ریاضی

حساب سے خوف زدہ بچے!

ہم یوں تو حساب کتاب کے بڑے پکے ہوتے ہیں ، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کونسا کام کب اور کیسے کرنا ہے لیکن نہ جانے کیوں نصاب کے حساب سے جان جاتی ہے۔میں اپنی ہی بات کروں شروع سے ہی میری حساب سے پرانی دشمنی لگتی ہے جو بھرپور دھیان دینے کے باوجود بھی سمجھ میں نہیں آیا البتہ اللہ کا فضل تھا کہ کبھی فیل نہیں ہوئی۔یہ وہ واحد سبجیکٹ تھا جیسے دیکھ کر دل کلستا رہتا تھا۔اسی وجہ سے میرا ملک ایک عظیم ڈاکٹر سے محروم رہ گیا۔ سائن، کاز، ٹھیٹھہ تو سر کے اوپر جہاز کی مانند گردش کرتے تھے اور جیومیٹری میں دلچسپی میری محض جیومیٹری باکس تک ہی محدود تھی جبکہ مثلے میرے لئے ہمیشہ مسئلے ہی رہے۔کچھ عرصہ قبل ملک کے ذہین بچوں پر ایک فیچر لکھا جس میں ریاضی کے مقابلے میں فرسٹ پرائز لینے والی ایک ننھی طالبہ کا بھی ذکر تھا۔غریب گھرانے اور سرکاری سکول میں پڑھنے والی نو سالہ بچی نے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے زیر اہتمام ہونے والا ریاضی کا مقابلہ جیت کر وطن عزیز کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ 9سالہ ماہ نور نے آسٹریلین یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے زیر اہتمام ہونے والے ریاضی کے عالمی مقابلے میں ہندوستان، سری لنکا، قطر، سعودی عرب اور بحرین سمیت بر اعظم ایشیا کے17 ممالک کے طلبہ وطالبات کو شکست دے کر اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ماہ نور کو مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلزکی جانب سے گولڈ میڈل اور اسناد سے نوازا گیا ہے۔ ماہ نور کی ذہانت نے ثابت کر دیا کہ ٹیلنٹ صرف بڑے شہروں میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ چھوٹے شہر اور سرکاری سکول بھی ذہانت کی دولت سے مالا مال ہیں ضرورت صرف اس ٹیلنٹ کو نکھارنے کی ہے۔ ریاضی سے صرف میری ہی نہیں ملک کے 90فیصد بچوں کی جان جاتی ہے۔ پتا نہیں کیوں کہ سبجیکٹ سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ اگر آپ کو بھی اپنے سکول کا دور یاد ہو تو تکلیف دہ یادوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ریاضی کے سوال بڑے مشکل ہوتے تھے۔اس میں سراسر قصور ہماری سمجھ کا ہے لیکن کیا کریں جناب ہالینڈ کے ماہرین اسے ہماری نہیں بلکہ ہمارے والدہ کی غلطی قرار دیتے ہیں کہتے ہیں یہ مسئلہ ہم میں سے اکثرکے ساتھ پیش آتاہے کہ باقی مضامین میں تو کوئی مشکل نہیں ہوتی لیکن ریاضی بہت رلاتی ہے۔

یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ سیکھنا انسانی جبلت کا حصہ ہے اور اس فطری عمل کا آغاز انسان کی پیدائش کے ساتھ ہو جاتا ہے لیکن ایک نئے مطالعے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کی ریاضی کی استعداد کا فیصلہ اس کی پیدائش سے قبل ماں کے پیٹ میں ہوجاتا ہے۔لہذا اگر آپ دوجمع دو چار کی کمزوری کے مسئلے سے دوچار ہیں تو اس کے لئے آپ اپنی والدہ سے گلہ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس تحقیق میں حاملہ ماں کے ہارمون کی سطح کو بچوں کی ریاضی کی صلاحیت کے ساتھ منسلک بتایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ حمل کے دوران جن ماؤں میں ’’تھائی راکسن ہارمون‘‘ کی سطح کم تھی ان کے بچوں میں پانچ سال کی عمر میں ریاضی کی مشقوں میں بدتر کار کردگی دکھانے کا امکان دوگنا تھا۔یو وی یونیورسٹی ایمسٹرڈم سے منسلک محقق ڈاکٹر مارٹن فنکن کا مطالعہ پیدائش سے قبل اور پانچ برس کی عمر تک پہنچنے والے 1,200 بچوں پر کیا گیا۔ مطالعے سے وابستہ محققین نے حمل کے تیسرے مہینے میں ماؤں کی تھائی راکسن ہارمون کی سطح کا معائنہ کیا اوراس کا ریکارڈ تیار کیا۔ بعد میں نتیجے کا موازنہ ان کے پانچ سال کے بچوں کی زبان کی مشقوں اور ریاضی کی مشقوں کے ٹیسٹ کے سکور کے ساتھ کیا گیا۔نتائج سے واضح ہوا کہ خاندانی پس منظراور بچے کی پیدائش کے وقت کی صحت جیسے عوامل کو شامل کرنے کے بعد بھی یہ نتیجہ بالکل درست ثابت ہوا کہ جن ماؤں میں بچے کی پیدائش سے قبل تھائی راکسن ہارمونز کی سطح کم تھی ان کے بچوں میں ریاضی کی صلاحیت کمزور ہونے کا امکان۹۰ فیصد تک تھا۔ماہرین نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر مطالعے میں ہارمون کی سطح کا کم ہونا بچے کی زبان سیکھنے کی اور الفاظ یاد رکھنے کی صلاحیت کے ساتھ منسلک نہیں تھا۔ڈاکٹر فنکن نے کہا کہ کیونکہ ہماری زبان سیکھنے کی صلاحیت کا دارومدار خارجی عوامل یعنی ہماری پرورش اور ماحول پرہوتا ہے شاید یہ ایک بڑی وجہ ہے جو سیکھنے پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن جہاں تک ریاضی کی صلاحیتوں کا تعلق ہے تو اس کا سراغ براہ راست طور پردماغ کی نشوونما سے لگایا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر فنکن کے مطابق ان کا مطالعہ جاری ہے جو بچوں کے اسکول کے زمانے میں بھی ان کی نگرانی کرے گا کیونکہ مطالعے میں ابھی یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ بالغ ہونے پر بھی کیا ریاضی میں دشواری کے مسائل اسی طرح برقرار رہتے ہیں یا نہیں؟

تھائی رائڈ فاونڈیشن کے سابق سرپرست برطانوی پروفیسرجان لازارس نے کہا کہ حمل کے دوران ایک نوزائیدہ بچے کا جسم تھائی راکسن ہارمون بنانے کے قابل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بچہ ماں سے ملنے والی ہارمون کی مقدار پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہارمون کی کمی کی ایک بڑی وجہ غذا میں آئیوڈین کی کمی ہے۔ آئیوڈین تھائی راکسن کا ایک اہم جزو ہے جو دودھ اور مچھلی میں پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر حاملہ ماں کی خوراک میں آئیوڈین کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔تھائی راکسن ایک اہم ہارمون ہے جسے تھائی رائڈ غدود بناتا ہے۔ اس کا متبادل نام ٹی فور ہے جوخفیہ طور پر خون میں شامل ہے۔ اس ہارمون کی سست پیداوار کو ’’ہائپوتھائی رائڈ زم‘‘ کہا جاتا ہے۔تھائی رائڈ غدود کو تھائی راکسن ہارمون بنانے کے لیے آئیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔ تھائی راکسن ہارمون میٹا بولزم اور نظام انہضام سے لے کر دل کی دھڑکن اور بلند فشار خون کو اعتدال میں رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لئے بھی بہت اہم ہے۔

ہر طالب علم مخصوص مضامین میں خصوصی دلچسپی رکھتا ہے جسے دیکھ کر ہی کہا جاتا ہے کہ وہ اس میں ضرور کامیابی حاصل کر لے گا۔ کچھ مضامین ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں طالب علم اپنی دلچسپی اور شوق نہ ہونے کے باوجود بہ حالت مجبوری پڑھتے ہیں، صرف اس لئے کہ انہیں ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے ہی مضامین میں ایک مضمون ریاضی یعنی میتھس کا بھی ہے، جسے خشک مضمون بھی کہا جاتا ہے۔طلبہ کی اکثریت اس مضمون کو پڑھنا پسند نہیں کرتی، جس کی وجہ اس کا مشکل مضمون ہونا ہے حالانکہ ماہرین تعلیم کی اکثریت اس بات پر زرو دیتی ہے کہ ریاضی سے زیادہ آسان مضمون کوئی دوسرا نہیں کیوں کہ نہ تو اس میں لمبے لمبے فارمولے یاد کرنا ہوتے ہیں اور نہ ہی اس میں بڑے بڑے سوال جواب ہوتے ہیں کہ جنہیں یاد کرنے کے لئے طلبہ کو رٹا لگانے کی ضرورت پڑتی ہو۔ حساب صرف سمجھنے کا مضمون ہے، جس سے طالب علم کی ذہنی استعداد کا پتہ چلتا ہے۔ اس سے نہ صرف ذہن کی مشق ہوتی ہے بلکہ یہ زندگی کے ہر میدان میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

اکثر طلبہ ریاضی کو پسند کرنے کے باوجود اسے صحیح طرح سے سمجھ نہیں پاتے اور اس مسئلے کو لے کر ان طلبہ کے والدین بھی پریشان رہتے ہیں۔ کہتے ہیں ریاضی پڑھنے کی بجائے سمجھی جائے تو بآسانی سوال حل کئے جا سکتے ہیں لیکن مجھ سمیت جن طلبہ کو سمجھ نہیں آتی ان کے لئے ریاضی یا حساب سمجھنے کے چند آسان نسخے یا تراکیب تحریر کر رہی ہوںجن پر عمل کر کے وہ اپنی اس کمزوری پر قابو پا سکتے ہیں۔

حساب پڑھنے سے زیادہ سیکھنے کا مضمون ہے اس لئے سب سے پہلی اور اہم چیز توجہ مرکوز کرنا ہے۔ ریاضی کے جس مضمون یا ٹاپک پر آ کر آپ پھنس گئے ہیں تو اسے حل کئے بغیر اگلے ٹاپک کی طرف توجہ نہ دیں کیوں کہ اس طرح آپ مایوسی اورالجھن کا شکار ہو جائیں گے۔اپنی ساری توجہ اس نہ سمجھ میں آنے والے مضمون یا ٹاپک کی طرف رکھیں اس ضمن اپنے استاد یا ایسے شخص سے جسے متعلقہ ٹاپک پر عبور حاصل ہو، مدد طلب کریں۔ یاد رکھیں! حساب ایک سادہ مضمون ضرور ہے مگر اس میں گھماؤ پھراؤ زیادہ ہے۔ آپ کی دلچسپی اور مکمل توجہ آپ کے مسئلے کو حل کر دے گی۔ حساب میں شامل ابتدائی چیز ضرب، جمع،تقسیم اور مائنس ہوتا ہے اور تقریبا پورا میتھس ان ہی چار چیزوں پر انحصار کرتا ہے۔ اس لئے ان چار بنیادی اجزاء پر ایک میتھس کے طالب علم کو ہر طرح سے عبورہونا چاہئے۔ جو طالب علم یہ بنیادی نکات سیکھ جاتے ہیں وہ میتھس پڑھتے ہوئے کسی قسم کی الجھن یا مایوسی کا شکار نہیں ہوتے۔

ڈی وی ڈی کے ذریعے ریاضی سمجھنا آج کل بہت آسان ہو گیا ہے۔ ڈی وی ڈی دیکھنے اور اپنی کتاب سے ریاضی پڑھنے کے بعد آپ اپنے سوالات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ پڑھائی کا آغاز آسان سوالات سے کریں کیوں کہ اس سے آپ کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ اسی طرح اگر آپ ڈی وی ڈی وغیرہ کا سہارا بھی لیتے ہیں تو ان میں بھی میتھس سکھانے یا سمجھانے کے لئے سب سے آسان ترین سوالوں سے آغاز کیا جاتا ہے۔ دوران پڑھائی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں مکمل خاموشی اور سکون ہو کیوں کہ پڑھائی خصوصاً ریاضی کے لئے مکمل یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ اگر آپ کی توجہ کم ہو گی تو پھر کبھی بھی سوال حل نہیں ہوں گے۔ اس لئے پڑھنے کے دوران اگر کسی دوسری طرف توجہ نہ دیں تو یہ آپ کے لئے اچھا عمل ثابت ہو گا۔ گھر میں کسی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں بیک گراؤنڈ میں کسی قسم کا بھی شور وغل نہ ہو یعنی ٹی وی یا میوزک کی مدھم آواز بھی آپ کو ڈسڑب نہ کرتی ہو یہ چیزیں پڑھائی پر ارتکاز قائم رکھنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ گھر میں کسی ایسی جگہ کا ملنا مشکل ہے تو اسکول، کالج یا پھر یونی ورسٹی کی لائبریری ایک آئیڈیل جگہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بہت سیطلبہ کو پڑھنے کے دوران میوزک سننے کی عادت ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا وہ طالب علم کرتے ہوں جو رٹا مار تے ہوں لیکن میتھس کے طالب علم کو ان خرافات سے دور رہنا چاہیے۔ بہت سے طالب علم گروپ سٹڈی کرنا پسند کرتے ہیںجس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سٹڈی کے لئے ایک دوسرے کی فوری مدد کی جاسکتی ہے۔ میتھ کے کئی سوالات جب کسی ایک طالب علم کی سمجھ میں نہ آرہے ہوں تب دوسرا مل کر اس کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے وقت کی بچت بھی ہوتی ہے اور میتھ سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ تعلیمی سال کے آخر تک میتھ کے سوالات کبھی بھی پین سے حل نہیں کرنے بلکہ تمام رف کام پنسل کی مدد سے کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ میتھ کرتے ہوئے بار بار ہو جانے والی غلطیاں ریزر کے ذریعے مٹائی جاسکتی ہیں۔ اس طرح کام صاف ہوگا، سمجھنے میں آسانی ہو گی اور کام کرنے میں آپ کی دلچسپی بھی برقرار رہے گی۔

ہر سوال صاف ستھرے کاغذ پر کریں۔ سوال کا ہر نمبر لائن ٹو لائن لکھیں تاکہ ہر عدد واضح ہو۔ اس کے علاوہ اوور رائٹنگ یعنی ایک ہی لکھے پر بار بار نہ لکھیں اس سے صفحہ گندا ہو گا اور کام کرنے کا جی بھی نہیں چاہے گا۔ میتھ کے کام یا سوال کبھی رات گئے تک نہ کریں، یہ کام ایسا ہے جو تازہ ذہن سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے دن بھر کی تھکن اور نیند کا غلبہ لئے جب لیٹ نائیٹ میتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی تو یہ ساری کوشش بیکار جائے گی۔ اگر کوئی ورڈز پرابلمز سمجھ میں نہیں آ رہی ہے تو بہتر ہو گا اس کی ایک تصویر بنا لی جائے۔ یہ طریقہ سب سے زیادہ فزکس، Trigonometry,Calculusکے طلبہ کے لئے قابل عمل ہوتا ہے لیکن ریاضی کے اسٹوڈنٹس بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔یہ بات یاد رکھیں کہ میتھ جیسے خشک مضمون میں کوئی شارٹ کٹ یا آسانی نہیں ہے۔ آپ کو ہر سوال قدم بہ قدم حل کرنا ہی ہوتا ہے۔

ان تمام ٹپس (Tips) میں سب سے اہم ٹپ صرف اور صرف خود اعتمادی ہے۔ اگر آپ خوداعتمادی سے مالا مال ہیں تو میتھ کرنا آپ کے لئے کبھی دردسر نہیں بن سکتا۔یہ ٹپس یقینا آپ کے لئے کار آمد ہونگی لیکن غربت کے شکار بچوں کو پرائمری سکول سے ہی ریاضی میں دگنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اس امر کا اظہار ایک ریسرچ میں کیا گیا ہے۔ سٹڈی میں ایک مختصر مگر سخت ’’ٹیوٹورنگ سکیم‘‘ سامنے آئی ہے جو جدوجہد میں مصروف بچوں کو ریاضی میں مضبوط بنا سکتی ہے۔ انگلینڈ کی ’’ایوری چائلڈ کاؤنٹس اسکیم‘‘ میں اعداد و شمار کی سطح پر کمزور 47,237 بچوں پر تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق 73% کمزور بچے ریاضی میں بہتر ہوگئے۔ اس سکیم کو دراصل محکمہ تعلیم نے براہ راست تیار اور نافذ کیا تھا۔ اسی طرح اگر آپ ہائی سکول یا کالج میں ریاضی کے طالب علم ہیں اور مشکل سوال حل کرنے سے پریشان ہیں تو اس پر ہونے والی کوفت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ اور گوگل سرچ کی آمد نے بہت سی مشکلات آسان کر دی ہیں تاہم ریاضی کے مشکل ترین سوالات کا حل ڈھونڈنے میں خاصی دقت پیش آتی ہے تاہم اب پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ ‘‘Microblink’’ نامی کمپنی کی آئی فون پر موجود مشہور ایپلی کیشن ‘‘Photomath’’ کو اینڈرائڈ صارفین کیلئے بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ میتھس یعنی ریاضی میں آپ کے ہمیشہ اچھے نمبرز آئیں تو کوشش کریں اسکول سے چھٹیاں کم لیں کیوں کہ ایک تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسکول سے ملنے والی بے جا چھٹیاں بچوں کے ریاضی اور ہجے یاد کرنے کی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ آسٹریا میں ہونے والی تحقیق میں 10 سے 12 سال کے 182 بچوں پر تحقیق کی گئی اور یہ معلوم ہوا کہ جب وہ 9 ہفتوں کی گرمیوں کی چھٹیاں گزار کر واپس آئے تو وہ متعدد الفاظ کے لئے ہجے بھول چکے تھے اور ریاضی کے کچھ اصول بھی ان کے ذہن سے حذف ہونے لگے تھے۔ اسی لئے چھٹیاں کرنے سے پرہیز کریں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ شروع سے ہی ایسے بچوں پر خصوصی دھیان دیں جنہیں ریاضی کے سوال حل کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ انہیں عملی طریقوں سے حساب لگانا سکھائیں، مثلاً کھانے کے اجزا ء کو ترکیب کے مطابق ناپتے وقت، سلائی کے کام میں کپڑا ناپتے وقت اور خریداری کرتے وقت۔ اس کے علاوہ حساب لگانے کے لئے بچے کو خانوں والے کاغذ دیں اور اسے تصویروں، ڈائیگراموں اور چارٹ کے ذریعے سکھائیں۔ اس طرح بچے بہ آسانی ریاضی کے مسئلے حل کر سکتے ہیں۔ کوشش کریں کہ ریاضی کو آسان شکل میں بچوں کے ذہن میں اتاریں کہ بچے اس سے بھاگیں نہیں بلکہ حساب کتاب میں ماہر ہو جائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شاذیہ سعید

تبصرہ کیجیے