حال میں جیو

گزرے ہوئے کل میں گم رہنے کے بجائے حال میں جیو…! میں اپنے کاوربار کی جگہ پر ایک دسترخوان کا مستقل مہمان ہوں، چند دن پہلے کھانے میں نہاری تھی۔ اس دسترخوان پر ہمارے ایک بزرگ دوست بھی موجود ہوتے ہیں، نہاری دیکھ کر وہ کہنے لگے ’’اب نہاری میں پہلے والی بات نہیں رہی ہے۔‘‘ سب نے ان کی بات سنی ان سنی کردی، لیکن وہ صاحب مستقل مزاج آدمی ہیں، اپنی بات کی تکرار کرنے لگے، لہٰذا میں نے مجبوراً کہا: ’’صاحب نہاری ویسی ہی ہے بلکہ اب اس کا مزا پہلے سے اچھا ہوا ہے۔ مسئلہ نہاری کے مزے میں نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اندر مزا ختم ہوگیا ہے۔ آپ بلا وجہ نہاری کے مزے کو کوس رہے ہیں۔‘‘

ارے میاں آج کل کے نوجوان بھی ایسی مشقت نہیں کرسکتے جو ہم بڑھاپے میں کرسکتے ہیں، کیوں کہ ہم نے خالص کھایا ہے، اب ہر چیز میں ملاوٹ ہے۔ دودھ میں پانی ہے، دہی میں ارا روٹ ہے، سونف پر رنگ ہے، مرچ میں اینٹ ہے، ربڑی میں ڈبل روٹی ہے، ادرک لہسن کیمیکل میں دُھلے ہوئے ہیں، شہد میں شیرہ ہے، شیرے میں گلو کوز ہے، بیسن میں مٹر ہے، جوس میں برف ہے، اردو کے بولنے میں ہندی اور لکھنے میں رومن شامل ہے، رشتوں میں مفاد ہے، سیاست میں جھوٹ ہے، حکومت میں بدعنوانی ہے۔ دوستی میں دھوکا، کاروبار میں بے ایمانی ہے، مٹھائی میں زہر ہے، چوہے مار پوڈر میں مٹی ہے… غرض ہر طرف اندھیر ہے۔

تو کیا اس اندھیر نگری کی ذمہ دار آج کی نوجوان نسل ہے؟ اگر ایسا نہیں اور بالکل ایسا نہیں ہے، تو ہم کیوں اپنے بچوں میں حسرت اور مایوسی بانٹتے رہتے ہیں؟ کیوں انھیں اس پچھتاوے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں کہ نہ انھوں نے تمیز اور تہذیب کا ماحول دیکھا ہے، نہ انھوں نے سچی محبت دیکھی ہے اور نہ انھوں نے خالص کھانا کھایا ہے اور نہ ہی انھوں نے اچھا ذائقہ چکھا ہے۔

چھوٹا بچہ سوچتا ہے کہ میں کب بڑا ہوں گا جب کہ بڑی عمر کا آدمی اپنی گئی عمر کو یاد کرتا ہے۔ گزرا زمانہ اس کا حسین خواب ہوتا ہے۔ اگر ہم سو بوڑھوں سے پوچھیں کہ دنیا کے حوالے سے ان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو سارے ایک آواز ہوکر کہیں گے ’’ہمارا بچپن لوٹا دو‘‘۔ بچپن خواہ پیٹ بھر کر گزرا ہو یا فاقے سے کٹا ہو، اچھے کپڑے پہن کر گزرا ہو یا پیوند لگے کپڑوں کے ساتھ گزرا ہو، محل میں رہتے گزرا ہو یا بارش میں ٹپکتی چھت کے نیچے گزرا، بچپن خواہ انگلش بوٹ والوں کے جوتے پہن کر گزرا ہو یا دو پٹی کی ہوائی چپل پہن کر گزرا ہو، وہ ہر رنگ ہر صورت میں اچھا لگتا ہے۔ اور بچپن کی چیزیں، بچپن کے مناظر، بچپن کے گلی محلے، بچپن کے دوست سب یاد رہتے ہیں۔ جب کہ چالیس برس کی عمر کے بعد آدمی کو ایسا لگتا ہے کہ سال مہینوں جیسے، مہینے دنوں جیسے ہوگئے ہیں اور وقت ہاتھ سے ریت کی طرح نکلتا محسوس ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ہماری نظر، ہمارے مزے، ہمارے شوق اور ہمارے عزائم ماند پڑ جاتے ہیں اور ہم اپنے اندر ہونے والی اس تبدیلی کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے بجائے ساری دنیا کو تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں۔

بڑی عمر کے لوگ جب کسی بچے کو بھاگتے دوڑتے دیکھتے ہیں تو اکثر تنبیہ کرتے سنائی دیتے ہیں: ’’ذرا سنبھل کر چوٹ لگ جائے گی‘‘، سائیکل آہستہ چلایا کرو، ہاتھ پیر تڑوا بیٹھوگے۔‘‘ اسی طرح جب یہ لوگ نوجوان کو کسی کام کا آغاز کرتے دیکھتے ہیں تو بجائے حوصلہ افزائی کرنے کے، ان کی نصیحت ہوتی ہے کہ ’’ارے سب بے کار ہے، ہم نے سب کو دیکھا ہے، کوئی فائدہ نہں ہے۔‘‘ ہر شعبے میں کامیاب اور ناکام دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ نے بھی اکثر دیکھا ہوگا کہ ایک ہی بازار میں ایک سی دکانوں پر ایک سامال بیچنے والوں میں کسی کی دکان پر خریداروں کی لائن لگی ہوتی ہے اور کوئی بالکل فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ہر ایک کی الگ صلاحیت ہے اور الگ قسمت ہے۔ لہٰذا اپنی ناکامی کو کلیہ نہ بنائیں۔ بچپن میں مختصر فاصلے طویل نظر آتے ہیں، جب کہ جوانی اور بعد جوانی اللہ ان کی ذمہ داریوں کو دیکھ کر زمین کو ان کے لیے سکیڑ دیتا ہے، اس طرح طویل راستے چھوٹے ہوجاتے ہیں۔ ایک دوا کسی کے لیے زہر ہوتی ہے کسی کے لیے شفا ہوتی ہے۔ کوئی مٹی میں اٹا محنت کرتا رہتا ہے اور کسی کا مٹی چھو جانے سے بھی چہرہ سوج جاتا ہے… کسی کی انڈہ کھائے بغیر صبح نہیں ہوتی اور کسی کے لیے انڈہ کھانا موت کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا نوجوانوں کو اپنے تجربات کا پابند بنانا مناسب نہیں ہے۔ ان کو ان کی دلچسپی کے مطابق عمل کرنے دیں اور ممکن ہو تو ان کی مدد کریں۔

ہم اس طرح کیوں نہیں سوچتے کہ ہماری عمر بڑھ گئی ہے لیکن اللہ نے دنیا کے نظام کو نہیں بڑھا دیا ہے، لہٰذا سب کچھ ایسے ہی چلتے رہنا ہے، بس کرداروں کی شکلیں تبدیل ہوتی رہیں گی۔

ایک اور پہلو پر غور کیجیے! معاشرے میں تبدیلی ایک دم سے نہیں ہوتی بلکہ تبدیلی کا عمل رفتہ رفتہ آگے بڑھتا ہے، اور بڑی عمر کے لوگ خود اس تبدیلی کا حصہ ہوتے ہیں اور بسا اوقات اس تبدیلی کے سرخیل ہوتے ہیں، لیکن کچھ ہی دن بعد وہ اس نئے پن کے سحر سے نکل آتے ہیں اور نوجوانوں میں جگہ بنا لینے والی تبدیلی کی مخالفت شروع کردیتے ہیں، مثلاً میں بڑے شوق سے موٹر سائیکل لے آیا لیکن کچھ عرصے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کی وجہ سے میرا پیدل چلنا ختم ہوگیا ہے۔ اب محلے کی دکان سے دودھ لانے کے لیے بھی موٹر سائیکل لازمی ہوگئی ہے اور بلا وجہ خرچ بھی بڑھ گیا ہے، لہٰذا میں نے اس کا استعمال چھوڑ دیا۔ لیکن اب میرا مطالبہ ہوتا ہے کہ پندرہ برس کا میرا بیٹا بھی میری ہی طرح سوچے۔ ایسا ممکن نہیں ہے بلکہ مجھے موٹر سائیکل لاتے ہوئے اس کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلی کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا۔ ایسا ہی قصہ موبائل فون کا ہے۔ ہم نے پہلے پہل اس کو اسٹیٹس کی علامت سمجھا، وقت کی ضرورت قرار دیا، اور خود بھی بڑے فخر سے اس کو ہاتھ میں اٹھائے اٹھائے پھرے اور حالات کا بہانہ بنا کر اسے اپنے بچوں کو بھی تھما دیا۔ لیکن جب ہمیں اس کے نقصانات کا اندازہ ہوا تو اس کی حقیقی ضرورت سے بھی انکار کرنے لگے اور اپنے بچوں سے بھی اپنے مطابق سوچنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ ہمیں یہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے فیصلہ کرتے وقت سوچ سمجھ لینا چاہیے اور اپنی کیفیت بدلنے پر اپنی اور اپنے بچے کی عمر کے فرق کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

ہر زمانے کے بوڑھے حال کو برا کہتے سنائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ہر زمانے کے نوجوان اپنے بزرگوں کو دقیانوسی سمجھتے ہیں۔ بوڑھے کیوں یہ تسلیم نہیں کرتے کہ آج جو کچھ غلط ہو رہا ہے اس کے ہونے میں ہمارا بھی حصہ ہے! اسی طرح نوجوانوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ آج وہ جس عمر میں ہیں ہمارے بزرگ اس عمر سے گزر چکے ہیں، ہم جو کچھ کر رہے ہیں ہمارے بزرگ یہ سب کچھ ہم سے پہلے کر چکے ہیں، لہٰذا ان کا تجربہ ہم سے زیادہ ہے۔ کوئی بھی نوجوان اپنے بزرگوں سے زیادہ ذہین ہوسکتا ہے لیکن تجربے میں زیادہ نہیں ہوسکتا۔ ذہانت اور تجربہ یکسر مختلف چیز ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تنویر اللہ خان

Leave a Reply