مسلم خواتین

مسلم عورت کا حجاب

آج اسلام میں عورت کے مقام و مرتبہ پر،جو سب سے تیکھی تنقید کی جاتی ہے، اس میں اسلام میں عورت کے لیے مقرر شدہ ڈھیلے ڈھالے لباس کو سب سے زیادہ نشانہ ملامت بنایا جاتا ہے۔ دورِ حاضر میں عورت کی آزادی کو اس کے تنگ اور مختصر لباس کے پیمانے سے ناپنے کی روایت چل پڑی ہے۔ لباس، جتنامختصر ہو اور عورت کے جسمانی ساخت کو پیش کرسکے، عورت اسی قدر آزاد اورخود مختار تصور کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس دور قدیم میں عورتوں پر ظلم کی خاطر ان کو مختصر لباسوں میں رکھاجاتا تھا تاکہ وہ مردوں کی ہوس بھری اور طمع آمیز نگاہوں کا شکار ہوں۔ نتیجتاً وہ خود کو آزاد اور خود مختارسمجھنے کے بجائے مظلوم محسوس کرتی تھیں۔ یوں گمان ہوتاہے کہ دورِ جدیدکے معاشرتی علوم کے ماہرین دورِ قدیم کے اُن لوگوں کو بھی مات دے چکے ہیں، جو عورتوں کو اُن کی مظلومیت کا احساس دلانے کے لیے اُن کے لباس کے اختصار پر اصرار کیا کرتے تھے۔ مگر اس سے زیادہ افسوسناک امر اُن خواتین کی ناقص فہم ہے، جو اس مظلومیت کو عین آزادی، خود مختاری ، فیشن اور اعلیٰ معیارِزندگی تصور کرتی ہیں اور میڈیا، سنیما اور فیشن گروئوں کی حکمت عملی کو اپنی کامیابی کا زینہ تصور کرتی ہیں۔

قرآن کیا کہتا ہے

اسلام میں عورت کے مرتبہ پر ہونے والی بحث کا مرکز حجاب، برقعہ اور نقاب ہوتا ہے جس کو اسلام دشمن لوگ عورت کی محرومی، نسوانیت کو کچلنے کا ہتھیار اور قدامت پرستی کی علامت تصور کرتے ہیں۔ حجاب کے حامی اس کو نسوانیت کا محافظ ثابت کرنے کی جتنی کوشش کرتے ہیں، اس کے ناقدین اتنی ہی شدت سے اسے قدامت پرستی کا آلہ کار بتاتے ہیں۔ صدیوں سے مغرب زدہ معاشرے نے حجاب کو مسلم خواتین کی بے بسی کی علامت ٹھہرانے کا بیٹرہ اٹھا رکھا ہے۔ آج اسے سیاسی ہتھیار کے طورپر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آئیے دیکھیں قرآن اس سلسلہ میں کیا کہتا ہے:

پردے کے سلسلہ میں قرآن حجاب کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ قرآن میں یہ اصطلاح آٹھ بار استعمال ہوئی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:

سورہ مریم : آیت 17، سورہ ص: آیت 32، سورہ بنی اسرائیل: آیت 45، سورہ شوریٰ: آیت 51، سورہ الاحزاب :آیت 53 ،سورہ المطففین: آیت 15

حجاب کے لفظی معنی پردہ اور آڑ کے ہوتے ہیں۔ روایتی طور پر مسلم معاشرے میں حجاب ان کپڑوں کو کہا جا تا ہے،جو مسلم خواتین اپنے سر اور تن کو چھپا نے کے لیے اضافی طور پر استعمال کرتی ہیں۔ یہ طریقہ خواتین کی عصمت وعفت کی حفاظت کی خاطر سب سے مناسب سمجھا گیا کہ وہ خود کو تفریحِ نظر نہ بننے دیں اور اپنے جسم کو اس طرح ڈھانپیں کہ ہوس بھری اور گندی نگاہوں کا شکار بننے کی بجائے قابلِ عزت ہوں اور تقدس پائیں۔ برصغیر ہند وپاک میں اس ڈھیلے ڈھالے لبادہ کو برقعہ کہا گیا۔ سعودی عرب میں اس کو عبایہ کہاجاتاہے۔خلیجی ممالک میں نقاب اورایران میں تن کو لپیٹنے والے کپڑے کو چادر کہا گیا۔ مغربی ممالک میں مسلم خواتین نے ہیڈاسکارف استعمال کرناشروع کیا۔

عریانیت اور صارفیت کا اتحاد

وہ خواتین، جو ڈھیلے ڈھالے لباس زیبِ تن کرتی ہیں اور تنگ، چست ،مختصر اور شفاف کپڑوں کو استعمال کرنے سے احتراز کرتی ہیں انہیں لوگ عام طور پر عزت و تعظیم کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ خواتین، جو فلموں میں اداکاری کرتی ہیںاور خود کو زیادہ نمایاں کرتی ہیں، فیشن شوز میں ماڈلنگ کرتی ہیں اور عریاں اشتہارات کی زینت بنتی ہیں، ان کو عام انسان ارذل گردانتا ہے اور وہ نفسانی خواہشات کی بھوکی نظروں کابہ آسانی شکار بن جاتی ہیں۔ صابن، شیمپو، زیرِلباس جامہ (Lingerie)، وینیٹی بیگ، ریڈی میڈلباس اور نیپکن فروخت کرنے والی کمپنیاں دراصل ایسی ہی خواتین کو اپنے اشتہارات کے لیے آئیڈیل بناتی ہیں اور ان کی جوانی اور حسن کی بنیاد پر اپنی اشیاء کو فروخت کرتی ہیں۔ عریانیت اور صارفیت کا یہ اتحاد آج عورت کی تعظیم و تقدس کو مٹی میں ملانے کے درپے ہے۔

مغرب کے معاشرت کے جان کار، لاکھ یہ کہیں کہ وہ جنسی مساوات کے حامی ہیں، مگر وہ اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ عورت کے حسن کو مرد کی ہوس کی تسکین کی خاطر استعمال کرنے سے ذرا نہیں چوکتے۔ لہٰذا مغرب میں جہاں مرد کو ’’مکمل سوٹ‘‘ زیب تن کیے دیکھنا پسند کیا جاتا ہے وہیں خواتین کو ’’کم سے کم اور مختصر لباسوں‘‘ میں ملبوس رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

خطرہ کی گھنٹی !

ان حقائق پر غور کرنے سے اسلام دشمنوںکے مادّی ایجنڈے کا پردہ خود بخود فاش ہوجاتا ہے، جس میںعورت کو محض جنسی کھلونا سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کے برعکس اسلام دشمن میڈیا ’’مسلم عورتوں کی بے بسی اور مظلومیت‘‘ کا راگ الاپنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ ظاہر ہے کہ اگر خواتین اپنی دلکشی اور حسن کو محض اپنے شوہر کے لیے مختص کردے تو اس صورت حال میں کاسمیٹک اور تزئین وآرائش کی صنعت اربوں ڈالر اورکروڑ ہا روپیوںکے خسارے کا شکار ہو سکتی ہے۔ لہٰذا جب مغربی خواتین بڑی تعداد میں اسلام کا رُخ کرنے لگتی ہیں تو مغربی میڈیا فطری طور پر اپنی اشتہاری اشیاء کے تئیں تشویش میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ اندیشہ کہ ہزاروں خواتین ان کے اشتہارات کا ہدف ہونے سے بے زار ہوںگی ،اشتہاری ایجنسیوں، صنعتکاروں اور کارپوریٹ حلقہ کے لیے خطرہ کی گھنٹی ثابت ہوتا ہے۔

دراصل مادہ پرستانہ مغربی سوسائٹی آزادی نسواں کے خوشنما نعروں کے در پردہ خواتین کے جسمانی حسن کے استحصال کے درپے ہے۔ اس کے نتیجہ کے طور پر ماڈرن دنیامیں خواتین کے روحانی تنزل اور سماجی قدر و منزلت میں کافی گراوٹ آئی ہے۔

خواتین کے مرتبہ میں بلندی کے بجائے جدید دنیا نے خواتین کو سماجی تتلیوں میں تبدیل کردیا ہے، جو خواہشات کے طلبگار اور جنسی سودا گروں کے ہاتھ کا کھلونا ہیں۔ آرٹ، ثقافت اور فیشن کی ملمع کاری حقیقت کی محض عارضی پردہ پوشی کرسکی ہے۔

سماجی انتشار نے ان کو اس حقیقت سے آگاہ کرنے کی ابتدا کردی ہے۔ فرانس اور بلجیم کے نقاب اور برقعہ پر حالیہ پابندی سے یہ صاف طور پرظاہر ہے کہ وہاں آزادیء نسواں کے سلسلہ میں جانبدارانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ وہاں صرف برہنگی اور عریانیت کی آزادی ہے اور حیادار لباس کی پابندی ہے۔ کیا عورت پر برقعہ پہننے کی ممانعت اس قدر ظالمانہ نہیں،جس قدر برقعہ نہ پہننے کی؟ غالباً مغرب کا شعور اس یکطرفہ جبر پر کوئی چبھن محسوس نہیں کرتا۔

دشمنان اسلام کے دوہرے معیارات

حجاب یا برقعہ مسلم خواتین کی ذاتی پسند ہیں، وہ رضائے الٰہی کے لئے اس کااستعمال کرتی ہیں، اس لحاظ سے اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ کیا ایسا نہیں کہ دنیامیں مختلف قسم کے یونیفارم اور مذہبی لبادے مثلاً ڈاکٹروں کے سفیدکوٹ،ججس اور وکیلوں کے سیاہ کوٹ اور Bow Tie، نرسوں کے لباس، چرچ کے پادریوں کے لمبے چوغے (Cassock) اور صلیب سے لیس لاکیٹ پہنے جاتے ہیں۔ سادھوی اور سادھوجو دنیا سے سنیاس لئے ہوئے ہوتے ہیں زعفرانی رنگ کے لباس میں ملبوس ہوتے ہیں،اور غیرشادی شدہ برہماکماری سفید لباس زیب تن کئے ہوتی ہیں، ان تمام کو نہ صرف دنیا بھر میں برداشت کیا جاتا ہے بلکہ ان کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ برقعہ اس سے کوئی مختلف شئے نہیں ہے،جو عیسائی راہبائیں (Nuns) زیب تن کرتی ہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین کے لباس سے متعلق دشمنان اسلام نے یہ دوہرے معیارات کیوں مقرر کیے ہیں اور حیا اور عفت کیوںکر مذہبی طبقات اور عام لوگوں کے لیے جدا گانہ نوعیت اختیار کرسکتے ہیں۔

رواداری کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ان ہی لوگوں کو پسند اور شرف قبولیت بخشا جائے جو ہمارے مماثل ہوں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی پسند کا بھی احترام کیا جائے خصوصاً جبکہ آپ ان کو سمجھنے سے قاصر ہوں یا ان کے نقطہ نظر سے متفق نہ ہوں۔

اسلامی حجاب کے آغوش میں

ماڈرن دنیاکی متعدد خواتین مغرب کے مغالطہ آمیز گلیمر ورلڈ سے بتدریج باہر آرہی ہیں اور آزادی نسواں اور مادی کلچر کے پردوں کو چاک کرکے اسلامی حجاب کی فیوض و برکات سے واقف ہوتی جارہی ہیں۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئرکی نسبتی بہن لورین بوتھ (Lauren Booth) سابق میں مارگریٹ مارکوئس کہلانے والی مریم جمیلہ، برطانوی صحافی یوان رڈلے ( Yvonne Ridley) ، ملیالم شاعرہ کملا ثریا اور ان کے علاوہ سینکڑوں زندہ مثالیں ہیں۔ خود ہمارے ملک ہندستان میں ٹی وی چینل IBN CNN-کے مطابق مسلم خواتین کسی جبر کے تحت برقعہ استعمال نہیں کرتیں بلکہ اپنی عفت و عصمت کے تحفظ کی خاطر یہ خود ان کی اپنی پسند ہوتی ہے۔ سروے کے مطابق وہ برقعہ میں مرد کے ذریعہ چھیڑ خانی اور ہوسناک نگاہوں سے خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ یہ لباس مسلم خواتین کی حیا اور پاکدامنی کی علامت کے طور پر مسلم خواتین کو عزیز ہے۔

باحجاب خاتون ’’توکل کرمان‘‘

جہاں تک میرے علم میں ہے،شاید حجاب کی اہمیت کو کسی اور فرد نے ماڈرن دنیاکے روبرو اس باہمت انداز سے پیش نہیں کیا جیسا کہ 2011کی نوبل انعام یافتہ یمنی خاتون توکل کرمان نے پیش کیا۔ جب وہ نوبل انعام حاصل کرنے کے لیے سویڈن کے دارالخلافہ اوسلو میں اسٹیج پر حجاب میں نمودار ہوئیں تو ساری دنیا کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا انگشت بدنداں رہ گیا۔ توکل کرمان سے پوچھا گیا کہ ’’کیا وہ یہ محسوس نہیں کرتیں کہ ان کا یہ لباس ان کی تعلیمی اور دانشورانہ علمی سطح کے منافی ہے اور کیا یہ اسلام میں عورت کے دبائے اور کچلے جانے کی علامت نہیں؟‘‘

توکل کرمان نے بغیر توقف کے جواب دیا: ’’انسان زمانہ قدیم میں برہنہ رہتا تھا جوں جوں انسانی علوم اور تہذیب کا ارتقاء ہوا، وہ اپنے تن کو ڈھانکنے اور کپڑے زیب تن کرنے لگا۔ میں آج،جو کپڑے پہنتی ہوں اور حجاب استعمال کرتی ہوں یہ انسانی دانش اور اس کی تہذیبی نفاست کی معراج ہے، جس کے انسانی تہذیب نے ہزاروں سال کا سفر کیا ہے۔ بھرپور لباس زیب تن کرنا یقینا ًانسانی پسماندگی کی علامت نہیں۔ دراصل برہنگی انسانی ذہن کی پسماندگی کی علامت ہے اور اس بات کی مظہر ہے کہ ماڈرن دور کادانشمند انسان لباس کے حوالے سے آج بھی عہد قدیم میں زندگی بسرکرتا ہے۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
سید حامد محسن

Leave a Reply