غزل

زخم کیا کیا نہ تری یاد میں پالے ہم نے

کر دیا خود کو غم دل کے حوالے ہم نے

عشق کی راہ میں دیکھا نہیں پیچھے مڑکر

قافلے آگ کے دریا سے نکالے ہم نے

جگنوو آج ہیں ہم تیرہ نصیبانِ حیات

کل اسی شہر میں بانٹے تھے اجالے ہم نے

اپنے کردار کی عظمت سے بدل ڈالے تھے

شوکت قیصر و کسریٰ کے حوالے ہم نے

ہم کو اللہ نے توفیق انا بخشی ہے

شہرتوں کے کبھی ارمان نہ پالے ہم نے

آندھیو! چھین نہ پاؤگی چراغوں کی ضیا

دل کے فانوس میں رکھے ہیں اجالے ہم نے

خاک میں مل کے لیے ارض و طن کے بوسے

ہم سے تصدیق وفا مانگنے والے ہم نے

برکت رزق چمکنے لگی پیشانی سے

اپنے بچوں کو دیے پاک نوالے ہم نے

بڑھتی جاتی تھی بہت تشنگیِ دشت جنوں

کردیے نذر غم عشق کے چھالے ہم نے

شام کی پیٹھ پہ بیتے ہوئے دن کے ماتم

شب کی پیشانی پہ لکھے ہیں اجالے ہم نے

خیر احباب تو احباب ہیں بزمی صاحب

اپنے دشمن پہ بھی پتھر نہ اچھالے ہم نے

شیئر کیجیے
Default image
سرفراز بزمی فلاحی

Leave a Reply