جب غریب لڑکی ریاست کی ٹاپر بنی!

ملک کی پسماندہ تصور کی جانے والی ریاست اڑیسہ کی ایک لڑکی نے تعلیم کی راہ میں غربت و افلاس کی رکاوٹ کو اپنی ذہانت اور محنت کے ذریعے ٹھوکر مار دی اور کامیابی کی ایسی تاریخ رقم کی جو ملک کے لاکھوں غریب طلبہ و طالبات کو نیا حوصلہ اور جہد و عمل کا سبق دینے والی ہے۔

ایک غریب باپ کی بیٹی نے جس کے پاس محض ایک ایکڑ زمین ہے اور جس کی آمدنی غیر معمولی حد تک معمولی ہے، اڑیسہ حکومت کے جوائنٹ انٹیرنس ایگزام (OJEE) میں ٹاپ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر علم کی لگن سچی ہو اور محنت اس کی پشت پر ہو تو کامیابی کو کوئی روک نہیں سکتا۔

اڑیسہ کے سمبلپور ضلع کے ایک گاؤں کی لڑکی، پھوس کی جھونپڑی میں رہنے والی اور مٹی کے تیل سے جلنے والے لیمپ کی روشنی میں پڑھنے والی اور دسویں کلاس کے ڈراپ آؤٹ باپ اور چھٹی کلاس فیل ماں کی بیٹی سری پریا نایک اب اخبارات کی زینت ہے۔ وجہ صاف ہے کہ اس نے اپنی تعلیم کی راہ میں غربت اور بے سامانی کو شکست دے دی۔ نایک نے 46187 طلبہ کے درمیان اول مقام حاصل کیا جنہوں نے ریاستی Jee میں حصہ لیا اور بیچلر آف آیور ویدا میڈیسن اینڈ سرجری (BAMS) بیچلر آف ہومیو پیتھک میڈیسن اینڈ سرجری (BHMS) اور فارمیسی کے مضامین کا انتخاب کیا تھا۔ واضح رہے کہ ریاستی سرکاریں پیشہ ورانہ کورسز میں داخلے لیے لیے ہر سال مشترک داخلہ امتحان کراتی ہیں جن کے بعد سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ یہ داخلہ امتحان جملہ پیشہ وارانہ کورسز کے لیے ہوتا ہے جن میں ایم ٹیک، ایم فارما، ایم بی اے، ایم سی اے اور بی اے ایم ایس اور بی ایچ ایم ایس بھی شامل ہیں۔

۳۰؍ مئی کو نتیجہ آنے کے بعد اہل خانہ کی خوشی کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ جذباتی ماحول میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی کامیابی کیسے حاصل ہوئی؟ تو انھوں نے صاف کہا:

’’یہ میرے ماں باپ کی دعاؤں، اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور سخت محنت کا نتیجہ ہے۔‘‘

ایک معمولی کسان اور کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور کی بیٹی اپنے پھوس کے گھر میں بیٹھ کر لیمپ کی روشنی میں پڑھتی رہی اس نے اپنی ذہانت اور محنت سے اساتذہ کو متاثر کر دیا۔ مقامی اسکول کے اساتذہ نے جہاں وہ پڑھتی تھی اس کے باپ کو مشورہ دیا کہ وہ آگے تعلیم کے لیے اسے نوودے ودیالیہ کے داخلہ امتحان میں شریک کرائے۔ نوودے ودیالیہ مرکزی حکومت کے ذریعے قائم کردہ معیاری رہائشی اسکولوں کی ایک چین ہے جس میں ذہین ترین طلبہ و طالبات ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ چناں چہ اس ذہین بچی نے نوودے ودیالیہ کے داخلہ امتحان میں بھی کامیابی حاصل کرلی اور اب گاؤں سے نکل کر جہاں سے کروسین لیمپ کی روشنی میں پڑھنا ہوتا تھا اب بجلی کی روشنی میں پڑھنے چلی آئی۔ یہاں دسویں کلاس میں اس کا گریڈ 9رہا اور بارہویں میں اس نے 84.4 نمبرا ت حاصل کیے۔

گزشتہ سال اس نے بارہویں کے بعد گریجویشن سائنس کے لیے سمبل پور G.M. Collageمیں داخلہ لے لیا لیکن اپنی غربت کے سبب اس کالج میں تعلیم کی متحمل نہ ہوسکی۔ اس کی خوش قسمتی اور اللہ کی مدد کہ سمبل پور کے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ IBS نے اس کی مدد کی اور اس کے لیے ایک ہزار روپے ماہانہ کی اسکالر شپ اور مفت رہایش کا انتظام کر دیا۔

IBSانسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر نے اس کی صلاحیت کو بھی پہچان لیا اور اس کے حالات کو بھی سمجھ لیا۔ وہ کہتے ہیں:

’’ہم اس کے گاؤں گئے اور اس کے والدین سے ملے۔ ہمیں لگا کہ اس کے والدین مالی اعتبار سے اتنے کمزور ہیں کہ اس کی تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم نے اس کی مدد کا فیصلہ کیا کیوں کہ ہمیں لگا کہ ہمارا معمولی سا سہارا اس ذہین لڑکی کا مستقبل بنا سکتا ہے۔‘‘

اور خوشی کی بات یہ ہے کہ سری پریا نایک نے انہیں مایوس نہیں کیا بلکہ ان کی عزت میں اضافہ کر کے انھیں بھی ذہین طلبہ کی مدد کرنے کے لیے حوصلہ دلایا۔

نتائج کی آمد کے تیسرے روز اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنایک نے سری پریا اور اس کے اہل خانہ کو اس کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ریاست کی اس ذہین طالبہ کی اعلیٰ تعلیم کے جملہ اخراجات ریاستی حکومت برداشت کرے گی۔ انھوں نے اس کی کامیابی پر کہا:

’’اس کی کامیابی نے ریاست کے جملہ طلبہ و طالبات کو حوصلہ دلایا ہے۔‘‘

خدا کرے کہ ریاستی حکومت کا یہ وعدہ سیاسی وعدہ نہ بن کر اس کی مدد کا حقیقی ذریعہ بن جائے۔ اس طرح وہ زیادہ یکسوئی اور محنت سے پانی اعلیٰ تعلیم مکمل کرسکے گی۔ لیکن کچھ بھی ہو اتنا واضح ہے کہ محنت اور لگن اگر سچی ہو تو اللہ تعالیٰ خود راستے کھولتا چلا جاتا ہے کیوں کہ وہی تو ہے جو اصل کارساز اور مشکل کشا ہے۔ اور اسی پر بھروسہ مضبوط بھروسہ ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زینب غزالی

Leave a Reply