طرزِ زندگی اور غذائی عادات

اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آج کے دور میں لوگ روز مرہ کی زندگی میں جن عادات اور غذائی نظام کو اپنائے ہوئے ہیں وہ صدیوں تک ہمارے آباء و اجداد کی اختیار کردہ عادات اور غذائی نظام سیبہت مختلف ہیں۔

ہم دن بھر میں تین بڑے کھانوں پر انحصار کرتے ہیں اور ان کھانوں کے درمیان بھوک محسوس ہونے پر ہلکے پھلکے اسنیکس کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ جب بیمار پڑتے ہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تاکہ اس سے دوائیں لے کر جلد اپنی نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔

اس کے علاوہ ہم اپنے اکثر کام کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کرتے ہیں بلکہ ہم تو کمپیوٹر کے ذریعے خریداری بھی کرلیتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر ہم اپنے آباواجداد اور سابقہ نسلوں کے طرز زندگی کا جائزہ لیں کہ وہ کس طرح سے اچھی صحت اور مستقل سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے تو ہوسکتا ہے ہک ہم خود کو بدلنے کے بارے میں سوچیں اور اس خوب صورت وقت کی طرف لوٹنے کی فکر کریں۔

ہمارے آباء واجداد اتنی مقدار میں خوراک نہیں کھایا کرتے تھے، جتنی آج ہم کھاتے ہیں۔ وہ لوگ آج کے الیکٹرانک دور میں کی جانے والی مشقت سے دس گنا زیادہ محنت اور مشقت کیا کرتے تھے۔ وزن کی کمی کے لیے وہ کسی خاص غذائی پروگرام کو نہیں اپناتے تھے اور نہ وہ ورزش کے لیے کسی ’جم‘ میں جاتے تھے۔

خلیجی اخبار نے صحت کے امور سے متعلق ویب سائٹ ’بولڈ اسکائی‘ کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ ماہرین نے اس طرز زندگی اور غذائی نظام کو جاننے کی کوشش کی ہے جس کے سبب پرانے وقتوں کے لوگ اپنے آج کے پوتے اور نواسوں سے بہتر صحت رکھتے تھے۔ ان کا خلاصہ سات حقائق میں پیش کیا گیا ہے۔

٭ طبی تحقیق سے ثابت ہے کہ ’جزوی فاقے‘ یا دن کے کسی ایک حصے میں کھانا کھانے سے بعض امراض مثلا ذیابیطس، سرطان اور دل سے متعلق بعض مسائل کے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔ ہمارے آباء و اجداد دن میں ایک بنیادی کھانا کھانے کو ترجیح دیا کرتے تھے جو غروب آفتاب سے قبل ہوتا تھا۔

٭ ’جزوی فاقے‘ کے دوران مفید عناصر سے بھرپور غذا لینے پر توجہ مرکوز رکھنے سے دماغ کو سرگرم کیا جاسکتا ہے اور اس طرح اس کی کاکردگی میں اضافہ ممکن ہے، جس کے نتیجے میں ادراک کے حواس مضبوط ہوتے ہیں اور یاد داشت بہتر ہوجاتی ہے۔

٭ ہمارے آباء و اجداد غروب آفتاب سے قبل بنیادی کھانا کھاکر جلد سو جایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے انہیں رات میں بھوک کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ یہ چیز ان کے لیے پرسکون اور گہری نیند لینے میں بھی مددگار ہوتی تھی۔

٭ ہمارے آباء و اجداد اپنے کھانوں میں زیادہ تر بغیر پکی خوراک بالخصوص سبزیوں اور پھلوں پر انحصار کرتے تھے اور یقینا انھوں نے زیادہ پکے ہوئے کھانوں کی عادت نہیں ڈالی۔

صحت مند طرزِ زندگی اور مفید غذائی روٹین کے پیش نظر ہمارے آباء و اجداد کے چہروں پر بڑھاپے کی علامات دیر سے ظاہر ہوتی تھیں اور یہ لوگ میک اپ کی اشیاء کے بارے میں جانتے تک نہ تھے۔

٭ چوں کہ ہمارے آباء و اجداد نے کمپنیوں اور کارخانوں کے اندر دفتری کام نہیں کیے اس لیے وہ روزانہ کے کام میں دباؤ کا شکار بھی نہیں ہوئے۔ آج جب کہ ہم اپنے کاموں کو روک نہیں سکتے ایسے میں ہمیں حتی الامکان یومیہ زندگی کے دباؤ سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ یہ تمام شعبوں میں ہم پر منفی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔

٭ ہمارے آباء و اجداد اپنے امراض کا علاج ڈاکٹروں اور دواؤں کے بغیر قدرتی طریقے سے کرنے کے عادی تھے۔ تاہم آج ہم نے کسی بھی بیماری کے علاج یا محسوس کی جانے والی تھکن سے جان چھڑانے کے لیے دوا کی گولیاں کھانا اپنے لیے نہایت آسان کرلیا ہے۔

آپ کے باپ دادا آپ سے بہتر صحت کیوں رکھتے تھے؟ یقینا سمجھ میں آگیا ہوگا۔lll

(اخباری رپورٹ پر منحصر تحریر)

شیئر کیجیے
Default image
ترتیب و پیشکش: ادارہ

Leave a Reply