کھوٹی کسوٹی

خدیجہ مریم نے ایم ایس سی کرنے کے بعد ایک پرائیویٹ اسکول میں جاب کرلی تھی۔ اسکول قریب ہی تھا اور وہ تنخواہ بھی مناسب دے رہے تھے۔ اسکول سے واپس آکر جو وقت بچتا وہ اسے گھر کی صفائی ستھرائی کی نذر کر دیتی تھی۔ وہ ایک بہت ہی رکھ رکھاؤ والی اور انتہائی صفائی پسند لڑکی تھی۔ ان کے گھر کی کوئی بھی چیز مجال ہے جو اپنی جگہ پر نہ ملے۔ اس کی امی بھی صفائی پسند خاتون تھیں اور اپنے دور میں انہوں نے بھی گھر کو بہت صفائی اور سلیقے سے رکھا تھا۔ لیکن مریم تو ان سے بھی دو ہاتھ آگے تھی۔ صفائی کرتے ہوئے برتن چمکاتے ہیں چاہے اس کے ہاتھ کیوں نہ گھس جائیں۔ اس کی دیوانگی دیکھ کر کبھی کبھی تو اس کی امی بھی زچ ہوجاتیں۔

’’بس بھی کرو، کبھی اپنی طبیعت بھی دیکھ لیا کرتے ہیں لڑکی۔‘‘

لیکن وہ بس ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے اڑا دیتی۔ صفائی کا اسے جنون تھا اور اس بات کا اسے خود بھی احساس ہونے لگا تھا کہ صفائی کے معاملے میں وہ سائیکو کیس بنتی جا رہی ہے۔ لیکن اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور تھی جو اسے مسلسل صفائی پر اکساتی اور چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔

امی کو زیادہ غصہ اس وقت آتا جب وہ بیمار ہونے کے باوجود بھی صفائی سے باز نہیں آتی۔ جیسا کہ اس وقت ہو رہا تھا۔ اسے رات سے ہی ہلکا ہلکا بخار ہو رہا تھا۔ امی کے منع کرنے کے باوجود اس نے اسکول سے چھٹی نہیں کی اور واپس لوٹتے ہی آنگن دھونے کے لیے پائپ لگا لیا۔ اسے فرش دھوتا دیکھ امی کا غصہ ابل پڑا۔ لگاتار ڈیڑھ گھنٹہ اسے صلواتیں سنائیں پھر بھی وہ نہ مانی تو ناراضگی سے اپنا برقع پہن کر بڑی بیٹی کے گھر چلی گئیں جو کچھ دور ہی رہتی تھی۔ اس کی بھی طبیعت آج کل کچھ خراب چل رہی تھی اس نے دونوں بچوں کو سنبھالنے کے لیے امی کو بلوایا تھا۔ گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھ کر جب وہ واپس گھر لوٹیں تو سارا گھر چمچما رہا تھا۔ البتہ مریم اب کھانا کھاکے سوچکی تھی۔ انھوں نے گھر پر طائرانہ نگاہ ڈالی۔ پورا گھر سلیقہ مندی اور ترتیب کا منظر پیش کر رہا تھا۔ انھیں اپنی سلیقہ مند بیٹی پر ٹوٹ کر پیار آیا جو اگلے گھر جاکر ان کا نام روشن کرنے والی تھی۔

امی آتے ہوئے اپنے ساتھ بڑی بیٹی کے بچوں کو لے آئی تھیں یہ کہہ کر کہ دو تین دن انھیں اپنے گھر ہی رکھیں گی تاکہ بیٹی کو کچھ تو آرام ملے۔ وہ تو بیٹی کو بھی آرام کے لیے ساتھ لانا چاہتی تھیں لیکن اس کے شوہر نے اسے اجازت نہیں دی تھی۔

مریم شام کو سوکر اٹھی تو دونوں بھانجوں کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئی۔ بدن تھکن سے چور ہوچکا تھا۔ سونے کے باوجود اپنی تھکن سے چھٹکارا نہیں پاسکی تھی پھر بھی بچوں کی آمد کی خوشی میں اس نے رات کے کھانے پر بہت اہتمام کر ڈالا۔ کھانے کے علاوہ بچوں کا پسندیدہ چاکلیٹ کیک، اسٹر بیڑی آئس کریم، فروٹ کسٹرڈ، اور جانے کیا کچھ بنا لیا۔ بچے بہت خوش تھے اور انہیں خوش دیکھ کر وہ بھی ازحد مسرور تھی۔

وہ ایک اچھی شام گزری تھی۔

٭٭

فضا ایک انتہائی سست اور پھوہڑ لڑکی تھی۔ بی اے سیکنڈ ایئر سے فراغت کے بعد اس کی کوئی خاص مشغولیت نہیں تھی۔ پڑھائی لکھائی میں بھی وہ کوئی خاص نہیں تھی۔ اس کے فرسٹ ایئر کے کچھ سبجیکٹ بھی ابھی تک کلیئر نہیں تھے وہ بہ خوبی جانتی تھی کہ فرسٹ ایئر پاس کیے بغیر اسے فائنل ایئر میں داخلہ نہیں ملے گا اس لیے اس نے سیکنڈ ایئر کا آخری Paperدیتے ہی پڑھائی کو بھی خیرباد کہہ دیا تھا۔

گھر کے کام کرتے ہوئے اس کی جان جاتی تھی اور صفائی سے تو اسے کوئی سروکار ہی نہ تھا۔ اس کی والدہ البتہ صفائی پسند خاتون تھیں۔ گھر میں جو بھی تھوڑی بہت سلیقہ و ترتیب تھی وہ انہی کی مرہون منت تھی۔ بیٹی کو وہ ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کرتیں کہ کچھ گھر داری میں بھی دلچسپی لے، کچھ کھاناپکانا سیکھ لے۔ غصے سے، ناراضگی سے، پیار سے، اور مستقبل کے ڈراوے دے کر، مگر اس ڈھیٹ لڑکی نے سن کے نہیں دیا۔ اس کی امی لاڈلی کے یہ طو رطریقے دیکھ کر کڑھتی رہتی تھیں، جسے صبح سے شام تک پلنگ پر لیٹے ناولز پڑھنے اور ٹی وی سیریل دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ سوجھتا تھا۔

اسے دیکھ کر کبھی کبھی انھیں سخت الجھن ہوتی تھی۔ کیسی عجیب لڑکی تھی جو پانچ پانچ دن نہاتی نہیں تھی۔ تین تین دن بالوں میں کنگھی نہیں کرتی تھی۔ اس عمر میں تو لڑکیوں کو بن سنور کر رہنے کا، کپڑوں کا اور جیولری وغیرہ کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ ہاں البتہ اگر اسے کہیں جانا ہو تو اس کی تیاری دیکھنے لائق ہوتی تھی۔ خوب سجتی سنورتی میک اپ کرتی اور اتنی خوب صورت نظر آتی کہ لگتا ہی نہیں یہ وہی فضا ہے۔ اب ظاہر ہے بھئی جو ہفتوں نہ نہائے، کئی دنوں تک کپڑے نہ بدلے، نہ کنگھی چوٹی کرے اور اب ایک دم سے تیار ہوجائے تو وہ تو خوب صورت لگے گی ہی نا! امی کے لاکھ سر پٹخنے کے بعد بھی اس نے اپنی ڈھب نہیں بدلی تھی وہ ابھی بھی ویسی ہی تھی پھوہڑ، سست، نالائق اور غیر ذمہ دار۔

٭٭

تینوں بیٹیاں اور ماں سر جوڑے بیٹھی تھیں۔ اور وہی موضوع زیر بحث تھا جو ہندوستان کی ۶۰ فیصد خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ ہوا کرتا ہے۔ جن کا بیٹا یا بھائی جوان ہو، وہ خوبرو اور برسر روزگار بھی ہو تو ہماری خواتین ان کے سروں پر سہرا سجانے کی خواہش مند ہوتی ہیں اور اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے یا شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وہ اپنے پاؤں کی جوتیاں تک گھس دیتی ہیں۔ ہر ماں کی آرزو ہوتی ہے کہ اس کے آنگن میں چاند جیسی بہو اترے جو خوب صورت، سلیقہ شعار، سمجھ دار، فرماں بردار، تابعدار اور اطاعت گزار ہو۔ ہر بہن کا ارمان اپنے ہینڈسم بھائی کے لیے آسمان سے اتری حور کی طرح حسین لڑکی لانا ہوتا ہے، جس کے بال کالے، لمبے، گھنے ہوں، گردن صراحی دار، بولے تو منہ سے پھول جھڑتے محسوس ہوں، ہنسے تو موتی جیسے دانت اپنی چمک دکھلائیں، ایسی خوب صورت ہنسی ہو جیسے کوئی جھرنا بہہ رہا ہو، آواز اتنی دلکش ہو کہ لگے جیسے چاندی کی پلیٹ پر موتی کھنکتے ہوں، لمبی مخروطی انگلیاں، چاند جیسی ہتھیلی، گلاب کی پنکھڑی سے ہونٹ، کھڑی ستواںناک، بادامی و دل نشیں آنکھیں ایسی گہری مانو دیکھنے والا جھیل میں اترتا چلا جا رہا ہو۔ ذہین و فطین، لائق وفائق، باصلاحیت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، سوبر، ڈیسنٹ، بانکی سجیلی، تھوڑی شوخ تھوڑی شرمیلی، جس کے دیکھنے، بات کرنے، اور چلنے پھرنے کا ہر انداز نرالا ہو۔

اب ان بے چاریوں کو کون سمجھاتا کہ اتنی ساری خوبیاں بیک وقت ایک ہی لڑکی میں پانے کے لیے انھیں ایک اسپیشل سانچہ تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے مطلوبہ لڑکی برآمد کی جاسکے۔

وہ اپنے سامنے لڑکیوں کی ڈھیر ساری تصویریں پھیلائے بیٹھی تھیں۔ ایک ایک تصویر اٹھاتیں پھر اس پر بے دردی سے تبصرہ فرماتیں۔ کسی کا ماتھا چوڑا، کسی کی ناک موٹی، کسی کا نچلا ہونٹ لٹکا ہوا تو کسی کا اوپری ہونٹ اٹھا ہوا۔ کسی کی گردن چھوٹی تو کسی کی آنکھیں باریک۔

پھر اس تصویر کو ریجیکٹ کر کے اگلی تصویر اٹھالی جاتی اور اس کا حال بھی پچھلی تصویر کی طرح ہوتا۔ اگر کوئی لڑکی دو بہنوں کو پسند آجاتی تو تیسری اس میں سے کوئی خامی ڈھونڈ نکالتی اور پھر وہ تصویر بھی رد کی ہوئی تصویروں کے ڈھیر پہ پھینک دی جاتی۔

ہفتے بھر کی مشقت، جوڑ توڑ اور مغز ماری کے بعد بالآخر دو تصویروں پرپسندیدگی کی مہر لگی۔

’’امی ان دونوں لڑکیوں کے گھر پیغام بھجوادیں کہ اس اتوار کو ہم انھیں دیکھنے آرہے ہیں۔‘‘

بڑی بیٹی کی بات پر امی کچھ عجیب سے انداز میں مسکرائیں۔

’’سندیسہ بھجوانے کی کیا ضرورت ہے۔ بڑی بوڑھیاں کہہ گئی ہیں کہ اگر کسی لڑکی کا سلیقہ جانچنا ہو تو اس کے گھر بغیر اطلاع کے جا پہنچو۔ اگر گھر صاف ستھرا ہے تو لڑکی سگھڑ ہے اور وضع دار لوگ ہیں و گرنہ لڑکی بے سلیقہ اور پھوہڑ ہے۔ ہم بھی یہی طریقہ اپنائیں گے۔‘‘

امی بہت پر اسرار انداز میں مسکرا رہی تھیں۔

٭٭

بخار میں مریم کا آنگن دھونا رنگ دکھا گیا تھا۔ وہ پچھلے تین دنوںسے بخار میں پھنک رہی تھی۔ دوائیں کھانے کے باوجود بخار کم نہیں ہو رہا تھا اور ان تین دنوں میں اس کے ساتھ ساتھ گھر کی حالت بھی ابتر ہوگئی تھی۔ تین دنوں سے گھر کی صفائی نہیں ہوئی تھی کیوں کہ وہ بیمار تھی اور امی شوگر کی مریضہ تھیں۔ ان کے لیے کھانا بنانا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ اس کی بیماری کی وجہ سے کچن کی ساری ذمہ داری ان پر آن پڑی تھی۔ انھیں اب گھر کے کاموں کی عادت بالکل نہیں رہی تھی۔ وہ بہ مشکل کھانا بنا پاتیں اور چند برتن دھولیتں بس، اس سے زیادہ کام اب ان کے بس کی بات نہیں رہی تھی۔

مریم سے بستر سے بالکل نہیں اٹھا جا رہا تھا گھر کی حالت دیکھ کر وہ متوحش ہو رہی تھی۔ باجی کے دونوں بچوں نے گھر کی کوئی چیز ٹھکانے پر نہیں رہنے دی تھی۔ مریم ان کے پیچھے پیچھے چیزوں کی درستگی کرتی رہتی تھی، لیکن اس وقت وہ خود کو بہت بے بس اور مجبور پا رہی تھی۔ گھر کا پھیلاوا اور بے ترتیبی اس کی نفاست پسند طبیعت پر سخت گراں گزر رہی تھی مگر چاہ کر بھی وہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔

امی اس کی درخواست پر دونوں بچوں کو ان کے گھر پہنچا آئی تھیں اسے امید تھی کہ ایک آدھ دن میں وہ ٹھیک ہوکر گھر کی دگرگوں حالت درست کردے گی لیکن آج چوتھے دن بھی بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

موسم کے مزاج کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا۔ دوپہر تک تو اچھی خاصی دھوپ کھلی ہوئی تھی لیکن شام کو آندھی چلی ، ان کا گھر بہت روشن، کھلا اور ہوا دار تھا سو آندھی سے کچھ زیادہ ہی مستفیض ہوا۔ سارا گھر گرد سے اٹ گیا تھا امی تھک کر نڈھال ہوچکی تھیں صفائی کا کام صبح پر چھوڑ کر آخر کار سوگئیں۔

اگلے دن صبح دس بجے مریم نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن نقاہت اتنی تھی گویا جسم میں جان ہی نہ رہی تھی۔ امی نے اسے بصد اصرار تھوڑا ناشتہ کرایا۔ بیٹی کی حالت دیکھ کر وہ دل مسوس کر رہ گئیں۔ اس کا خوب صورت چمکتا چہرہ کیسا مرجھا گیا تھا۔

سارا گھر کل کی آندھی سے دھول مٹی ہوگیا تھا یہاں تک کہ بستر بھی دھول سے اٹ گیا تھا اور آنگن لگتا ہی نہ تھا کہ صرف تین دن پہلے اسے سرف سے رگڑ رگڑ کر دھویا گیا ہے۔

وہ کوشش کر کے اٹھی اور ہاتھ منہ دھوکر صحن میں آبیٹھی۔ ایک صحت مند انسان جب چند روز تک بستر پر پڑا رہے تو بے زار ہو جاتا ہے وہ بھی کچھ ایسی ہی اداس اور بے زار سی کیفیت میں بیٹھی تھی تبھی بیل ہوئی اور تین خواتین دندناتی ہوئی اندر چلی آئیں۔

٭٭

اپنی سست اور کاہل الوجود بیٹی سے وہ سخت عاجز آئی ہوئی تھیں۔ کل کی آندھی نے ان کا کام مزید بڑھا دیا تھا کل انھوں نے مشین لگا کر گھر بھر کے کپڑے، پردے، اور چادریں دھوکر سکھانے کے لیے رسی پر پھیلائے ہوئے تھے کہ دھول بھری آندھی سے ان کی ساری محنت پر پانی پھر گیا۔ اب انھیں وہ سارے کپڑے پھر سے دھونے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ پورے گھر کی تفصیلی صفائی بھی کرنی تھی لیکن ’’شہزادی صاحبہ‘‘ ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھیں۔

تنگ آکر انھوں نے اپنی نسبتاً غریب بھانجی سمیہ کو مدد کے لیے بلوا لیا جو فضا سے دو سال بڑی تھی۔ اسے عادت تھی کیوں کہ خالہ اسے اکثر کام کے لیے بلوایا کرتی تھیں۔ اپنی خلیری بہن کا حال بھی اسے معلوم تھا کہ گھر کے کاموں سے اسے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ دونوں خالہ بھانجی نے مل کر سارے گھر کو صاف کیا دھلے کپڑے پھر سے دھوئے۔ سمیہ کھانا بنانے کی بھی ماہر تھی۔ سارا کام نپٹانے کے بعد اس نے بہت ہی مزے دار کھانا تیا رکیا۔ مہمان کو کام میں لگے دیکھ کر ’’شہزادی صاحبہ‘‘ کو شرم نے آلیا اس لیے وہ بھی خجل ہوکر مدد کر رہی تھیں لیکن اب جسے کام کی عادت نہ ہو وہ تو تھک ہی جائے گا ناں! فضا کی ہمت بھی جلد جواب دے گئی تھی اس لیے کچن کا کام ادھورا چھوڑ کر وہ نہانے چلی گئی۔ سارا گھر چمچما رہا تھا۔ گھر کا کونہ کونہ بول اٹھا۔ ایسا لگ رہا تھا گویا کوئی تہوار ہے۔ گھر کی چمکتی دمکتی حالت کے پیش نظر فضا نے بھی اپنا سب سے پسندیدہ جوڑ ا نکال کر زیب تن کیا۔ اب سمیہ آہی گئی تھی تو اس کا ارادہ سمیہ کے ساتھ شاپنگ کرنے کا تھا۔ لگے ہاتھوں یہ کام بھی ہوجائے کیوں کہ سمیہ کی چوائس بہت اچھی تھی۔

آج بہت دنوں بعد وہ دل سے تیار ہوئی تھی۔ فیروزی کلر کا شیشوں اور دھاگے کی کڑھائی والا سوٹ پہنے، شیفون کا ڈو پٹہ سینے پر پھیلائے، کانوں میں بندے ڈالے وہ سچ مچ بہت حسین لگ رہی تھی۔ آج شاید وہ پورا ہفتہ بھر بعد نہائی تھی اس لیے اسے اپنا آپ بہت ہلکا پھلکا لگ رہا تھا۔ خود کو آئینے میں دیکھ کر وہ خوش گوار موڈ میں گنگنانے بھی لگی تھی۔ امی نے اسے دیکھا تو دل ہی دل میں ماشاء اللہ کہہ کر سراہا۔

سمیہ کے گھر سے فون آگیا کہ اس کی حیدر آباد والی سہیلی آئی بیٹھی اس کا انتظار کر رہی ہے۔ سمیہ نے فوراً واپسی کی راہ لی، چناں چہ فضا کو شاپنگ کا پروگرام کینسل کرنا پڑا۔ سمیہ ’’پھر کبھی‘‘ کا وعدہ کر کے رخصت ہوگئی۔ وہ سمیہ کو دروازے تک چھوڑ کر پلٹنے لگی تھی کہ تین اجنبی خواتین کو اپنے گیٹ کی طرف آتے دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔

٭٭

’’دیکھا میرا آئیڈیا کام کر گیا نا!‘‘ لڑکے کی والدہ نے تفاخر سے کہا۔

’’بالکل سچ کہا امی‘‘ بے شک تجربہ ہی سب سے بڑا استاد ہوتا ہے۔‘‘ تینوں ماں بیٹیاں بہت خوش تھیں۔ ’’ہیں بالکل اپنی پسند کی لڑکی مل رہی ہے اسے دیکھ کر تو لگتا ہے گویا وہ ہمارے تصور سے نکل کر مجسم ہمارے سامنے آکھڑی ہوئی ہے اور نام بھی کتنا پیارا ہے اور مانوی سا ’’فضا۔‘‘

چھوٹی بیٹی تو کچھ زیادہ ہی خوش نظر آرہی تھی۔

’’اور کہا، خدیجہ مریم کے گھر بھی ہم اچانک گئے تھے دونوں ماں بیٹی کیسے بوکھلا گئے تھے ہمیں تو بوا نے بتایا تھا کہ لڑکی بہت سگھڑ اور صفائی پسند ہے ہماری طرح۔ دیکھا کس قدر بدتر حال تھا ان کے گھر کا۔ آندھی کے اثرات ابھی تک باقی تھے جب کہ ہم نے تو رات کو ہی اپنے گھر کی صفائی کرلی تھی۔‘‘

’’بوا تو یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ لڑکی بہت خوب صورت ہے اور تصویر میں بھی اچھی خاصی حسین لگ رہی تھی وہ سب کیمرے اور ایڈیٹنگ کا کمال ہوگا۔ بد صورت کو بھی خوب صورت ہیروئن جیسی دکھاتے ہیں۔ کتنا پیلا زرد رنگ تھا لڑکی کا اور اتنی مرجھائی اور پژمردہ گویا سالوں سے بیمار ہو۔ کوئی رونق اور تازگی نہیں تھی اس کے چہرے پر۔‘‘

’’ارے یہ جاب کرنے والی بڑی عمر کی لڑکیاں گھر سے باہر رہ رہ کر ایسی ہی بے رونق شکلوں والی ہوجاتی ہیں۔‘‘

’’ظاہر ہے، ایم ایس سی کے بعد جاب کر رہی تھی تو اس کی کیا عمر ہوگی جب کہ اپنی یہ فضا تو ابھی صرف سیکنڈ ایئر کی اسٹوڈنٹ ہے کتنی معصوم اور کم عمر ہے چہرے کا بھولپن تو مانو دل لوٹ لیتا ہے۔‘‘

’’ہوں، صفائی پسند اور سلیقہ شعار ہے، سارا گھر کیسے چمچما رہا تھا وہ خود بھی صاف ستھری کتنی پیاری لگ رہی تھی۔‘‘

بڑی بیٹی تو اس پر دل و جان سے فدا ہوگئی تھی۔

’’اچھی اور گھر کو لے کر چلنے والی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، گھر بھی صاف رکھتی ہیں خود بھی صاف رہتی ہیں۔ کسی کے بھی گھر اچانک جانے سے ہی معلوم پڑتا ہے گھر کے مکین کیسے ہیں؟‘‘

لڑکے کی والدہ کے چہرے پر بڑی فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ بے چاری خواتین!!

دھوکہ کھا گئیں۔ بے خبر تھیں کہ انھوں نے ہیرا چھوڑ کر کوئلے کا انتخاب کر لیا تھا، اب انھیں کون بتاتا کہ دونوں گھروں میں کیسا ’’اتفاق‘‘ ہوا تھا۔

دوسروں کی بیٹیوں کو بلا وجہ اور بے دردی سے رد کرنے والیوں کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ وہ فضا کی صورت میں کس بحر الکاہل اور دردِ سری کو گھر لا رہے ہیں اور کس سلیقہ مند، سگھڑ اور تعلیم یافتہ لڑکی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

کسی کے گھر بغیر اطلاع کے جا پہنچنا کیا کسی لڑکی کو پرکھنے کا صحیح طریقہ ہے؟ آپ تو ایسا نہیں کرتیں ناں!!lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین

Leave a Reply