domestic voilence

گھریلو تشدد سے حفاظت کا قانون

کہا جاتا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگ میں 2001 سے 2012 کے درمیان 6488 امریکی فوجی مارے گئے۔ جب کہ اسی عرصہ میں امریکہ میں 11766 خواتین اپنے شوہروں یا سابق شوہروں کے ذریعہ قتل ہوئیں۔ یہ اس ملک کی تصویر ہے جہاں قانون کی بالادستی مثالی ہے اور مرد و عورت کے درمیان حقوق و آزادی کا ’’ماڈل‘‘ قائم ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں اسی ماڈل کو بہ خوشی یا جبراً نافذ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ دنیا کے ترقی پذیر اور پسماندہ ہر طرح کے ممالک کو خواتین کو آزادی، مساوات اور تحفظ فراہم کرنے کے نام پر مختلف حیلوں اور چالوں کے ذریعے اسی طرح کے قوانین نافذ کرانے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے جو ان کے یہاں نافذ ہیں۔ لیکن کیا خواتین کا تحفظ اور ان کی آزادی و مساوات صرف قانون سازی ہی کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے اور اگر ایسا ہے تو مغربی ممالک خواتین کے لیے جہنم زار کیوں ہیں؟

ہمارے ملک ہندوستان میں خواتین کے خلاف تشدد کو خاص مجرمانہ فعل کی حیثیت سے 1983ء میں انڈین پینل کوڈ میں شامل کرتے ہوئے ایک خاص دفعہ 498A کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد باضابطہ طریقے سے قانون بنایا گیا جسے ’’پروٹکشن آف وومن فروم ڈو میسٹک وائلنس ایکٹ 2005‘‘ کا نام دیا گیا۔

قانون میں ڈومیسٹک وائلنس کی تعریف کے لیے مختص Chaptr II ذیلی شق 3 میں چار پوائنٹ بیان کیے گئے ہیں۔ جو مختصراً اس طرح ہیں:

(الف) کوئی بھی ضرر، زخم یا نقصان جو عورت کی صحت، سلامتی، عافیت، زندگی یا صحت کو خطرہ لاحق کرے۔

(ب) کسی بھی طرح کا ضرر، زخم یا نقصان جو متاثرہ فرد یا اس کے کسی متعلق کو کسی بھی ناجائز مطالبے کے لیے مجبور کرے۔ (ج) متاثر خاتون یا اس کے کسی متعلق کو کسی بھی انداز کی دھمکی۔

(د) متاثر خاتون کو جسمانی یا ذہنی اذیت دینا۔

اس ضمن میں جسمانی استحصال، جنسی استحصال اور لفظی و زبانی استحصال کے علاوہ معاشی استحصال کی بھی وضاحت ہے۔ معاشی استحصال کے ضمن میں اس کے حقوق اور تحفظات کا بھی وضاحت کے ساتھ بیان ہے۔

اس قانون کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں خواتین کو مکمل سے بھی زیادہ تحفظ یا پروٹیکشن حاصل ہے۔ ایسا پروٹکشن جس میں مدعی عورت کے علاوہ کسی اور فرد کی، سماجی و معاشرتی اخلاقیات اور عدل و انصاف کے معروف و مطلوب تقاضوں تک کو کھونٹی پر ٹانگ دیا گیا ہے۔

2005 میں PWDV ایکٹ بن جانے کے بعد سے اب تک کے اعداد و شمار جو نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) نے پیش کیے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد بھی گھریلو تشدد کے واقعات میں جو کمی آنے کی امید تھی وہ پوری نہیں ہوسکی۔ اور نہ صرف یہ کہ کمی نہیں ہوسکی بلکہ ان کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ 2003 سے 2013 کے اعداد و شمار کو دیکھئے:

State 2003 2013

Raj 9.7 21.5

HR 7.3 13.2

UP 1.5 4.2

Bihar 2.2 4.5

GOA 7.0 12.8

MH 5.4 7.4

MP 4.6 6.7

AP 10.5 17.4

KS 3.1 5.4

Ker 9.0 13.7

NCRB/100,000/peper 118866

تعداد کے اعتبار سے 2003 میں ان واقعات/ مقدمات کی تعداد 50703 تھی جو 2013 میں بڑھ کر 118866 ہوگئی۔

اس قانون نے کتنی خواتین کو انصاف دلایا اور کتنی مظلوم اور گھریلو تشدد کی شکار خواتین کو اس سے نجات دلا کر بھرپائی کا انتظام کیا یہ سوال تو اپنی جگہ باقی ہے، اور یقینا اس کے ذریعہ کچھ نہ کچھ خواتین کو فائدہ ہوا ہی ہوگا، لیکن دوسری طرف یہ بھی بڑی حقیقت ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں تیزی سے بڑھتے گھریلو تشدد کے واقعات کے دوران مظلوم خواتین میں مایوسی کی کیفیت بھی پیدا کی ہے۔ اس کی وجہ اس کی مختلف قانونی پیچیدگیاں اور اس کے صحیح نفاذ میں میں عدالتی نظام کمزوری ہے جسے تاخیر اور پنڈینسی کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے کیوں کہ گھریلو تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جو فوری حل کا متقاضی ہے مگر دیگر معاملات کی طرح یہ بھی عدالت میں سالوں سال معلق رہنے لگا ہے جب کہ قانون 60 دنوں کے اندر معاملہ کو حل کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس قانون کا بہ کثرت غلط استعمال ہوا اور خواتین اور ان کے اہل خانہ نے اسے مرد کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا یہی وجہ ہے کہ عملی طور پر یہ قانون خواتین کو وہ کچھ نہ دے سکا جس کے لیے بنایا گیا تھا یا جس کی ہندوستان جسے معاشرے کو ضرورت تھی کہ خواتین پر تشدد یہاں عام ہے اور عورت کی بہ حیثیت انسان تکریم یہاں کے معاشروں میں مقصود ہے۔

اس بات کا اظہار بہت واضح طور پر تمل ناڈو ہائی کورٹ نے کیا۔ مدراس ہائی کورٹ کا مشاہدہ یہ ہے PWDV Act میں کچھ بنیادی خامیاں ہیں اور ان خامیوں کے سبب خواتین اس کا غلط استعمال کر کے بلا وجہ بے گناہ مردوں کو قانونی جھگڑوں میں پھنساتی ہیں۔ مذکورہ عدالت نے اپنے ایک فیصلہ میں واضح طور پر کہا کہ: ’’اس قانون کی قابل ذکر اور خاص خامی یہ ہے کہ یہ خود کو بڑی آسانی سے غلط استعمال کے لیے پیش کر دیتا ہے اور عورت مشکل سے ہی خود کو اس بات سے روک پاتی ہے کہ وہ جھوٹے اور بے بنیاد مقدمہ کے ذریعہ اپنے رشتہ دار کو سبق سکھائے۔

مذکورہ عدالت نے اس کے لیے ایک غیر جانب دار قانون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ:

’’آج کل DV Act کے تحت خواتین کے ذریعے مقدمات دائر کرنا ایک عام بات ہوگئی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ بلا تفریق جنس (مرد، عورت) ڈومسٹک وائلنس سے تحفظ کے لیے ایک غیر جانب دار اور عادلانہ قانون بنایا جائے جو حقیقی مظلومین کو انصاف دلا سکے۔‘‘

جب کہ عدالت کا کہنا ہے کہ اسی طرح کی صورت حال 498A کی ہے، جسے خواتین پر تشدد کو روکنے کے لیے IPC میں داخل کیا گیا تھا۔ اس قانون کا تو جس طرح غلط استعمال ہوا اور بڑی تعداد میں مردوں پر اس کے ذریعہ ظلم ہوا اسے دیکھتے ہوئے جسٹس اَری جیت پسایت اور جسٹس ایس کے۔ سیما کی بنچ نے اس کے غلط استعمال کے خلاف ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران ۱۹؍ جولائی ۲۰۰۵ کے اپنے فیصلے میں مردوں کے ناحق پھنسائے جانے کو Lagal Terrorism (قانون دہشت گردی) تک کہہ دیا۔ اسی طرح ازدواجی تنازعات کی بڑھتی تعداد اور پیچیدگیوں کو دیکھتے ہوئے ۲۲؍ فروری ۲۰۱۳ کو سپریم کورٹ نے تمام ’’فیملی کوٹس‘‘ کو یہ رہ نماخطوط جاری کیے کہ ازدواجی تنازعات کی عدالت میں سنوائی سے پہلے اس بات کی کوشش ہونی چاہیے کہ شوہر بیوی کے درمیان تنازعات اور طلاق کے معاملات باہمی رضامندی سے حل ہوں۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ نے تمام عائلی عدالتوں کو مصالحتی مراکز یا میڈیئشین سنٹرس قائم کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے مجرمانہ سرگرمیوں کی سنوائی کرنے والی عدالتوں کو بھی جو IPC کی 498A کے مقدمات کی سنوائی کر رہی ہوں، ہدایت کی کہ وہ بیوی کی شکایت پر عدالتی کارروائی شروع کرنے سے پہلے مصالحت کے عمل کو انجام دینے کے لیے Mediation Centrre لائیں۔ عدالت نے یہ ہدایت فیملی کورٹ ایکٹ کی شق ۹ کے تحت جاری کی تاکہ ازدواجی رشتوں کو بچانے کی ہر ممکنہ کوشش کرلی جائی۔ عدالت نے یہ رہ نما خطوط سری نواسن راؤ Vs، ڈی- اے دیپا کے معاملے میں سول اپیل نمبر 1794/ آف 2013 کے سنوائی کے بعد جاری کیے۔

جب کہ 489A IPC کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا تھا اور اپنی شروعات سے لے کر ان رہ نما خطوط کے جاری ہونے تک ہزاروں بے گناہ انسانوں کو جھوٹے الزامات کی زد جھیلنی پڑی۔ ۲۲؍ فروری ۲۰۱۳ کی سپریم کورٹ کی یہ ہدایات ایک طرف تو خواتین کی جھوٹی شکایتوں کے ذریعے ہو رہی حرسانی سے راحت کا سبب بنیں دوسری طرف باہمی صلح و مصالحت کے عمل کو اس میں داخل کرلینے سے ممکنہ طور پر رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے امکانات بڑھ گئے۔

مصالحت کا یہ عمل جیسے عدالت نے Mediation یا ثالثی کا نام دیا ہے۔ سماجی و معاشرتی اعتبار سے نہ صرف قابل ستائش فطری عمل ہے بلکہ یہ اسلام کی اس منشاء کے عین مطابق ہے جو میاں بیوی کے باہمی تنازعات کی صورت میں حکما من اہلہ و حکما من اہلھا ’ایک حکم لڑکے کی جانب سے اور ایک حکم لڑکی جانب سے ہو‘ کہہ کر قرآن تجویز کرتا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ رہ نما خطوط یہ ثابت کرتے ہیں کہ ازدواجی تنازعات کی صورت میں الزام اور جوابی الزامات حقیقت پر مبنی ہونے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں اور انسان انتقامی جذبات سے ابل پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قانون ہونے کے باوجود میاں بیوی کے تنازعات کو قانون کے بجائے باہمی مصالحت اور ثالثی کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کی جائے۔

اس کے پیچھے یہ احساس کہیں نہ کہیں ضرور پوشیدہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگرچہ خواتین پر ظلم و زیادتی ہوتی ہے لیکن عدالت میں آنے والے معاملات بکثرت ایسے ہوتے ہیں جن میں خواتین انتقامی جذبے کے تحت شوہروں کے خلاف جھوٹی شکایات درج کرکے سبق سکھانے کا جذبہ رکھتی ہیں۔

مدراس ہائی کورٹ کے تبصروں اور سپریم کورٹ کے رہ نما خطوط کو دیکھ کر صاف اندازہ ہوتا ہے کہ مسائل کے حل کا واحد راستہ قانون نہیں ہے اور نہ ہی محض قانون کے ذریعے مردوں کو خواتین ظلم سے باز رکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی محض قانون سازی کے ذریعے خواتین کو ظلم سے بچایا اور انصاف فراہم کیا جاسکتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعے ثالثی کے مراکز قائم کرنے اور باہمی رضا مندی سے مقدمات کو حل کرنے کی جو بات کہی گئی ہے اس میں نچلی عدالتیں کس قدر سنجیدگی سے یہ کام انجام دے رہی ہیں، اور معاملات کو واقعی حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اسے مانیٹر کرنے کے لیے بھی طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے۔ اس لیے کہ نچلی عدالتوں میں ثالثی کی یہ کارروائی محض ایک خانہ پری کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے اور عملی طور پر ثالثی کے مراکز میں وہ سنجیدگی نظر نہیں آتی جو سپریم کورٹ کا اصل منشاء تھا۔

زمین پر موجود حقائق اور عدالتوں کا احساس ہمیں یہ ضرور بتاتا ہے کہ افراد اور معاشرے کو خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلہ میں باشعور ہونا چاہیے اور اسی طرح ازدواجی رشتوں کو توڑنے کے بجائے باقی رکھنے کے طریقوں پر غور ہونا چاہیے۔ دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ گھریلو تشدد کا معاشرے سے خاتمہ کرنے کے سلسلے میں پورے سماج کو باشعور اور حساس ہونے کی ضرورت ہے۔

اگر مسلمانوں میں قرآنی ہدایات کا شعور ہو اور وہ اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو نہ صرف مسلم سماج کے یہ معاملات بہ حسن و خوبی انجام پاسکتے ہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی وہ رہنما بن سکتے ہیں۔ اس لیے کہ قرآن کا بنایا ہوا طریقہ ہی مسائل کا حقیقی حل ہے اور عدالت بھی فطری طور پر تیزی کے ساتھ انہی ہدایات کی طرف آرہی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply