کچن کا استعمال

کسی بھی گھر میں اس کی ضرورت ایک لازمی امر ہے۔ چھوٹا سا کمرہ جس میں الماریاں اور ریک ہوتے ہیں، گھریلو خواتین کا بیشتر وقت یہیں گزرتا ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر گھر میں یہ حصہ نہ ہو تو پھر گھر مکمل ہی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ باورچی خانے کے بغیر کسی گھر کی تکمیل ہو ہی نہیں سکتی۔ یہاں خاندان بھر کے کھانے پینے کی ضروریات کے حوالے سے خواتین ہر روز مصروف کار رہتی ہیں۔ یہاں انہیں بعض سختیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں تو دوسری جانب داد بھی ملتی ہے۔ باورچی خانے میں سارے کام انجام دینے کے ساتھ ہی صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ آپ کے سگھڑ پن کو تسلیم کرلیا جائے۔

بعض خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے چیزیں بکھیر دیتی ہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ کام ختم کرنے کے بعد ایک مرتبہ ہی صفائی کرلی جائے گی، جب کہ کچھ خواتین کھانے پکانے سے فارغ ہوتے ہوئے اس قدر تھک چکی ہوتی ہیں کہ انھیں فوری طور پر صفائی کا موقع نہیں ملتا، جس کے سبب باورچی خانے میں جابجا گندے برتن، سالن اور چائے کے داغ اور برتنوں پر رینگتے ہوئے کیڑے واضح دکھائی دیتے ہیں اور ایسے میں اچانک کوئی مہمان آجائے اور کسی خاتون کا اس جانب گزر ہو تو بڑی سبکی کا سامنا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ایسی صورتِ حال میں گھر کی خواتین کو پھوہڑ ہی کہے گا لہٰذا اس پشیمانی اور بیماریوں سے بچنے کے لیے کاموں کو انجام دیتے وقت چیزیں اپنی جگہ پر رکھیں، زیادہ پھیلاوا نہ کریں، گندے برتن فوری دھوکر رکھیں اور صفائی کا خیال رکھیں تو کبھی بھی باورچی خانے کا حال برا نہیں ہوگا۔

بعض خواتین ہفتہ وار یا مہینے میں دو مرتبہ باورچی خانے کی صفائی کرتی ہیں لیکن اگر وہ یومیہ اس کام میں صرف 30 منٹ لگائیں تو انھیںہفتہ وار یا ماہانہ صفائی سے نجات مل سکتی ہے جس میں بعض اوقات دن کا بیشتر وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ صاف ستھرے کچن میں ماحول اچھا رہتا ہے اور خواتین جی لگا کر کام کرتی ہیں جب کہ کچن میں گندگی ہو تو دل کام سے بھی اوب جاتا ہے۔ صفائی کے باعث اہل خانہ کی صحت بھی بہتر رہتی ہے خصوصاً بچوں کی جو معمولی سی غفلت کے بعد بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ گھریلو محاذ پر جنرل کا درجہ رکھنے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں خاندان بھر کی صحت کا خیال رکھیں اور گندگی کے خلاف جنگ جاری رکھتے ہوئے سگھڑ پن کے ساتھ فرائض انجام دیں، جس کے لیے چند تجاویز بھی ہم دے دیتے ہیں۔

*رات کو بچ جانے والی روٹیاں کپڑے میں لپیٹ کر فریج میں رکھ دیں، اس طرح روٹیاں خراب بھی نہیں ہوں گی اور ان میں چیونٹیاں وغیرہ بھی نہیں لگیں گی۔

*بچا ہوا سالن بھی دیگچی سے نکال کر کسی پیالے یا چھوٹے برتن میں منتقل کریں اور ڈھانپ کر فریج میں رکھ دیں تاکہ ساری رات کھانا باہر پڑے رہنے سے خراب نہ ہو اور ناشتے میں انڈوں کے بجائے یہی سالن استعمال ہوجائے۔

*رات کو کچن بند کرنے سے قبل گھی، چینی، آٹا اور تمام مسالہ جات کے ڈبے اچھی طرح بند کر کے رکھ دیں اور تمام اشیاء قرینے سے رکھ کر باہر آئیں۔

*کچن کا ڈسٹ بن اور جھاڑو گھر کے ڈسٹ بن اور جھاڑو سے علیحدہ ہونا چاہیے۔ ڈسٹ بن میں پولی تھین بیگ ضرور لگائیں تاکہ بھر جانے پر بیگ سمیت کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگایا جائے۔

*سوکھی روٹیاں یا بچ جانے والے روٹی کے ٹکڑے جو قابل استعمال نہ ہوں کسی الگ برتن میں رکھیں تاکہ تمام روٹیوں میں پھپھوندی لگنے کا خطرہ نہ رہے۔

*اگر آپ نے گھر میں مرغیاں پال رکھی ہیں تو بچ جانے والی روٹیوں کو رات میں بھگو کر رکھ دیں جو صبح مرغیاں کھا سکتی ہیں اور روٹیاں ضائع نہیں ہوں گی۔

*باورچی خانے میں صفائی کے لیے کم از کم دو ڈسٹر ضرور ہوں، ایک گیلا اور ایک خشک۔ گیلے کپڑے سے چولھے اور دیگر چیزوں پر لگے ہوئے چائے، سالن اور گھی یا تیل کے دھبے صاف کریں جب کہ خشک کپڑے سے سلیب کی صفائی کریں۔

*رات کے کھانے کے بعد برتن فوری طور پر دھوکر رکھیں اور کسی وجہ سے دھوئے نہ جاسکیں تو برتنوں میں پانی ڈال دیں تاکہ کیڑے مکوڑے برتنوں سے دور رہیں۔

*گندے برتنوں سے بچا ہوا سالن، چاول یا دیگر چیزیں نکال کر ڈسٹ بن میں ڈال دیں تاکہ کیڑے مکوڑے نہ آئیں۔

*کچن کے ڈسٹ بن میں گیلا کوڑا کرکٹ کبھی مت ڈالیں بلکہ کسی علیحدہ تھیلی میں ڈال کر پھینک دیں تاکہ کوڑے سے بدبو نہ اٹھے۔

*اگر آپ کے گھر میں مہینے بھر کا سودا سلف ایک ساتھ آتا ہے تو برتنوں میں ڈالیں اور مسالے ڈالنے کے بعد بچ جانے والے سامان کے پیکٹ اچھی طرح بند کر کے رکھیں۔

lہر دوسرے دن ڈسٹ بن کو گرم پانی سے دھوکر صاف کریں اور پولی تھین بیگ لگا دیں۔

*صفائی کرنے والے ڈسٹر رکھنے کے لیے ایک مخصوص جگہ بنائیں اور ڈسٹر کو ادھر ادھر نہ پھینکیں۔ گیلا ڈسٹر ہر روز دھوکر خشک کرنے کے لیے کسی جگہ پھیلا دیں جب کہ خشک ڈسٹر کو جھاڑ کر رکھیں۔

*روٹیاں رکھنے والا کپڑا یا دسترخوان بھی ہر روز دھوپ میں پھیلا کر اسے ہوا لگائیں اس طرھ روٹیوں میں بدبو پید انہیں ہوگی۔

*برتنوں کی الماری اور ریک کو ہفتے میں دو مرتبہ ضرور ترتیب دیں اور تمام چیزوں کو صاف ستھرا رکھیں۔

*مسالے استعمال کرنے کے بعد ہمیشہ اچھی طرح بند کر کے ترتیب سے رکھیں تاکہ ضرورت کے وقت ڈھونڈنے کا مسئلہ نہ ہو۔

*دن میں کم از کم دو مرتبہ کچن کا فرش دھوکر صاف کریں خاص طور پر دو پہر اور رات کے وقت۔

*بچوں کا کھانا اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں اور کوشش یہ ہو کہ انھیں ہر بار تازہ کھانا کھلایا جائے۔

*صفائی کے دوران یہ بات ذہن میں رہے کہ کسی دروازے کے پیچھے یا کھلی جگہ میں کھانے پینے کی اشیاء کے ذرات تو نہیں رہ گئے ہیں کیوں کہ ایسی صورت میں کیڑے مکوڑوں کی آمد و رفت کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چولھے کو بھی ہر دوسرے دن اچھی طرح صاف کریں اور اس کی ٹرے نکال کر دھوئیں کیوں کہ کھانا پکاتے وقت چولھے میں بھی غذا کے ذرات مسلسل گرتے رہتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں لال بیگ، جھینگر اور دیگر کیڑوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔

*اگر آپ کو کچن میں لال بیگ یا چھپکلی دکھائی دے تو سمجھ لیں کہ صفائی کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ صفائی ہوگی تو یہ چیزیں کچن کا رخ نہیں کریں گی اور آپ کا خاندان صحت مندانہ زندگی گزارنے کے قابل ہوسکے گا۔

*یاد رکھیں کہ گھر والوں کی صحت کی ذمہ داری خاتون خانہ کی ہوتی ہے جسے اپنی ذمہ داری نبھانا چاہیے۔ احتیاط کرنا علاج سے بہتر ہے، ویسے بھی صفائی نصف ایمان ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
ارم خان

Leave a Reply