خود اعتمادی کا دس روزہ کورس

کیا آپ اپنی زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہے ہیں؟ … ہر صبح جب ایک نیا دن شروع ہوتا ہے تو کیا آپ اس روز کے نتائج کے بارے میں نہایت مطمئن ہوتے ہیں یعنی آپ اپنے اندر یہ یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ ہوگا اچھا ہی ہوگا؟ یا آپ ہر صبح اپنے اندر پژمردگی سی محسوس کرتے ہیں؟ آپ کے نظریات میں مایوسی کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔ کیا آپ میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔ اور آپ اپنے آئندہ حالات کے متعلق ہمیشہ خوف زدہ رہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ مندرجہ ذیل دس روزہ کورس کریں۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے اندر خود اعتمادی ہی خود اعتمادی ہوگی۔

پہلا دن

اپنے مقصد زندگی کے متعلق سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ غور و خوض کیجیے۔ پھر آپ جن باتوں کی دلی تمنا، آرزو، ارمان اور بے حد خواہش رکھتے ہیں ان سب کو ایک کاغذ پر لکھ ڈالیے۔

اس فہرست کو دو تین مرتبہ خوب غور سے پڑھئے پھر ان تمام خواہشات میں سے صرف دو نہایت اہم خواہشوںکو باقی رکھتے ہوئے سب کو کاٹ دیجئے اور اپنے آپ سے ان کے متعلق یہ سوالات کیجیے۔

۱- کیا میری یہ دو خواہشیں پوری بھی ہوسکتی ہیں؟ آیا وہ واقعی ممکن العمل ہیں؟

۲- کیا ان کی وجہ سے میرے اندر خود اعتمادی پیدا ہونے میں کچھ مدد مل سکتی ہے؟

۳- میں اپنی ان خواہشات اور تمناؤں کو پورا کرنے کے لیے سب سے بہتر راستہ کیا اختیار کروں؟

اگر آپ نے اپنے مستقبل کے لیے باقاعدہ کوئی منصوبہ بنا رکھا ہے تو اس کی مخالفت اور موافقت میں جتنے نکات ہوں ان سب کا تجزیہ کرنے کے بعد کوئی آخری فیصلہ کیجیے۔

اس روز ان تمام باتوں پر عمل کرنے کے بعد آپ اپنے اندر عجیب قسم کی توانائی، اطمینان اور سکون محسوس کریں گی۔

دوسرا دن

یہ آپ کے لیے آرام کرنے کا دن ہے ذہنی انتشار اور بے اطمینانی کی وجہ سے اعصابی تناؤ کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے اور اعصابی تناؤ آپ کی خود اعتمادی کو کافی حد تک متزلزل کر دیتا ہے۔ چناں چہ آج آپ اپنے دماغ سے ہر طرح کے منفی خیالات، پریشانی اور فکروں کو باہر نکال دیجئے او رصرف ایسی باتیں سوچئے جو خوش گوار، امید افزا اور پرلطف ہوں۔ اگر آپ اپنے چہرے مسکراہٹ اور خوشی کے آثار پیدا کرلیں تو کوئی دوسرا شخص یہ ہرگز نہین جان سکتا کہ آپ کے اندر خود اعتمادی کی کمی پائی جاتی ہے۔ چناں چہ آج آپ بہ ظاہر اپنا سر بلند رکھیں اور دوسرے لوگوں سے گفتگو کرتے وقت ان کی آنکھوں میں آنکھوں ڈالے رہیں۔ اس وقت آپ کے چہرے پر ایک خوشگوار مسکراہٹ بھی موجود ہونی چاہیے۔

اسی دن آپ سورۂ یوسف کا مطالعہ کیجئے ترجمے کے ساتھ۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ زندگی کے نشیب و فراز کیا ہیں اور اللہ تعالیٰ کیسے انسان کی مدد کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ روزانہ قرآن ترجمہ سے پڑھنے اور چند حدیثیں پڑھنے کا معمول بنائیے۔

تیسرا دن

آج آپ معمول کے خلاف کوئی دوسرا اور اچھا لباس پہن لیں اور بظاہر اپنے آپ کو پرکشش بنانے کی پوری کوشش کریں اپنے بالوں میں ایک خوب صورت تازہ پھولوں کا کجرا لگا لیں۔ ان باتوں کی وجہ سے آپ کا حوصلہ بڑھ جائے گا اور اندرونی طور پر آپ ایک طرح کی خوشی بھی محسوس کریں گی۔ آج شام کو آپ اپنے اہل خانہ یا احباب میں بھی کافی مقبول دکھائی دیں گی اور آپ بذات خود محسوس کریں گی کہ آپ کے اندر ایک نیا جوش عمل پیدا ہوگیا ہے اور مجموعی طور پر آپ اپنے اندر کافی اعتماد اور بھروسہ بھی موجود پائیں گی۔

چوتھا دن

آج آپ خلاف معمول کوئی نئی سرگرمی دکھائیں لیکن آپ کی یہ سرگرمی ایسی ہونی چاہیے جس میں آپ پورے ولولے اور نئے جوش کے ساتھ حصہ لے سکیں۔ اور اس سے پہلے آپ نے وہ کام کبھی نہ کیا ہو۔ گھر میں کوئی کھیل کھیلیں، سہیلیوں کے ساتھ سائکلنگ کریں۔ کچھ ایسا ضرور کریں جس کے بعد آپ کہیں کہ آج میں نے یہ کیا ’’بڑا مزہ آیا۔‘‘

پانچوا دن

کیا آپ یہ محسوس کر رہی ہیں کہ آپ کو کورس سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ جیسے پہلے دن تھے ویسے ہی آج بھی ہیں۔ اب اس کورس کو بالکل بے مقصد اور بیکار سمجھ اسے چھوڑ دینا ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ آج سے پھر دوبارہ پہلے دن والا کورس شروع کیجئے لیکن ایک نئی امنگ اور نئے جوش کے ساتھ اس کورس کو ازسرنو شروع کرنے سے آپ کو مطلق گھبرانا نہیں چاہیے۔ حصول مقصد میں اگر کچھ دیر ہو جاتی ہیں تو کوئی پروا نہیں۔ آپ کی ترقی کا ریکارڈ کوئی دوسرا شخص ہرگز تیار نہیں کر رہا ہے تو پھر آپ کو کیا فکر ہے۔

اس سے آگے بڑھنے سے قبل اس بات کا بھی تجربہ کرلیجئے کہ اب چار روزہ کورس آپ کو کس طرح دہرانا ہے اس سے آپ کو تعمیری لحاظ سے اپنا وقت گزارنے میں کافی مدد ملے گی اور آپ کی یہ دوبارہ کوشش پہلے کے مقابلہ میں ضرور کامیاب ہوگی۔

چھٹا دن

پچھلے دنوں جو مایوس کن باتیں ہوئی ہیں یا ہمت کو پست کرنے والے اور حوصلہ شکن جتنے بھی واقعات پیش آئے ہیں ان سب کی ایک فہرست بنائیے پھر ان کے تمام پہلوؤں پر نہایت سنجیدگی کے ساتھ غور کیجئے۔ آپ کو ان میں سے بعض باتوں پر ہنسی آئے گی چناں چہ ان پر ضرور ہنسئے اور اعتراف کیجئے کہ اب آپ اس قسم کی باتوں یا واقعات کو اپنے طور پر کوئی زیادہ اہمیت نہیں دے سکتے۔ ان تمام پرانے خطوط اور یادگاروں کو تلف کردیجئے جنہیں دیکھ کر آپ کا غم تازہ ہو جاتا ہے۔ ان کے لیے جذباتیت کے مظاہرے سے آپ کو کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ اور اس قسم کی باتیں آپ کی نئی شخصیت اور خود اعتمادی کو دھکا پہنچائے بغیر نہیں رہیں گی۔ ماہرین نفسیات ہمیشہ غم ناک نشانات اور تکلیف دہ آثار کو ضائع کردینے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ ان کی وجہ سے آپ کی زندگی میں جو ایک طرح کی ناخوش گواریت پیدا ہوجاتی ہیں آئندہ کے لیے اس کے امکانات ختم ہوجائیں۔ آپ اب ایک بالکل نئی شخصیت کی مالک ہیں اور تمام گزشتہ ناخوشگوار باتوں کو ہمیشہ کے لیے بھلا دینے کا عزم کرچکی ہیں۔

ساتواں دن

آج کے دن آپ اپنے دوستوں گھر والوں یا دفتر میں اپنے ساتھ کام کرنے والی ساتھیوں سے باتیں کیجئے لوگ زیادہ تر شام کو چائے کی پارٹیاں دیا کرتے ہیں آپ ان کے برخلاف صبح کو کیجیے۔ اس وقت کی چائے یا کافی میں ایک طرح کی ندرت موجود ہوگی۔ اس قسم کی پارٹیاں دینے کا خاص مقصد یہ ہے کہ آپ مختلف لوگوں سے نہایت بے تکلفی کے ساتھ ملیں اور ان سے کھل کر تبادلہ خیالات کرسکیں اس کی وجہ سے آپ کے اندر جو خود اعتمادی کی کمی پائی جاتی ہے وہ جاتی رہے گی۔ ایسی پارٹیوں میں اداس کن اور پیچیدہ قسم کے مسائل پر گفتگو نہ چھیڑیں بلکہ موجودہ حالات اور دوسری عام دلچسپ باتوں پر تبادلہ خیالات کریں تاکہ ہر شخص اس میں کچھ نہ کچھ حصہ لینے کا خواہش مند ہو اور اس گفتگو کی وجہ سے کوئی بھی اپنی جگہ بوریت محسوس نہ کرسکے۔

آٹھواں دن

آج آپ کسی کتاب سے کوئی مضمون اپنے طور پر بہ آواز بلند پڑھیں تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ آپ کی آواز نہایت صاف ہے اور اس میں کسی قسم کی لکنت وغیرہ موجود نہیں ہے۔ ذاتی طور پر اپنی آواز آزمائش کے لیے موبائل میں ریکارڈ کرلیں۔ اب اپنی آواز کو بہتر اور موثر بنانے کی کوشش کیجئے۔ صحیح اور صاف زبان کو اختیا رکیجئے اس سے آپ کے اندر بڑی حد تک خود اعتمادی پیدا ہوجائے گی اور آپ کو کہیں بھی کچھ بولنے میں کسی قسم کی جھجک محسوس نہ ہوگی۔

نواں دن

آج آپ جان بوجھ کر کسی ایسے دوست یا رشتے دار سے ملیے جو نہایت شرمیلا، خاموش طبع اور تنہائی پسند ہو۔ اس سے گفتگو کیجیے۔ اسے آپ اپنے طور پر گفتگو کرنے کی پوری سہولت دیجئے اگر وہ جھجک رہا تو تب بھی اسے بولنے کا موقع دیجئے اور اس کی تمام باتیں نہایت غور سے سنئے اور جہاں کہیں موقع ہو یا ضرورت سمجھئے اپنے خیالات کا بھی ضروری اظہار کیجیے۔

دسواں دن

آج اتنے دنوں کے بعد آپ کو اپنے طور پر کافی مطمئن ہو جانا چاہیے۔ اب آپ کے اندر اتنی خود اعتمادی پیدا ہوجانی چاہیے کہ آپ مستقبل کے بارے میں کوئی خوف اور اندیشہ محسوس نہ کریں۔ کیا آپ واقعی اپنی زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہونے لگی ہیں۔

اب آپ کے ذہن میں وہ کشمکش موجود نہ ہونی چاہیے جو پہلے ہوا کرتی تھی ہمیشہ تعمیری اور مثبت خیالات کو دماغ میں جگہ دیں تاکہ طبیعت میں کسی قسم کی کبیدگی پیدا نہ ہونے پائے۔ منفی اور بے کار قسم کی باتیں سوچنا ترک کر دیجئے۔

آخر میں ہم آپ کو ایک مرتبہ پھر یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ دس روزہ تعمیری پروگرام ختم نہیں ہوگیا۔ اگر آپ میں اب بھی پوری طرح خود اعتمادی پیدا نہیں ہوسکی ہے تو مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسے ازسرنو دوبارہ شروع کرسکتے ہیں جب تک آپ کے اندر پوری طرح خود اعتمادی پیدا نہ ہوجائے اس کورس کو چند دنوں کا وقفہ دے کر پھر شروع کر دیں آخر میں آپ کو اپنے مقصد میں ضرور کامیابی ہوگی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مریم ذکی

Leave a Reply