سگھڑ

آمنہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس نے مجھے جو بتایا، وہ اسی کی زبانی سنیے۔ ’’اپنی شرارتوں کی وجہ سے میں گھر بھر کی لاڈلی بن گئی تھی۔ بچپن میں جس بچے کو زیادہ توجہ مل جائے وہ یا تو بہت پراعتماد اور کامیاب زندگی گزارتا ہے یا پھر بگڑ جاتا ہے۔ میں پراعتماد تو بہت تھی، مگر بگڑتی بھی جا رہی تھی۔ گھر والوں کے لاڈ پیار کا خوب فائدہ اٹھا رہی تھی۔ پڑھائی میں اچھی تھی، اس لیے مجھے ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ کام کاج میں کوری اور بے حد سست تھی، خاص طور پر کھانے پکانے سے قطعی دل چسپی نہیں تھی۔ میری دادی اور امی اس معاملے میں متفکر رہتی تھیں۔ وہ خاندان کی اس روایت کی پابند تھیں کہ لڑکی جب جوان ہوجائے، تو اسے گھریلو امور میں طاق کرنا ضروری ہے اور جب اچھا رشتہ آجائے، تو اس کی فوراً شادی کر دینی چاہیے۔ میں یہ سمجھتی رہی کہ شاید اس معاملے میں مجھے رعایت ضرور ملے گی۔ جب تک میری پڑھائی مکمل نہیں ہوگی، وہ مجھے شادی کی الجھنوں میں نہیں پھنسائیں گے۔ اس لیے گھریلو کام کاج سے بچنے کے لیے میں پڑھائی پر زیادہ توجہ دیتی رہی۔ دادی نے مجھے کچن میں دھکیلنے کی بہت کوشش کی۔ پیار اور ڈانٹ ڈپٹ کر کے مجھے کھانا پکانے کی طرف راغب کر کے دوچار دن کھانے پکوائے۔ جیسے تیسے کر کے میں نے پکائے بھی۔ میری حوصلہ افزائی کے لیے تعریفیں بھی ہوئیں، خاص طور پر دال، چاول، پلاؤ اور مرغی شوربے کا سالن بہت پسند کیا گیا۔ ابا نے خوش ہوکر انعام بھی دیا، مگر مجھے پتا نہیں کیوں یہ احساس تھا کہ یہ لوگ مجھے کچن میں گھسانے کے لیے میرے کھانوں کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ لہٰذا میں نے اپنی روش نہ بدلی۔ دیر تک سونا، عین کھانے کے وقت دستر خوان پر آموجود ہونا اور پکانے کے نام سے چڑ جانا، ان عادتوں کو نہیں چھوڑا، تو تنگ آکر سب نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا۔

میں نے اچھے نمبرز سے میٹرک کیا، اسی دوران ایک رشتہ آگیا۔ صورت شکل اچھی تھی، اگر والدین تھوڑا انتظار کرلیتے تو بہتر رہتا، میری پڑھائی کا شوق بھی پورا ہوجاتا، مگر سب خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ گھر والوں نے اپنے طور پر جانچ پڑتال کر کے ہامی بھر دی۔ لڑکے والوںنے بھی روایتی انداز مین جلدی مچادی اور دو ماہ کی غیر اعلانیہ منگنی کے بعد نکاح کر کے والدین نے مجھے رخصت کر دیا۔ میں ذہنی طور پر شادی اور وہ بھی اتنی جلدی کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ سسرال پہنچی، تو پتا چلا کہ میاں جی کی معمولی سرکاری نوکری ہے۔ قلیل تنخواہ تھی، چھوٹا سا گھر تھا، کم آمدنی کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنے کے لیے ترستی تھی۔ میں اپنے گھر میں جس چیز کی فرمائش کر دیتی تھی، امی، ابو یا دادی فوراً پوری کردیتے تھے۔ کسی چیز کے لیے دل کو مارنا نہیں پڑتا تھا، مگر یہاں معاملہ والدین کے گھر سے قطعی مختلف تھا۔ میری عادتیں بھی بگڑی ہوئی تھیں۔ کام چوری کے ساتھ رات دیر تک جاگنا اور صبح بارہ، ایک بجے سے پہلے نہ اٹھنا، میرا معمول تھا۔ سسرال میں آکر میں نے یہ عادت اور زیادہ پکی کرلی۔ سسرال والے میری ان عادتوں کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے۔ انھوں نے سخت رویہ اپنایا، تو میں اور زیادہ اکھڑ ہوگئی۔ گھر میں جھگڑے بڑھنے لگے۔ شوہر درمیان میں پھنس کے رہ گئے تھے۔ وہ مجھے کچھ نہیں کہتے تھے۔ گھر والوں کی شکایتوں پر میری طرف سے معافی مانگ لیتے تھے۔ پسند کی شادی نہیں تھی، ورنہ شوہر صاحب کی خیر نہیں تھی۔ وہ یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لیا کرتے تھے۔ ’’آپ لوگوں کو شادی سے پہلے یہ باتیں دیکھ لینی چاہیے تھیں، اب کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘

ایک سال تک ایسے ہی تلخ حالات چلتے رہے، پھر میں امید سے ہوگئی۔ گھر والوں نے روک ٹوک بند کردی۔ بچے کی متوقع آمد نے شوہر اور سسرال والوں کو میری سستی اور کاہلی کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بیٹی ہوئی۔ اس کا نام بہانہ بن گیا۔ وہ راتوں کو جگاتی تھی اور دن میں میرے ساتھ ڈیڑھ بجے تک سوتی تھی۔ سب کچھ ایسا ہی چل رہا تھا کہ ایک دن میری بیٹی جو تین سال کی ہوچکی تھی، مجھ سے پہلے جاگ گئی۔ وہ بہت پیاری شکل کی میٹھی میٹھی باتیں کرنے والی سمجھ دار بچی تھی۔ مجھے سوتا دیکھ کر اٹھی اور اپنی دادی کے پاس چلی گئی۔ اس وقت دوپہر کے بارہ بجنے والے تھے۔ میرے شوہر وہ بجے تک دفتر سے فارغ ہوکر سیدھے گھر آتے تھے، پھر کھانا کھاکر کچھ دیر آرام کے بعد دفتر چلے جاتے تھے، وہاں وہ اوور ٹائم کرتے تھے۔ میں ان کے جانے کے بعد اپنا چھوٹا موٹا کام نمٹا کر پھر سو جاتی تھی۔ بیٹی کھیلتی رہتی تھی۔ اس روز میں اتفاقاً جلدی اٹھ گئی۔ میری بیٹی، دادی کی گود میں بیٹھی سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ مجھے ان سب کے ہنسنے بولنے کی آوازوں نے مجبور کر دیا کہ ’’اٹھ جاؤں۔‘‘ کمرے کا دروازہ کھولنے لگی، تب مجھے اس کی دادی کی آواز آئی ’’ہاں گڑیا… تم بڑی ہوکر کیا بنوگی؟‘‘ بیٹی نے جواب دیا ’’امی بنوں گی، ہر وقت سویا کروں گی، مزے کروں گی۔ ’’سب نے میری بیٹی کی بات پر زور سے قہقہہ لگایا۔ میری ساس نے پوچھا کہ تمہاری امی تو کہتی ہیں کہ وہ تمہیں خوب پڑھائیں گی۔

بیٹی صاحبہ نے کھٹ سے جواب دیا ’’ابو کہتے ہیں، پڑھنے پر بہت خرچہ ہوتا ہے، وہ مجھے اسکول نہیں بھیجیں گے۔‘‘ ساس نے کہا: ’’تمہاری امی نے دس جماعتیں پڑھی ہیں، دس تک تو وہ پڑھا لیں گی۔‘‘ بیٹی نے کھٹ سے جواب دیا۔ ’’نانا کے پاس پیسے ہوتے تھے۔ ابو کے پاس نہیں ہیں، وہ میرے لیے گڑیا بھی نہیں لاتے، آئس کریم نہیں لاتے، وہ غریب ہیں ناں۔‘‘

بیٹی کی یہ باتیں گھر والوں کے لیے تو مذاق اور قہقہوں کا سبب بن رہی تھیں، مگر ان چند جملوں نے جیسے میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا دیے تھے۔ گھر میں ایسی باتیں ہوتی رہتی تھیں اور میرے اپنے شوہر سے ایسے جھگڑے اکثر بحث مباحثے کے بعد تلخ کلامی میں ڈھلتے رہتے تھے۔

بیٹی نے ساری باتیں سمیٹ کر اپنے گھر اور والدین کی ایک تصویر بنالی تھی کہ اس کی ماں نکمّی، سست اور دیر تک سونے والی عورت ہے۔ اس کا ابا غریب ہے۔ وہ اس کی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں پوری نہیں کرسکتا تھا، اس لیے اسکول نہیں بھیج سکے گا کہ وہ لوگ غریب ہیں۔ مجھے اس سے آگے کچھ نہ سنا گیا۔ واپس پلنگ پر آکر بیٹھ گئی۔ اس چھوٹے سے واقعے نے میرے دماغ کی چولیں ہلا دی تھیں۔ اس روز مجھ سے کھانا بھی نہیں کھایا گیا۔ سارا دن سوچتی رہی اور بالآخر ذہن نے ایک حل ڈھونڈ لیا کہ میں اپنی بچی، سسرال اور شوہر کے سامنے سرخ رو ہوں گی۔ اس سلسلے میں اپنی امی سے مشورے کے لیے شام کو میکے گئی۔ باتوں باتوں میں امی سے پوچھا: ’’امی سسرال میں اپنا مقام بنانے اور اپنی رائے شوہر سے منوانے کے لیے عورت کو کیا کرنا چاہیے؟‘‘ امی نے سادگی سے جواب دیا۔ ’’بیٹی ہمارے زمانے میں یہ کام عورت خدمت گزاری اور محبتیں بانٹ کر حاصل کرتی تھیں، مگر آج دنیا بدل گئی ہے، عورت کو کمانا پڑتا ہیـ۔ اگر اس کی کمائی شوہر کا بوجھ ہلکا کردے، تو وہ اس کی ہر بات مانتا ہے۔ تم میں تو یہ دونوں ہی گر نہیں ہیں۔ خدمت گزاری، تمہاری کاہلی نے چھین لی اور کمانے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے، لہٰذا تم صبر شکر کے ساتھ وقت گزارو۔‘‘ امی کے گھر سے نکلی، تو دماغ اور تیزی سے چل رہا تھا کہ مجھے کچھ کر کے دکھانا ہے۔ اپنی بیٹی کو پڑھانا لکھانا ہے۔ اس کی چھوٹی بڑی خواہشوں کو حسرت نہیں بننے دوں گی۔

ہمارے گھر کے قریب ایک مار کیٹ تھی۔ اس کے آس پاس کوئی چھوٹا موٹا ہوٹل نہیں تھا۔ میرے دماغ نے مشورہ دیا، کیوں نہ وہاں کچھ روز کھانا بنا کر بیچا جائے۔ اگر گاہک آنے لگے، تو یہ کام یقینا چل پڑے گا، کیوں کہ اچھا اور تازہ کھانا ہر کسی کی ضرورت اور خواہش ہوتی ہے۔ میں نے بہت سوچ سمجھ کر مینو ترتیب دیا کہ چاول اور مرغی کا سالن بنا کر مارکیٹ میں بھیجوں گی۔ کچھ اور مجھے پکانا بھی نہیں آتا تھا۔ جب شوہر صاحب گھر آئے، تو ان کا اچھا موڈ دیکھ کر میں نے ان کے سامنے اپنی یہ بات رکھی کہ اگر میں کچھ کھانا دوپہر ایک ڈیڑھ بجے تک پکا کر سنی مارکیٹ بھجوادوں، تو کیا اس کی فروخت میں وہ میری مدد کرسکیں گے۔ میری بات سن کو انھوں نے پہلے تو ایک زور دار قہقہہ لگایا پھر کہنے لگے: ’’تم اور کام…‘‘ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی دشمن ہیں، تم اپنی بچی سنبھال لو یہی بہت ہے۔‘‘ میں نے سنجیدگی سے جواب دیا ’’اگر آپ راضی نہیں ہیں، تو مجھے محلے کے کسی بچے سے مدد لینی ہوگی، بہتر ہوتا، آپ اس کام میں میرا ساتھ دیتے، میرا حوصلہ بڑھاتے کہ آپ کی نکمی بیوی کچھ کرنا چاہتی ہے۔‘‘ تیر نشانے پر لگا کہنے لگے: ’’کھل کر بتاؤ تم چاہتی کیا ہو؟‘‘ میں نے بتایا کہ ’’اگر دفتر سے ذرا جلدی آجائیں اور یہاں میں دس پندرہ آدمیوں کا کھانا بنا کر تیار رکھوں اور آپ مارکیٹ کے اس کارنر پر اس کھانے کی فروخت شروع کردیں جہاں اوپر والے فلیٹس میں دفاتر ہیں تو وہ کھانا فوراً ہی بک جائے گا۔ ہم اگلا قدم تین چار دن بعد منافع اور گاہکوں کا رجحان دیکھ کر اٹھائیں گے۔ میں نمکین چاول، پلاؤ اور مرغی آسانی سے بنالیتی ہوں، اور جب دل میں ٹھان لیتی ہوں تو پورا کام اکیلی کر بھی لیتی ہوں۔‘‘

انھیں مجھ پر یقین نہیں آیا، کیوں کہ میں نے آج تک گھر میں کچھ نہیں پکایا تھا۔ قصہ مختصر، میری ضد کے آگے انھوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ پہلے دن میں نے مرغی کی بریانی چار کلو چاول اور ڈھائی کلو مرغی منگوا کر بڑی محنت اور دل لگا کر بنائی۔ اس کام کے بارے میں سسرال والوں کو میرے شوہر صاحب نے بتا دیا تھا۔ وہ میرا چپکے چپکے مذاق اڑا رہے تھے۔ مگر میں اپنے کان اور زبان دونوں بند کر کے اپنے مشن میں پوری مستعدی سے لگ چکی تھی۔ وقت پر شوہر آگئے۔ وہاں انھوں نے تخت بچھا کر چھوٹا سا کارنر بنا لیا اور کاغذ کی پلیٹوں کا بھی انتظام کرلیا تھا، پہلے ہی دن چار کلو کی بریانی ایک گھنٹے میں بک گئی اور لاگت سے کہیں زیادہ منافع ملا۔ میرے شوہر نے بھی وقت کی کمی کی وجہ سے مارکیٹ میں بریانی کھائی تھی۔ گھر آکر کہنے لگے: ’’تم تو چھپی رستم نکلیں، اتنی لذیذ بریانی تو میں نے کبھی نہیں کھائی۔‘‘

میرے لیے یہ الفاظ طاقت کا انجکشن ثابت ہوئے۔ دادی صحیح کہتی تھی، میرے ہاتھ میں قدرت نے ذائقہ عطا کیا تھا۔ ایک ہفتے میں مجھے اس کام کے فائدہ مند ہونے کا پکا یقین ہوگیا۔ میں نے مقدار بڑھا کر مرغی کا سالن اور ہر تیسرے دن مرغی کا پلاؤ اور کڑاہی بھی شامل کردی۔ میرے میاں نے بھی غیر معمولی دلچسپی سے اس چھوٹے سے کاروبار کو بڑھانے میں مدد کی۔ پھر میں نے سالن کے ساتھ چپاتیاں بنا کر بھیجنا شروع کردیں۔ مجھے پہلے روٹیاں پکانی بالکل نہیں آتی تھیں، مگر حوصلہ افزائی نے یہ کام بھی جلد سکھا دیا۔ پھر یہ کام چل پڑا اور ایسا چلا کہ لوگ کھانا لینے کے لیے قطاریں بنانے لگے۔ مانگ کے ساتھ مقدار میں اضافے کے باوجود دو بجے سے پہلے کھانا بک جاتا تھا اور پھر اس کام میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت دی کہ ہمارے گھر کے مالی حالات بہت اچھے ہوگئے۔ ڈیڑھ سال میں میرے شوہر نے قسطوں پر ایک بڑی دکان لے کر کام بڑھا لیا اور میری مدد کے لیے ملازمہ رکھ دی۔

اب اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے نہ صرف یہ کہ ہم دو دکان، بلکہ اس کے ساتھ والی دکان بھی خرید کر اسے اور وسیع کر کے کاروبار بڑھا چکے ہیں۔ میرے میاں نے نوکری چھوڑ کر اپنے کاروبار میں دلچسپی بڑھالی، جس کا پھل آج اس صورت میں موجود ہے کہ میری بیٹی اچھے اسکول میں پڑھ رہی ہے، گھر کا ماحول بدل چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ بات ہوئی کہ سسرال والے، اپنے گھر کی سب سے نکمی بہو یعنی مجھے اب نہایت سمجھ دار اور محنتی بہو کا درجہ دے چکے ہیں۔ میرے شوہر نے مجھ سے کئی بار کہا کہ پکانے کا کام میں ملازم بڑھا کر ہلکا کرلوں، مگر میرا جواب یہی رہا کہ گاہکوں کو میرے ہاتھ کے پکے چاول اور مرغی کے سالن کا ذائقہ پسند ہے۔ اس ذائقے نے کام میں برکت دی ہے۔ آپ دیگر کھانوں کے لیے اپنے دکان پر ملازم رکھ لیں، مگر مرغی اور چاول میں گھر ہی پر تیار کر کے بھیجوں گی۔

پہلے میں رات کو بہت دیر سے سوتی تھی، مگر اب جلدی سو جاتی ہوں۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد پکانے کا کام شروع کر دیتی ہوں۔ اب تو دیگوں میں پکانا پڑتا ہے (ماشاء اللہ) دوپہر ایک بجے تک کھانا مکمل تیار کر کے شوہر کو فون کر دیتی ہوں۔ گاڑی بھیج کر کھانا منگوا لیتے ہیں۔ آج سسرال والوں کی طرح میرے شوہر بھی میری عزت کرتے ہیں اور مجھ سے اکثر کہتے ہیں: ’’مجھے یقین نہیں آتا، تم وہی آمنہ ہو، جسے صرف اپنی نیند پیاری تھی۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ تم میری زندگی میں شامل ہوئیں۔‘‘ اور میں جواب دیتی ہوں کہ پہلے میں لڑکی بنی رہتی تھی، مگر ماں بننے کے بعد اولاد کی خاطر ماں کو بدلنا پڑتا ہے۔ ’’دل میں سوچتی ہوں کہ اگر اس روز کھٹکے سے میری آنکھ جلدی نہ کھل جاتی، تو میں اپنی بیٹی کی باتیں نہ سن پاتی، جس نے حقیقی طور پر میری آنکھیں کھول دیں، ورنہ میں آمنہ اور اس کے مستقبل کا نقشہ کبھی نہ دیکھ پاتی اور آج بھی دن کے ایک بجے تک سو رہی ہوتی۔ میری والدہ نے بھی درست کہا تھا کہ محض خدمت گزار بیوی کی عزت کا زمانہ ختم ہوگیا اور اب اسی عورت کی سسرال اور شوہر کے دل میں محبت اور عزت ہوتی ہے جو کمائی میں بھی اس کا ہاتھ بٹائے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
رعنا فاروقی

Leave a Reply