لفافہ

حجاب کے نام

اچھے مشمولات

السلام علیکم

امید کہ حجاب کی پوری ٹیم بخیر ہوگی۔

جون کا شمارہ اپنی پورے آب و تاب کے ساتھ مئی کے آخر میں ہی موصول ہوا۔ مشمولات بڑے جاندار اور پرمغز تھے۔ مسلم عورت کا حجاب، اختلافات کو بڑا کر کے دکھانا، اسلامی تعلیمات نہ گھریلو تشدد کا حل وغیرہ خوب رہے۔ خصوصاً محترمہ رفیعہ کے حوالے سے جو مضمون ترتیب دیا گیا وہ قابل تعریف ہے۔ ایسے لوگوں کو تلاش کر کے ان پر مضامین کا خود ادارہ بھی ایک سلسلہ جاری کرے تو مناسب رہے گا۔

ابوبکر ابراہیم عمری

تمل ناڈو

مضامین پسند آئے

مئی کا حجاب اسلامی ہاتھوں میں ہے۔ مضامین کا انتخاب عمدہ، معلوماتی اور ذہن و فکر کو غذا فراہم کرنے والا ہے۔ معاشرتی زندگی عدم توازن کا شکار کیوں؟ شوق اور لگن کی مثال رفیعہ‘‘ بہت پسند آئے۔ رفیعہ نے عمر اور زندگی کے جس مرحلے میں رسمی تعلیم کو جاری کر کے کامیابی کے ساتھ امتحان دیا اس سے سماج کی بہت ساری خواتین حوصلہ حاصل کرسکتی ہیں۔

گھریلو تشدد سے خواتین کو نجات دلانے میں قانون کی ناکامی کو ظاہر کرنے والا مضمون بھی حقائق کی نمائندگی کرتا ہے۔

ام اسماعیل

دوحہ

(بذریعہ ای میل)

حوصلے کی مثال

جون کا شمارہ بہت اچھا لگا مضامین اچھے ہیں۔

اسلامی تعلیمات اور گھریلو تشدد،پردہ اور مغرب کا دوہرا معیار کے علاوہ رفیعہ کی داستان اچھی لگی۔ ناخواندہ خواتین کے سامنے تعلیم کو پیش کرتے ہوئے ہماری خواتین اس مثال کو پیش کرکے انہیں شوق علم سے ہم کنار کرسکتی ہیں۔

یہ مثال ناخواندگی سے تعلیم تک آنے کی مثال ہے۔ اس سے وہ خواتین بھی حوصلہ حاصل کرسکتی ہیں جو پڑھی لکھی تو ہیں مگر اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کرسکیں۔

اب تو اعلیٰ تعلیم کا حصول بھی آسان ہوگیا ہے۔ مراسلاتی، پرائیویٹ اور جزوقتی کورسز کر کے ڈگریاں اور علم و ہنر حاصل کیا جاسکتا ہے۔

منیرہ فیض الرحمن

(بذریعہ ای میل)

اچھا ٹائٹل

جون کا حجاب اسلامی پسند آیا۔ مضامین اچھے لگے۔ اس ماہ کا ٹائٹل دلکش اور خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ الگ انداز کا ہے۔ یہ تبدیلی دیکھ کر اچھا لگا۔

ذیشان اختر

کانپور (بذریعہ ای میل)

خواتین کا عبادت گاہ میں داخلہ

جون کے شمارہ میں صفحہ نمبر 19 پر یہ مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون کے آغاز میں ادارہ کی جانب سے مسلم کی حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے اور پھر آخر میں ایڈیٹر کا نوٹ بھی لگایا گیا ہے۔ پورا مضمون پڑھنے سے یہ بات تو یقینا سامنے آئی ہوگی کہ حاجی علی کی درگاہ کا جو ایشو چل رہا تھا اسی کے تناظر میں خواتین کی مخلوط مجلسوں کی خرابیوں پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔ اب ایک غیر مسلم بہن کو سمجھاتے ہوئے یہ کہنا کہ مساجد میں اگر ایسا نظم ہے کہ جہاں عورتوں کے لیے الگ راستے اور ان کے بیٹھنے کا معقول نظم ہو تو وہاں مسجد میں وہ جاسکتی ہیں۔ میں نے اپنی سمجھ سے بات کہہ دی۔ حدیث کے الفاظ نہ اس وقت میرے پیش نظر تھے اور نہ ہی میں اس بہن کو ایسی کسی الجھن میں ڈالنا چاہتا تھا۔ مجھے تو اس کو درگاہوں، آشرموں اور اسی قسم کی مخلوط مجلسوں کی خرابیوں سے آگاہ کرنا تھا۔ اب آپ نے جس حدیث مبارکہ کا حوالہ دیا ہے اس سے تو کوئی اختلاف نہیں البتہ موجودہ حالات کے تناظر میں کیا یہ ممکن ہے کہ آج مسجد کے ایک ہی گیٹ سے مرد و خواتین دونوں کی آمد و رفت ہو اور ایک ہی ہال میں پہلے مردوں کی اور پھر خواتین کی صفیں ہوں۔ جب کہ آج نماز کھڑی ہوجانے کے بعد بھی لوگ آتے رہتے ہیں اس صورت میں پھر خواتین کے پیچھے بھی مردوں کو صف بنانی پڑے گی او رپھر مساجد میں اس قدر بھیڑ رہتی ہے کہ ایک ہی ہال میں دونوں کے لیے سہولت ممکن نہیں۔ ان دشواریوں کے پیش نظر ایک غیر مسلم بہن کو ہم نے سمجھانے کی کوشش کی کہ مسجد میں وہ نماز ادا کر تو سکتی ہیں لیکن اس طرح کی آسانیاں ہوں۔ بہرحال مدیر محترم آپ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے تو براہِ کرم واضح کریں کہ کیا ان حالات میں خواتین مساجد میں نماز ادا کریں؟

ابراہیم خان خان،آکولہ

[ابراہیم خان صاحب! حدیث لکھنے اور نوٹ چڑھانے کا مقصد آپ کی بات کی تردید ہرگز نہیں۔ آپ نے بہتر انداز سے اسلام کا نظریہ واضح کر دیا۔

حدیث لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان خود جانیں کہ خواتین مسجد میں جاسکتی ہیں اور انہیں جانا چاہیے۔ ان مسلمانوں کا کیا کیا جائے جو عورتوں کے مسجد میں جانے کو ناجائز تصور کرتے ہیں؟ ایڈیٹر]

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply