بچوں کے احساسات کو سمجھنا

مختلف سوچوں کے مجموعہ نام احساس ہے۔اور سوچ ایک ایسی حقیقت ہے جسکی ناتو کوئی شکل ہے نہ تعریف بلکہ یہ ذہن میں اٹھنے والے خیالات ،تصورات ،غم،دکھ،خوف اور الجھنوں کے مجموعے کا نام ہے۔ان کیفیتوں کی نہ ہم تصویر کھنچ سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل طو رپر تحریر کرسکتے ہیں۔یہی چیز احساس ہے۔اور یہ احساس تین قسم کا ہوتا ہے۔

۱- احساس محرومی

۲- احساس کمتری

۳- احساس برتری

{احساس محرومی کو احساس کمتری نہ سمجھا جائے}

ا حساس محرومی اوراحساس کمتری کو سمجھنا یہ والدین کی اہم ذمہ داری ہے،کیونکہ جو بچے احساس محرومی کا شکا ر ہوتے ہیں کوئی بھی ان کی شخصیت کو آسانی سے نہیں سمجھ سکتا ۔اکثر ہم اخبارات میں احساس کمتری سے بچاؤ کے متعلق پڑھتے رہتے ہیں۔لیکن احساس محرومی پر کچھ زور نہیں دیا جاتا۔احساس محرومی کا مطلب ہے کہ انسان کو ایک ایسا احساس ستاتا رہے کہ وہ تمام افراد سے کچھ الگ ہے۔اسکے پاس کوئی چیز کی زیادتی یا کمی کا پایا جا نا۔اور اس بات کا احساس ہمیشہ ہونااحساس محرومی کہلاتا ہے۔جب اس مرض کی کیفیت انسان پر چھا جاتی ہے تووہ اپنی خود اعتمادی کو صرف لوگوں کے سامنے بنائی رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔لیکن وہ اپنے اندر سے خود اعتمادی کو کھودیتا ہے۔اسے انگریزی میںlack of confident کہتے ہیں۔احساس محرومی کے شکا ر بچے بہت زیادہ حساس طبیعت کے ہوتے ہیں،اور وہ اپنی قابلیت و صلاحیت کی جوہر نہیں دکھا سکتے۔والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد پر نظر رکھیں کہ کہیں ان کے بچے احساس محرومی کی کیفیت میں مبتلا تو نہیں۔

وہ بچے احساس محرومی کا شکا ر ہوتے ہیں جو تنہائی پسند ہوتے ہیں ’’اپنے کھیل یا اپنی مشغولیات میں کسی کو شامل نہیں کرتے۔بلکہ تنہاخود کھیلتے ہیں،اور وہ بچے بھی شامل ہیں جو جسمانی نقص کو محسوس کرتے ہوں ۔تقریبا ۸۰ فیصد بچے اسی و جہ سے متا ثر ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر جوپستہ قد ہو،بہت لمبا قد ،جسمانی نقص ہو،ان بچوں میں احساس محرومی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

٭چند بچے ایسے ہوتے ہیں جو اپنی محرومی کی شکایت والدین یااقرابا سے کیا کرتے ہیں۔

٭چند بچے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے احساسات کو چھپا کر خود دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں۔ایسے بچے بہت کمزور اور حساس ہوتے ہیں۔اور دماغی طور پر بھی کمزور ہوجا تے ہیں اور متشکی،وہم،گمان،غصہ،بات کو غلط انداز میں سمجھنا یعنی والدین کی بات کا الٹا اثر reactionدکھانے لگتے ہیں۔

٭ چند بچے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ذہن کو استعمال کر کے احساس یا نقص کو چھپا نے کے لئے ظاہری چیزوں کا سہارا لیتے ہیں،اور adjustکر بھی لیتے ہیں لیکن انھیں اس محرومی کا احساس ہمیشہ ستا تا رہتا ہے۔

٭چند بچے ایسے ہوتے ہیں جو اپنی احساس محرومی کی شکا یت خود کسی سے نہیں کرتے اور دنیا کے سامنے اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کرنا چا ہتے ہیں، اپنی صلاحیتوں ،قابلیتوں کا اظہار بھی کرتے ہیں،لیکن جب کبھی احساس محرومی کا دورہ پڑتا ہے تو وہ ڈپریشن depration میں چلے جاتے ہیں،اور پھر وہا ں سے ان کا نکلنا مشکل ہو جاتا ہے اورجب کسی بچے میں احساس محرومی کی کیفیت بڑھ جا تی ہے تو وہ اپنی خود اعتمادی جیسے قیمتی ہتھیار سے محروم ہو جاتا ہے۔وہ دینا کی نظر میں قابل ہوتا ہے۔لیکن وہ اپنے آپ کی نظر میں نا اہل شخصیت سمجھتا ہے۔والدین اس کیفیت کو احساس کمتری سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر کسی کے والدین گذر جائیں۔تو اکثر یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ بچے بہت محنتی ہوتے ہیں۔ اعلی درجات سے کا میاب ہو تے ہیں۔لیکن ان کی دلی کیفیت احساس محرومی سے بھری ہو تی ہے۔یہی تمام ذہنی کیفیت کا نام احساس محرومی ہے۔

٭بعض بڑے افراد بھی احساس محرومی کا شکا ر ہوتے ہیں ۔اور وہ لوگ عجز و انکساری کو اختیار کر یتے ہیں۔اور وہ اپنی کم ما ئیگی کا اعتراف اللہ کے سامنے کرتے ہیں،اور انسان اپنی ہر کا میابی کو اپنی قابلیتوں کی وجہہ نہیں بلکہ اللہ کا فضل و کرم سمجھتا ہے،اور اللہ کے آگے گڑ گڑاتا ہے،اپنی کا میابی پر غرور کے بجا ئے اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوجا تا ہے۔اور دوسروں کو بھی وہ مقام دیتا ہے جو اسے حاصل ہے۔اور اسے یہ احساس رہتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالی کی محبت کی بدولت ہے،جو اسکے عیوب کو چھپا کر عزت ومقام عطا کیا۔ اس عجز و انکساری کی کیفیت کو لوگ احساس کمتری سمجھتے ہیں۔جبکہ احساس بر تری کا شکا ر ہمیشہ خدا کے نا شکرے لوگ ہوتے ہیں وہ اپنی صلا حیتوں، قابلیتوں اور کا میا بیوں کو اللہ کی عطا کے بجا ئے اپنی کوششوں کا پھل سمجھتے ہیں۔ احساس برتری رکھنے والے ہمیشہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ دوسروں کو حقیر سمجھنا، دوسروں سے بہتر سلوک نہ کرناان کی عادت بن جا تی ہے۔احساس برتری غرور و تکبر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے،جو شیطان فرعون اور قارون کی میراث ہے۔احساس برتری کا علا ج اس وقت ہو سکتا ہے،جب برتری کے بجا ئے احساس بندگی پیدا ہو۔

احساس کمتری کا شکار تقریبا وہ بچے ہو تے ہیں۔ہر وقت یا اکثر ناکامی ملی ہو۔ ایسے بچے جن کے والدین بہت زیادہ دباو میں رکھتے ہوں،جو والدین کے بے لاگ فیصلوں کے آگے مجبور ہوں۔یا جن کے والدین کی طبیعت میں غصہ پا یا جاتا ہوں، یا وہ بچے جن کے والدین آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوںیا ہمیشہ گھر میں طنز و طعن کا ما حول ہو۔ اس اسے بچوں کے ذہنوں پر خوف طاری رہتا ہے،یہاں تک کہ بچے ہکلاتے ہیں۔یہ احساس کمتری کا سب سے پہلا اثر ہے جو بچوں کی با ت کرنے کی صلا حیت کو ختم کردیتا ہے۔ وہ بچے جن کی زندگی میں محبتوں کی کمی پا ئی جا تی ہے۔وہ بچے ذہنی طور پر کمزور ،اور احساس کمتری کا شکا ر ہو تے ہیں۔اکثر والدین کو یہ غلط فہمی لا حق رہتی ہے کہ بچوں سے محبت کی جا ئے تو بگڑ جا تے ہیں،والدین کو یہ پتہ ہو نا چا ہیے کہ جب یہ والدین کی محبت کو ترستا ہے تو وہ احساس کمتری سے آگے بڑھ کر احساس محرومی کا شکا ر ہو جا تا ہے اور ذہنی تناؤ کی وجہہ سے ڈپریشن میں چلا جا تا ہے۔اس وقت کیا حاصل جب آپ کی متاع حیات (اولاد)کی ذہنی قوت ہی ختم ہو جا ئے۔اور احساس کمتری میں مبتلاء بچے اپنی فیصلہ کی طا قت کھو دیتے ہیں۔احساس کمتری بچے کی شخصیت،اسکے جسما نی اعضاء اور اس کی ذہنی قوت پر اثر انداز ہو تی ہے اور وہ کسی سے ملنے کو پسند نہیں کرتا،اسکے دوستوں کا حلقہ بھی محدود ہو تا ہے،اسمیں حوصلہ کی کمی پا ئی جا تی ہے۔اکثر والدین کو یہ غلط فہمی ہو تی ہے کہ بچوں کی تعریف کر نے پر وہ بگڑ جا ئیں گے۔ اس لئے ہمیشہ طنز یہ کلمات اور ہمیشہ نصیحت کیا کر تے ہیں۔والدین کو چا ہئے کہ اس سے گریز کریں ۔کیو نکہ ایسا کر نے سے بچے احساس کمتری کا شکا ر ہو جاتے ہیں۔ طنز یہ کلمات کے بجا ئے محبت سے سمجھا یا جا ئے۔ہمیشہ کی نصیحت کے بجا ئے بچے کی خو بیوں کی تعریف کی جا ئے۔تا کہ بچہ آپ سے اپنے بارے میں اچھے کلما ت سن کر اچھا بننے کی کو شش کرے۔آپ کے سامنے اس کی جو imageہے اسی کے خوف سے بگڑنے سے محفوظ رہے گا۔ احساس کمتری کو دور کرنے کا علا ج یہی ہے کہ محبت و شفقت کا انجکشن دیا جا ئے۔ورنہ آپکی کڑوی کسیلی نصیحت بچے کو با غی ونا فرمان بنا دے گی۔ والدین کو چا ہئے کہ احساس کمتری اوراحساس محرومی کے فرق کو سمجھیں۔کیو نکہ اولا د کا مستقبل آپ ہی کے ہا تھ میں ہے۔ اولاد کے سلسلہ میں اللہ نے اپنے بعد والدین کو اختیا ر دیا ہے۔اللہ تعالی کے پاس والدین جواب دہ ہوںگے۔ یہی بات ہمیں اس حدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے جس میں آپ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص مسئول (جواب دہ) ہے اور اس سے اس کے زیردستوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور … عورت جواب دہ ہے مرد کے گھر بار اور بچوں کے سلسلے میں۔ll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ہادیہ نوشین

Leave a Reply