خاندان، مغرب اور اسلام

دین میں رشتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ رشتوں کی قربت حسن سلوک کی بنیاد قرار پاتی ہے۔ سب سے زیادہ حسن سلوک کی حق دار ذات ماں ٹھہرتی ہے۔ اس کے بعد باپ اور پھر بہن بھائی۔ اسی طرح ذاتی زندگی میں بیوی بچے۔ رشتوں کا شعور کوئی فلسفہ نہیں بہت سادہ سی بات ہے مگر ان کا احترام اور انھیں نباہنا کٹھن مگر غیر معمولی اہم ہے۔ اتنا اہم کہ رشتے ہماری جنت یا جہنم ہوسکتے ہیں۔ ماں کے ساتھ بدسلوکی اور باپ کے ساتھ برا رویہ ہمیں جنت سے دور کر سکتا ہے۔ بھائی بہن کا حق مارنا ہمیں جہنم میں لے جا سکتا ہے، جب کہ بیوی بچوں کے ساتھ حسن سلوک انسان کے اچھے ہونے کی کسوٹی قرار پاتا ہے۔ اہل قرابت پر خرچ کرنا دوہرے اجر کا ذریعہ ہے جب کہ افضل ترین دینار وہ قرار پاتا ہے جو آدمی اپنے اہل خانہ پر خرچ کرے۔

یہ تعلیمات ہیں جو اسلام اپنے ماننے والوں کو دیتا ہے اور ان تعلیمات پر عمل کے نتیجے میں مضبوط رشتے، مستحکم خاندان اور سماج کے افراد کے درمیان خوشگوار تعلقات بنتے ہیں۔ تعلقات کی یہ خوش گواری اور رشتوں کی یہ طاقت انسانوں کو جوڑتی بھی ہے اور ان کے گرد تحفظ کی مضبوط دیوار بھی کھڑی کرتی ہے۔ یہ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے اور فائدہ پہنچانے کا بھی ذریعہ بنتی ہے اور کسی بھی قسم کے استحصال اور سخت اوقات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ رشتوں کا احترام اور خاندان کی مضبوطی اسلام کے اخلاقی نظام کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہاں ایک تکافلی نظام ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کے معاون، کفیل اور سرپرست ہیں۔ اولاد کی کفالت باپ کے ذمہ، بیوی کی کفالت، شوہر کے ذمہ، بوڑھے والدین کی کفالت کھاتی کماتی اولاد کے ذمہ اور کسی بھی حالت میں بہن کی کفالت بھائی کے ذمہ، اور پھر اسی طرح حالت اور تعلق کے مطابق پورا مسلم معاشرہ ایک ڈور سے بندھا ہے۔ یہ اسلامی نظام خاندان کی بنیادیں بھی ہیں اور اس کی خصوصیات بھی۔

لیکن موجودہ زمانے میں رشتوں کا یہ احترام اور خاندان کا یہ استحکام نہ صرف کمزور ہوا ہے بلکہ تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کی طرف جا رہا ہے۔ مغرب سے شروع ہونے والی یہ ٹوٹ پھوٹ اب مشرق کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور مسلم و غیر مسلم سبھی معاشرے تیزی سے اپنی مذہبی اور معاشرتی اقدار و روایات سے دامن چھڑا کر تنہائی پسندی اور مفاد پرستی کی طرف جا رہے ہیں۔

اپنے والدین کا احترام نہ کرنے والی اور بڑھاپے میں ان کی کفالت سے ہاتھ کھینچ لینے والی اولاد خود اولڈ ایچ ہوم میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔ حد یہ ہے کہ شوہر بیوی کا رشتہ بھی بہ تدریج مفاد پرستی اور لذت کوشی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے جہاں لوگ کسی بھی قانونی شادی کے بغیر سالوں سال ساتھ رہتے ہیں یہاں تک کہ بچے بڑے ہوجاتے ہیں اور وہ قانونی شادی محض اس وجہ سے نہیں کرتے کہ اس طرح وہ بندھ جائیں گے اور ان کی آزادی متاثر ہوگی۔ یہ وہ تصور ہے جو مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور دنیا بھر کے معاشروں میں رواج پا رہا ہے۔

اب ذرا اسلام اور مغرب کی خاندانی روایات کا تقابل کیجئے تو اندازہ ہوگا کہ یہاں خاندان کے استحکام اور رشتوں کی مضبوطی پر کتنا زور ہے جب کہ مغرب میں آزادی اور ترقی کے نام پر رشتے اور خاندان کس طرح بس ایک ’نام‘ رہ گئے ہیں۔

اس سلسلہ میں چند اہم باتیں وہ ہیں جو پورے معاشرے کی اس حالت کے اسباب میں سے ہیں۔

۱- نو عمر لڑکے لڑکیوں کو گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ٹھیک ۱۸ سال کا ہونے کی صورت میں ان کی والدین پر سے ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ جب کہ مشرق میں شادی ہونے تک لڑکی باپ کی کفالت میں ہوتی ہے۔

۲- مغرب میں آزادی کا تصور بچوں کو بڑوں کی رائے کا احترام کرنا نہیں سکھاتا۔ اسی طرح مذہبی اقدار کی تعلیم وہاں گھر سے ملتی ہے اور نہ اسکول سے۔ جب کہ یہاں بڑوں کا احترام بنیادی قدر کے طور پر سکھایا جاتا ہے اور دینی تعلیم کا بنیادی فریضہ والدین گھر میں ادا کرتے ہیں۔

۳- اولڈ ایج ہوم کے تصور نے اولاد کو بوڑھے والدین سے نجات تو دلادی مگر بچوں کو دادا دادی اور نانا نانی سے محروم کر دیا اور اس طرح ان کی نئی نسل ایک تجربہ کار پیڑھی سے محروم ہوگئی اور اس وجہ سے علم و اقدار کی نسلاً بعد نسلٍ منتقلی کا عمل بھی رک گیا۔ اور خاندان کی سب بنیادی اکائی وقت سے پہلے ہی گھر سے غائب ہوگئی۔

۴- جدید دور میں والدین کے پاس اولاد کے لیے وقت نہیں اور اولاد کے پاس والدین کے لیے وقت نہیں۔ زیادہ تر اوقات دونوں اپنے اپنے کام کی جگہوں پرہوتے ہیں اور جب وہ ملتے ہیں تو مل کر بھی ایک دوسرے سے نہیں مل پاتے۔ بچے یا تو موبائل فون پر چاٹ کر رہے ہوتے ہیں یا گیم کھیل رہے ہوتے ہیں۔ اگر ساتھ بیٹھتے بھی ہیں تو ٹی وی لاؤنج میں یا ڈائننگ ٹیبل پر۔ اس کیفیت نے افراد خانہ کے درمیان رابطہ کی ایک خلیج پیدا کردی ہے اور افراد کے درمیان تعلق جذباتی ہونے کے بجائے محض رسمی اور مفاد پر مبنی رہ گیا ہے۔

۵- مغرب کی جانب سے آزادی کے نام پر ایک نئی لعنت نے جنم لیا ہے اور وہ ہے ’سیم سیکس میرج‘ یعنی ہم جنسی کی شادی۔ ہم جنس اگر باہم دگر شادیاں کریں گے تو رشتے کیسے بنیں گے اور خاندان کہاں سے باقی رہے گا اور کیسے پروان چڑھے گا۔

مذکورہ باتوں سے خوب اچھی طرح اندازہ ہو جاتا ہے کہ مغرب اپنی بنیادی اکائی، خاندان، کی طاقت سے محروم ہوگیا ہے۔ اور اس کے مظاہر کے طور پر سماجی و معاشرتی زندگی سے متعلق اعداد و شمار کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں یوروپ کے تناظر میں ایک تحقیق یہ بھی سامنے آتی ہے کہ وہاں دو خاص مسائل نے جنم لیا ہے۔ ان میں ایک بڑا مسئلہ ہے ایسے بچوں کی شرح پیدائش میں بڑھتا اضافہ ہے جو والدین غیر قانونی تعلق کے نتیجہ میں جنم لیتے ہیں۔ ان بچوں کی تعلیم و تربیت حکومتوں کے سامنے سنگین مسائل کھڑے کر رہی ہے اور ان میں جرائم کا رجحان کہیں زیادہ ہے۔ اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مغربی دنیا میں افراد کے اندر فرٹی لٹی کم ہو رہی ہے اور اسی کے نتیجے میں شرح پیدائش بھی گھٹ رہی ہے۔ شرح پیدائش گھٹنے کا مطلب ہے کہ سماج میں بوڑھے لوگوں کا تناسب بڑھ رہا ہے اور ابھی اور بڑھے گا۔

خاندان کے انتشار کا سبب بننے والے یا اس کا مظہر چند حقائق پر نظر ڈالیے:

۱- امریکہ میں دس میں سے پانچ شادیوں کا نتیجہ طلاق ہے۔

۲- امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر تیسرا بچہ ڈے کیئر سنٹر چلا جاتا ہے۔

۳- مغربی ممالک میں ایک ہزار میں صرف ۸۳ خواتین ہی ہر سال ماں بنتی ہیں۔

۴- امریکہ میں سفید فام لوگ اقلیت میں ہوتے جا رہے ہیں۔

خود کشی کا تناسب /لاکھ

ملک مرد خواتین

بیلجیم 25.0 9.4

ڈنمارک 30.2 14.8

فن لینڈ 42.9 11.8

فرانس 29.1 10.2

جرمنی 23.6 8.6

سویڈن 22.5 9.7

ایک صحت مند سماج کے لیے مضبوط اور مستحکم خاندان کی ضرورت ہوتی ہے اور اسلام اپنے ماننے والوں کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے اور تاکیدی تعلیم دیتا ہے کہ وہ عائلی زندگی کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرے۔ ان سماجوں کے بالکل برعکس جہاںخاندان اور رشتوں ناطوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ جس سماج میں خاندانی نظام کمزور ہو اور افراد کے باہم تعلقات مضبوط نہ ہوں وہ سماج غیر صحت مند سماج ہے اور بدقسمتی سے ہم تیزی کے ساتھ سماجی و معاشرتی عدم صحت مندی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

کم از کم مسلم سماج کو تو اس صورتِ حال کو سمجھ کر عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اپنے آپ کو اس فساد سے بچانے کی فکر کرنی چاہیے، جس فساد میں یوروپ گھر چکا ہے اور مشرقی دنیا اس کی زد میں آتی جا رہی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply