5

ساس کا مادرانہ کردار

ساس کا کردار خاندان کے اندرونی امور میں سربراہ کا ہوتا ہے۔ سربراہ کی حیثیت سے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کے معاملات کو بہ حسن و خوبی چلائے اور بہوؤں کی مدد بھی کرے اور بہت سارے امور میں رہ نمائی بھی کرے۔ گھر میں بڑے ہونے کی حیثیت سے وہ بہت سے حقوق و اختیارات کی بھی مالک ہے اور اس حیثیت سے گھر میں آنے والی بہو کو بنیادی حقوق اور ضروری اختیارات دینا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ گھر کے افراد خصوصاً بہوؤں کو محبت، شفقت اور اختیارات دیتی ہے تو گھر اور خاندان میں خوش گوار ماحول بنتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اہل خانہ میں من مٹاؤ کی فضا بننے لگتی ہے جو محبت اور تعلق پر قینچی کی طرح اثر کرتی ہے۔

ذیل میں چند مشورے درج ہیں جن پر عمل کر کے ساس اپنے گھر کو محبت کا گہواراہ بنا سکتی ہے اور آپس میں مٹاؤ کا امکان بھی ختم کرسکتی ہے۔

*اگر آپ بحیثیت ساس اس بات پر قادر ہیں اور حالات بھی سازگار ہیں کہ آپ اپنے بیٹے اور بہو کے لیے علیحدہ رہائش کا انتظام کرسکیں تو بچوں کی آزادی کی خاطر بہتر بات یہ ہے کہ انہیں الگ رہائش فراہم کردی جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو انھیں گھر کے اندر ہی مناسب آزادی کا ماحول فراہم کیا جائے۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ سسرالی دباؤ اور خوف کی وجہ سے بہوئیں علیحدگی کا مطالبہ نہیں کرسکتیں اور اگر مطالبہ کر بھی لیں تو اسے قبول نہیں کیا جاتا بلکہ اسے برا تصور کیا جاتا ہے۔ بعض گھرانوں کی بہوئیں محض اس وجہ سے میکے میں زندگی کے دن کاٹ رہی ہیں کیوں کہ ساتھ رہنے پر مسائل در پیش ہیں اور علیحدگی کے لیے ساس، صاحبہ کسی صورت میں تیار نہیں۔ بچے بے چارے حیران و پریشان اب کیا ہو؟

*اگر ایک سے زیادہ بہوئیں ہوں تو ان کے معاملے میں انصاف سے کام لیا جائے۔ اگر کوئی بہو امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور کوئی غریب گھرانے سے تو امیر کو غریب پر ترجیح نہ دیں بلکہ بہو ہونے کی حیثیت سے ہر ایک کو برابری کا درجہ حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’انصاف کے علمبر دار بنو‘‘

اگر بہو کم جہیز لائی ہو تو اس پر اسے طعنہ نہ دیا جائے کیوں کہ ایسا کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ سورہ ہمزہ میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو منہ در منہ لوگوں پر طعن اور پیٹھ پیچھے برائیاں کرنے کا عادی ہے۔‘‘ بیٹے کی ماں ہونے کی حیثیت سے تو ہم جہیز جیسی لعنت کا بہ آسانی خاتمہ بھی کر سکتے ہیں۔

*بہو کی برائیاں بیان کر کے بیٹے کا دل خراب نہ کریں کیوں کہ ایک تو یہ کہ ایسا کرنے سے بہو اور بیٹے کے خوش گوار ازدواجی تعلقات میں بدمزگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، دوسرے آخرت کا خسارہ بھی ہے کیوں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘

*اگر بہو سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے اور آپ بحیثیت ساس اس سے انتقام لینے کی پوری قدرت رکھتی ہوں لیکن اس کے باوجود آپ اسے معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: ’’اے میرے رب آپ کو بندوں میں سے کون سب سے زیادہ پیارا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا وہ جو انتقامی کاروائی کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دے۔‘‘ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ غلطی کی اصلاح بھی ساس کی ذمہ داری ہے، جسے ناصحابہ انداز میں انجام دیا جائے۔

*اگر بہو نماز اور روزے کی پابندی نہ کرتی، ہو اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرتی ہو تو احسن طریقے سے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی رہ نمائی کی جائے اور ساتھ ہی اس کے حق میں نیک توفیق کی دعا بھی۔ اس کے برخلاف اکثر یہ ہوتا ہے کہ اصلاح کی کوشش تو نہیں کی جاتی بلکہ لوگوں کے سامنے اس کی برائیاں کی جاتی ہیں۔ دینی اور اخلاقی ہر اعتبار سے نامناسب ہے اور یہ رشتوں کو توڑنے کا سبب ہے۔

*اگر بہو کوئی اچھا کام کرے یا کوئی ایسا کام انجام دے جو قابل ستائش ہو تب اس کی قدر کی جائے اور حوصلہ افزائی ہو۔

*اگر بہو بیمار ہو، خاص طور سے حمل کے دوران وہ آپ کی مدد کی محتاج ہو تو آپ اس کی ضرور مدد کریں۔ ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے اور آپ اس کی مدد کرنے پر قادر ہوں۔ فرمایا:

’’جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کے وقت اس کے کام آئے گا، اللہ اس کی ضرورت کے وقت مدد کرے گا۔‘‘

او رساس تو بہو کے لیے ماں کے درجہ میں ہے اور ان حالات میں تو ساس ہی بہو کی بہتر رہنمائی بھی کرسکتی ہے اور خدمت بھی۔***

شیئر کیجیے
Default image
یاسمین عارف

تبصرہ کیجیے