ذہین طالب علم کا کارنامہ

دنیا کے ذہین ترین دماغ جو کام کرنے میں ناکام رہے وہ ایک پندرہ سالہ لڑکے نے کر دکھایا ہے۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ویلیم گیڈوری نے جنوب مشرقی میکسیکو میں واقع یوکتان کے جنگل میں قدیم مایا تہذیب کے زمانے کا شہر دریافت کر لیا ہے۔ کیوبک کے ہائی اسکول میں پڑھنے والے ولیم نے اپنی دریافت کو K’aak Chi کا نام دیا ہے، جس کا مطلب ہے ’آگ کا دباؤ‘۔

ولیم نے اپنی کھوج کی ابتدائی تین برس پہلے کی تھی جب دنیا بھر میں مایا کلینڈر زیر بحث تھا، جس کے مطابق 2012 میں دنیا تباہ ہوجانی تھی۔ یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی، مگر ولیم کو مایا کیلنڈر اور اس تہذیب سے جو دل چسپی پیدا ہوئی وہ برقرار رہی۔ وہ اس قدیم تہذیب کا مطالعہ کرتا رہا جس کے نتیجے میں اسے علم ہوا کہ مایا باشندے دیگر قدیم تہذیبوں کے چلن سے انحراف کرتے ہوئے دریاوں کے کنارے شہر بسانے کے بجائے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں آباد ہوتے تھے۔ وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے ے لیے ولیم کی نگاہیں آسمان کی جانب اٹھ گئیں۔ وہ جانتا تھا کہ مایا باشندے ستاروں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ کچھ عرصے کے غور و خوض کے بعد بالآخر وہ ستاروں کے جھرمٹوں اور مایا تہذیب کے دریافت شدہ شہروں کے درمیان ربط تلاش کرنے میں کام یاب ہوگیا۔

مایا تہذیب کی دستاویزات میں مذکورہ 23 مجموعہ ہائے نجوم کا تجزیہ کرنے کے بعد ولیم نے 142 ستاروں کو خط کے ذریعے باہم ملایا اور پھر ان کا موازنہ سطح ارض پر مایا دور کے 177 شہروں کے محل وقوع سے کیا۔ وہ یہ جان کر حیران رہ گیا کہ ستارے ان شہروں کے محل وقوع کی درست نشان دہی کر رہے تھے۔ تاہم تئیسویں مجموعہ کواکب پر آکر وہ اٹک گیا۔ اس جھرمٹ میں تین ستارے تھے مگر سطح زمین پر نشان دہی صرف دو شہروں کی ہو پارہی تھی۔ ولیم کو احساس ہوا کہ ستاروں کی مناسبت سے تیسرا شہر بھی ہوگا جو اب تک دریافت نہیں ہوا۔ چناں چہ اس نے نامعلوم شہر کو دریافت کرنے کی ٹھان لی۔ واضح رہے کہ ستاروں کے حوالے سے مایا دور کے شہروں کے محل وقوع جاننے کا طریقہ ولیم سے پہلے کسی نے نہیں اپنایا تھا۔

کینیڈین اسپیس ایجنسی اور گوگل ارتھ کی ویب سائٹ پر دستیاب مواصلاتی سیاروں سے لی گئی تصاویر سے مدد لیتے ہوئے ولیم نے یوکتان کے گھنے جنگل میں مایا تہذیب کے آثار کھوجنے شروع کیے، کیوں کہ تیسرے ستاے کی مناسب سے یہ ایک شہر یہیں ہونا چاہیے تھا۔ کئی روز کی محنت کے بعد بالآخر وہ جنگل میں قدیم تعمیرات کے آثار تلاش کرنے میں کام یاب ہوگیا۔ تصاویر میں ایک جسیم مخروط کے اطراف کم از کم تیس عمارات کے آثار نظر آرہے تھے۔ دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اور سائنس داں اس دریافت میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نو دریافت شدہ شہر مایا دور میں بسایا گیا پانچواں بڑا شہر ثابت ہوسکتا ہے۔

اس دریافت نے ہائی اسکول کے طالب علم کو عالم گیر شہرت بخش دی ہے۔ دوسری جانب سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ولیم کے دریافت کردہ شہر تک پہنچنے کی مہم کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ع - ر

One comment

Leave a Reply