بچوں کو روزہ رکھنے کی تربیت دیں

اسلام میں روزہ کی عمر 12 سال بتائی گئی ہے کیوں کہ اس عمر میں بچہ بھوک برداشت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ خوشی کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں نو سے دس سال کے بچے بھی روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنے گھر میں والدین اور بڑے بہن بھائیوں کو روزہ رکھتے دیکھتے ہیں۔ در اصل بچہ اپنے ارد گرد جو کچھ ہوتا ہوا دیکھتا ہے جو تعلیم اسے کم عمری میں ہی دی جاتی ہے جو باتیں اسے سکھائی جاتی ہے وہ اس کی شخصیت کا حصہ بنتی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ ہے کہ کچھ والدین بچوں کو ناتواں سمجھ کر روزہ رکھوانے سے ہچکچاتے ہیں۔ خاص طور پر گرمیوں میں یہ سوچتے ہیں کہ دن بڑے ہیں تو بچہ روزہ برداشت نہیں کرسکے گا۔ پچھلے دو سال تو اکثر والدین کو یہی شکایت رہی کہ بچہ اسکول بھی جائے اور روزہ بھی رکھے یہ ممکن نہیں ۔ لیکن یہ عذر بچوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ بچپن میں جو عادت ڈال دی جائے وہ تاعمر قائم رہتی ہے۔ اس سال تو روزے بھی جون کے مہینے میں آرہے ہیں جب بچوں کو اسکول سے چھٹیاں ہیں۔ والدین کے لیے بچوں کو روزہ رکھنے کی تربیت کرنے کا بہترین موقع میسر ہے۔ آئندہ چند برسوں میں ماہ رمضان مئی اور جون کے مہینوں میں آئے گا۔ اگر والدین اس مرتبہ ہی اپنے بچوں کو روزہ رکھنے کی عادت ڈال دیں تو بچے گرمیوں میں بھی روزہ رکھنے سے نہیں گھبرائیں گے۔ والدین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بچوں میں اسلامی اقدار منتقل کرنا اور انھیں اراکین اسلام کا پابند بنانا والدین کا پہلا فرض ہے۔ اسلام نے نیک اولاد کو صدقہ جاریہ کہا ہے۔

والدین اپنا یہ فرض احسن طریقے سے کسی بھی عذر کو بیچ میں لائے بغیر ادا کریں تاکہ ان کی اولاد خود ایک کامل مسلمان بننے کی کوشش کرے۔ بچے سیکھتے ہیں کہ شب قدر تک قرآن پاک ختم کرنا ہوتا ہے۔ خواہشات سے رکے رہنے کی تربیت کا یہ بہترین موقع ہوتا ہے۔ ہر برائی، چغلی، گالی، جھوٹ، لڑائی، جھگڑے اور کھانے کے لالچ سے خود کو باز رکھتا ہے۔ بچوں میں یہ عادت پختہ ہوجائیں تو بڑے ہوکر بھی وہ میانہ روی کا دامن نہیں چھوڑتے۔

بچوں کی اس ایک ماہ میں مذہبی طرزِ زندگی کے حوالے سے ہمہ پہلو تربیت ہو جاتی ہے۔ بڑے ہونے پر بچے از خود اخلاقی حدود کا خیال ماہِ رمضان کا استقبال اور سحر و افطار کا اہتمام اسی انداز میں کرتے ہیں جیسے انھوں نے اپنے بڑوں کو کرتا دیکھا۔ یوں یہ اقدار نسل درنسل منتقل ہوتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محی الدین

Leave a Reply