اسلامی تعلیمات گھریلو تشدد کا حل

ہمارے معاشرے میں خواتین پر تشدد ایک حقیقت ہے۔ آئے دن اخبارات میں اس حوالے سے خبریں دیکھنے میں آتی ہیں۔ معمولی باتوں پر جھگڑا، گالم گلوچ، تضحیک، مار پیٹ، روز مرہ استعمال کی ضروریات کو پورا نہ کرنا یا ہاتھ تنگ رکھنا، غیرت کے نام پر قتل، وراثت سے محروم رکھنا وغیرہ کی ایک طویل فہرست بنائی جاسکتی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک کرب ناک پہلو ہے، اس پر جتنا بھی دکھ کا اظہا رکیا جائے کم ہے۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ خواتین پر روا رکھا جانے والا یہ تشدد اسلام کی تعلیمات کے صریحاً خلاف ہے۔ اس کا کوئی جواز نہیں۔ گھریلو تشدد کے انسداد کے لیے جو بھی قانون سازی ہوتی ہے اس کا بنیادی محرک بھی یہی جذبہ ہے کہ اس ظالمانہ اور غیر اخلاقی رویے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ البتہ یہ بات غور طالب ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے جو طریقہ کار وضع کیا گیا یا جو قانون سازی کی گئی ہے وہ کس حد تک قابل عمل اور مسئلہ کے حل میں موثر ثابت ہوئی ہے۔ اور آیا اس کے نتیجے میں گھریلو تشدد کا خاتمہ ہوا ہے اور گھریلو ازدواجی زندگی سکون فراہم ہو سکا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک مسئلے کا حل نکالتے نکالتے کوئی نیا بگاڑ یا انتشار پیدا ہوگیا ہے۔

یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ اس قانون سازی سے اگر معاشرتی فساد کا خاتمہ ہوسکتا تو جدید تہذیب کے حامل ترقی یافتہ ممالک میں خواتین پر تشدد کا خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا، جہاں خواندگی کی شرح تقریبا ۱۰۰ فی صد اور قانون کی بالادستی معاشرے کا شعار ہے۔ مغرب نے اپنے تمدن کی بنیاد مرد و عورت کی مساوات، مرد و زن کے آزادانہ اختلاط اور عورت کے قانونی تحفظ پر رکھی، مگر اس کا ایک تلخ نتیجہ یہ نکلا کہ گھر جو تمدن کی بنیاد ہے، بکھر کر رہ گیا اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔

اگرچہ فرد کو قانون کا تحفظ حاصل ہے مگر اس ایک دوسرے کے ہاتھوں پٹنا، طلاق کی کثرت، تشدد، بغیر شادی کے ساتھ رہنے کا رجحان، نسل کشی اور تحدید آبادی، بچوں اور نئی نسل کی بے راہ روی، بوڑھی ہوتی ہوئی آبادی، جسمانی قوتوں کا انحطاط اور ذہنی نفسیاتی امراض کا اضافہ جیسے مسائل کا دنیا کو سامنا ہے، اور اس کی واحد وجہ مرد و عورت کے باہمی تعلق کی بے اعتدالی ہے۔

معاشرے کی خوب صورت اور پائیدار بنیادوں پر اصلاح کے لیے ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس میں اصلاح معاشرہ اصل ہدف ہو اور یہ قانون امیر و غریب کے لیے برابر ہو۔

حضورﷺ کی زندگی ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔ انھوں نے جب اصلاحِ معاشرہ کی تحریک کا آغاز کیا تو قانون سازی کو بنیاد نہیں بنایا بلکہ اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی اطاعت نہیں کریں گے۔ یہ اعلان نہیں بلکہ ایک عہد و پیمان تھا۔ اس کے نتیجے میں جو معاشرہ قائم ہوا، اس نے ظلم کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں رحمت و شفقت کے چشمے بہا دیے۔ گھر کی بنیاد مودت و رحمت تھی، اچھا خاوند وہ شمار ہوتا جو اہل خانہ کے ساتھ بہتر رویہ رکھتا۔ نبیﷺ نے امہات المومنینؓ کے ساتھ ایسی خوب صورت زندگی گزاری کہ انسانیت آج اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: تم میں سب سے اچھا شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے زیادہ اچھا ہوں۔ (ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہؓ نے رویت کی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ’’عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں تم لوگ میری نصیحت قبول کرو۔‘‘

اسلام گھریلو تشدد پسند نہیں کرتا۔ وہ نہ صرف بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتا ہے بلکہ کسی فرد کے اچھے ہونے کی دلیل ہی اس بات کو قرار دیتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ اور بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ آپ کی ہدایت یہ ہے کہ عورتیں ’’آبگینے‘‘ ہیں اور انھیں سنبھال کر رکھا جائے کہ یہ نازک ہوتے ہیں اور ذرا سی ٹھیس میں ٹوٹ سکتے ہیں۔

دوسری طرف قرآن مجید میاں بیوی کے درمیان تنازعات کے سلسلے میں جو اکثر گھریلو تشدد کا سبب ہوتے ہیں ایک طرف ضابطہ اخلاق دیتا ہے دوسری طرف واضح قانون سازی بھی کرتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان اچھی زندگی کے لیے ضابطہ اخلاق کے لیے تین بنیادی اصول ہیں۔

(۱) اللہ اور رسول کی اطاعت

(۲) فرائض اور حقوق کا پختہ شعور

(۳) احساس جواب دہی اور عفو و در گزر

l مسلم میاں بیوی کے باہمی خوش گوار تعلق کی بنیاد اللہ اور اس کے احکام کی فرماں برداری اور اطاعت ہیں۔ ایک بیوی جو ان ہدایات پر عمل پیرا ہو وہ کبھی اپنے شوہر کا نہ حق مار سکتی ہے اور نہ اس کے ساتھ غلط سلوک کی رودار ہوسکتی ہے اور ایسا ہی معاملہ مرد کا ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہو اور ان سے محبت کرتا ہو وہ اپنی شریک حیات کے ساتھ غلط سلوک کیسے کرسکتا ہے۔ اللہ کے رسول نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ اگر کسی نے اپنے غلام کو بھی ایک کوڑا ناحق مارا ہوگا تو قیامت کے دن اسے بدلے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جب غلام کے ساتھ ظلم و ناانصافی اور تشدد اس قدر بری چیز ہے تو بیوی تو شریک حیات اور کہیں زیادہ لائق احترام اور محبت کرنے کی چیز ہے۔

l اسلام شوہر اور بیوی دونوں کے حقوق و فرائض کو واضح طو رپر بیان کر دیتا ہے اور اچھی ازدواجی زندگی اسی کو قرار دیتا ہے جہاں دونوں اپنے اپنے حقوق و فرائض کو اچھے انداز میں سمجھتے اور انجام دیتے ہیں۔

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ’’۔۔۔اور تمہاری بیویو کا تمہارے اوپر حق یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح سے کھلاؤ پلاؤ اور کپڑے پہناؤ۔‘‘

دوسری طرف آپؐ نے فرمایا: … ’’عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘

اللہ کے رسولؐ کی گھریلو زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ آپ اپنے گھر میں بہت سادگی سے رہتے۔ اپنے کپڑے خود ٹانک لیتے گھر میں بیویوں کا تعاون کرتے یہاں تک کہ آٹا گوندھ دیتے اور اذان ہوتی تو مسجد چلے جاتے۔

l اسلام گھریلو تشدد کے خاتمہ میں اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس اور باہمی عفو و درگزر کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اللہ کے رسول کی احادیث اور آپ کی تعلیمات سے یہ بات واضح ہے۔ حضرت عمر کا واقعہ مشہور ہے کہ ایک روز ان کی اہلیہ ان سے بحث کر بیٹھیں جو انھیں ناگوار گزری۔ تو ان کی اہلیہ نے فرمایا کہ میری بحث سے ناگواری مت محسوس کیجیے کیوں کہ نبیؐ کی بیویاں بھی آپ سے بحث کرتی ہیں۔

اسلام شادی کے رشتہ کو توڑ دینے کا حق مرد و عورت دونوں کو دیتا ہے مگر اس بات کا حق کسی کو نہیں دیتا کہ مرد عورت پر یا عورت مرد پر تشدد اور ظلم و زیادتی کو مسلسل جاری رکھے۔ لیکن ساتھ ہی اسلام کا نقطہ نظر ازدواجی رشتوں کا استحکام اور تحفظ کرنا بھی ہے۔ چناں چہ وہ مسائل کو حل کرنے کے ’معروف‘ طریقوں کی طرف رہ نمائی کرتا ہے اور اس میں سب سے اہم نقطہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین ہے اس کے بعد مرحلہ وار ان کاموں کا ذکر کرتا ہے جسے وہ ازدواجی مسائل کے حل کے طو رپر پیش کرتا ہے۔

(۱) وعظ و نصیحت اور سمجھانے کی تلقین کرتا ہے۔

(۲) بستروں پر الگ اور اکیلا چھوڑ دینے کی ہدایت کرتا ہے۔

(۳) جسمانی تنبیہ کی ہدایت کرتا ہے۔

اس کے بعد قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر وہ (عورتیں) تمہاری بات مان جائیں تو تمہیں ان پر زیادتی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس کے بعد اگلے مرحلے کے بارے میں قرآن کی رہ نمائی یہ ہے کہ اگر زوجین آپس میں اپنے مسائل حل نہ کرسکیں تو اہل خاندان کو اس میں مداخلت کرنی ہوگی۔ قرآن کے الفاظ ہیں:

’’اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان پھاڑ کا اندیشہ ہو تو ایک حکم لڑکے گھر سے اور ایک لڑکی گھر سے بیٹھیں۔ اگر وہ دونوں معاملات ٹھیک کرنا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اصلاح کی صورت نکال دے گا۔‘‘ (نساء:۳۵)

اسلام چاہتا ہے کہ گھریلو تنازعات گھر کی سطح پر ہی حل ہوں۔ ان کے لیے خاندان کے بزرگوں کو اپنا کردار خوش اسلوبی سے نبھانا چاہیے۔ اس کا احساس اجاگر کرنے، نیز بزرگوں کے احترام کی معاشرتی قدروں کو بھی مضبوط بنانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ گھریلو جھگڑے گھر میں ہی ختم ہو جائیں۔

معاشرے سے بے حسی کا خاتمہ ایک اہم اور توجہ طلب پہلو ہے۔ اگر کہیں بھی کسی کی حق تلفی ہو، کسی قسم کی زیادتی کی جائے تو اس پر خاموش تماشائی نہ بنایا جائے۔ گھر کے افراد، خاندانی کے بزرگ، برادری، ہمسایہ، اہل محلہ و علاقہ، معززین علاقہ، سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران، سب سماجی و اخلاقی دباؤ کے تحت زیادتی کرنے والے کا آگے بڑھ کر ہاتھ روکیں اور معاشرے سے مروجہ بے حسی کے رویے کو ختم کرتے ہوئے اسے اخلاقی ذمہ داری اور فرائض سے کوتاہی کی طرف توجہ دلا کر اصلاح کی بھرپور کوشش ہونی چاہیے۔

وہ عورتیں جو بیوہ یا مطلقہ ہوں اور بچوں والی ہوں، اگر وہ دوسری شادی کرلیں تو ان کے بچوں کو سوتیلے باپ کی طرف سے یقینی تحفظ فراہم کیا جائے۔ خواہ نکاح میں اضافی اندراج کے ذریعے یا پھر مصالحتی کمیٹی یا انجمن کے روبرو اس قسم کا کوئی حلف یا معاہدہ کر کے سوتیلے باپ یا ایسی ہی صورت میں سوتیلی ماں کو بچوں پر تشدد سے باز رکھا جائے۔

٭ بچوں کی فلاح اور بہتری کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوشش کی جائے کہ میاںبیوی اپنے اختلافات کو آخری حد تک دور کرنے کی کوشش کریں اور بچوں کا یہ حق ہے کہ ان کو ان کے اصل والدین ہی کی سرپرستی مہیا کی جائے۔ اس صورت میں اہل خانہ اور سماج اپنے اختیارات اور اثر استعمال کرتے ہوئے میاں بیوی کے اختلافات کو دور کرنے کی پوری کوشش کریں اور انھیں مجبور کریں کہ وہ بچوں کی بہبود کی خاطر سمجھوتہ کریں، گزارہ کریں اور گھر کو ٹوٹنے سے بچائیں۔

معاشرے کی اصلاح اور گھریلو تشدد کے انسداد کے لیے حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے قانونی اقدامات کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ گھریلو تشدد کا خاتمہ اس وقت ایک بہت بڑی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، وہ نتائج کے اعتبار سے بہت زیادہ فائدہ مند نہیں معلعوم ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں اخلاقی اقدار اور مزاج اس طرز کا نہیں رہا کہ جہاں انصاف کے تقاضوں پر قائم رہا جا رہا ہو۔ اس کے باوجود قانون کو آخری چارہ کار کے طور پر اختیار کیا جانا چاہیے۔ مگر قانون کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ بر وقت مظلوم کو انصاف فراہم کرے اور اس تاخیر سے بچے جو انصاف کو بے معنی کر کے دو انسانوں کی زندگیوں کو گھلا اور پگھلا کر برباد کر دیتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زینب غزالی

Leave a Reply