شام کہانی

ایکوریم سے مچھلیاں نکال کر پانی بھری بالٹی میں ڈالتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ کل رات ایک دوست کے ہاں کھانے کی دعوت تھی۔ کھانا کھاتے ہوئے دوست نے پوچھا۔

’’سمیٹ لیا سب کچھ‘‘

’’تقریباً‘‘اس نے اداسی سے کہا، بس مچھلیوں کی فکر ہے، اتنے دن انھیں کون کھانا ڈالے گا؟‘‘

’’تو مجھے دے دو۔‘‘

وہ خوش ہوگیا۔ ’’یہ تو بڑی اچھی بات کی تم نے‘‘

اسے ان مچھلیوں سے بڑا پیار تھا۔ صبح اٹھتے ہی پہلے ہوا بند کر کے دانے کی چمچ ڈال کر وہ اتنی دیر صوفہ پر بیٹھا رہتا، جب تک ایک ایک دانا کھایا نہ جاچکا ہوتا، پھر دوبارہ ہوا کھول کر واش روم جاتا۔ چھٹی والے دن اس کا محبوب مشغلہ دیر سے اٹھنا ہوتا تھا۔ لیکن مچھلیوں کو دانا ڈالنے کے لیے وہ اپنے وقت پر اٹھتا۔ دانا ڈال کر کھائے جانے کا انتظار کرتا اور ہوا کھول کر دوبارہ سو جاتا۔ شام کے وقت بھی یہی معمول تھا، کہیں جانا بھی ہوتا تو وہ جانے کا وقت آگے پیچھے کرلیتا، لیکن اپنے وقت پر انھیں دانا ڈالتا۔ اب جب وہ دو تین مہینے کے لیے باہر جا رہا تھا تو سب سے بڑا مسئلہ مچھلیوں کی خوراک تھا۔ دوست نے انھیں لینے کا ارادہ کیا تو اسے سکون سا ملا۔ کہنے لگا: ’’میں صبح ہی انھیں نکال کر ایکوریم صاف کر والوں گا اور تمہارے یہاں چھوڑ جاؤں گا۔ بس یار، خیال رکھنا، انھیں وقت پر خوراک لینے کی عادت ہے۔‘‘

دوست ہنسنے لگا۔ ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘

پہلی مچھلی اپنے پانیوں سے نکل کر بالٹی میں گئی تو شاید اسے تنہائی کا احساس ہوا، اس نے اچھل کر باہر نکلنے کی کوشش کی اور پھر تہہ میں چلی گئی۔ اس نے سوچا زندگی بھی عجیب شے ہے۔ یہ دنیا بھی ایک جسیم ایکوریم ہے، جس میں ہم سب مچھلیوں کی طرح ہیں۔ کوئی غیبی ہاتھ ہمیں کہیں اور سے نکال کر اس میں ڈال دیتا ہے اور کسی دن یہاں سے نکال کر کسی اور ایکوریم میں ڈال دے گا۔

’’تو زندگی صرف بے بسی ہے۔‘‘ نہ آنے پر اختیار نہ جانے پر۔‘‘

مرشد نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’تو پھر ہم کیا ہیں؟‘‘

’’تو پھر ہم کیا ہیں؟‘‘

’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ مرشد نے آہستہ سے کہا:

وہ ایک ایک کر کے مچھلیوں کو بالٹی میں ڈالتا رہا۔ ہر مچھلی کو نکالتے وقت اسے لگتا کوئی اسے پانیوں سے نکال رہا ہے، لیکن نکالنے والا دکھائی نہیں دیتا، ان مچھلیوں کو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ کون انھیں نکال رہا ہے اور وہ کہاں جا رہی ہیں؟

’’یہ عجیب کھیل ہے، ہر طرف ہر جگہ۔ کسی کو معلوم نہیں کون اسے کہاں سے لایا ہے اور کہاں لے جا رہا ہے۔‘‘

اس نے مرشد سے پوچھا: ’’تھوڑی دیر بعد یہ نئے گھر میں ہوں گی کیا انھیں اس کا احساس ہوگا کہ وہ شخص اب نہیں، جو انھیں ہر روز چمچ بھر خوراک صبح شام ڈالتا تھا۔ ذرا سا پانی گدلا ہوتا تو صاف کرتا تھا۔‘‘

مرشد نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’ہاتھ کا بدل جانا، شاید ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انھیں پانی چاہیے اور چند دانے خوراک کے، کون اس کا انتظام کرتا ہے، انھیں اس سے کیا غرض؟‘‘

’’تو زندگی کے صرف اتنے سے معنی ہیں؟‘‘ اس نے اداسی سے پوچھا: ’’سانس لینے کی سہولت اور چند دانے پیٹ بھرنے کے لیے۔‘‘

’’نہیں ایسا نہیں۔‘‘ مرشد نے کہا: ’’زندگی کی کئی صورتیں ہیں، چھوٹی چیونٹی سے انسان تک۔‘‘

’’لیکن اپنی جگہ کا احساس تو سب کو ہوتا ہوگا؟‘‘

’’کیوں نہیں؟‘‘ مرشد نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’آخری مچھلی کو بالٹی میں ڈالتے ہوئے، اس کے آنسو نکل آئے۔ ’’چلو کھیل ختم ہوا۔ چار مہینوں بعد معلوم نہیں ان میں کون سی زندہ ہوگی اور کون سی مرچکی ہوگی۔‘‘

’’اور ہمارا اپنا کیا پتا ہے؟‘‘ مرشد مسکرایا۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’سچ کہتے ہو چار مہینے بعد واپسی ہو نہ ہو، کسے معلوم؟‘‘

کچھ دیر خاموشی رہی، پھر اس نے کہا: ’’لیکن اپنا گھر چھوڑنا آسان نہیں۔‘‘

مرشد نے یوں سر ہلایا کہ کچھ معلوم نہ ہوا کہ وہ اس کی تائید کر رہا ہے یا تردید۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد مرشد بولا۔ ’’گھر تو وہی ہوتا ہے نا جہاں ہم رہتے ہیں۔ ان مچھلیوں کو دیکھ لو، اب یہ بالٹی ہی ان کا گھر ہے۔ دیکھو کیسے اطمینان سے تیر رہی ہیں۔‘‘

’’لیکن میں تو مچھلی نہیں۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا۔

اس کا چھوٹا بیٹا تو پہلے ہی دوبئی میں تھا۔ شادی کے بعد وہ اپنی بیوی کو بھی وہیں لے گیا۔ وہیں اس کے دو بچے ہوئے اور اب وہ وہاں کا ہی ہوکر رہ گیا تھا۔ بڑا بیٹا اس کے ساتھ تھا۔ اس کی بیوی اور بیٹی بھی ساتھ ہی تھیں۔ اب یہ پوتی ہی ان کی محبتوں کا مرکز تھی۔ پندرہ دن پہلے کھانا کھاتے ہوئے بیٹے نے گویا اطلاع دی۔

’’مجھے ملائشیا میں جاب مل گئی ہے۔ شاید اگلے ہفتے جانا ہو۔‘‘

لقمہ اس کے ہاتھ ہی میں رہ گیا۔ ’’اوریہ۔‘‘

’’یہ دونوں بھی ساتھ ہی جائیں گی۔‘‘ بیٹے نے سرسری سے انداز میں کہا۔ چند لمحے خاموشی رہی بیوی کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ وہ بار بار پوچھنا چاہ رہا تھا۔ ’’اور ہم؟‘‘ لیکن پوچھ نہ سکا۔ بیٹے نے شاید اس کی ذہنی کیفیت پڑھ لی بولا۔ ’’آپ دونوں چھ چھ مہینے میرے اور چھوٹے کے پاس رہیں۔‘‘

’’اور یہ گھر؟‘‘ اس کا لہجہ بھیگ گیا۔

’’ملازم رکھ لیں گے۔‘‘ پیسوں کا تو اب کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘

اس نے گھر کے درو دیوار پر ایک نظر ڈالی۔ اس نے اور بیوی نے سینت سینت کر اس گھر کی ایک ایک چیز بنائی تھی، سجائی تھی۔

’’لیکن۔۔۔۔۔ اس کا جملہ مکمل نہ ہو پایا۔

بیٹے نے بات سمیٹی اور بڑے رسمی سے لہجے میں بولا: ’’تو چار چار مہینے کرلیں۔ چار میرے پاس، چار چھوٹے کے پاس اور چار یہاں، ملازم تو ہوگا ہی، اچھا ہے یہاں بھی میل ملاپ رہے گا۔‘‘

ساری رات میاں بیوی نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی، بس اپنی حدود میں کروٹیں بدلتے رہے۔

صبح سیر پر جانے کی عادت تھی۔ سیر کے دوران دنیا بھر کے موضوعات پر گفتگو ہوتی۔ اس دن چپ چپ سارہا۔ دوست نے پوچھا۔

’’کیا بات ہے؟‘‘

اس نے رات کی بات سنائی

دوست چند لمحے چپ رہا پھر بولا۔ ’’ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ پھر یہ کوئی نئی بات نہیں، کون ہے، جسے موقع ملے اور وہ باہر نہ جائے۔‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

دوست نے کہا۔

’’ہر دوسرے گھر کا یہی حال ہے، بچے باہر چلے گئے ہیں اور بوڑھے ماں باپ محل نما گھروں میں بس اکیلے ہیں۔‘‘

’’نوکروں کے رحم و کرم پرـ۔‘‘ اس نے طنزاً کہا۔

’’بالکل، لیکن کیا کیا جائے؟‘‘ دوست نے آہستگی سے کہا۔ ’’میرا اپنا بیٹا باہر جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ میں پہلے تیری مخالفت کرتا تھا، لیکن اب یہاں کے حالات دیکھ کر چپ ہوگیا ہوں۔ یہاں نہ عزت، نہ ندگی، نہ مال۔ مٹی کی محبت کے معنی صر ف ڈکشنریوں میں رہ گئے ہیں۔‘‘

سیر سے واپسی پر سب ناشتہ اکٹھا کرتے تھے۔ ٹوسٹ پر جام لگاتے ہوئے بیٹے نے کہا۔ ’’آپ میری بات سے پریشان ہوگئے ہیں۔‘‘

’’نہیں تو، اسے اپنی آواز خود اجنبی لگی۔

’’میں نے سوچا ہے کہ میں آپ کو ساتھ لے جاؤں، بس کچھ نہ کہیے گا۔ میں اپنے ویزوں کے ساتھ آپ دونوں کے ویزے کی درخواست بھی دے رہا ہوں۔

’’لیکن‘‘

’’لیکن ویکن کچھ نہیں۔‘‘ بیٹے نے گویا فیصلہ سنا دیا۔

’’چار مہینے ہمارے ساتھ رہیے، پھر واپس آجائیے اور چارو ماہ بعد چھوٹے کے پاس، پھر میری طرف آجائے۔ سیر سپاٹے کیجیے۔‘‘

گھر کی ہر شے اپنی جگہ تھی اور اسی طرح رہی، بس ان مچھلیوں کا مسئلہ تھا اور ایکوریم سے بالٹی میں جاکر وہ کسی اور گھر میں جا رہی تھیں۔

اس نے مرشد سے کہا: ’’کسی دن کوئی غیبی ہاتھ مجھے اس دنیا کے ایکوریم سے نکال کر کسی دوسرے ایکوریم میں ڈال دے گا، یہی شاید موت ہے۔‘‘

’’مستقل قیام صرف اسی کو ہے۔‘‘ مرشد نے نعرہ لگایا۔

اس نے سوچا شام کو سارے پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹتے ہیں، لیکن میں ایسا پرندہ ہوں، جسے سر شام گھونسلے سے نکل کر اڑان کا حکم دیا ہے۔

’’کیا بے بسی ہے؟‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
رشید امجد

Leave a Reply