کامیاب ازدواجی زندگی کی اہم شرط ’’سمجھوتہ‘‘

مشرقی معاشرے کی خوبصورتی اس کی حسین اور پائیدار خاندانی روایتیں ہیں جن میں ایک اہم روایت شادی کا بندھن اور اس بندھن کو قائم رکھنا ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں شادی ایک اہم مذہبی اور معاشرتی فریضہ ہے جسے نبھانا آسان نہیں ہے۔ مغربی معاشرے کے مقابلے میں مشرقی معاشرے میں عورت کو ایک اہم اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ اسی طرح اس کے خاندانی فرائض اور ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں اور شادی جیسے رشتے کو قائم رکھنے اور ازدواجی زندگی کا کامیاب بنانے میں بھی عورت ہی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن کئی جگہ پر عورت کے ساتھ مرد کا تعاون بھی بے مثال ہوتا ہے۔ زندگی کی مثال گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہے اور میاں بیوی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے باہمی تعاون سے زندگی کی گاڑی رواں دواں رہتی ہے لیکن اگر ایک پہیہ اپنا کام چھوڑے تو گاڑی گھیسٹ گھیسٹ کر چلتی ہے اور پھر رک جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں کے متعلقہ لوگ نہایت متاثر ہوتے ہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے میاں، بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون اور سمجھوتے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہنے سے ایک دوسرے کی عادت، پسند و ناپسند، رہن سہن، زندگی گزارنے کا سلیقہ سب ہی کچھ معلوم ہو جاتا ہے اور ان ہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کامیاب ازدواجی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ کیوں کہ شادی شدہ زندگی میں بدترین لمحات وہی نہیں ہوتے جو سسرال والوں کے طعنوں یا دیگر خاندان والوں کی تلخ و ترش باتوں اور جھگڑوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، بلکہ اکثر اوقات میاں بیوی کے درمیان متضاد طرزِ زندگی اور پسند و ناپسند کا فرق بھی لڑائی جھگڑے اور فساد کا باعث بن جاتا ہے۔ میاں کو اگر گرما گرم چاول پسند ہیں، جب کہ بیگم صاحبہ روٹی کھلانے پر اصرار کر رہی ہیں، خاتون جروں کا پروگرام دیکھنا چاہتی ہیں جب کہ صاحب کرکٹ کا چینل بدلنے کے لیے کسی طور پر راضی نہیں، ایسے میں دوسرے سے اپنی بات منوانا یا ہر بار کسی ایک کا اپنے شوق کی قربانی دینا آسان کام نہیں اور اگر دونوں کے شوق، دلچسپیاں، مشاغل، افکار و خیالات اور زندگی سے متعلق مجموعی رائے بھی مختلف ہو تو اختلافات کا دائرہ مزید وسیع تر ہو جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی اور معمولی باتوں پر بھی بحث و تکرار کی نوبت آجاتی ہے یا پھر دوسری صورت میں اندر ہی اندر جلتے کڑھتے زندگی خاموش تماشائی بنے گزرتی رہتی ہے۔

تجربہ کار اور دانا خواتین و حضرات اپنی پسند اور انا کی عینک اتار کر اپنے شریک حیات کی پسند و ناپسند کو ترجیح دینا ہی کامیاب ازدواجی زندگی کا راز بتاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو شادی کو نام ہی سمجھوتے کا دیتے ہیں۔ ہاں! ان سمجھوتوں کی نوعیت میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ شادی سے متعلق لوگوں کے مشاہدات، تجربات اور خیالات بھی ایک دوسرے سے اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بھی آپ نے یہ عملی لطیفہ بھی سن رکھا ہوگا کہ شادی چیز ہی ایسی ہے جسے کرنے اور نہ کرنے والے دونوں ہی پچھتاتے ہیں۔ تاہم ایسے افراد کی تعداد کم ہے جو دانستہ عمر بھر شادی نہیں کرتے۔ بہرحال شادی کرنے والے پچھتاتے ہوں یا نہیں لیکن یہ بات تو طے ہے کہ انھیں ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے کافی مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اپنے مزاج کے برعکس بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ اگر میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی ہو اور وہ ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھتے ہوں تو دونوں کو برداشت اور سمجھوتے جیسے تجربات کا سامنا کم سے کم کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی شادی شدہ شخص یہ دعویٰ کر کے برداشت، تحمل اور قربانی یا دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی خواہش کو دبانے جیسے تجربات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان تجربات کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً اگر میاں کو ہر وقت باہر گھومنے پھرنے کا شوق ہے جب کہ خاتون کو گھر میں رہ کر خانہ داری کرنے میں لطف آتا ہے تو اس طرح کے میاں بیوی ایک دوسرے کی باتیں اگر مان لیں تو زندگی سہل ہوجائے۔ اگر زندگی کے چھوٹے چھوٹے معمولات میں ہی ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو زندگی گزارنے میں اور کاٹنے میں فرق مشکل ہوجائے گا۔ جب کہ شادی شدہ جوڑے کا کہنا ہے کہ شادی کے ابتدائی دنوں میں ان کے درمیان بہت معمولی معمولی باتوں پر بھی اکثر لڑائی جھگڑے کی نوبت آجاتی تھی۔ اگر ان ابتدائی دنوں کا موازنہ کیا جائے تو آج یہ فرق ضرور سامنے آتا ہے کہ فرد کی زندگی اور دوسرے معاملات سے ہٹ کر اختلافات آج بھی کہیں نہ کہیں موجود ضرور ہیں۔ لڑائی جھگڑے کی نوبت شادی کے ابتدائی دنوں میں آتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ زندگی میں سامنے والے کو بھی اتنی ہی حیثیت حاصل ہے جتنی ہمیں۔ اس لیے جب بھی کوئی ایسا مسئلہ ہو آپس میں بیٹھ کر باقاعدہ باہمی مشاوت کرلیں یہ اس کا حل ہو سکتا ہے؟ اور یوں کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکل آتی ہے۔

اختلافات صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتے، اس کے پہیہ میں سب سے پہلے بچے آتے ہیں۔ اس طرح میاں بیوی اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی ناکام کوشش میں اپنے بچوں کے ذہن میں منفی اور کمزور خیالات کا احساس ڈال دیتے ہیں کیوں کہ بچہ جو دیکھے گا، سنے گا اپنی سمجھ کے مطابق اسی چیز کو ذہن میں بٹھالے گا جو آگے چل کر اس کی شخصیت میں رجحان پیدا کرے گا۔

ان مسائل کے علاوہ میاں بیوی کے درمیان ایک مسئلہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ صاحب کا حلقہ احباب خاصا وسیع ہوتا ہے اور بیگم کو صرف رشتہ داروں سے میل ملاپ کی عادت ہوتی ہے اور شوہر کے دوستوں کی مہمان نوازی اور ان کے گھر آجانے سے کوفت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کبھی بیگم صاحبہ اپنے شوہر کے دوستوں کی مہمان نوازی کرلیں اور کبھی ان کے ساتھ مہمان بن کر چلی جائیں جب کہ شوہر صاحب بھی اپنے سسرال اور دیگر رشتے داروں کے گھر آنے جانے پر اعتراض نہ کریں تو یہ مسئلہ بخوبی حل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر دونوں امن پسند ہوں تو بات بن سکتی ہے، ورنہ پھر گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ گھر میں ٹیم ورک کے ذریعے ہی سدھار لایا جاسکتا ہے کوئی بھی شخص بہترین یا بدترین نہیں ہوتا ہے۔ یکساں اور مناسب رویے اپنا کر ہی زندگی کو رواں دواں اور گزارنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کو دلائل سے قائل کرنے کی ہمہ وقت کوشش کرنی چاہیے۔ ہرمسئلہ کا حل لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا، آپس میں افہام و تفہیم سے ہی مسئلے کا حل نکالاجاسکتا ہے خواہ مخواہ کی ناراضگیاں ایک دوسرے کی کم عقلی کو ظاہر کرتی ہیں اور آپس میں دوری بڑھاتی ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ سمجھوتہ اور تعاون ہی اچھی اور خوب صورت ازدواجی زندگی گزارنے کا ذریعہ بنتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کی عادات میں ڈھل کر مکمل آئیڈل بن جاتے ہیں۔ کوئی بھی شخص بہترین یا بدترین نہیں ہوتا، حالات اور واقعات سے سیکھنے کا موقع ملے تو سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے کا انتہائی خیال رکھنے سے ہی آپس میں محبت اور خوش گوار زندگی کی ڈور مضبوط سے مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔

زندگی کئی ملے جلے تجربات کا نام ہے اور بالخصوص شادی شدہ زندگی، اعتماد، سمجھوتے، ہم آہنگی اور محبت کے سہارے گزرتی ہے۔ آپ کا شریک حیات چاہے آپ جیسے مشاغل اور دلچسپیاں نہ رکھتا ہو مگر آپ کو اس کی خوشی کے لیے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی سے باہمی مفاہمت پیدا ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ شادی کو کامیاب بنانے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے اپنی خواہشات پر دوسروں کی خواہشات کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔ خوشیاں بانٹنے اور خوشیاں وصول کرنے کے لیے اپنے خیالات، نظریات اور پسند و ناپسند سے بھی بعض اوقات دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ شادی سے پہلے کی محبت میں دنیا زیادہ دلکش اور زیادہ خوش رنگ نظر آتی ہے مگر یہ رنگ اس وقت وقتی ثابت ہوتے ہیں جب ایک دوسرے میں خامیاں نظر آنے لگیں۔ شادی کے بعد جنم لینے والی محبت کے رنگ زیادہ یا پائیدار اور مضبوط ہوتے ہیں جنہیں دائمی اور لازوال بنانے کے لیے ایک دوسرے کو رعایت دینی پڑتی ہے اور اسی کا نام سمجھوتہ ہے۔ اس لفظ سمجھوتے سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ مشکل ترین زندگی گزاریں بلکہ اپنے شریک حیات کو بھی اپنے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ کریں اور سمجھائیں کہ ازدواجی زندگی کی کامیابی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے بغیر گزارا بہت مشکل اور ناخوشگوار ہوتا ہے۔ وہی لوگ س ضمن میں کامیاب رہتے ہیں جو ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ ایک ہی فرد سے مسلسل قربانی مانگتے رہنے سے ان کے دل میں اپنے لیے محبت کا جذبہ خالی نہ کریں۔ کچھ آپ لچک دے کر قدم آگے بڑھائیں اور کچھ سامنے والے کو موقع دیں۔ اگر اس تعاون میں کمی بیشی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں بات صرف تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ ’’سمجھوتہ‘‘ کرنے کی ہے اور آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ پہل آپ کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سائرہ بتول

Leave a Reply