تربیت اولاد کے چند پہلو

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دانشوروں کی ایک مجلس میں سوال کیا کہ ایک بچہ جو دنیا میں آتا ہے، اس کا سب سے پہلا حق کیا ہے؟ لوگوں نے مختلف جواب دیے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کو ایک باشعور ماں ملنی چاہیے۔‘‘ ہر سماج اپنے طور پر اس ’’شعور‘‘ کی تعریف متعین کرے گا، مگر ایک مسلمان معاشرے کی باشعور ماں وہ ہے جو احکاماتِ الٰہی سے واقف ہو اور نہ صرف واقفیت رکھتی ہو بلکہ خود بھی ان پر کار بند ہو اور اپنی اولاد کی گھٹی میں بھی اطاعت رب کا شوق ڈالنے والی ہو۔

اسلامی تعلیمات کی رو سے تربیت ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری ہے بلکہ باپ اپنی اولاد کو جو بھی دنیاوی آرام اور آسائش مہیا کرتا ہے تربیت کو اس سب پر مقدم رکھا گیا۔ رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ’’والدین اپنی اولاد کو جو کچھ دیتے ہیں ان میں سب سے بہتر عطیہ بہترین تربیت ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ)اصل دینے کی چیز اسٹیٹس، اعلیٰ ڈگری اور معیارِ زندگی نہیں بلکہ تربیت ہے، باقی سب کچھ اس کے ذیل میں آتا ہے، اور اگر اسی بنیادی امر، تربیت، سے غفلت برتی جائے تو وہی خاندازنی فساد فی الارض کا سبب ہوجاتا ہے۔ اگر اس وقت کے والدین بالخصوص مائیں سورہ لقمان کی آیات ۱۳ تا ۱۹ کو اپنی اولادکی زندگی کا نصاب بنالیں تو یقینا ہم فتنوں کے اس دور میں اپنی اولاد کی حفاظت اور ان کی اخلاقی بقا کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے:

(ترجمہ) ’’یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا کہ ’’بیٹا خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا اور میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے، پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے، اس وقت میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو۔‘‘

’’بیٹا کوئی چیز رائی کے دانے برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمان یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو اللہ اسے نکال لائے گا، وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ بیٹا نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر، یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا، اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔‘‘

آپ نے دیکھا، مختصر ترین جملوں میں کتنی مکمل شخصیت سازی کی گئی۔ کتنا پیار اور محبت ہر لفظ سے چھلک رہا ہے۔ ایک باپ یٰبـُنَیَّ کہہ کربیٹے کو مخاطب کرتا ہے، شائستہ لہجے میں ایک خوب صورت انسانی پیکر کی تصویر لفظوں میں ڈھال دیتا ہے اور باپ کی زندگی کا ہر لمحہ بیٹے کے سامنے ہے۔ یقینا وہ خود بھی عملی پیکر ہوگا ان نصیحتوں کا۔ دیکھئے کیا کہا ہے ایک باپ نے۔

شرک ظلم عظیم ہے

ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہ دودھ کے ہر قطرے کے ساتھ توحید کا نقش بچے کے دل میں اٹھا سکتی ہے، جس دل پر اللہ کی وحدانیت، عظمت و ہیبت کندہ ہو وہ کبھی اپنے اوپر اتنا ظلم نہیں کرسکتا کہ چھوٹی چھوٹی پریشانیوں سے مایوس ہوجائے اور اپنی زندگی کے لیے خطرناک فیصلے کر بیٹھے۔

والدین کے حقوق

اللہ نے اپنے حق کے بعد انسان پر اس کے والدین کا حق مقرر کیا ہے۔ قرآن و حدیث میں جابجا اس کی تاکید ملتی ہے۔ باپ کو ناراض کرنے پر وعید ہے اور ماں کے قدموں کے نیچے تو جنت قرار دی گئی ہے۔ ایک لمحہ کو تصور کیجیے کہ اولاد اپنے حق میں کوئی غلط فیصلہ کرتی ہے اور اس کے سامنے اپنے والدین کا چہرہ آجاتا ہے کہ میرے اس عمل سے میرے ماں باپ کا کیا ہوگا۔ کیا انھوں نے مجھے اس لیے پال پوس کر جوان کیا تھا کہ میں بے راہ روی کا شکار ہو جاؤں…؟ جس کے دل میں ماں باپ کی عظمت کا نقش کندہ ہوگا وہ کبھی ماں باپ کو اذیت دینے والا کوئی کام کرنے کا نہیں سوچ سکتا۔ آج والدین اپنی اولادوں کی جائز و ناجائز خواہشوں کے اسیر ہوگئے ہیں، مگر ان کو یہ نہیں بتاتے کہ ہم تمہاری جنت اور دوزخ ہیں۔ اور ایسا انھیں عملاً کر کے دکھانا چاہیے۔ جس بچے نے اپنے باپ کا سر اطاعت اپنے دادا کے سامنے جھکا ہوا دیکھا ہوگا اور جس بچی نے اپنی ماں کو اپنی نانی اور دادی کا خدمت گزار اور وفا شعار پایا ہوگا ایسا ہو نہیں سکتا کہ وہ اولادیں اپنے والدین سے باغی اور سرکش ہوجائیں۔

اللہ کی ہستی کا صحیح تعارف

یہ احساس کہ اللہ باریک بین اور باخبر ہے، انسان کو کس درجہ پاکیزگی سے ہم کنار کرتا ہے۔ حضرت لقمان فرماتے ہیں کہ: ’’کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو اور چٹانوں یا آسمان یا زمین میں کہیں بھی چھپی ہوئی ہو اللہ اسے نکال لائے گا۔ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔‘‘

اللہ سے کوئی ارادہ، کوئی خواہش، کوئی کام یابی یا ناکامی چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اگر اللہ کی عظمت اور اس صفت کا عکس خود والدین میں نظر آئے گا کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بچنے والے ہوں تو ناممکن ہے کہ یہ بچوں میں منعکس نہ ہو۔

نماز کی اہمیت

’’اے پیارے بیٹے نماز قائم کر‘‘ یہ نصیحت اسی وقت کارگر ہوگی جب والدین خود نماز کے پابند ہوں گے۔ آج اگر بچے نماز کی پابندی نہیں کرتے یا کلاس میں نمبر کم لاتے ہیں، دونوں صورتوں میں والدین کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟ بچہ کسی مضمون میں کم نمبر لائے تو ماں کی فکر مندی کیا ہوتی ہے، اور بچہ نماز میں دلچسپی نہ لے تو ماں کا طرزِ عمل کیا ہوتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ آج مسجدوں کی ویرانی معاشرے کے فساد کی دلیل ہے۔ جس نے نماز کھودی اس نے دین کھو دیا۔ نمازوں سے غفلت اس وقت معاشرتی فساد کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ایک نمازی شخص کا دل ہر حال میں اللہ کی یاد سے جڑا رہتا ہے۔

نیکی کا حکم اور بدی سے روکنا

یہ راز ہے انسان کی ہدایت کا، جب وہ دوسروں کو برائی سے روکتا ہے تو لامحالہ اس کے اندر کا انسان بیدار ہو جاتا ہے کہ تمہیں بھی اس برائی سے رکنا ہے۔ قوم بنی اسرائیل کی تباہی کی بڑی وجہ یہی بتائی گئی تھی کہ ان لوگوں نے ایک دوسرے کو بری باتوں سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔ جب گھر کے باہر کی صفائی نہ کی جائے گی تو کچرا لامحالہ گھر کے اندر آئے گا۔ محلے کے بچوں کو نصیحت کی جائے گی تو اپنے بچے بھی سدھریں گے۔ برائی کو دیکھ کر بے نیازی درحقیقت برائی کو پنپنے کا موقع دینا ہے۔ مسلمانوں پر لازم کیا گیا ہے معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا۔ ماں جو سارا دن بچے کے ساتھ ساتھ رہتی ہے، کم عمری سے بچے کے ذہن پر نقش کرے کہ وہ برائی کو برداشت نہ کرے اور اچھی باتوں کو پھیلائے۔ اس سے خود بچے کی شخصیت سازی بہت عمدہ خطوط پر ہوگی۔

جو مصیبت پر صبر

ایک ہی مثال سے سمجھ لیں۔ کمرۂ امتحان میں طالب علم کو تاخیر ہوجانے کے باعث داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اگر بچے کو صبر کی عادت ڈالی گئی ہوتی تو وہ صبر سے سوچتا کہ اب کیا ہوگا۔ دوست سے مشورہ کرتا، کسی استاد کے پاس جاتا، کوئی حل نکل ہی آتا۔ بالفرض پرچہ نہ بھی دے سکا تو زندگی میں بار بار مواقع مل جاتے ہیں تلافی کے۔ مگر زندگی کی بازی ہار کر سارے مواقع گنوا دیے۔ (ایک طالب علم نے محض اس وجہ سے خود کشی کرلی کہ اسے تاخیر کے سبب امتحان کا پرچہ دینے سے روک دیا گیا تھا)۔

حسن خلق

’’اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، زمین میں اکڑ کر نہ چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتاـ۔‘‘ کتنی عمدہ نصیحت ہے اپنی اولاد کے لیے کہ کبر اللہ کو کتنا ناپسند ہے۔ اگر کسی انسان میں کچھ صلاحیتیں دوسروں سے زیادہ ہیں تو وہ اس لیے نہیں کہ وہ دوسروں کو حقیر سمجھے۔ جو مال و دولت میں کم ہوں والدین ان رشتے داروں کو گھاس ہی نہ ڈالتے ہوں تو بچے کیسے اس نصیحت کو سمجھ سکتے ہیں! قرآن نے تو میٹھے بول کو اس صدقے سے بہتر کہا ہے جس کے پیچھے دکھ ہو۔ یہ بچے کی شخصیت سازی کے ضمن میں اعلیٰ ترین نصیحت ہے۔ زمین پر تکبر کے چال چلنا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ عاجزی و انکساری انسانی شخصیت کا جوہر ہے کہ صراحی ہمیشہ سرنگوں ہوکر پیمانہ بھرا کرتی ہے۔

چال میں اعتدال

یہاں مراد زندگی کا رویہ ہے۔ صرف چال میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر موڑ اور آزمائش میں افراط و تفریط سے بچنا لازم ہے۔ یہ بہت جامع اور ہمہ پہلو بات ہے۔ آج ہمیں اپنے معاشرے میں دو انتہائیں نظر آتی ہیں۔ اپنے بچوں کو اعتدال پسند زندگی کا عملی درس دینا وقت کی بڑی ضرورت ہے۔

شائستگی

’’اپنی آواز ذرا پست رکھو، سب آوازوں سے زیادہ بری گدھے کی آواز ہے۔‘‘ طرزِ گفتگو کسی شخص کی شخصیت کا مکمل تعارف ہوتا ہے۔ زور زور سے چلانے سے منع کیا گیا ہے۔ تکبر کا کوئی بھی اظہار اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ جو ماں یا باپ خود بات بات پر تلخ کلامی پر اتر آتے ہوں ان کی اس نصیحت میں کیا اثر ہوگا کہ وہ بچے سے کہیں کہ آواز دھیمی ہی اچھی ہے۔ جن گھرانوں میں شائستہ لب و لہجے میں بات کی جاتی ہے وہاں کی عمومی اقدار بھی بہت شائستہ ہوتی ہیں۔

یہ نصیحتیں آپ کے سامنے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ناممکن العمل نہیں ہے۔ اگر صرف اسی نصاب کو والدین اپنالیں، اساتذہ اپنالیں، قول و فعل دونوں سے ابلاغ کریں تو معاشرہ بدل جائے گا۔ اگر ہم بچوں کو آئیڈیل دیکھنا چاہتے ہیں تو ان ہدایات کی روشنی میں ہمیں خود آئیڈیل بننا ہوگا تاکہ بچے فخر سے کہہ سکیں کہ ہم اپنے والدین کے جیسے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
افشاں نوید

Leave a Reply