حضرت زینب کا عظیم کردار

انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب کوئی معاشرتی برائی پورے انسانی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہو، اور اس کی جڑیں زمانے کے گزرنے کے ساتھ انتہائی گہری ہوچکی ہوں، تو لوگوں کے دلی جذبات بھی اس سے شدید طور سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ ان برائیوں کے شدید نقصانات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی عقیدت ومحبت سے ان برائیوں کو اپنی عزیز تر روایات قرار دے کر سینے سے لگائے رہتے ہیں، ان کو ان برائیوں سے اتنا شدید قسم کا جذباتی لگاؤ ہوتا ہے کہ اکثر وعظ ونصیحت کا بھی ان پر اثر نہیں ہوتا۔ وہ ان غلط روایتوں کے غیر معقول اور ضرر رساں ہونے کے قائل ہوجاتے ہیں پھر بھی ان بتوں کو توڑنے کی جرأت نہیں کرپاتے، کیونکہ اس کے لئے معاشرے کی ریت کے خلاف قدم اٹھانا پڑتا ہے، اور اس کی ہمت اچھے اچھے بہادر نہیں کرپاتے ہیں۔ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ یہ سوچ کر بڑے بڑے سورماؤں کے حوصلے جواب دے جاتے ہیں۔مگر ایسے میں اگر کوئی جواں مرد آگے بڑھ کر کسی بت کو توڑ ڈالے تو پھر بت شکنی کا سلسلہ شروع ہونے کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایک مصلح کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ یا تو وہ خود روایت شکنی کے لئے آگے آئے، یا پھر اس کے لئے کچھ جیالوں کو تیار کرے۔
اللہ کے رسولﷺ کا امتیاز یہ بھی ہے کہ مختلف برائیوں کو ختم کرنے کے لئے خود سب سے پہلے آگے بڑھے، اور جہاں ضرورت پڑی اپنے خاندان کو بھی آگے بڑھایا، ، خطبہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر اللہ کے رسول نے اس کی شاندار مثال پیش کی۔ آپ نے جاہلیت کی ہر چیز کو ختم کرنے کا اعلان فرمایا، اور سب سے پہلے اپنے خاندان کے ایک خون اور اپنے ہی خاندان کے سود سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت کے معاشرے کی بہت ساری پرانی اور جڑ پکڑچکی برائیوں اور غلط روایات کے خلاف آپ نے اعلان جنگ کردیا تھا۔ عملی اقدامات بے حد پرخطر اور بڑے جان گسل ہوتے ہیں۔ آپ نے اس کے لئے سب سے پہلے اپنی ذات کو پیش کیا، اور جہاں ضرورت پڑی اپنے اہل خانہ کو آگے بڑھایا۔

اللہ کے رسول حضرت زید اور حضرت زینب کی مشترکہ داستان عزیمت کو بھی اس حوالے سے یاد کرنا ہم پر فرض ہے۔ تینوں نے مل کر معاشرے میں موجود غلط روایتوں کے دو بڑے بتوں کو پاش پاش کردیا۔

اس وقت کے معاشرے میں ایک بہت بڑا مسئلہ اونچ نیچ کا تھا، غلامی خود ایک مسئلہ تھی، لیکن اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ اگر کوئی غلام آزاد کردیا جاتا تو اسے معاشرہ قبول نہیں کرتا تھا، اور اسے ایک معزز انسان کا مقام نہیں دیا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ غلاموں کو آزاد کرنے کی مہم تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دور مکی کے ابتدائی دنوں سے ہی چھیڑ دی تھی۔ انسانوں کو آزاد دیکھنے کی خواہش آپ کی فطرت میں اس طرح رچی بسی تھی، کہ نبوت سے پہلے ہی حضرت زید کو جو آپ کے حصے میں بطور غلام آئے، آزاد کرکے اپنا بیٹا بنالیا، ام ایمن آپ کو بطور باندی وراثت میں ملی تھیں، انہیں بھی آپ نے آزاد کردیا۔

آپ کی ترغیب کی وجہ سے غلاموں کو آزاد کرنے کا سلسلہ زور وشور سے جاری تھا، تاہم آپ کے سامنے بہت بڑا چیلنج آزاد کردہ غلاموں کو معاشرے میں برابری اور عزت کا مقام دلانا تھا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ ایک معزز خاندان کی آزاد خاتون کا نکاح ایک آزاد کردہ غلام سے کیا جائے، اور دنیا اپنی آنکھوں سے ایسا ہوتے ہوئے دیکھے۔ اس زمانے میں ایک معزز خاندان کی آزاد عورت سے نکاح کی جرأت کوئی آزاد کردہ غلام بھی نہیں کرسکتا تھا، اور اتنا بڑا جگر کسی خاتون کے پاس ہونا بھی مشکل تھا کہ وہ کسی آزاد کردہ غلام کی شریک حیات بننے کو آمادہ ہوسکے۔ اللہ کے رسول نے ایک طرف تو اس کار عظیم کے لئے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید کو منتخب کیا، اور دوسری طرف اس دشوار ترین مہم کے لئے آپ کی مردم شناس نگاہ انتخاب اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب پر پڑی اور آپ نے ان کو آمادہ کیا۔ اللہ کے رسول کی ترغیب پر دونوں تیار ہوگئے، اور اس طرح دونوں نے مل کر اس بار گراں کو اٹھالیا۔ یہ کام اگر حضرت زینب کے لئے دشوار تھا، تو خود حضرت زید کے لئے آسان نہیں تھا۔ یہ اندازہ تو سب کو تھا کہ جاہلیت کے غلاموں سے یہ نہیں دیکھا جاسکے گا کہ ایک آزاد کردہ غلام کو معزز انسانوں والا مقام حاصل ہوجائے، اور اس طرح غلامی کے تصورات کا جڑ سے خاتمہ ہو۔ مخالف حالات کا مقابلہ اور معاشرے کے رد عمل کا سامنا دونوں کو مل کر کرنا تھا، اور دونوں نے کیا، معاشرے کی اس برائی کے خلاف اس زبردست جنگی اقدام کو ناکام بنانے کے لئے منافق مرد اور عورتوں نے محاذ بنالیا، اور حضرت زینب پر طعن وتشنیع کی بارش شروع کردی۔ اللہ کے رسول اور حضرت زید کے خلاف پروپیگنڈہ خوب خوب کیا گیا۔ منافق عورتوں نے خاص طور سے حضرت زینب کے حوصلوں کو پست کرنے اور ان کے مورال کو گرانے کے لاکھ جتن کئے، لیکن وہ سب لوگ ڈٹے رہے اوریہ عظیم مہم کامیاب ہوئی، خاندانی اونچ نیچ اور انسانوں کے بیچ بھید بھاؤ کا یہ بڑا بت پاش پاش ہوا، اور آزاد کردہ غلاموں سے آزاد اور معزز گھرانوں کی خواتین کے نکاح کا سلسلہ چل پڑا۔

حضرت زینب کا کردار اس مہم میں بہت عظیم تھا، خاندان قریش کی ایک معزز خاتون نے جس طرح خود کو ایک بڑی قربانی کے لئے پیش کیا، وہ انسانی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ آزادی اور مساوات کی قدر کرنے والوں کو اسے یاد رکھنا چاہئے، اس کو فراموش کرنا انسانیت کی ایک عظیم محسنہ کو فراموش کرنا ہوگا، اور سراسر انسانی قدروں کی ناقدری قرار پائے گا۔

بڑے ظلم اور نا انصافی کی بات ہوگی، اگر ہم اس عظیم خاتون کے بارے میں جو اونچ نیچ کے بت کو توڑنے کے لئے سب سے پہلے آگے بڑھیں، اور انہوں نے صبر وعزیمت کے ساتھ اس راہ میں شدید ضربیں سہیں، یہ کہیں کہ وہ خاندانی اونچ نیچ کے جاہلانہ تصورات سے آزاد نہیں ہوسکی تھیں، وہ اپنے شوہر پر اپنے بڑکپن کا اظہار کرتی تھیں، اور وہ بدزبانی اور تحقیر کا رویہ اختیار کرتی تھیں۔ وہ تو اپنے شوہر کے ساتھ اتنی اچھی تھیں کہ خود حضرت زید کا بیان ہے، ما رایت فیھا الا خیرا۔ میں نے تو ان میں خیر ہی خیر پایا۔

یاد رہے کہ اس مہم کے دوران حضرت زید اور حضرت زینب کو ایک اور آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ کی طرف سے ہدایت آگئی کہ منھ بولا بیٹا دراصل بیٹا نہیں ہوتا ہے، اس حکم سے سب سے زیادہ اگر کوئی متاثر ہوسکتا تھا، تو وہ حضرت زید اور اور حضرت زینب کی ذات تھی۔ منھ بولے بیٹے تو اس معاشرے میں اور بھی رہیں ہوں گے، لیکن حضرت زید کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اللہ کے رسول کے منھ بولے بیٹے تھے، اور حضرت زینب کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ اللہ کے رسول کی بہو تھیں۔ خود اللہ کے رسول کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی، اور اس پہلو سے زید سے متبنی والا تعلق آپ کے لئے بہت اہمیت رکھتا تھا۔ تاہم اللہ کے حکم کے سامنے تینوں نے برضا ورغبت سر تسلیم خم کیا اور عزیمت کا ایک اور مرحلہ خوشی خوشی طے ہوا۔

اس کے بعد ایک اور بہت ہی سخت امتحان سامنے آیا، ہوا یہ کہ اللہ کی طرف سے متبنی کے سلسلے میں شرعی حکم کی تکمیل کا فیصلہ ہوا، اور وہ یہ کہ جب متبنی کی حیثیت بیٹے کی نہیں ہے، تو اس کی مطلقہ بیوی سے خود شادی کرنا درست ہونا چاہئے، اور اس کی حیثیت وہ نہ ہونی چاہئے جو ایک حقیقی بہو کی ہوتی ہے۔ متبنی کو نظریاتی طور پر بیٹا نہیں ماننا تو آسان تھا، لیکن اس کا یہ عملی مظہر قبول کرنا طبیعتوں کے لئے بے حد دشوار تھا، خاص طور سے جب پورے معاشرے میں لوگ متبنی کی بیوی کو بیٹے کی بیوی کی طرح حقیقی بہو سمجھتے آئے ہوں، ایسے میں بھلا کون مرد ایسی جرأت کا مظاہرہ کرکے معاشرے کی تنقیدوں کا مقابلہ کرسکتا تھا۔

اس سلسلے میں عملی اقدام زبردست قربانی اور غیر معمولی بہادری چاہتا تھا، اور اس کے لئے بھی ایک نہایت جری خاتون کو جو کسی متبنی کی چھوڑی ہوئی ہو سامنے آنا ضروری تھا، اور یہ بھی ضروری تھا کہ متبنی کی چھوڑی ہوئی بیوی سے شادی کا اقدام وہ کرے جس کا عمل لوگوں کے لئے نمونے کی حیثیت رکھتا ہو، یہ اتنا خطرناک اور دشوار اقدام تھا کہ سوچ کر ہی اوسان خطا ہونے لگتے ہیں۔ شریعت کے حکم کے مطابق متبنی کی حیثیت بیٹے کی نہیں رہی تھی، اور متبنی کی بیوی کی حیثیت بہو کی نہیں رہی تھی، تاہم مخالفوں کی طرف سے یہ طعنہ کہ اپنی بہو سے نکاح کرلیا، کیسا دل کو چھید دینے والا اور روح کو مجروح کردینے والا تیر ہوسکتا تھا، شادی کرنے والے مرد کے لئے بھی اور شادی کرنے والی عورت کے لئے بھی۔

اللہ پاک نے اس بار گراں کو اٹھانے کے لئے اپنے پیارے نبی کو اور اپنی پیاری بندی حضرت زینب کو منتخب کیا، جو اس سے پہلے کی آزمائش میں ثابت قدمی کے ساتھ کامیاب ہوچکی تھیں۔ اس نئی آزمائش میں حضرت زید بھی شامل رہے، اللہ پاک نے حضرت زید کے دل میں یہ بات ڈالی کی وہ حضرت زینب کو طلاق دیں، اور پھر اللہ کے رسول کو حکم دیا کہ وہ حضرت زینب سے شادی کرلیں، کتنا مشکل کام تھا حضرت زید کے لئے حضرت زینب کو چھوڑنا، اور کتنا مشکل کام تھا اللہ کے رسول کے لئے اور حضرت زینب کے لئے یہ شادی کرنا، صورت حال کتنی مشکل اور نازک تھی اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ پاک نے اس کام کو اپنی خاص نگرانی اور سرپرستی میں انجام دلایا، ’’زوجناکھا‘‘ (ہم نے اس سے آپ کی شادی کردی) ایک چھوٹا سا جملہ ہے، لیکن اس کے اندر اللہ کی طرف سے مکمل اور خصوصی سرپرستی کا بے مثال تذکرہ پنہاں ہے۔ سورہ احزاب میں اس معاملے سے متعلق آیات کے پورے سیاق کو دیکھیں، کس طرح اللہ پاک نے خاص اس جگہ پر نبی کے مقام کی عظمت اور سیرت کی پاکیزگی کا دیر تک چرچا کیا ہے۔اور اپنے پیارے رسول کو ’’دع اذاھم‘‘ (ان کی اذیتوں کو نظر انداز کیجئے) کی تلقین کی ہے۔ منافقوں کی نکتہ چینیوں اور مخالفوں کی زبان درازیوں کے باوجود اللہ کی تائید ونصرت سے یہ مہم بھی زبردست کامیابی سے ہم کنار ہوئی، اللہ کے رسول کے ساتھ ساتھ حضرت زینب کی ہمت واستقامت کا ایک اور روشن باب مکمل ہوا، مخالفتوں کے طوفان اٹھے، طنز وتشنیع کے سیلاب آئے، مگر اللہ کے رسول اور حضرت زینب کی ثبات قدمی کے سامنے کچھ نہیں ٹھہر سکا۔

ان آزمائشوں کے درمیان منافقوں نے ایک اور فتنہ انگیز شوشہ چھوڑا، انہوں نے ایک کہانی بنائی کہ نعوذ باللہ، اللہ کے رسول کو حضرت زینب سے عشق ہوگیا تھا، اور اسی وجہ سے آپ نے حضرت زینب اور حضرت زید کے نکاح کو ختم کرکے خود حضرت زینب سے نکاح کرلیا، اس سلسلے میں انہوں نے من گھڑت باتیں پھیلانا شروع کیں، یہ اللہ کے رسول اور خود حضرت زینب کے لئے بہت سخت آزمائش تھی، لیکن اللہ نے اس میں بھی انہیں سرخ رو رکھا، اور یہ فتنہ بھی اللہ کے رسول اور حضرت زینب کے بلند کردار اور پاک سیرت کو ذرا داغ دار نہیں کرسکا۔ اور دیکھتے دیکھتے سارا طوفان جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ حضرت زینب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں اور اس شان کے ساتھ شامل ہوئیں کہ تمام ازواج مطہرات کے لئے باعث رشک بن گئیں۔ ’’زوجناکھا‘‘ کا اعزاز رہتی دنیا تک کے لئے ان کا خصوصی امتیاز بن گیا، اب قیامت تک عز وشرف کا یہ شاندار تاج ان کے سر سے کوئی نہیں اتار سکتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کی عملی تطبیق کی خاطر اور غیر اسلامی روایتوں کے خلاف عملی محاذ آرائی کی راہ میں حضرت زینب کی قربانیوں کی کوئی نظیر اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔

افسوس صد افسوس حضرت زینب کا حقیقی کردار ہمارے سامنے صحیح طور سے نہیں آسکا، اس کے بجائے اسلام کے دشمنوں کی گھڑی ہوئی کہانیاں دوسری بہت ساری نامناسب اور نازیبا باتوں کی طرح ہماری روایتوں کے ذخیرے میں داخل ہوگئیں، اور دیکھتے دیکھتے مفسرین کے یہاں رواج پاگئیں۔ افسوس کہ جس جھوٹ کو سنے بغیر سختی سے رد کردینا چاہئے تھا، وہ ہماری اہم ترین تفسیروں میں جگہ پاگیا۔

غیر معتبر بلکہ یکسر گھڑی ہوئی روایتوں میں الجھ جانے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ حضرت زینب کا عظیم کردار نگاہوں سے اوجھل ہوگیا، حضرت زینب نے معاشرے کی غلط روایتوں کے خلاف اس معرکے کی قیادت کی جو کسی بھی طرح بدر واحد کی جنگوں سے کم درجے کا نہیں تھا، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بسا اوقات تیغ وسناں والی جنگوں سے زیادہ مشکل اور خطرناک جنگ معاشرے کی برائیوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ہوتی ہے، اس جنگ میں جو زخم لگتے ہیں، وہ نیزوں اور تلواروں کے زخموں سے کہیں گہرے ہوتے ہیں، آفریں صد آفریں اس بہادر اور جرأت مند خاتون کے لئے جس نے اس سنگلاخ اور پرخطر میدان میں فتوحات کی شان دار تاریخ رقم کی۔

درحقیقت عصر حاضرمیں ہی نہیں، بلکہ عہد رسالت سے وقت قیامت تک اسلام سے محبت کرنے والے اور ایک بہتر انسانی سماج کا خواب دیکھنے والے مردوخواتین کے لئے حضرت زینب کے کردار میں بڑا سبق پنہاں ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محی الدین غازی

Leave a Reply