بچے کے لیے محفوظ گھر

کیا آپ کا گھر چھوٹے بچوں کے لیے محفوظ ہے؟ اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کمرے کے فرش سے اس کی چاروں سمت کا جائزہ لیجیے۔ خود کو چھوٹا بچہ تصور کیجیے اور دیکھئے کہ آپ کی نظر میں کوئی ایسی چیز ہے کہ جہاں آپ کا ہاتھ بہ آسانی پہنچ سکتا ہے یا کہیں آپ کی پہنچ میں بجلی سے چلنے والا کوئی آلہ تو نہیں۔ کوئی ایسا شیشہ یا کھڑکی تو نزدیک نہیں جو آپ کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہوـ۔

سمجھ دار لوگ بچوں والے گھروں میں ایک کمرے ہی نہیں پورے گھر کا ہی نقشہ بدل دیتے ہیں کہ کوئی گوشہ بچے کے لیے خطرناک نہیں رہتا۔ فرنیچر کی سیٹنگ، صوفے، الیکٹرانک اشیا اور اسی قسم کی دوسری اشیا یا تو تبدیل کردی جاتی ہیں یا ان کی ہیئت بدل کر ان کو بچوں کے لیے بے ضرر بنا دیا جاتا ہے۔

بعض والدین بچوں کی پیدائش کے بعد سوچتے ہیں کہ ابھی تو بچے چھوٹے ہیں، اس لیے بھلا ابھی تبدیلی کی کیا ضرورت۔ پھر جب بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو پھر اس تبدیلی کا وقت ہی نہیں مل پاتا۔ اس لیے بہتر ہے کہ جلد ہی اپنے گھر کو بچوں کے لیے محفوظ بنا لیا جائے۔

ایک کم سن بچہ جب اس عمر میں پہنچتا ہے کہ وہ کسی کھلونے گاڑی یا واکر کو پکڑ کر چلنا شروع کر دیتا ہے یا پھر اپنے گھٹنوں کے بل چلتا ہے تو اس وقت سب سے زیادہ نقصانات کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان میں الیکٹرانک شاک، کسی نوکیلی چیز سے چوٹ لگنے کے علاوہ بچہ کا ناسمجھی میں زمین پر پڑی ہوئی ہر چیز کو اٹھا کر منہ میں ڈال لینے کا خدشہ رہتا ہے۔

چوں کہ اس عمر میں بچے بے حد ناسمجھ ہوتے ہیں، اسی لیے انھیں اپنے کسی بھی عمل یا شرارت سے ہونے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی علم ہوتا ہے اور نہ ہی ڈر لیکن چوں کہ اس عمر میں وہ سب سے زیادہ توانا اور شرارتی ہوتے ہیں۔ ایسے دوڑتے بھاگتے بچوں کو روکنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ ایک ماں کھیلتے ہوئے بچے کی دیکھ بھال اسی وقت تک کرسکتی ہے کہ جب تک وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہو لیکن اگر ماں کسی کام سے آگے پیچھے ہوتی ہے تو بچے کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ کچھ نہیں تو کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چھوٹے بچے چلنے یا بھاگنے کے شوق میں زمین پر پڑے ہوئے کسی کھلونے سے ٹکرا کر گر جاتے ہیں لہٰذا اگر آپ کا بچہ عمر کی اس حد کو پہنچ گیا ہے تو آپ کو چاہیے کہ کمرے اور ان تمام جگہوں پر جہاں کہ آپ کا بچہ پہنچ سکتا ہے، وہاں کا فرنیچر تبدیل کردیں۔ خاص طور پر ایسا فرنیچر ضرور تبدیل کردیں، جس کے کنارے زیادہ نوکیلے ہوں یا ڈیزائن میں کنگورے یا نوکیں نکلی ہوئی ہوں۔ آپ کے بچے اس قسم کے ڈیزائن والے فرنیچر سے بھی نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ ننھے منے بچوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی حفاظت سے متعلق چند باتیں مدنظر رکھیں تو بچوں کو محفوظ ماحول دیا جاسکتا ہے:

٭ چھوٹے بچے جب اس عمر میں داخل ہوجائیں کہ وہ سوتے میں یالیٹے لیٹے کروٹ بدلناشروع کردیں، تو کبھی بھی انھیں صوفے یا مسہری میں کنارے پر یا کسی ایسی اونچی جگہ پر نہ سلائیں، جہاں مناسب حفاظتی کنارے نہ ہوں۔ اگر بچہ پلنگ پر ہے تو اسی وقت تک پلنگ پر رہے جب تک آپ وہاں ہیں۔ اگر آپ وہاں سے ہٹیں تو بچے کو نیچے اتار دیں کہ آپ کی غیر موجودگی میں نیچے نہ گر جائے۔

٭ بعض اوقات چھوٹے بچے کھیلتے کھیلتے سو جاتے ہیں۔ ایسے میں ان پر نظر رکھیں کہ کہیں وہ دروازے کے ساتھ یا دہلیز پر تو نہیں سو رہے ہیں۔

٭ جب بچہ بھاگنے دوڑنے لگے تو تمام ایسے خانوں اور شیلفوں سے تالے اور چابیاں ضرور اٹھالیں تمام برقی آلات بھی نیچے نہ رہنے دیں۔ یہ چھوٹے بچوں کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

٭ انگوٹھا چوسنے کے عادی بچوں کے ہاتھ میں ہمیشہ بڑے حجم کے کھلونے دیں تاکہ ان کی چیزوں کو منہ میں لینے کی عادت ختم ہوسکے۔ ایسے بچوں کا خاص طور پر دھیان رکھیں کہ کہیں وہ کسی ایسی چیز سے تو نہیں کھیل رہے جو آسانی سے منہ میں چلی جائے۔

٭ اگر آپ کے گھر کے دروازے آٹو میٹک لاک والے ہیں تو ان کی اضافی چابیاں بنوالیں تاکہ خدانخواستہ کبھی بچہ اکیلے کسی کمرے میں بند ہوجائے تو پریشانی نہ ہو۔ بہتر ہے کہ ڈور اسٹاپر لگوا دیں۔

٭ گھر میں جس وقت آپ اور آپ کا چھوٹا بچہ اکیلے ہوں اور آپ کو کسی ضرورت سے باتھ روم جانا ہو تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ باتھ روم کا دروازہ معصومیت میں باہر سے بند تو نہیں کردے گا۔ بہتر ہے کہ ایسی صورت میں باہر سے بند کرنے والی سٹکنی کو کسی تالے کے ذریعہ لاک کر دیں۔

٭ گھر میں پاور پوائنٹ جو فرش سے قریب ہوتے ہیں انہیں یا تو پلاسٹک کے سیلو ٹیپ کے ذریعے بند کردیں یا ان میں بغیر تار کے پلگ لگا دیں اور کام کرتے وقت اس پلگ کو ہٹا کر دوسرا پلگ لگا کر کام کریں۔ بعض اوقات بچے جب گھٹنوں کے بل چلنے لگتے ہیں تو ان میں انگلیاں ڈال دیتے ہیں۔ بچوں کی انگلیاں کیوں کہ باریک اور ملائم ہوتی ہیں اس لیے بہ آسانی اس میں چلی جاتی ہیں اور وہ کرنٹ کا جھٹکا کھا جاتے ہیں۔

٭ چار پائی یا بیڈ سے بچوں کا گرنا عام بات ہے۔ یہ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب بچے پیٹ کے بل سرکنا سیکھتے ہیں۔ اس طرح وہ سرکتے سرکتے بیڈ یا چارپائی کے کنارے آکر منہ کے بل گرتے ہیں۔ ایسے وقت میں بچوں کو بیڈ پر اکیلا نہ چھوڑیں۔ اگر کمرے سے باہر نکلیں تو بچے کو نیچے فرش پر اتار دیں۔

٭ خطرناک اشیا بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ چاقو، چھریاں یا نوکیلے اور دھار دار اوزار، تیزاب، فینائل، مٹی کا تیل، ڈٹرجنٹ اور دیگر کیمیکل اشیاء ایسی جگہ اور مضبوط بند ہوں کہ بچہ نہ وہاں پہنچ سکے اور نہ انھیں کھول سکے۔

٭ گھر میں کسی قسم کی تعمیر یا مرمت کا کام ہو رہا ہو تو بچوں پر ہر وقت نظر رکھیں بلکہ ایک خاص ایریا سے باہر نہ نکل پانے کو یقینی بنائیں خواہ اس کے لیے کمرہ کا دروازہ ہی کیوں نہ بند کرنا پڑے۔

٭ گھر میں ہومیو پیتھک دوا آرنکا 200 ضرور رکھیں۔ بچہ گر جائے یا سر میں گم چوٹ لگ جائے تو اس کے چند دانے منہ میں ڈال دیں۔ ساتھ ہی گھر میں فرسٹ ایڈ باکس ضروری رکھیں اور ابتدائی طبی امداد کی معلومات حاصل کریں۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
نسرین اختر

Leave a Reply