نایاب پرندوں کی افزائش نسل

چوری کرنا برا کام ہے مگرایک انسان کو گھونسلوں سے ایک خاص پرندہ کے انڈے چرانے پر نوبل انعام ملا۔ انھوں نے یہ کام نیک مقصد کے لیے کیا۔ پروفیسر کارل جونز کے پیش نظر غالباً یہی بات تھی۔ علم حیاتیات پر عبور رکھنے والے پروفیسر کارل کا تعلق ویلز سے ہے۔ رواں برس اسے انڈیانا پولس پرائز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ تحفظ حیوانات کے ضمن میں گراں قدر خدمات انجام دینے والی شخصیات اس انعام کی حق دار ٹھہرتی ہیں۔ انڈیانا پولیس پرائز تحفظ حیوانات کے شعبے کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ’نوبل پرائز آف اینیمل کنزرویشن‘ بھی کہا جاتا ہے۔

علم حیاتیات کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران کارل جونز نے نایاب پرندوں کی بقا کی کوششوں کو اپنا مقصد بنا لیا تھا۔ یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد کارل نے اپنے اولین پروجیکٹ کے طور پر ماریشس میں پائے جانے والے چھوٹے عقاب کی افزائش منتخب کیا۔ یہ 1970 ء کے عشرے کی بات ہے۔ وہ مشرقی افریقا میں واقع ملک میں پہنچا اور چھوٹے عقاب کی نسل کو بچانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ تحفظ حیوانات کے اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اس وقت اس نسل کے صرف چار عقاب بچے تھے، یوں اس وقت ماریشس کا چھوٹا عقاب سطح ارض پر نایاب ترین پرندہ تھا اور اس کی نسل معدوم ہونے کو تھی۔

کارل جونز نے عقاب کی نسل بچانے کے لیے ان کے گھونسلوں سے انڈے چرانے کا متنازعہ طریقہ اختیار کیا۔ حیاتیات کی اصطلاح میں اسےCaptivebreeding اور Double- cloutching کہا جاتا ہے۔ اس طریقے یا تکنیک میں نایاب پرندوں کے گھونسلوں میں سے انڈے لے کر انھیں انکوبیٹر میں موزوں درجہ حرارت پر رکھ دیا جاتا ہے۔ انڈوں کے غائب ہوجانے کے سبب مادہ جلد دو بار وانڈے دینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ یوں ان پرندوں کی افزائش نسل تیزی سے ہوتی ہے۔ یہ طریقہ اپنانے پر کارل جونز کو معاصرین تنقید کا نشانہ بناتے اور ’چور‘ کہتے رہے، مگر وہ طنز و تشنیع کی پروا کیے بغیر اپنے کام میں جٹا رہا۔ کارل کی حکمت عملی کام یاب رہی اور ایک عشرے کے بعد ماریشس کے چھوٹے عقابوں کی تعداد 300 تک پہنچ گئی۔ ایک اندازے کے مطابق اب ماریشس کے جنگلوں میں اس نسل کے نصف ہزار عقاب اڑتے پھرتے ہیں۔

کارل کی متنازع حکمت عملی کے مثبت نتائج دیکھ کر ناقدین اس کی کاوشوں کو سراہنے پر مجبور ہوگئے۔ چار عشروں پر مشتمل پیشہ ورانہ زندگی میں، گھونسلوں سے انڈے چرا چرا کر ماہر حیاتیات نے نو قسم کے پرندوں کو ناپید ہوجانے سے بچایا، جن میں گلابی کبوتر، بولنے والے توتے اور چڑیا کی ایک نسل شامل ہے۔

پروفیسر کارل جونز کی طویل اور گراں قدر خدمات کے اعتراف میں چند روز قبل انھیں لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں منعقدہ تقریب میں تحفظ حیوانات کے شعبے کا نوبل انعام اور ڈھائی لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کا چیک دیا گیا۔ انڈیانا پولس پرائز وصول کرتے ہوئے کارل کی آنکھیں نم تھیں۔ ان ساعتوں کو اس نے زندگی کے یادگار ترین لمحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ تنقید سے گھبرا جاتا تو یہ موقع اس کی زندگی میں کبھی نہ آتا۔ پروفیسر کارل جونز ان دنوں ڈرل وائلڈ لائف کنزرویشن کے چیف سائنٹسٹ اور ماریشس وائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے سائنٹیفک دائٹریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ندیم سبحان

Leave a Reply