کاش!

جب خوشی حد سے گزر جاتی ہے تو آنسو نکل آتے ہیں اور غم میں یہی تو ہیں جو ساتھ دیتے ہیں۔ ہم اخبار کے مطالعہ میں غرق تھے کہ ہماری نگاہ صفحہ ۷ پر مرکوز ہوگئی جس پر محترم ڈاکٹر عزیز احمد عرسی کا وہ مضمون تھا جس میں انھوںنے بتایا تھا کہ کس طرح دبئی کا کراماتی باغ چار کروڑ پچاس لاکھ پھولوں سے سجایا گیا تھا اور اس کی دل نشیں تصاویر دیکھ کر ہم بے خود ہوگئے اور تھوڑی دیر کے لیے ایسا لگا کہ ہم بہ ذات خود دبئی میں یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں۔ خوشی اور مسرت سے آنسو نکل آئے، ہم خوشی سے سرشار تھے کہ یک دم جسم کو ایک جھٹکا لگا۔ اسے ہم زلزلے کا جھٹکا سمجھے، حقیقت کچھ اور تھی، دل مچل مچل کر رو رہا تھا اور بارگاہ ایزدی میں فریاد کناں تھا، اے خالق مطلق! مجھے کس بے حس جسم میں پیوست کر دیا، یہ تو بس نام کا ہے، ایمانی جذبہ کا نام و نشان ہی نہیں، خود کو مصطفی کہتا ہے پر اس میں رتی برابر اوصاف مصطفوی نہیں، کس منہ سے علی کہتا ہے نہ حیدر کرار جیسی شجاعت نظر آتی ہے نہ فراست۔ ابو ایوب جیسی محبت رسول ہے نہ اخلاص بس نام کا انصاری ہے، دل کی دھڑکنیں بہت تیز ہونے لگیں ہمیں ڈر لگا کہ کچھ ہو نہ جائے۔ ہم نے تہہ دل سے معافی چاہی اور روتے ہوئے بستر پر دراز ہوئے۔ رات خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ اسی کراماتی باغ کی سیر کر رہے ہیں۔ عرب روایات کے مطابق گلدستہ پیش کر کے ہمیں خوش آمدید کہا گیا۔ بس اتنا کہا کہ ہمارے معزز مہمان ہماری بھی سن لیں۔ صرف ایک پھول ہی کو مسلیں خود عیاں ہوگا ہم کیا ہیں؟ حسب خواہش ہم نے ایک پھول ہی کو مسلا اس سے تازہ تازہ خون رس رہا تھا، ایک ایک قطرہ اپنا تعارف کروا رہا تھا، میں افغانی ہوں، میں عراق ہوں، مجھے لیبائی کہتے ہیں اور ہم یمن سے آئے ہیں۔ یہ سن کر ہم بے اختیار رو پڑے۔ تب گلدستہ نے کہا محترم ذرا ادھر کی بھی سیر کریں یہ فوارہ جو بظاہر پانی پھینک رہا ہے، یہ مظلوم فلسطینیوں کے خون سے بھرا پڑا ہے۔ یہ دیکھئے نئی نہر جو انبیاء کے ملک شام کے خون سے بہتی ہوئی یہاں آئی ہے۔ ہم مزید دیکھنے اور سننے کے قابل نہ رہے، ہچکیاں لیتے ہوئے نیند سے بیدار ہوئے اب بھی ہمارے کانوں میں گلدستہ سے نکلتی ہوئی یہ صدا گونج رہی ہے۔

کاش! کوئی صاحب قرآن ہماری آہ و زاری سننے آتا؟lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری

Leave a Reply