یہ ہے عظیم عورت!!

حجاب کے ان صفحات میں اکثر آپ کے تعارف مشہور اور تاریخی شخصیتوں سے ہوتا رہا ہے مگر آج ہم آپ کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے کراتے ہیں، جو ’’علم حاصل کرو گود سے گور تک‘‘ کی ایک قابل تقلید مثال ہے اور جس کے مضبوط قدموں، پختہ عزائم اور مسلسل محنت نے جہالت وناخواندگی اور پچھڑے پن کو روند ڈالا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ یونیفارم پہن کر انہی کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے جاتی رہی ہیں۔ ان کے حوصلے کے آگے چھتیس گڑھ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کو اپنے ضوابط میں تبدیلی کرنی پڑی۔ یہ بلند حوصلہ اور مثالی خاتون رفیعہ خان ہیں۔ ان کی عمر اس وقت 31 سال ہے اور وہ ’’ماں بنجاری گرو کل ودیالیہ‘‘ کی درجہ بارہویں کی طالب علم ہیں اور اس سال بارہویں امتحان دے رہی ہیں۔

ریاست جھارکھنڈ کے آدی باسی علاقے میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہونے والی رفیعہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، جس کا پڑھنے لکھنے سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ علاقائی روایت کے مطابق شادی بھی کم عمری ہی میں کردی گئی اور محض 17سال کی عمر میں وہ دو بچوں کی ماں بن گئیں۔ اس وقت ان کا بڑا بیٹا آصف درجہ گیارہویں کا طالب علم ہے۔ اور بیٹی شاہین درجہ نو کی طالبہ ہے۔ اور یہ سب ایک ہی اسکول میں پڑھتے ہیں اور یکساں ڈریس پہن کر ایک ہی وین میں ساتھ ساتھ اسکول جاتے ہیں۔ رفیعہ پہلے کبھی اسکول نہیں گئی تھیں۔ انھیں کبھی اپنی ناخواندگی کا احساس نہیں ہوا۔ لیکن ایک دن ان کے بیٹے آصف نے ان سے حساب کا ایک سوال پوچھا جس کا جواب وہ نہیں دے پائیں، اس کی وجہ سے انھیں نہ صرف بہت شرمندگی ہوئی بلکہ ان کے اندر احساس اور شعور کی ایک چنگاری بھڑک اٹھی اور انھوں نے اسی وقت عہد کرلیا وہ علم حاصل کریں گی۔ جب انھوں نے اپنے خیال کے بارے میں اپنے شوہر اور اپنے بچوں کو بتایا تو کسی کو بھی یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔ گھر کیسے چلے گا، کام کاج کیسے ہوگا، ان تمام سوالوں کا کھڑے ہونا فطری بات تھی۔ چناں چہ سب نے مخالفت کی۔ خوش قسمتی سے اسی درمیان علاقے کے معروف اسکول ماں بنجاری گروکل ودیالیہ کے مالک ہریش جوشی عید کے موقع پر ان کے گھر آئے۔ کسی طرح یہ بات ان کے سامنے آگئی کہ رفیعہ پڑھنا چاہتی ہے۔ انھیں جب رفیعہ کے ارادے کا پتا چلا تو انھوں نے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی اور عملی رہ نمائی بھی۔ انھی کی رہ نمائی میں رفیعہ نے اوپن اسکول سے دسویں کا امتحان دیا، مگر جب نتیجہ آیا تو بہت اچھے نمبرات نہیں تھے مگر وہ مایوس نہیں ہوئیں۔ ہریش جوشی صاحب نے خوب حوصلہ بڑھایا اور آخر کار گیارہویں جماعت کے لیے اپنے اسی اسکول میں داخلہ دے دیا جہاں وہ اپنے بچوں کے ہی ساتھ ریگولر طور پر اسکول جانے لگیں۔ رفیعہ خود بتاتی ہیں: ’’شادی سے پہلے میں کبھی اسکول نہیں گئی یا گھر میں پڑھائی کا حول نہیں تھا، کم عمری میں شادی اور پھر بچے ہوگئے، جب بچے اسکول جانے لگے تو احساس ہوا کہ پڑھائی نہ کر کے بڑی غلطی کی ۔‘‘

’’بچے ہوم ورک کرتے ہوئے کچھ پوچھتے تھے تو میں بتا نہیں پاتی تھی بہت افسوس ہوتا تھا، بچے جب تھوڑے بڑے ہوئے تو ان سے پڑھنے کی بات کی۔ تھوڑا مذاق تو اڑایا مگر بتانے لگے، دھیرے دھیرے گاڑی چل نکلی۔‘‘

اسکول کے ابتدائی دنوں میں جب وہ آصف اور شاہین کے ساتھ ایک ہی اسکول بس میں ایک سی یونیفارم پہن کر اسکول جاتی تو آصف کے دوست اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ مگر اب آصف کو اپنی ماں پر فخر ہے۔ رفیعہ کا بیٹا آصف کہتا ہے: ’’شروع میں ماں کے ساتھ اسکول جانا عجیب لگتا تھا۔ سوچتا تھا دوست کیا کہیں گے لیکن اب تو ماں پر فخر کرنے لگا ہوں۔‘‘

رفیعہ بھی لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے اپنا قدم آگے بڑھاتی رہی اور بالآخر وہ وقت آگیا جب وہ سخت محنت و مشقت کے بعد اس سال چھتیس گڑھ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن رائے پور سے بارہویں کا امتحان دے رہی ہیں۔؎

ریگولر اسٹوڈنٹ کی حیثیت سے اس امتحان میں شریک ہونا خود میں ایک امتحان سے کم نہیں تھا۔ چوں کہ چھتیس گڑھ بورڈ کا ضابطہ ہے کہ بارہویں کے امیدوار کی عمر ۲۰ سال کے اندر ہونی چاہیے اور رفیعہ ٹھہری ۳۰ سال سے زیادہ کی۔ اسے قدم قدم پر اسکول، ضلع بورڈ سب کا تعاون ملا، خط و کتابت کے بعد چھتیس گڑھ بورڈ نے بھی اپنے ضابطے میں ترمیم کی اور رفیعہ کو امتحان میں شرکت کی خصوصی اجازت مل گئی ہے۔

ایک ڈرائیور کی بیوی اور گم نام خاتون رفیعہ کو آج نہ صرف پورا رائے پور جانتا ہے بلکہ عنقریب اسے پورا ملک جاننے لگے گا اس کی لگن، محنت اور جدوجہد کے لیے۔ اس کی محنت اورلگن یقینا ہزاروں خواتین کو عزم و حوصلہ بھی دے گی اور علم سیکھنے کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ بھی۔ انھوں نے خود ٹائمر آف انڈیا کی صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا:

’’اگر میں یہ کہوں کہ میں غریب ہوں تو اس سے کیا فائدہ؟ میں کہوں کہ میرے شوہر ایک ڈرائیور ہیں تو کیا حاصل؟ اور اگر میں دوسرے مسائل کا رونا رؤں تو اس سے کیا کام بنے گا؟ میرا تو بس اتنا ہی کہنا ہے کہ جب سچی خواہش اور لگن ہو تو راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ رفیعہ نے مسلم خواتین کا سر فخر سے اونچا کرتے ہوئے جہالت و ناخواندگی سے جنگ کا ایک پیغام دیا ہے۔ اور رسولِ پاک کے قول ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے‘‘ اور ’’گود سے گور تک علم حاصل کرتے رہو‘‘ کی عملی مثال قائم کی ہے۔ اس سے حوصلہ پاکر نہ صرف مسلم سماج بلکہ پورا ہندوستان جہالت و ناخواندگی مٹانے کا عہد کرسکتا ہے۔ رفیعہ قابل تقلید اور قابل ستائش ہے ساتھ ہی وہ تمام لوگ اور ادارے جنھوں نے ان کے ساتھ تعاون کیا جن میں ہریش جوشی سر فہرست ہیں۔ ایسے میں ان کے بچوں اور شوہر کے تعاون کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔

رفیعہ کی محنت اور اس کے تجربے نے ملک کی خواتین کے سامنے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ اس سے بات صاف ہوجاتی ہے کہ اگر ناخواندگی اور جہالت کا احساس کسی کے اندر بے دار ہوجائے اور وہ اسے برائی اور کمزوری تصور کرے تو اس سے چھٹکارا پانا مشکل نہیں۔ خود ہم نے اپنے ضلع کے تعلیم بالغات کے سنٹر میں ساٹھ سالہ خواتین کو قرآن مجید اور اردو ہندی پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ بس بات سوچ اور لگن کی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ہما ناز (رائے پور)

Leave a Reply