرآنی صراحتوں کی صورت میں اس اختلاف کی حیثیت بہت معمولی ہے کہ دورِ نبوی میں بیک وقت تین طلاق کا طریقہ رائج تھا ہی نہیں اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی موجود ہو اور اس کے صحابہ اس کی موجودگی ہی میں قرآن کے صریح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہ یک وقت تین طلاق جسے فقہا کی اصطلاح میں ’’طلاق بدعت‘‘ کہا جاتا ہے، اپنی بیویوں کو دیں۔ اور اگر یہ بدعت ہے تو رسولِ پاکﷺ کے قولِ صریح ’’کل بدعۃ ضلالۃ و کل ضلالۃ فی النار‘‘ … یعنی ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے‘‘ کے سبب اسے ختم کر دیا جانا چاہیے۔ مسلم معاشرے کی یہ کیسی ’’دینی سوچ‘‘ ہے کہ کچھ بدعتوں کو ختم کر دیا جائے اور کچھ کو ہم اپنے کندھوں پر ڈھوتے رہیں۔

نکاح اور طلاق محض الفاظ کا نام نہیں۔ یہ ایک عمل اور معاشرتی پروسس کا نام ہے جس طرح نکاح ایجاب و قبول کے عمل سے قائم ہوتا ہے اسی طرح طلاق بھی ایک عملی پروسس ہے جو انسانی زندگی میں وقوع پذیر ہوتا ہے، باوجود اس کے کہ اس عمل کے لیے الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ الفاظ زمان و مکان اور حالات کے درمیان (span of tirme) میں نافذ ہوتے ہیں اور یہ زمان و مکان اور حالات کا دائرہ ہمیں رجوع اور اصلاح کا موقع دیتا ہے۔ یہی بات ہے جو قرآن کی آیت سے واضح ہوتی ہے:

’’طلاق دو بار ہے۔ یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔‘‘(البقرۃ:۹۲۹)

الطلاق مرتان سے کیا بات واضح نہیں کہ ایک مرتبہ طلاق دی اور پھر محسوس کیا کہ نہیں چلو ساتھ رہ کر اچھی زندگی کی شروعات کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی میں ایک مرتبہ طلاق کا حق استعمال کرلیا۔ لیکن حالات نہ بن سکے اور پھر طلاق کی نوبت آگئی۔ لیکن اس بار پھر فریقین نے نباہ کی کوشش کی اور چاہا کہ نہیں پھر مل کر کوشش کرتے ہیں کہ گھر نہ ٹوٹنے پائے اور رجوع کرلیا۔پھر ساتھ ساتھ رہنے لگے اور نباہ کی کوشش کی مگر افسوس کہ پھر نباہ نہ ہوسکا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوبار طلاق ہوئی اور نباہ کی کوشش کی گئی مگر ممکن نہیں ہوسکا، پھر کیا کیا جائے؟

مطلب صاف ہے کہ دو بار طلاق ہوئی اور دوبار نباہ کی کوششیں ہوئیں مگر بات بن نہیں سکی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب زوجین کا ساتھ رہنا بھی تو ممکن ہے اور نہ ہی مناسب کہ وہ نباہ کی تمام شکلیں اپنے لیے بند پاتے ہیں۔ اس لیے اگر تیسری بار بھی علیحدگی ہویی تو اب رجوع بے کار ہے اس لیے جائز بھی نہیں۔ اب دونوں کو اپنی اپنی راہیں الگ ہی کرلینی چاہئیں کہ دونوں ایک اچھی زندگی جی سکیں۔

ہم نے بار بار یہ بات کہی ہے کہ قرآن اور اس کا طریقہ کار علیحدگی کی بات کرتے ہوئے بھی اتحاد اور نباہ کی راہیں تلاش کرتا ہے اور امید دلاتا ہے کہ شاید نباہ کی صورت نکل آئے اور اس نباہ کے لیے دو مرتبہ تک علیحدگی کا موقع دیتا ہے اور اسی وقت علیحدگی کراتا ہے جب اتحاد اور نباہ کے امکانات معدوم ہوجائیں۔

آپ طلاق سے پہلے کے مراحل سے لے کر ’’الطلاق مرتان‘‘ (طلاق دو بار ہے) تک دیکھ لیجیے ہر مرحلے میں قرآن نباہ کے امکانات ہی تلاش کرتا ہے۔ مگر ہماری جاہلانہ روش ان امکانات کو تہس نہس کردیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے طلاق ہی کے سیاق و سباق میں صاف طور پر فرمایا ہے:

’’اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ‘‘ اور پھر اپنی اس نعمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’اور بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے تمہیں کس نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔‘‘ (البقرۃ:۲۳۰)

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کی اس نعمت کو نعمت ہی کے طور پر استعمال کریں۔ نہ تو خود کو اور نہ ہی اپنے معاشرے کو زحمت میں مبتلا کریں اور نہ اللہ کی آیات کا مذاق بنانے کے مرتکب ہوں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب اپنی زندگی کا رشتہ قرآن سے جوڑیں اور جو کچھ کریں وہ اسی کی روشنی میں اور ہدایت کے مطابق کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply