فرق

میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب تمہیں سکھ چین نام کی کوئی شے بھی میسر نہیں ہے تو آخر اس آدمی کے ساتھ کیوں نباہ کر رہی ہو؟‘‘ میں نے کام کرنے کے دوران بار بار چوٹوں کے درد سے کراہتی اپنی کام والی نوری کی طرف ناراضی سے دیکھا۔

’’بس باجی مجبوری ہے، گزارا کر رہی ہوں۔‘‘ اس نے کپڑے ہینگر میں ڈال کر الگنی پر لٹکاتے ہوئے مری ہوئی آواز میں جواب دیا۔

’’خاک مجبوری ہے! کھانا، پینا، پہننا اوڑھنا، دوا دارو، کوئی خرچ وہ تمہارا اٹھاتا نہیں ہے، بچے اس شوہر سے تمہارے ہیں نہیں، خوامخواہ اس کی وجہ سے اپنے بچوں سے بھی دور ہو، مار الگ کھاتی ہو۔ ادھر تمہارے بچے رل رہے ہیں ادھر تم رُل رہی ہو۔‘‘

میں اس کے ساتھ اتنی تلخی سے بات کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن سچ ہے کہ اس وقت مجھے اس پر شدید غصہ تھا۔‘‘ تمہارا دل نہیں چاہتا نوری کہ اپنی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہو، ان کے لیے کھانا پکاؤ، ان سے دکھ سکھ بانٹو؟‘‘

میں نے پیاز کاٹتے کاٹتے اس سے سوال کیا تو برتن مانجھتے ہوئے اس کے ہاتھ ایک لمحے کو تھمے اور پھر سے اس کی زبان کے ساتھ رواں ہوگئے‘‘ دل چاہتا ہے نا باجی، کیوں نہیں دل چاہتا! لیکن یہ اسلم نہیں مانتا…‘‘

’’پھر وہی اسلم…!‘‘ میں نے غصے سے چھری پٹخی۔ میری آنکھوں کے سامنے اس کی بارہ سالہ معصوم بیٹی کا چہرہ گھوم گیا۔ کتنا روئی تھی وہ میرے سامنے، اپنی ماں کی کتنی منتیں کی تھیں۔ ’’اماں مجھے اپنے پاس رکھ لو… مجھے نہیں جانا باجی کے ساتھ۔‘‘ ان دنوں وہ اپنی مالکن کے ساتھ اس کے میکے آئی ہوئی تھی اور روز اپنی ماں سے ملنے میرے گھر آجایا کرتی تھی۔ ایسے میں مجھے نوری پر بے حد غصہ آیا کرتا تھا۔ آج بھی مجھے اسے تکلیف میں دیکھ کر یہی خیال آرہا تھا کہ کیا تھا جو خوشی خوشی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی۔ کیا ضرورت تھی طلاق کے بعد دوسری شادی کرنے کی اور اب ہر حال میں اسے برداشت کرنے کی… ! ماں ایک شہر میں، بیٹی دوسری جگہ اور پندرہ سالہ بیٹا پنجاب میں باپ کے پاس۔ اوپر سے آئے دن کے جھگڑے اور مار پیٹ۔ کبھی کبھی میں اسے خوب باتین سناتی، خود غرض کہتی، لیکن وہ جواب میں کوئی وضاحت دیے بغیر خاموش ہو جاتی۔ ابھی بھی وہ میری ساری باتوں کے جواب میں خاموش ہوگئی تھی۔

’’اچھا سنو، یاد ہے میرا میرون والا سوٹ اچھی طرح استری کر دینا، کل وہی پہن کر اسکول جاؤں گی۔‘‘ میں نے گویا بات ختم کی اور پوری توجہ کھانا پکانے کی جانب مبذول کرلی۔

یہ دوسرے دن کی بات ہے، میں اسٹاف روم میں کاپیاں چیک کر رہی تھی، نازیہ آتے ہی میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی اور سر پشت سے ٹکالیا۔ میں نے اس پر ایک نظرڈالی۔ چہرہ واقعی تھکن کا غماز تھا۔

’’آج زیادہ کام تھا…؟‘‘

میں نے رسماً سوال کیا۔

’’ہاں بھئی آج تو لگاتار کلاسز تھیں۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ پیشانی مسل رہی تھی کہ اچانک اس کا موبائل تھرایا، اس نے تیزی سے موبائل اٹھایا اور پیغام کھولا۔ یہ کوئی فیس بک میسج تھا، میری نظر نہ چاہتے ہوئے بھی پڑ گئی تھی۔ یک دم نازیہ کے چہرے سے تھکان غائب ہوگئی اور اس کی جگہ دل فریب مسکراہٹ نے لے لی۔

’’کیا ہوا، میاں صاحب نے یاد کیا ہے کیا؟‘‘ اس کے چہرے پر پھیلے رنگوں کو دیکھتے ہوئے میں نے اندازہ لگایا۔

’’ارے نہیں، کسی نے تعریف لکھی ہے… دیکھو کتنے خوب صورت انداز میں۔‘‘ اس نے موبائل میرے آگے کیا۔ اسکرین پر ایک خوب صورت مگر ذو معنی سا شعر تھا۔‘‘ ہائے اللہ کس نے بھیج دیا ایسا رومانوی شعر؟‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ سوال نکلا۔

’’ارے ہے ایک فیس بک فرینڈ۔‘‘ اس نے شانوں پر آئے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکا دیا۔

’’نازیہ تم شادی شدہ ہو، ایک دس سالہ بچے کی ماں ہو۔‘‘ میں نے اسے گویا یاد دلانے کی کوشش کی۔

’’تو کیا ہوا…! یہ بھی تو شادی شدہ ہے، تین بچوں کا باپ۔‘‘ اس نے میری بات کو ہنسی میں اڑا دیا۔

’’تمہارے میاں کو پتا ہے کیاَ‘‘ میرا سوال یقینا بے وقوفانہ تھا۔

’’پاگل ہوئی ہو کیا…! یہ میاں کو بتانے والی بات ہے کوئی؟‘‘ اس نے بدمزا ہوکر مجھے گھورا۔

’’مگر نازیہ یہ گناہ ہے…‘‘

’’اے کیسا گناہ! میں کوئی اپنے شوہر کو چھوڑ تھوڑی رہی ہوں اس کے لیے، نہ ہی وہ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑنے والا ہے۔ بس وقت گزاری ہے یار، تفریح… دیکھو، کتنے پیارے انداز میں تعریف کرتا ہیـ۔‘‘

نازیہ کافی دیر تک اس فیس بک فرینڈ کے گن گاتی رہی اور میں حیران وپریشان اس کو تکتی رہی۔ گھر واپسی پر میرا دل بہت خراب ہو رہا تھا۔ یہ سوشل میڈیا نامی بلا تو ہماری اقدار کو گھن کی طرح کھا رہی ہے… میں نے بددلی سے پلیٹ میں کھانا نکالا اور زبردستی نوالے حلق میں اتارتی رہی۔ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھا… نوری کے آنے کا وقت تھا۔ دروازہ کھولتے ہی نوری کی سوجی ہوئی آنکھ اور پھٹے ہوئے ہونٹ پر نظر پڑی۔ میرے صبر کا پیمانہ تو پہلے ہی لبریز ہو چلا تھا، جس قدر غصہ نازیہ، اس کے نام نہاد فرینڈ اور جانے کس کس پر آرہا تھا سب کا سب نوری پر اتر گیا۔

’’باجی آپ بھی ٹھیک کہتی ہیں کہ میں اس سے طلاق لے لوں اور اپنے بچوں کے ساتھ سکون سے زندگی گزاروں۔ میرا خواب ہی ہے اپنے بچوں کے ساتھ رہنا۔ یہ سکھ تو مجھے زندگی میں ملا ہی نہیں۔‘‘ خوب ڈانٹ سننے کے بعد نوری میرے سامنے بیٹھی دوپٹے پر پھونک مار مار کر آنکھ کو سیک رہی تھی۔ ’’میرا بس چلے ناں باجی جی تو کل کی چھوڑتی آج چھوڑ دوں اس ظالم شوہر کو، مگر جی ادھر میں اس سے طلاق لوں گی اور ادھر میرا پہلا شوہر پیچھا پکڑ لے گا کہ مجھ سے دوبارہ نکاح کرلو۔ ہے بھی وہ ماموں زاد۔ برادری والے بھی اسی کا ساتھ دیں گے۔‘‘ یہ ساری بات آج پہلی مرتبہ اس نے میرے سامنے رکھی تھی۔

’’اچھا تو کیا حرج ہے، کرلینا اس سے نکاح۔ اچھا ہے ناں تمہارا ٹوٹا، بکھرا خاندان ایک ہوجائے گا۔‘‘ میں نے مشورہ بہرحال تذبذب میں ہی دیا تھا۔

’’نہ باجی نہ… شادی کے تیسرے سال اس کی نیت خراب ہونی شروع ہوگئی تھی۔ ایرے، غیرے اوباش لوگوں کو گھر لانے لگا تھا جی… اس سے پہلے کہ میرے ایمان پر بات آتی میں نے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر اس کو چھوڑ دیا… طلاق لے لی اس سے جی… پھر دو سال تک میں نے اپنی بیٹی کے لیے مقدمہ لڑا، جب عدالت نے میری بیٹی میرے حوالے کی تو میرے باپ نے اس اسلم سے میری دوسری شادی کر دی۔ چند ماہ میں ہی اسلم نے میرے بچے ساتھ رکھنے سے انکار کر دیا۔ بیٹا میں نے اس کے باپ کے پاس بھیج دیا، اور کوئی راستہ نہیں تھا باجی… اور بیٹی کو ایک گھر میں کام پر رکھوا دیا… اچھے دین دار لوگ ہیں، پڑھاتے بھی ہیں، کام بھی زیادہ نہیں لیتے۔ اسلم سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی باجی … سات سال ہوگئے ہیں، بچوں سے دور ہوں، روز شوہر کی مار کھاتی ہوں، اپنا کھانا پینا، دوا دارو سب خود کرتی ہوں۔ بے شک زندگی جہنم ہے جی، لیکن اگر برادری والوں نے مجھے پہلے شوہر سے نکاح پر مجبور کر دیا تو میں کیا کروں گی؟ وہ معافیاں تو مانگتا ہے ، کہتا بھی ہے کہ میں بدل گیا ہوں، لیکن کیا بھروسا جی… میری تو آخرت تباہ ہوجائے گی جی… میں ساری تکلیفیں برداشت کرلوں گی باجی لیکن بے غیرت نہیں بن سکتی۔‘‘

اس نے سسکیوں کے درمیان اپنی کہانی کا وہ حصہ سنانا جس سے میں آج تک ناواقف تھی۔ میں نے سوچا ان پڑھ نوری بہتر ہے یا تعلیم یافتہ اور معلمہ کا فرض ادا کرنے والی نازیہ؟lll

شیئر کیجیے
Default image
نیر کاشف

Leave a Reply