گلیمر کی دنیا کے تلخ حقائق

فلمی ستاروں کا سماج اور معاشرے پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ لاکھوں افراد ان جیسا بننے کے سپنے دیکھتے ہیں اور جہاں کہیں وہ جاتے ہیں ان کی ایک جھلک پانے کے لیے لوگوں کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ ان کی اداؤں کی لوگ نقل کرتے ہیں اور ان کے لباس کی تراش خراش اور ان کے استعمال میں آنے والی اشیاء کے برانڈ تک کو لوگ اختیار کرتے ہیں، ان کے جیسی زندگی کی تمنا کرنے اور ان کے گلیمر کو دیکھ کر رشک کرتے ہیں۔ مختصراً یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ لاکھوں لوگوں کے آئیڈیل بن جاتے ہیں۔

یہ آئیڈیل اگر خود اپنی زندگی سے تنگ آکر خود کشی کرلیں تو لوگوں کو دھچکا لگتا ہے اور وہ غمگین ہوجاتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بہ ظاہر خوش و خرم اور عزت، دولت، شہرت، مقبولیت اور گلیمر سے بھرپور زندگی کے باوجود آخر ایسا کیا کچھ تھا جس نے انہیں اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ اپنی زندگی کا اپنے ہی ہاتھوں خاتمہ کرنے پر مجبور ہوگئے اور اس زندگی کا خود ہی گلا گھونٹ دیا، جس کو لاکھوں کروڑوں فین پانے کی تمنا کرتے ہیں۔ یہ سوال یکم اپریل کو چھوٹے پردے کی مشہور و مقبول اداکارہ پرتیوشا بنرجی کی خود کشی سے اٹھتا ہے۔

۲۴ سالہ پریتوشا بنرجی چھوٹے پردے کی مشہور اور مقبول ادارہ تھیں۔ انھوں نے ’’کلرس‘‘ چینل کے ہٹ سیریل، بالیکا ودھو‘ سے اس دنیا میں قدم رکھا اور میڈیا میں سرخیاں بٹورنی شروع کردیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے آگے پیچھے آفر گھومنے لگے۔ اپنے پانچ سالہ کیریئر میں انھوں نے بہت سارے پروگراموں اور سیریلس میں کام کر کے شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ ملاڈ کے قریب ایک کرائے کے مکان میں وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھیں۔

جمشید پور (جھارکھنڈ) کی رہنے والی پرتیوشا بنرجی کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی کو لے کر کافی پریشان تھیں اور محض ایک روز پہلے ان کی اپنے ’بوائے فرینڈ‘ راہل راج سے بھی لڑائی ہوئی تھی۔ اسی سال پرتیوشا نے کچھ لوگوں کے گھر میں گھس کر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی بھی پولیس میں شکایت کی تھی۔ کئی بار راہل راج سے ان کے جھگڑے کی خبریں میڈیا میں آئیں۔ جب کہ ان کے پہلے دوست مکرند ملہوترا کے ساتھ ناچاقی بھی سرخیوں میں رہی ہے اور بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ۲۰۱۳ میں انھوں نے ملہوترا کے خلاف جسمانی استحصال کا کیس بھی درج کرایا تھا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ راہل راج کے ساتھ اپنے رشتے کو لے کر وہ کافی تناؤ میں تھیں۔ حالاں کہ میڈیا میں دونوں کی شادی کی خبریں بھی گشت کرتی رہی ہیں۔

فلمی دنیا سے وابستہ ستاروں کی خود کشی کا واقعہ نہ تو دنیا کے لیے نیا ہے اور نہ ہمارے ملک ہندوستان کے لیے پہلا۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کے ستاروں کی ایک فہرست ہے جنہوں نے اپنی زندگی سے تنگ آکر خود موت کو گلے لگا لیا۔ ان میں سر فہرست ہم ہالی وڈ اداکارہ مارلن منرو کو رکھ سکتے ہیں جنھوں نے بچپن کی سخت ترین زندگی گزار کر دنیا بھر میں نام پیدا کیا۔ انھیں دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ Sex anduring symbol کے طور پر جانا جاتا تھا۔

۱۹۲۶ میں لاس اینجلس میں پیدا ہونے کے بعد ان کی نشو و نما یتیم خانوں اور کیئر ہومس میں ہوئی۔ انھوں نے خود انکشاف کیا کہ ان کے ساتھ پہلی بار ریپ اس وقت ہوا جب وہ محض گیارہ سال کی تھیں۔ مگر ان تمام حالات کے باوجود وہ ظاہری دولت اور شہرت کے ایسے بلند ترین مقام کو پہنچیں جہاں وہ کروڑوں انسانوں کے دل کی دھڑکن ہوا کرتی تھیں۔ مگر افسوس کہ ڈرگس اوور ڈوز نے ۱۹۶۲ میں ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب نہ فلمی دنیا نے آج جیسی ترقی کی تھی اور نہ میڈیا اور ذرائع ابلاغ نے انسانوں کی زندگی میں آج جیسا مقام بنایا تھا۔

بالی وڈ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ ہندوستانی فلمی دنیا کسی اور معاملے میں آگے ہو یا نہ ہو مگر خود کشی کے میدان میں ضرور آگے ہے۔ یہاں فلمی ستاروں کی لمبی فہرست ہے جنہوں نے تمام تر نام نہاد گلیمر کے باوجود زندگی پر موت کو ترجیح دی۔ ان میں دویا بھارتی ایسی شخصیت ہے جنہوں نے بہت کم عمری میں بڑی شہرت حاصل کی تھی اور وہ ۱۹۹۳ میں محض ۱۹ سال کی عمر میں دنیا چھوڑ گئیں۔ اس فہرست میں وہ لڑکیاں بھی شامل ہیں جو مس انڈیا بھی رہیں اور کچھ وہ بھی ہیں جن کے سر پر مس یونیورس کا تاج سجا۔ ان تمام اسٹارس میں جنہوں نے خود کشی کے ذریعے زندگی کا خاتمہ کیا ایک خاص بات یہ نظر آتی ہے کہ اس میں اکثریت ہی نہیں بلکہ بڑی اکثریت لڑکیوں کی ہے اور مرد اس میں برائے نام ہیں جن میں کنال سنگھ اور گرودت کے نام خاص ہیں۔

گلیمر کی دنیا کے یہ مثالی کردار جنہیں دنیا کے لوگ رشک بھری نگاہوںسے دیکھتے ہیں اگر اپنی زندگی سے ایسے عاجز ہوں کہ موت کو زندگی پر ترجیح دے ڈالیں تو پھر ان کی زندگیوں کو بہ غور دیکھنے اور ان کے اندر چھپے اسرار و کوائف کو جاننے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اب سے چند ہی سال پہلے جب معروف اداکارہ جیا خان نے ممبئی میں واقع اپنے گھر پھانسی لگا کر خود کشی تو ان کے قدر دانوں کو سخت دھچکا لگا۔ اس وقت ٹائمس آف انڈیا نے لکھا:

"The alleged suicide of Jia Khan yet again highlights the pressure, frustratinon and despaire that come as part and parcel of glamour life”

ترجمہ: ’’جیاخان کی مبینہ خود کشی ایک مرتبہ پھر اس ذہنی الجھن او رانتہائی مایوسی کی کیفیت کو اجاگر کرتی ہے جو گلیمر کی زندگی کا بنیادی حصہ بن کر سامنے آتے ہیں۔‘‘

پرتیوشا بنرجی کیموت پر کچھ اس سے ملتی جلتی بات، ہندوستان نے لکھی:

’’آج کی ٹی وی انڈسٹری میں گلا کاٹ مقابلہ کلا کاروں کی زندگی میں ڈھیر سارا تناؤ بھی لے کر آتا ہے۔‘‘ مزید اس نے لکھا کہ پرتیوشا بنرجی کافی دنوں سے تناؤ میں تھیں ان کی نجی زندگی میں بھی کچھ ٹھیک نہیں چل رہا تھا۔‘‘

فلمی ستاروں کی خود کشی کے واقعات اور مذکورہ بالا باتوں سے گلیمر کی اس دنیا کے چند انتہائی تلخ حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اور حقیقت میں وہی حقائق انہیں اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیں۔ اس پورے تناظر میں اس بات کو بھی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ان تمام اسباب و عوامل کے باوجود بہت سے خوش قسمت لوگ ہیں جو تمام تر تلخیوں اور ’’گلا کاٹ مقابلے‘‘ کے درمیان بھی ثابت قدمی سے کھڑے رہتے ہیں اور ’’مردانہ وار‘‘ ان مسائل کا سامنا کرتے ہیں مگر ظاہر ہے ہر شخص تو اتنا مضبوط اور باصلاحیت نہیں ہو سکتا کہ تمام حالات کو جھیل جائے۔ چناں چہ جو لوگ کمزور ہوتے ہیں یا اپنے ضمیر پر لگنے والے تیز زخموں کی شدت اور عملی زندگی کے کچوکے برداشت نہیں کر پاتے وہ اس گلیمر کی زندگی کو ٹریجک انداز میں ختم کرلیتے ہیں۔

چند تلخ حقائق

٭ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس میدان میں قدم رکھنے والی کوئی بھی لڑکی زندگی کے اس مرحلے میں ہوتی ہے جسے نوجوانی کہا جاتا ہے اور یہ مرحلہ ذہنی پختگی کے اعتبار سے کمزور اور جذبات کے اعتبار سے ابال کا ہوتا ہے۔ چناں چہ مختلف استحصالی عوامل ان کی تمام تر اداکاری کی صلاحیتوں کے باوجود ان پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس جدوجہد میں فطری میلانات کو کئی بار شدید چوٹیں بھی آتی ہیں جو بعض اوقات مندمل نہ ہونے والے زخموں کی صورت میں باقی رہتے ہیں۔ اس پر مزید بات یہ ہوتی ہے کہ اس انڈسٹری کا اپنا انداز اور طرزِ زندگی ہوتا ہے جہاں اکثر اوقات برائی اچھائی مانی جاتی ہے اور اچھائی کو برا تصور کیا جاتا ہے۔ ضمیر کی ملامت کے باوجود اکثر لوگ خصوصاً لڑکیاں محض اس لیے اس دَل دَل میں اترتے چلے جاتے ہیں کہ ان کا مقصود دولت اور شہرت کے آسمان پر پہنچنا ہوتا ہے اور اتنی قربانی دے کر بھی اگر دولت اور عیش و عشرت نہ مل سکے تو ساری قربانی رائیگاں محسوس ہوتی ہیں اور انسان اپنے آپ سے شرمندہ اور اپنے ضمیر کا مجرم بن جاتا ہے اور زندگی عذاب ہوجاتی ہے۔ آپ اگر سپر اسٹار مارلن منرو سے لے کر آج تک کے حادثات کا جائزہ لیں گے تو یہ حقیقت صاف نظر آئے گی۔

٭ اس کے ٹھیک بعد میں ہر مرد و عورت کی زندگی کا وہ مرحلہ شروع ہوتا ہے جسے ہم خانہ آبادی کہتے ہیں۔ اس کے تقاضے سماجی اور معاشرتی طور پر معروف ہیں مگر اس انڈسٹری کا یہاں بھی الگ کلچر ہے۔ بوائے فرینڈ، لیو ان ریلیشن شپ اور وقتی دوستیاں جو اکثر مفاد پر مبنی ہوتی ہیں، لڑکیوں کو جذباتی طور پر شدید زخمی کرتی ہیں۔ رشتوں کے یہ جذباتی زخم بعض اوقات لڑکی کو اندر سے توڑ پھوڑ دیتے ہیں اور یہ صورتِ حال اس وقت اور زیادہ شدید طور پر متاثر کرتی ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی کہ ہے وہ جس شخص کی محبت میں گرفتار تھی وہ تو اس کے جسم اور اس کی دولت کے لیے ہوس کا شکار تھا اور حقیقت میں وہ کچھ بھی نہ تھا جس کا اسے یقین دلایا گیا۔

پرتیوشا کے دوست راہل راج کے بارے میں بھی پولیس تحقیقات کچھ اسی قسم کی باتیں سامنے لا رہی ہے کہ وہ فراڈی تھا، شادی شدہ تھا اور فلمی دنیا کی لڑکیوں سے دولت اینٹھنا ہی اس کا کام تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ پانچ سالہ کیریئر میں پرتیوشا نے پانچ کروڑ سے زیادہ رقم کمائی مگر پھر بھی وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔ ایسے میں یقینا وہ شدید جذباتی زخموں کا شکار ہوئی ہوگی۔ اس کلچر اور اس مفاد کو دیکھنے کے لیے فلمی ستاروں کی آئے دن ہونے والی طلاقیں اور معاشقوں کے قصے کافی ہیں جو میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

٭ اس میدان میں قدم رکھنے کے بعد اس کے تقاضے نہ صرف ذہن و فکر اور طرزِ زندگی کو ہی تبدیل کردیتے ہیں بلکہ انسان کو اس راستے کا راہی بنا دیتے ہیں جہاں پہنچ کر اگر قارون کا خزانہ بھی مل جائے تو ناکافی ہوتا ہے۔ لگزری طرزِ حیات، سجے دھجے اور آرام میں مثالی فلیٹ، مہنگی گاڑیاں، قیمتی زیورات اور انتہائی مہنگے عجیب و غریب تراش و خراش کے ڈیز ائز لباس اور اپنے حسن و جسم کو مینٹین کرنے پر ہونے والے اخراجات اکثر اوقات بڑی آمدنی پر بھی بھاری ہوتے ہیں اور بہ ظاہر بہت کچھ روپے پیسے کمانے کے باوجود انسان کی ضرورتیں پوری نہیں ہو پاتیں۔ اسی دباؤ میں آکر بعض لڑکیاں غیر اخلاقی پیشے میں بھی قدم رکھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں یہ حقیقت گزشتہ مہینوں حیدر آباد کے ایک پولیس چھاپے سے حاصل ہونے والے حقائق ہیں جہاں پوچھ تاچھ کے دوران گرفتار شدہ لڑکی نے ان حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ کئی مشہور ادا کارائیں بھی اس میں شامل ہیں۔

ان تمام حقائق کے ساتھ ساتھ کام کرنے اور کام حاصل کرنے کا دباؤ ایک الگ قسم کا پریشر انسانی جسم و ذہن پر مسلسل بنائے رکھتا ہے اور اگر یہ تمام عوامل بدقسمتی سے ایک ساتھ جمع ہوجائیں تو انسان شدید قسم کی مایوسی میں چلا جاتا ہے جہاں اسے کوئی راہ نجات نظر نہیں آتی۔ اسی شدید مایوسی اور ناامیدی کا نام ہی تو ڈپریشن ہے او ریہی ڈپریشن گلیمر کی دنیا کے ان افراد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا خود ہی خاتمہ کرلیں کہ اس نامرادی کی کیفیت سے نجات حاصل ہوجائے۔

فلمی ستاروں کی یہ عبرت ناک زندگی حقیقت میں اتنی حسین اور دلکش نہیں جتنی لوگوں کو نظر آتی ہے اس کے برخلاف حقیقت یہ ہے کہ لوگ اگر اس زندگی کے کڑوے سچ اور تلخ حقائق سے آگاہ ہو جائیں تو اس پر رشک کرنا تو دور کی بات ہے اس کے قریب بھی نہ جائیں کہ یہ زندگی تو انسان کے سکون و اطمینان کی غارت گر اور دشمن ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پر سکون زندگی کا راز دولت میں نہیں بلکہ قناعت اور میانہ روی میں ہے اور زندگی کی اصل کامیابی شہرت کے اڑن کھٹولے کی سواری نہیں بلکہ وہ پرسکون زندگی ہے جسے انسان اپنے اہل و عیال اور اہل خانہ کے ساتھ محبت بھرے ماحول میں گزارے خواہ اس کے پاس سامان عیش و عشرت ہو یا نہ ہو۔

تو کیا ہم گلیمر کی دنیا کے ان ستاروں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کو تیار ہیں!lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply