ایک حادثے نے بینائی چھینی، دوسرے نے واپس کردی!

۷۰ سالہ میری این فرائنکو امریکی ریاست فلوریڈا کی رہائشی ہیـ ۔ 1993 میں دفتر سے گھر جاتے ہوئے اس کی کار کو حادثہ پیش آگیا تھا۔ حادثے میں میری کو ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ آئی تھی۔ اسپتال میں علاج کے دوران میری کو محسوس ہوا کہ اس کی نظر دھندلانے لگی ہے۔ ڈاکٹروں کی لاکھ کوششوں کے باوجود میری کی نگاہ کمزور ہوتی چلی گئی اور کچھ عرصے کے بعد وہ نابینا ہوچکی تھی۔ ڈاکٹروں نے بصارت سے محرومی کا سبب اس حادثے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممکنہ طور پر میری کے بصری اعصاب متاثر ہوئے ہیں، لیکن یقینی طور پر وہ کچھ نہ بتا سکے کہ کون سے اعصاب یا رگیں متاثر ہوئی ہیں اور ان کا علاج کیا ہے؟

بصارت سے محرومی نے میری کی دنیا اندھیر کر دی تھی۔ یہ اس کے لیے ایک جانکاہ صدمہ تھا، مگر اس موقع پر فرانکو (شوہر) نے اس کی ڈھارس بندھائی اور وعدہ کیا کہ وہ اسے کسی محرومی کا احساس نہیں ہونے دے گا۔

میری اب ایک تاریک دنیا کی باسی تھی۔ اس دنیا میں رہتے ہوئے اسے بائیس برس گزر چکے تھے، اس دوران اسے اپنے گھر کی تمام تفصیلات ازبر ہوچکی تھیں۔ وہ اسی طرح چلنے پھرنے اور گھریلو امور انجام دینے کے قابل ہوچکی تھی جیسے کہ حادثہ پیش آنے سے پہلے کیا کرتی تھی۔ فرانکو نے ملازمہ کا بندوبست کر رکھا تھا مگر چھوٹے موٹے کام میری خود کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔

یہ اگست 2015ء کی بات ہے وہ کسی کام سے اپنے کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم کی طرف جا رہی تھی کہ اچانک اس کا پیر پھسل گیا۔ توازن بگڑنے کے باعث میری پشت کے بل زمین پر گری اور اس کا سر فرش سے ٹکرایا۔ اس تصادم نے اسے ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیا تھا۔ ہوش میں آنے پر میری کو احساس ہوا کہ وہ اسپتال میں ہے۔ اسے یہ بھی محسوس ہو رہا تھا کہ گردن کسی شے میں پھنسی ہوئی ہے۔ اچانک فرانکو کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی جو اس سے کہہ رہا تھا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، اسے کچھ نہیں ہوا بس گردن میں کالر لگا دیا گیا ہے۔ چند روز کے بعد اسے گھر بھیج دیا گیا، اس دوران فرانکو اپنی شریک حیات کو یہ بتا چکا تھا کہ چوٹ لگنے کی وجہ سے سر کے پچھلے حصے میں غالباً خون جم گیا ہے جس کے لیے ڈاکٹر چھوٹا سا آپریشن کریں گے۔ آپریشن کے لیے چھ ماہ بعد کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔

مقررہ وقت پر میری کو اسپتال لایا گیا جہاں نیورو سرجن ڈاکٹر جان افشر نے چار گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ اسنتھیسیا کا اثر کم ہونے پر جب میری کو ہوش آیا تو آنکھ کھولتے ہی اسے بیڈ کے پاس کوئی عورت کھڑی ہوئی نظر آئی۔ اسے دیکھ کر میری نے آواز دی۔ ’’اے! جامنی کپڑوں والی! ادھر آؤ۔۔۔۔ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔۔۔۔ تکلیف دور کرنے کے لیے کوئی دوا دے دو۔‘‘ میری کی آواز پر اس عورت نے پلٹ کر دیکھا اور حیرانی سے بولی۔ ’’کیا آپ دیکھ سکتی ہیں؟‘‘ تب میری کو احساس ہوا کہ اس کی بینائی واپس آگئی ہے اور وہ سب کچھ دیکھ سکتی ہے۔ اس کے چہرے سے بے یقینی مترشح تھی۔ کچھ لمحے گزرنے کے بعد جب یہ بے یقینی، یقین میں بدلی تو اس کی خوشی و مسرت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔

دو عشروں تک بصارت سے محرومی کی اذیت جھیلنے کے بعد میری کا اچانک بینا ہو جانا معجزے سے کم نہیں۔ وہ خود بھی اب تک اس کرشمے پر حیران ہے۔ ڈاکٹر جان افشر بھی بتانے سے قاصر ہیں کہ مریضہ کی بینائی کیسے واپس آئی۔ جان افشر کہتے ہیں کہ انھوں نے جو آپریشن کیا اس کا بصارت کی بحالی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ ممکن ہے کار کے حادثے میں ان کے دماغ کے بصری اعصاب کو خون فراہم کرنے والی کوئی رگ سکڑ گئی ہو اور اس آپریشن کے دوران کسی طرح وہ اصل حالت میں واپس آگئی ہو۔ مگر یہ محض اندازہ ہے۔ یوں ایک حادثے میں نابینا ہونے والی عورت کو دوسرے حادثے نے بینا کر دیا!lll

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ عامر

Leave a Reply