انعام کی رات اور خواتین

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

عزیز قارئین، یہ نہ کوئی علمی تحریر ہے نہ تحقیقی۔ نہ افسانہ ہے نہ کہانی، بس دل سے نکلی بات ہے اس یقین کے ساتھ کہ اثررکھے گی۔ انشاء اللہ العزیز۔

ماہِ رمضان رخصت ہونے لگا ہے اور عید کی آمد آمد ہے اور ہم سے اکثر اس اختتام رمضان اور عید کے درمیان کی اہم ترین چیز کو اکثر ہی بھول جاتے ہیں یا لاپرواہی کی نظر کردیتے ہیں اور وہ ہے لیلۃ الجائزہ، جسے عام فہم زبان میں چاند رات کہا جاتا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ جو کوئی اس رات اللہ کے حضور کھڑا رہ کر عبادت کرتا ہے تو اس وقت جب سب کا دل مردہ ہوجائے گا اس کا دل نہ ہوگا (یعنی بروز قیامت جب خوف و حشر کی سختی سے دل مردہ ہوجائیں گے)۔ ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ یہ انعام کی رات ہے۔ مزدوری ملنے کی رات اور کیسی غفلت ہے ہماری کہ ہم اللہ سے اپنی مزدوری ہی نہیں لیتے، ہم تو بس عید کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں اس احساس سے غافل کہ بنا انعام لیے، بنا مزدوری لیے ہم عید کی خوشی کیسے منائیں؟

چاند نظر آتے ہی اگلے دن کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہے… عزیز قارئین… بالکل نہیں … میں سمجھ سکتی ہوں کہ یہ سب کرنا ہی ہوتا ہے لیکن پھر رمضان میں ہماری کیا تربیت ہوئی، جب ہم چیزوں کو وقت پر manage ہی نہ کر پائے تو۔ ایک چھوٹا سا عملی پلان ہے آئیے مل کر کوشش کرتے ہیں اس کے لیے۔

(۱) ۲۸ ویں روزہ کو ہی گھر کے افراد کے عید کے کپڑوں کی استری وغیرہ کر کے تیار رکھ دیں تاکہ عید سے ایک رات پہلے اس میں وقت نہ ضائع ہو۔

(۲) عام طو رپر خواتین میں چاند رات کو ہی مہندی لگانے کی عادت ہوتی ہے۔ زیادہ Excitement ہوتی ہے لیکن پیاری بہنوں ہاتھوں میں مہندی لگانے میں ہم اس قدر مصروف ہوجاتی ہیں کہ یہ بھول جاتی ہے کہ ہمارے ہاتھ تو رحمت سے خالی رہ گئے ہیں۔ اگر ان ہاتھوں سے اس رات رحمت سمیٹ لی جائے تو پھر دین و دنیا میں قوسِ قزح کے رنگ بکھر جائیں گے (انشاء اللہ)

تو یوں کریں کہ عید سے ایک یا دو دن پہلے ہی مہندی لگا لیجیے ویسے بھی آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ مہندی کا رنگ دو سے تین دن بعد ہی گہرا ہوتا ہے۔

مختصر یہ کہ بس ابھی ہی ان کاموں کی فہرست بنالیں جو عید سے پہلے نپٹا نے ہیں تاکہ اس رات عبادت کا موقع مل سکے۔

ایک گھنٹہ، اس سے کم یا اس سے زیادہ مگر اللہ کے حضور پیش ضرور ہوئیے۔ دو رکعت نماز نفل پڑھیں۔ اللہ کا بے انتہا شکر ادا کریں کہ اس نے یہ بابرکت و عظیم مہینہ ہمیں عطا کیا تاکہ ہم اپنی اصلاح کرسکیں۔ تاکہ ہم اپنے اور اللہ کے تعلق کو مضبوط کرسکیں تاکہ ہم اپنی مغفرت کروا سکیں۔ اوراس اداسی کو اللہ کے ساتھ شیئر کیجیے جو ماہِ رمضان کے رخصت ہونے سے محسوس ہو رہی ہے۔ اور پھر مغفرت طلب کیجیے، خوب گڑگڑا کر، یہ سوچ کر کہ بس یہ آخری موقع ہے نہ جانے پھر رمضان ملے یا نہ ملے۔ نہ جانے پھر یہ موقع ملے یا ملے۔

وہ مالک وہ الودود تو ویسے بھی ہمارا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ بس ایک ہاتھ بڑھایا، ایک قدم اٹھایا اور اس کی رحمت دس ہاتھ بڑھ کر آجاتی ہے۔ دس قدم بڑھا دیتی ہے۔

بتائیں کتنا وقت لگے گا کیا ایک ماہ رمضان کے بعد ہم ایک گھنٹہ نہیں نکال سکیں گے اپنا انعام لینے کے لیے… اپنی مزدوری اللہ سے لینے کے لیے اور کیا فیاض ہے وہ مزدوری دینے والا اور کیا خوب ہے اس کی مزدوری دینے کی چاہت۔ تو کیا ہم خود کو بدبخت ثابت کر دیں گے اس سنہری موقع کو گنوا کر…!

اللہ کی رحمت بے پایاں ہے… بس ہم اپنے دامن کو اتنا وسیع نہیں کرتے۔ وقت اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔ بس اب اس لیلہ الجائزہ کو نہ گنوائیے… چاہے کچھ ہو جائے کتنی ہی مصروفیت کیوں نہ ہو؟ کتنی ہی تھکان کیوں نہ ہو اس الوہاب سے دعائیں ضرور مانگیں… اللہ ہمارے لیے آسانی پیدا کرے… امین ثم آمین

تو پھر کیا سوچ رہی ہیں آپ؟

اور اب بھی سوچ ہی رہی ہیں؟

یہ جان لیجیے کہ ہے عرصہ ہستی میں عمل ہی سے سب کچھ

باتوں سے کوئی کام بنا ہے نہ بنے گا

تو چلیے عزم کے ساتھ قدم بڑھاتے ہیں… اللہ ساتھ دے گا…!!lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم

Leave a Reply