تقریبِ سعید

میں کئی روز بعد تھکا ماندہ سفر سے لوٹا تو جی چاہا کسی سے کچھ بھی بات نہ کروں اور سیدھا اپنے بستر پر پہنچ کر پاؤں پھیلا کر سوؤں۔ میں نے چھوٹی بیٹی کے ہاتھ میں اپنا بیگ تھمایا اور بستر پرجاکر لیٹ گیا لیکن اس سے قبل کہ میں اپنے ہاتھ پاؤں سیدھے کرتا تکیہ پر رکھے ہوئے دعوت نامہ پڑ نظر پڑی۔ پتے کے اوپر ہی لکھا تھا: ’’ارجنٹ‘‘ کچھ سمجھ مین نہیں آیا خط تو دعوت نامہ ہے اور اس پر ’’ارجنٹ‘‘ کیا معنی۔ خیر لفافہ کھولا۔ لکھا تھا:

’’رفیق دیرینہ… بعد سلام کے معلوم ہو کرتقریباً پچاس سال کے بعد تمھیں یہ خط لکھ رہا ہوں، جب سے کندن پور چھوڑا ہے تم نے تو کروٹ ہی نہیں لی۔ اب زندگی اپنے آخری پڑاؤ پر معلوم ہوتی ہے، ملنے کو بہت جی چاہتا ہے۔ حسن اتفاق یہ کہ ہمارے بڑے بیٹے کے بیٹے سعید کی شادی ہے اور بدھ کے روز دعوتِ ولیمہ ہے۔ لہٰذا تم سے شرکت کی درخواست بھی ہے اور آرزو بھی۔ کل میں اپنی سابقہ ڈائری کی ورق گردانی کر رہا تھا اس میں ہمارا تمہارا کبھی کا کھچا ہوا فوٹو ملا۔ بڑا اچھا لگا۔ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا۔ ایسا لگتا ہے ہمارا ہائی اسکول کرنا ابھی کل کی بات ہے۔ مگر اب تو سارا ماحول بدل گیا۔ نہ وہ اسکول کا چھپر ہے اور نہ وہ بے لوث اور مخلص استاد۔ اب تو ماسٹروں کے بڑے عیش ہیں۔ اسکول کی تنخواہ الگ اور ٹیوشن کی آمدنی الگ۔ سچ پوچھو تو یہ لوگ دولت میں کھیل رہے ہیں۔ کہاں وہ وقت کہ ٹیچر ٹیوشن ہی نہیں کرتے تھے اور کلاس میں بھرپور تیاری کے ساتھ پڑھاتے تھے اور کہاں آج کا زمانہ۔ پاس ہونا ہے تو ٹیوشن شرط ہے۔ ہمارے وقت میں ہائی اسکول کے طالب علم میں جو قابلیت و لیاقت تھی آج گریجویٹ میں بھی میسر نہیں۔ خیر چھوڑو ان قصوں کو میں بھی کیا بات لے بیٹھا بس تم اس موقع پر ضرور آجاؤ۔ دیکھو ملنے کو بہت جی چاہتا ہے۔ ولیمہ تو بس ایک بہانہ ہے تم آجاؤگے تو میرے لیے تمہاری شرکت عید سے کم نہ ہوگی۔ میں ہی جانتا ہوں تم کتنے یاد آتے ہو۔ اس ساٹھ پینسٹھ سال کی زندگی میں نہ جانے کتنے دوست بنے۔ رشتے بھی قائم ہوئے مگر وہ تعلق، رشتہ، محبت اور خلوص جو اپنے بچپن کے دوستوں میں تھا کہیں نظر نہیں آتا۔ اپنے بیشتر دوست اللہ کو پیارے ہوگئے پتہ نہیں زندگی کو ہم سے ایسا کیا لگاؤ ہے جو ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتی۔ میں تمہارا شدت سے انتظار کروں گا، زیادہ انتظار مت دکھانا بس آجانا۔ فقط تمہارا دیرینہ ساتھی، وہی تمہارا نیاز احمد۔

نیاز احمد کا خط پڑھ کر میں پسینہ پسینہ ہوگیا، لائٹ بند کر کے لیٹ گیا اور دیر تک ماضی کی پگ ڈنڈیوں پر گھومتا رہا۔ کیسا اچھا زمانہ تھا۔ دوستوں میں کس قدر محبت و خلوص تھا اور یہ نیاز احمد اور میں تو گویا ایک جان دو جسم تھے۔ اسکول کے وقت سے کافی پہلے گھر کے باہر سڑک پر کھڑا ہو جاتا اور راہ تکتا رہتا۔ پھر ہم ساتھ ساتھ اسکول جاتے۔ کبھی کبھی وہ اپنے باغ لے جاتا۔ تازے تازے امرود کھلاتا اور آموں کے زمانے میں تو ٹوکرہ بھر کر سامنے رکھ دیتا۔ ’’لے کھا، خوب کھا۔‘‘ ایک دن میرے منہ سے بس یونہی نکل گیا ’’یار تمہاری یہ قمیص بڑی اچھی ہے۔ اگلے دن قمیص لے کر گھر آگیا۔‘‘ لے اب تو ہی پہن اس کو‘‘ میں نے بہت منع کیا مگر پہنا کر ہی چھوڑی۔ ایک دن بس یونہی اس کے گھر جانا ہوا تو پیالہ بھر کر رس کی کھیر اور اس کے اوپر تازی تازی بالائی لبالب بھر کر لے آیا۔ میں نے کھانے میں آنا کانی کی تو اپنے ہاتھ سے میرے منہ میں ٹھونس دی۔ ایک بار مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی۔ کہلوایا نہیں، دس روپے کا نوٹ میری جیب میں ڈال دیا۔ اس دس روپے کے نوٹ سے میرے کتنے کام نکلے بیان سے باہر ہے۔ ایک بوتل مٹی کا تیل لایا، چینی چائے کی پتی خریدی۔ چار پانچ کاپیاں لایا۔ ایک قلم خریدا، غرض دس روپے میں اپنی ضرورت کی آدھی دنیا خرید لی۔ آج ہزار روپے بھی کم ہیں۔ الغرض ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے جھانکتے نیند آگئی۔

صبح میں نے گھر میں کہہ دیا مجھے کل رات کی گاڑی سے کندن پور جانا ہے۔ وہاں میرے دیرینہ رفیق نیاز احمد کے پوتے کا ولیمہ ہے اور مجھے اس میں شرکت کرنی ہے۔ ولیمہ میں شرکت کر کے انشاء اللہ اگلے روز میں رات تک واپس آجاؤں گا۔

گھر کے لوگ بڑی رد و کد کے بعد راضی ہوئے۔ وہ دیکھتے تھے اب نہ وہ پہلی سی جسم میں جان، سماعت و بینائی دونوں کمزور، دور دراز کا سفر پہلی بار اور وہ بھی اکیلے۔ بڑی بیٹی کو اطلاع ملی تو وہ بھی آگئی۔ اور ڈانٹنے کے انداز میں کہنے لگی جانے کون ہیں نیاز صاحب۔ کوئی تازہ رشتہ ہو۔ دو چار سال پرانا تعلق ہو چلو ٹھیک ہے۔ پچاس سال سے زیادہ دنوں کی بات ہوگئی۔ چلے ہیں باسی کڑھی میں ابال لگانے۔ گھر بیٹھے رہو۔ ان کو اگر ایسا تعلق نبھانا ہے تو خود چلے آئیں۔ اور پھر ان کے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ دعوت نامہ دیکھو کم از کم پیچاس روپے کی قیمت کا ہے۔ سو دعوت نامے بھی چھپوائے ہوں گے تو پانچ ہزار روپے کے ہوتے ہیں اتنے پیسوں میں تو کسی غریب بچی کے ہاتھ پیلے ہوسکتے ہیں۔ جو کرنے کے کام ہیں وہ تو کرتے نہیں بس لمبی چوڑی دعوتیں۔ ولیمے کرتے ہیں، اور غریب رشتہ داروں کو آزماتے اور شرمندہ کرتے ہیں۔ ان کے یہاں تو کوئی کوٹھی بنگلے والا ہی جائے گا۔ آپ کی تو منہ بھرائی کر دی ہے۔ آپ زیادہ چکر میں نہ پڑیں۔ گھر بیٹھیں۔ میں بیٹی کی ساری تقریر بڑی توجہ سے سنتا رہا جب وہ کچھ رکی تو اس کی کمر تھپتھپائی اور داد دی۔ بیٹی تم تو خوب تقریر کرلیتی ہو ہم تو سمجھتے تھے تمہیں کالج کے بجائے ایک جامعہ میں بھیج کر پیسہ اور وقت دونوں ہی برباد کیے آج پتہ چلا کہ ہماری بیٹی کتنی اچھی مقرر ہے۔ تقریر میں جوش بیان تو ہے ہی الفاظ کی بندش بھی خوب ہے پتہ نہیں اب تک یہ صلاحیت کہاں چھپی ہوئی تھی۔ ہم نے تو بارہا کہا بیٹی فلاں جگہ خواتین کا جلسہ ہے تمہیں اپنے پسندیدہ موضوع ’’ملت کی تعمیر میں تعلیم و تربیت کی اہمیت‘‘ پر تقریر کرنی ہے یہ تمہارا پسندیدہ موضوع تھا مگر شادی کے بعد تمہیں ذرا آسائش کیا میسر آئی تم نے ساری ہی باتوں پر پانی پھیر دیا۔ اب تم بھول کر بھی تعمیر ملت یا اس کے مسائل پر نہ بات کرتی ہو نہ سوچتی ہو بس بچوں ہی میں لگی رہتی ہو۔ چلو! مت کرو ملت کی بات اپنے بچوں کو اردو اور تاریخ اسلام سے تو وابستہ رکھو۔ تمھارے دونوں بیٹے اچھی پوسٹوں پر پہنچ گئے، مگر نہ اردو ہی ڈھنگ سے جانتے ہیں اور نہ قرآن شریف ہی پورا پڑھا ہے۔ وہ تو اللہ رکھے تمہاری بڑی بیٹی کو اس کی وجہ سے گھر میں نماز بھی ہے اور قرآن کی بازگشت بھی۔ لیکن بیٹیاں تو پرائے گھر کا دھن ہیں دیکھنا تو یہ ہے بیٹے کیا ہیں۔ پرانی قدروں کی قدر کرو۔ مجھے اپنے پرانے مخلص دوست کے پاس جانے دو۔ اگر میرا آخری وقت بھی آگیا ہے تو آجائے ایسا ہوا تو مغفرت کا مرحلہ اور آسان ہوجائے گا۔ الغرض ہماری جوابی تقریر سے ہماری بیٹی خاموش تو ہوگئیں مگر دوسری طرف منہ کر کے بیٹھ گئیں۔ کچھ توقف کے بعد بولیں جائیے ضرور جائیے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میری شادی ہوئی تھی تو انھوں نے بہت اچھا ساٹی سیٹ دیا تھا جو میرے پاس اب تک محفوظ ہے۔ لیجیے یہ تھوڑے سے پیسے رکھ لیجیے سفر میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ نیاز صاحب کو وہ بات ضرور یاد دلادیجیے گا جب وہ ایک بار آئے تھے تو مجھ سے غلطی سے ان کے کپڑوں پر چائے گر گئی تھی۔ اس وقت نیاز چچا نے بجائے خفا ہونے کے مجھے گود میں لے کر بڑا پیار کیا تھا۔ ایسا پیار جسے میں آج تک نہیں بھولی۔ آپ جائیں ضرور جائیں اور خرچ کرنے میں ذرا بھی کنجوسی نہ کریں۔ اچھا میں جا رہی ہوں۔ بچوں کے اسکول سے آنے کا وقت ہو رہا ہے۔

بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے۔ بیٹوں کے منہ سے تو منہ پھوٹے سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ نہ خرچ کو پوچھا نہ کسی ضرورت ہی کو معلوم کیا۔ کہا تو اتنا کہا کہ جب آپ تیار ہوجائیں تو مجھے مس کال کردیں میں گاڑی لے آؤں گا اور آپ کو اسٹیشن چھوڑ آؤں گا۔ بیٹے کے اس جملہ پر مجھے ہنسی آگئی۔ چلو دیر سے ہی سہی کچھ تو توفیق ہوئی۔

خدا خدا کر کے اگلا دن آیا اور ہم رات کے دس بجے وجے اکسپریس میں اپنی سیٹ پر براجمان ہوگئے۔ رات میں ایک بار آنکھ کھلی۔باہر جھانک کر دیکھا تو گاڑی ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ معلوم ہوا انجن فیل ہوگیا ہے۔ جھانسی جنکشن سے دوسرا انجن آئے گا تب گاڑی آگے چلے گی۔ یہ تمام صورت حال جان کر سر چکرانے لگا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے گویا ہم چار پانچ گھنٹے بعد اپنی منزل پر پہنچیں گے۔ دیری سے سہی اللہ کا شکر انجن آگیا اور ہم اپنی منزل کی طرف پھر رواں دواں ہوگئے۔ گاڑی کندن پور پہنچ گئی اور جیسے ہی ہم نے پلیٹ فارم پر قدم رکھا ایک نحیف سے آدمی کو رومال ہلاتے دیکھا اور جب ہم نے جواباً رومال ہلایا تو وہ صاحب ’’نیاز احمد‘‘ سراپا نیاز بھاگے چلے آئے اور ایسے لپٹ گئے جیسے برسوں سے چھٹے ہوئے اپنے بیٹے سے کوئی ماں لپٹتی ہے۔ کافی دیر بعد گرفت ڈھیلی کی اور دیر تک مجھے گھورتے رہے۔ نیاز نے میرے بیگ کو کسی کو چھونے نہیں دیا۔ ہم کہیں آدھے گھنٹے بعد اپنی منزل پر اپنے مقررہ وقت سے آٹھ گھنٹے بعد پہنچے۔ ولیمہ کی تقریب تو تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ ہم کچھ ناشتہ پانی کرنے کے بعد ادھر ادھر گھومنے لگے۔ سب لوگ دیکھ رہے تھے آج نیاز صاحب بہت خوش ہیں بلکہ ایک صاحب نے تو کہہ ہی ڈالا۔ کیوں خوش نہ ہوں۔ پرانے ساتھیوں کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔

اب بھی کچھ لوگ آجا رہے تھے۔ گیٹ پر ایک صآحب اب بھی رجسٹر لیے بیٹھے تھے۔ کچھ کارنر ایسے تھے جہاں ڈائننگ ٹیبل بڑے صاف ستھرے انداز میں لگی تھیں۔ ہم نے نیاز صاحب سے کہا کھانے سے لوگ فارغ ہوچکے ہیں یا ابھی کچھ اور آنے ہیں اور یہ کھانا کہاں جا رہا ہے۔ میں نے سوالات کا سلسلہ بند کیا تو نیاز صاحب بڑے دکھ بھرے انداز میں بولے۔ زبیر میں نے بیٹے سے بہت کہا اپنے غریب رشتے داروں کو مت بھولو۔ سب کو بلاؤ اور یہ بند لفافوں کی توقع مت رکھو۔ اللہ کے رسولؐ کی یہ بات یاد رکھو۔ ’’سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں رؤسا کو تو بلایا جائے اور غربا کو چھوڑ دیا جائے‘‘ وہی ہوا کھانا بچا پڑا ہے۔ کھانے والے نہیں ہیں۔ میں نے رشتے داروں اور پاس پڑوس کے لوگوں کو وہیں ان کے گھر پر کھانا بھجوانا شروع کیا تب کہیں یہ کچھ دیگ خالی نظر آرہی ہیں۔ آج کل اولاد خود سر اور تصنع پسند ہوگئی ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ رات دن کا بیٹھنا اٹھنا ہے، جو ہمارے ہر وقت کام آتے ہیں، ہم ایسے موقع پر ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میں نے بیٹے سے بارہا کہا بیٹے ٹھیک ہے تم ڈاکٹر ہوگئے ہو مگر جب مریض ہی تمہارے پاس نہیں آئیں گے تو یہ ڈاکٹری تمہاری کس کام کی۔ سب کو ایک لاٹھی سے مت ہانکو۔ ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھو۔ ہر وقت ہی آدمی کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ برا وقت آتے دیر نہیں لگتی۔ اپنا وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پاس ایک ہی اسکول ڈریس تھی اور وہ بھی بوسیدہ۔ مگر وہ میری سنی ان سنی کر دیتا تھا۔ شادی کے لیے بارات لے گیا تو کاریں زیادہ اور باراتی کم تھے۔ یہی صورتِ حال ولیمہ میں رہی بہت سے لوگ نہیں آئے۔ زیادہ تر لوگ تنہا تنہا آئے۔ یہ بات عام طور سے لوگوں کو ناگوار گزری کہ داخلہ دعوت نامے سے ہوگا۔ میں نے بہت کہا: بہت زیادہ مہذب نہ بنو۔ اپنی روایات پر قائم رہو، انھیں پامال مت کرو۔ مگر اسے تو ترقی پسندی کا بھوت سوار تھا۔ آخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ کھانا بہت بچ گیا اور تقسیم کرنا پڑا ، اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا احسان ہوا لوگوں نے کھانا بہ خوشی قبول کر لیا ورنہ چار و ناچار کہیں دبانا پڑتا۔

سورج غروب ہونے تک یہ سلسلہ چلتا رہا نیاز صاحب نے کہا چلو اب گھر چلتے ہیں۔ تمہیں تو سفر کے بعد آرام کا بھی موقع نہیں ملا۔ یہ کوفت الگ ہوئی کہ جو کام تیسرے پہر تک نمٹ جانا چاہیے تھا کہیں شام کے سات بجے تک مکمل ہوا۔ ہم واپس ہو رہے تھے، راستے میں ایک جگہ دیکھا بڑی رونق ہے ہم نے نیاز صاحب سے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے کیا یہاں بھی کوئی شادی کی تقریب ہے۔ نیاز صاحب بولے ہاں شادی ہی ہے۔ کسی زمانے میں ایک عبد القادر چپراسی ہوا کرتے تھے، ان کی پوتی کی رخصتی ہو رہی ہے۔ ’’مگر اتنے اہتمام اور وقار کے ساتھ بڑے بڑے شامیانے اور سجاوٹ، کچھ کاریں بھی نظر آرہی ہیں۔ تم کہتے ہو چپراسی کی پوتی کی شادی ہے بات کچھ سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ بھائی اس میں کوئی بات سمجھنے کی ہے نہ تعجب کی۔ آدمی جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ عبد القادر نے جو بویا وہی کاٹ رہا ہے۔ کہنے کو وہ چپراسی تھا مگر طلباء اور ٹیچر کے ساتھ اس کا محبت و خلوص اور ادب و لحاظ کا جو رویہ تھا وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ سب اسی کا ثمرہ ہے۔ ایک لڑکا جو کہیں کسی بڑی کمپنی کا منیجر ہے اس تقریب کا پورا خرچ برداشت کر رہا ہے۔ وہ تو ایک کار تک دینا چاہتا تھا۔ عبد القادر کسی حال میں راضی نہیں ہوئے۔ ہم نے کچھ اور دلچسپی لی۔ ایسا کیا احسان کر دیا تھا۔ ’’کچھ نہیں بس ایک دن جب کہ گیمس جاری تھے جیولن تھرو میں غلطی سے جیولن (بھالا) امجد کے پیر میں لگ گیا امجد بری طرح زخمی ہوگیا۔ عبد القادر نے کچھ نہیں دیکھا ایک دم امجد کو کندھے پر ڈال سیدھا ہسپتال لے گئے تب ہی سے امجد عبد القادر کا بڑا احسان مند ہوگیا۔ ہائی اسکول کے بعد بھی امجد نے اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ پڑھ لکھ کر قابل ہوگیا۔ خلیج کی ایک کمپنی نے اس کو سلیکٹ کرلیا اور کچھ دن بعد اپنی کمپنی کا منیجر بنا دیا۔ آج کل اس کے بڑے ٹھاٹھ ہیں او ریہ سب جو تم دیکھ رہے ہو امجد کی احسان شناسی کا ہی مظہر ہے ورنہ اس غریب کے پاس تو نہ کل کچھ تھا نہ آج ہے۔ لڑکی کا باپ تو معمولی دکان کرتا ہے۔ سچ بات پوچھو تو ایک امجد ہی کیا کتنے ہی لوگ ہیں جنہوں نے عبد القادر کو سہارا لگایا۔ کہنے کو وہ بوڑھے ہوگئے ہیں مگر اخلاق بوڑھا نہیں ہوا۔ وہی خندہ پیشانی، مزاج میں وہی شگفتگی، زبان میں وہی ادب کی چاشنی۔ ہاں کمر ذرا جھک گئی ہے اور نقاہت بھی کافی حد تک پیدا ہوگئی ہے لیکن رویے میں جو انفرادیت کل تھی آج بھی برقرار ہے۔

ہم یوں ہی باتیں کرتے کرتے اپنی قیام گاہ تک آگئے۔ تھکن بہت ہوچکی تھی اور صبح نو بجے گاڑی بھی پکڑنا تھی اس لیے میں اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گیا اور لیٹتے ہی آنکھ لگ گئی۔

صبح ہم وقت سے پہلے ہی اسٹیشن پہنچ گئے۔ کچھ دیر بعد ٹرین بھی اپنے مقررہ وقت پر آگئی۔ نیاز صاحب نے ڈبے میں جاکر ہماری سیٹ پر بستر لگا دیا اور ہمارے بیگ کے ساتھ ایک اور چھوٹی سی اٹیچی رکھتے ہوئے دعا سلام کرنے لگے۔ ہم نے کہا یہ کیا۔ بولے بچوں کے لیے کچھ سوغات ہے۔ اُنہیں دے دینا۔ ایک معمولی تحفہ آپ کی اس بڑی بیٹی کے لیے بھی ہے جس نے ایک بار ہمارے کپڑوں پر چائے گرا دی تھی اور پھر وہ بڑی سہم گئی تھی۔ اس کا وہ سہما ہوا چہرہ آج تک یاد ہے۔

کچھ ہی دیر بعد ہماری ٹرین چل پڑی اور ہم اپنی سیٹ پر ایسے جاپڑے جیسے تیز آندھی میں کوئی کمزور درخت زمین پر جا پڑتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد داؤد نگینہ

Leave a Reply