ارتعاش

چھناک کی اس آواز نے سماعتوں کو شدید متاثر کیا۔ دماغ ماؤف ہوگیا۔ شیشے کی کرچیاں دور دور تک بکھر گئیں۔ میں دم سادھے منہ پھاڑے یہ منظر دیکھتی رہ گئی۔ ٹوٹے، بکھرے اور کرچی کرچی شیشے پر نگاہیں مرکوز ہوگئیں۔ دونوں ہاتھ کانوں پر لگا کر سماعت کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ آواز اتنی دل خراش تھی کہ خود کو سنبھالتے سنبھالتے وقت لگ گیا۔ اب بھلا شیشہ کیسے جڑ سکتا ہے؟ اگر اسے جوڑنے کی جسارت کی تو خود کے ہاتھ لہولہان ہوجائیں گے… میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری… سچ کہتے ہیں کہ خون سفید ہوگیا۔ آس پاس کے مناظر دیکھ کر لگتا ہے کہ رشتوں کے ٹوٹنے، بکھرنے کا منظر بھی اتنا ہی خوف ناک ہوتا ہے۔ جب محبت اور خون کے رشتوں میں ارتعاش پیدا ہونے لگے تو پھر خدشہ ہوتا ہے کہ ایک چھناک … اور سب ختم۔ محبت کے رشتوں کی چار دیواری، ماں باپ کا بنایا ہوا گھر گھروندا اور تحفظ کا احساس مختلف جذبات کا حسین امتزاج ہے۔ زندگی سبک رفتاری سے گزر جاتی ہے، لگتا ہے وقت پر لگا کر اڑ رہا ہے… پھر نئے رشتوں کی آمد و رفت، نئے چہرے، نئے لوگ … سب کچھ منتشر ہونے لگتا ہے۔ زندگی کے انداز بدلنے لگتے ہیں اور رشتوں کے اس ارتعاش پر کسی کی توجہ ہی نہیں جاتی۔

پرندے بھی آشیانہ بناتے ہیں۔ تنکا تنکا جوڑتے ہیں۔ پھر وہ آباد ہو جاتا ہے۔ گھونسلے سے چہچہاہٹ کی آواز آتی ہے، فضا میں نغمگی کا احساس ہوتا ہے، پھر ایک دن نظر پڑنے پر آشیانہ ویران نظر آتا ہے۔ ظاہر بات ہے، یہ قدرتی عمل ہے۔ چڑیا کے بچوں نے اڑنا سیکھ لیا تھا، لہٰذا اب کہیں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

انسانوں کا کیا کہنا…! اشرف المخلوقات، مسلمان، صاحب علم، نمازی، پرہیزگار… ہر رشتے کو نبھا رہے ہیں، مل رہے ہیں، ملا رہے ہیں… دوست احباب میں بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں… وقتاً فوقتاً درس و تبلیغ کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ مگر یہ کیا؟ گھر کے ایک کونے میں ایک عورت نیم درواز ہے، اس کی آنکھیں بیرونی دروازے پر ٹکی ہوئی ہیں، وہ منتظر ہے کسی کی۔ اس کی آنکھوں میں آس اور امید ہے۔ جسم ناتواں اور ضعیف ہے۔ شاید خود سے اٹھنے کے لیے ہمت مجتمع کر رہی ہے۔ کسی کو بھی فرصت نہیں۔ اسے کئی روز سے اپنے بیٹے کا انتطار ہے… سنا تھا کہ وہ دو تین روز کے لیے ملک سے باہر گیا ہوا تھا… مگر اس کے لیے گھر پر بیٹے کا ہونا یا ملک سے باہر ہونا برابر تھا… اس نے اپنی پوتی کو کہتے سنا تھا کہ ’’آج ابو آئیں گے‘‘، بس اسی وقت سے بے چینی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں اسے محسوس ہوا کہ اس کا بیٹا آچکا ہے۔ گاڑی کے ہارن کی آواز اور پھر سرگوشیاں… اور وہ بہت دیر تک ٹکٹکی باندھے دروازے کی جانب دیکھتی رہی… پھر وہی گہرا سکوت طاری ہوگیا۔ پھر گھر کے مکینوں کو اس نے کہتے سنا کہ کسی تقریب میں وہ مدعو ہے، سو اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری، جو صرف اس کے بنانے والے نے ہی سنی ہوگی۔ اس مقدس رشتے میں ارتعاش در اصل رشتوں کے چکنا چور ہونے، آشیانے کے ویران ہونے اور پھر کچھ نہ باقی رہنے کی علامت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منیرہ نور العین صدیقی

Leave a Reply