محمد علی کلے

یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو سیاہ فام اور عظیم باکسر تھا، ایک ایسا پر اسرار ہیرو جس پر ماقبل تاریخ کے یونانی شہ زور ہر کولیس کا سا گمان ہوتا تھا، اسے دنیا بھر میں جو شہرت اور عزت حاصل ہوئی، وہ ایک سو سال کے دوران کسی کے حصے میں نہیں آئی۔

محمد علی جب 17؍ جنوری 1942 کو امریکی ریاست کنٹاکی کے شہر لوئسویل میں پیدا ہوئے تو والدین نے نام کیس ئیس مار سیلس کلے جونیئر رکھا۔ بچپن کیسا تھا، خود انھیں بھی یاد نہیں، آپ بیتی میں اس کا اعتراف بھی کیا۔ بس! صرف یہ لکھا ’’میں ایک معمولی طالب علم تھا لیکن میں کبھی فیل نہیں ہوا تھا۔‘‘

کلے خاندان کو شہر میں ایک معزز کنبہ کی حیثیت سے جانا جاتا تھا کیوں کہ وہ لین دین میں حسن سلوک کے پابند تھے، جن دکانوں سے روز مرہ کی اشیا خریدا کرتے تھے، انھوں نے وہاں سے کبھی ادھار سودا خریدنا پسند نہیں کیا، وہ ہر چیز نقد خریدا کرتے تھے۔

بیسویں صدی کے عظیم ترین کھلاڑی، تین مرتبہ باکسنگ کی دنیا کے سب سے بڑے اعزاز ’’ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئن شپ‘‘ جیتنے کا منفرد اعزاز حاصل کرنے والے، اولمپک میں سونے کا تمغہ، شمالی امریکہ باکسنگ فیڈریشن کی چمپئن شپ جینے والے، 6فٹ تین انچ قد کے حامل کیس ئیس کلے باکسنگ کی طرف کیسے آئے، کہتے ہیں کہ معاملہ ان کی سائیکل چوری ہونے سے شروع ہوا تھا۔ تھانے رپورٹ درج کرانے گئے تو ایک پولیس اہکار کو باکسنگ کرتے دیکھا۔ نقصان اتنا بڑا تھا کہ کیس ئیس کلے نے عزم کیا کہ چور مل جائے تو اس کا منہ مکے مار کر توڑ دوں گا۔ پولیس اہلکار نے مشورہ دیا کہ باکسر بن جاؤ۔ اس وقت عمر بارہ برس تھی، ایک مقامی جمنازیم میں باکسنگ شروع کر دی۔ انسٹرکٹر کو چند دنوں میں اندازہ ہوگیا کہ یہ نوجوان غیر معمولی صلاحیتوں والا ہے۔ کیس ئیس کلے نے بھی سوچا کہ زندگی میں باکسنگ ہی کھیلوں گا، اسے ہی ذریعہ معاش بناؤں گا کیوں کہ ان کے بقول ’’باکسنگ میں آمدنی کے وسائل زیادہ ہوتے ہیں او رایک باکسر ایک ایتھلیٹ سے زیادہ پیسے کما سکتا ہے اور باکسنگ ایک ایسا مکمل کھیل ہے جو موسم کا محتاج نہیں ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ کرکٹ ہاکی فٹ بال وغیرہ کے میچ اکثر خراب موسم کی وجہ سے ادھورے اور نامکمل رہ جاتے ہیں۔‘‘

پہلا مقابلہ 29؍ اکتوبر 1960 کو آبائی قصبے لوئسویل میں جیتا۔ اسی سال روم میں ہونے والے اولمپکس کھیلوں میں لائٹ ہیوی ویٹ گولڈ میڈل جیتا۔ محمد علی جس اولمپک ویلیج میں مقیم تھے، وہاں ان کا چرچا اس قدر زیادہ تھا کہ ہر کوئی ان سے آگاہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں اولمپک ویلیج میں میئر کے لیے انتخاب لڑتا تو سو فیصد ووٹ میرے بیلٹ باکس میں ہی ڈالے جاتے۔ یہاں ہونے والے مقابلوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا: ’’مجھے وہ تمام کھلاڑی جو روس، جرمنی، پولینڈ، آسٹریلیا، میکسیکو اور اسپین سے تعلق رکھتے تھے، اچھی طرح یاد ہیں، میں انھیں بلیاں سمجھتا تھا کیوں کہ مجھے ایک ایک کے ساتھ پنجہ لڑانے کا اتفاق ہوا تھا۔ وہ اپنے اپنے ملک کی نمائندگی تو کرسکتے تھے لیکن میرا مقابلہ نہیں۔‘‘ ٹھیک چار سال بعد ہیوی ویٹ ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1960سے 1963 تک نوجوان کیس ئیس نے 19 مقابلے جیتے اور ایک میں بھی شکست نہیں کھائی۔ ان میں سے 15 میں مدمقابل کو ناک آؤٹ کیا۔

جوانی میں وہ سیدھا سادھا، صاف گو، لمباتڑنگا نوجوان تھا، شراب پیتا تھا نہ ہی سگریٹ کو ہاتھ لگاتا تھا اور نہ ہی اسے عورتوں سے رغبت تھی۔ اسے کبھی نائٹ کلب میں نہ دیکھا گیا، کبھی رقص و سرود کی محفلوں میں نہ پایا گیا۔ بس! پنسلوانیا میں قائم اپنے جمنا زیم میں ہر وقت مشق کرتا، بھوک لگتی تو سادہ کھانا کھاتا اور خدائے عظیم کی حمد و ثنا بیان کرتا رہتا، جس نے اسے عظمت فن عطا کی۔ جب عظمت ملی تو اپنے فارغ اوقات میں امریکہ بھر کی یونیورسٹیوں میں اخلاق عامہ اور زندگی کے ہمہ جہتی پہلوؤں پر لیکچر دیتا، اسے آکسفورڈ (لندن) نے اعزازی پروفیسر بنانے کی پیشکش بھی کی۔

روم اولمپکس میں گولڈ مڈل جیتنے کے بعد جب کیس ئیس کلے واپس آئے تو وہ نسلی امتیاز کا شکار ہوگئے۔ ایک ریستوران میں انھیں اس لیے نوکری نہ مل سکی کیوں کہ وہ سیاہ فام تھے۔ غصے میں آکر انھوں نے اپنا سونے کا تمغہ دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔ ان واقعات کے باوجود اکھاڑے میں ان کا کردار غیر معمولی رہا اور ساری کامیابیاں سمیٹتے رہے۔ اب نسلی امتیاز اور باکسنگ میں کامیابیوں کا سلسلہ ایک ساتھ چلتا رہا۔

فروری 1964 میں انھوں نے اس وقت کے عالمی چمپئن سونی لسٹن کو کھلا چیلنج کیا اور پھر مقابلے کے چھٹے راؤنڈ میں زیر کرلیا۔ آنے والے مہینوں میں مسلسل سات مقابلوں میں مایہ ناز باکسروں کو ہرایا۔ انھی کامیابیوں کے درمیان ہی میں وہ ’نیشن آف اسلام‘ میں شامل ہوگئے۔ نیشن آف اسلام کے سربراہ علی جاہ محمد نے ان کا نام ’’محمد علی‘‘ رکھا۔ محمد علی کا کہنا تھا کہ کیس ئیس کلے ایک غلامانہ نام تھا۔ امریکی اخبارات نے خوب شور مچایا اور کہا کہ محمد علی امریکہ کے باغیوں سے تعاون کر کے دہشت پھیلانا چاہتا ہے۔ ان اخبارات کے نزدیک اسلام قبول کرنے سے گویا ایک انسانی باغی ہو جاتا ہے۔

مسلمان ہونے کے فوری بعد محمد علی کا مقابلہ پھر لسٹن سے ہوا۔ انھوں نے پہلے ہی مکے میں اسے لڑنے کے لائق نہ چھوڑا اور ناک آؤٹ کر دیا۔ ان کی اگلی لڑائی سابق چمپئن فلوئیڈ پیٹرسن سے طے پائی۔ پیٹرسن کو محمد علی کا مسلمان ہونا پسند نہیں تھا، چناں چہ اس نے مقابلے سے پہلے بڑی حقارت سے کہا کہ ’’اس سیاہ فام مسلم نے ہیوی ویٹ چمپئن کا اعزاز تو پالیا لیکن اپنی قوم اور کھیل کو جو ذلت دی، میں اس کا بدلہ لوں گا اور رِنگ میں مزہ ضرور چکھاؤں گا۔‘‘ محمد علی نے جواباً کچھ نہ کہا البتہ اکھاڑے میں اس کی وہ دھنائی کی کہ 12 ویں راؤنڈ ہی میں پیٹرسن نے مزید لڑنے سے توبہ کرلی۔ اب پوری دنیا میں محمد علی کا نام گونجنے لگا کیوں کہ وہ سفید فام امریکی جیک جانسن کو بھی ہرا کر خود کو ناقابل شکست ثابت کرچکے تھے۔

اسی اثنا میں امریکہ فوج ویت نام جنگ میں الجھ گئی، صدر جانسن نے فوج میں نئی بھرتیوں کا حکم دیا لیکن محمد علی نے امریکی فوج میں شامل ہونے سے انکار کر دیا، امریکی فوج اور میڈیا کو یہ انکار برداشت نہ ہوا۔ اسٹیٹ باکسنگ کمیشن نے محمد علی پر پابندی عائد کر دی، کینیڈا، انگلینڈ اور مغربی جرمنی میں ہونے والے مقابلوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا۔ دوسری طرف محمد علی بھی گھر نہ بیٹھ سکے، وہ جنگ مخالف اجتماعات میں شریک ہونے لگے۔ پھر انھیں پانچ سال قید اور ایک لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہوئی، حرف انکار بلند کرنے پر انھیں امریکیوں کی طرف سے خطوط بڑی تعداد میں موصول ہوئے تھے۔ ان میں ہر تین سو خطوط میں سے صرف ایک میں ان کے اس فیصلے کی مخالفت ہوتی تھی۔

محمد علی کا انکار ایسی جنگ مخالف تحریک میں بدل گیا جس میں باب ہوپ میں شامل ہوگیا جو محاذ جنگ پر جانے والے امریکیوں کی دلجوئی کے لیے امریکہ سے اسٹیج فلم اور ٹی وی اداکاروں اور رقاصاؤں کو لے جایا کرتا تھا، اس نے ویت نام میں رقاصاؤں کے گروپ کی قیادت کرنے سے انکار کر دیا۔ شرلیم کیلین نے بھی ایسا ہی کیا، جین فونڈا نے عجب کارنامہ کیا، وہ سائیگان پہنچ کر ویت نامی حریت پسند گوریلوں کو بہ نفس نفیس حریت و آزادی کے لیکچر دینے لگی۔ یہی حال عام امریکیوں کا ہوا۔ احتجاجاً امریکی حکومت کی جنگ جاری رکھنے کی پالیسی کے خلاف اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹ ڈالیں، اگر کسی سے کچھ نہ بن پڑا تو وہ واشنگٹن کے میڈیسن ایونیو اور نیویارک کے ٹائم اسکوائر میں بطور احتجاج کپڑے اتار کر کھڑا ہوگیا۔ سزا کے خلاف عوامی احتجاج اس قدر شدید ہوا کہ سپریم کورٹ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

اب محمد علی میدان میں اترے تو ان کے مکے بازی میں وہ زور نہ رہا جس کے لیے وہ مشہور تھے، نتیجتاً جوفریزیئر انہیں شکست دینے میں کامیاب رہا، جوفریزیئر اور محمد علی کا یہ مقابلہ باکسنگ کی تاریخ کے عظیم ترین مقابلوں میں شمار ہوا اور صدی کی بہترین لڑائی، قرار پایا۔ دو سال بعد محمدعلی نے اکتوبر 1974 میں اس کو شکست دے کر اپنا کھویا ہوا وقار اور شہرت دوبارہ حاصل کرلی۔ اس وقت محمد علی صرف 32 سال کے تھے اور وہ یہ اعزاز جیتنے والے دوسرے شخص تھے۔

جوفریزیر سے اس مقابلہ کی تیاری کرتے ہوئے محمد علی نے کہا تھا: ’’میں ہار نہیں سکتا کیوں کہ میں دنیا بھر کے لیے لڑ رہا ہوں اگر میں جیت گیا تو دنیا کے لوگ جیت جائیں گے۔ اگر میں ہار گیا تو تمام دنیا کے لوگ ہار جائیں گے۔‘‘ پھر جب نیلے رنگ کی نیکر پہنے امریکی شہر ڈیٹرائٹ کے رنگ میں اترا، اس کے ارد گرد سیاہ فام کھڑے تھے، ہر کوئی آگے بڑھ کر اس سے ہاتھ لانا چاہتا تھا، ہر چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

’’میں کیا چاہتا ہوں؟‘‘ وہ لوگوں کی طرف ہاتھ اٹھا کر پوچھتا ہے، پھر کوئی جواب لیے بغیر خود ہی کہتا ہے: ’’میں خدا کی رضا اور اس کا فضل چاہتا ہوں۔‘‘

1975 میں محمد علی نے ’نیشن آف اسلام‘ چھوڑ کر باقاعدہ اسلام قبول کرلیا۔ اسی سال منیلا (فلپائن) میں پھر سے محمد علی کا مقابلہ جوفریزیئر سے ہوا، اس کا کہنا تھا کہ اسے محمد علی سے نفرت ہونے لگی ہے۔ 14 راؤنڈ کے بعد محمد علی نے فتح حاصل کی۔ اب وہ شہرت کی بلندیوں پر تھے۔ فروری 1978 میں علی کو ایک زبردست دھچکا لگا جب وہ اپنے سے بارہ برس چھوٹے لیون اسپ نکس سے ہار گئے۔ 8 ماہ بعد ہی ایک مقابلے میں نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا، جب محمد علی نے اسپ نکس کو شکست دے دی۔ کروڑوں لوگوں نے یہ مقابلہ دیکھا۔ تاریخ میں پہلی بار کسی کھلاڑی نے تیسری بار عالمی اعزاز جیتا۔ اس وقت ان کی عمر 36 سال تھی۔

وہ طویل عرصہ تک نسلی امتیاز کا شکار رہے۔ دنیا بھر کے ممالک محمد علی سے درخواست کرتے کہ وہ ان کے ملک کا دورہ کریں، دنیا کا عظیم ملک چین بھی دعوت دے چکا تھا، دنیا کے بادشاہوں اور مختلف ممالک کے صدور نے انھیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ مگر امریکہ کے کسی صدر نے ایسی دعوت نہ دی، ایک امریکی صدر نے ان کے بارے میں متعصبانہ اور توہین آمیز جملے استعمال کیے مگر پھر ایک ایسا وقت آیا جب یہ امریکی صدور ان سے ہاتھ ملانا چاہتے تھے اور ان کے ہاتھ چومنا چاہتے تھے۔

چالیس سال کی عمر میں محمد علی نے یہ کہتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا: ’’زندگی میں دوسروں کو شکست دینے سے بھی زیادہ خوش کن کام کرنے کو تیار ہوں۔‘‘ 1980 میں ان کی صحت کے بارے میں خدشات نے جنم لینا شروع کر دیا اور ڈاکٹروں نے انھیں ’پارکنسنس سنڈروم‘ (رعشہ) کا شکار پایا۔ وہ اس بیماری میں مبتلا نہ ہوتے تو طویل مدت تک باکسنگ کے شہنشاہ رہتے۔ جب انھوں نے 1996 کے اٹلانٹا اولمپکس کی مشعل اٹھائی تو دنیا بھر کی نظریں ان کی صحت پر تھیں۔ تب انھیں ایک سونے کا تمغہ بھی دیا گیا جو اس تمغے کے بدلے میں تھا جو انھوں نے دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔ برطانویوں نے انھیں اس ’صدی کا سب سے عظیم کھلاڑی‘ قرار دیا، یہی اعزاز امریکی رسالے ’سپورٹس السٹریٹڈ‘ نے بھی دیا۔

محمد علی گزشتہ کئی برسوں سے رعشے کے مرض میں مبتلا تھے تاہم انھوں نے فلاحی سرگرمیوں کو نہ چھوڑا اور اپنے آبائی قصبے لوئسویل میں چھ منزلہ محمد علی سینٹر قائم کیا۔ معذور اور ضعیف العمر افراد کے لیے قائم کردہ ایک یہودی ادارے کے ذمہ ایک لاکھ ڈالر کا قرضہ تھا، محمد علی نے وہ اپنی جیب سے ادا کیا۔ ایک مشہور شخصیت ایک باغی، ایک مسلمان، حقوق انسانی کے علمبردار اور ایک شاعر، جس نظریے سے بھی دیکھا جائے محمد علی نے ہمیشہ کھیل، نسل پرستی اور قومیت کو شکست دی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب محمد علی کرہ ارض پر بلاشبہ سب سے زیادہ شہرت یافتہ شخص بن گئے۔ باکسنگ میں محمد علی کی زندگی 20 سال رہی جس کے دوران انھوں نے 56 مقابلے جیتے اور 37ناک آؤٹ اسکور کیا۔ ان کی زندگی پر تین درجن سے زائد کتابیں لکھی گئیں، شاعروں نے انھیں اپنی شاعری کا موضوع بنایا، ان گنت مضامین لکھے گئے، گلو کاروں نے ان کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے میوزک البم تیار کیے، ان کی زندگی پر بہت سی فلمیں تیار ہوئیں۔ کیریئر میں حریفوں کے لیے خوف کی علامت سمجھنے والے محمد علی بالآخر 74برس کی عمر میں ۳؍ جون کو راہی ملک عدم ہوئے امریکی معاشرہ میں ان کی حیثیت ایک باعمل اور باکردار داعی کی تھی اور تقریباً ما بعد اسلام کی چالیس سالہ زندگی میں وہ اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھردے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبید اللہ عابد

Leave a Reply