نادان

’’سلام علیکم امی جان!‘‘

’’سلام علیکم ابو جان!‘‘

’’چاند دکھائی دے گیا ابو جان…‘‘

ثنا نے تیز قدموں سے چھت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔ اتنے میں باہر سے ساجد دوڑتا ہوا آیا۔ اپنی سانسیں درست کرتے ہوئے بولا۔

’’رمضان کا چاند دکھ گیا ہے، سب کو السلام علیکم۔ ابو … آج سے تراویح شروع ہوجائیں گی نا؟‘‘

’’ہاں بیٹا ساجد… آپ اچھے بچے ہیں۔ آپ تراویح کی نماز کے لیے میرے ساتھ چلئے گا۔‘‘ مرزا حشمت علی نے بیٹے کو سمجھایا۔ پورے محلے میں شور شرابہ شروع ہوگیا تھا۔ مسجدوں سے اعلان ہو رہا تھا۔ رمضان کی اہمیت بتائی جا رہی تھی۔ سحر اور افطار کا وقت بھی بتایا جا رہا تھا۔ بچے شور مچاتے ٹولیوں کی شکل میں ٹوپیاں لگائے ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ خرید و فروخت کا سلسلہ بڑھ گیا تھا۔ دودھ، ڈبل روٹی، شیر مال، لچھے، کھجور، فینی وغیرہ کی فروخت ہونے لگی۔

رمضان بھی کس قدر رحمت کا مہینہ ہے۔ گیارہ مہینے الگ۔ رمضان کا مہینہ الگ۔ خدا کی رحمتیں اور برکتیں ایسی عام ہوتی ہیں کہ کوئی بدنصیب ہی ان سے محروم رہتا ہوگا۔ نماز کا اہتمام بڑھ جاتا ہے۔ مساجد اتنی بھر جاتی ہیںگویا محلے کے محلے مسلمان ہوگئے ہوں۔ ہر طرف سروں پر ٹوپیاں نظر آتی ہیں۔ بچے اور بوڑھے خاص کر زیادہ تعداد میں نظر آنے لگتے ہیں۔ بچوں کے تو جیسے مزے ہی آجاتے ہیں … سحری میں آنکھ کھل گئی تو سحری کھائی۔ شام کو افطار میں بھی انواع و اقسام کی چیزیں۔ چھولوں کی چاٹ، فروٹ چاٹ، انڈے کے پکوڑے، بریڈ پکوڑا، لسی، غرض اتنی نعمتیں کہ عام دنوں میں رئیسوں کے یہاں بھی اہتمام نہ ہو پائے۔ یہی نہیں اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہوتا ہے کہ ہر ایک عمل کا اجر ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ گویا ایک وقت کی نماز کے ساتھ 69 نمازوں کا ثواب فری… نفل پڑھو، فرض کا ثواب پاؤ۔ شیطان کو بھی بیڑیوں میں جکڑ کر قید کر دیا جاتا ہے۔

’’ابو رمضان کے مہینے میں کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہیے نا۔‘‘ ساجد نے مرزا شجاعت علی سے دریافت کیا۔

’’ہاں بیٹا۔ غلط کام تو کبھی نہیں کرنا چاہیے لیکن اس ماہ غلط کام تو اور زیادہ برائی لاتا ہے کیوں کہ یہ رمضان کے احترام کے خلاف ہے۔ لیکن بہت سے لوگ روزے نہیں رکھتے، جب کہ وہ رکھ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف دکھا وے کے روزے رکھتے ہیں۔ نماز نہیں پڑھتے۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ غلط کام بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ نے برے کاموں کی سزا کو بھی اس مہینے میں بڑھا دیا ہے۔

’’ابو جان میں بھی روزہ رکھوں گا۔ اب میری عمر دس سال ہوگئی ہے۔ میں اپی سے چھ سال ہی تو چھوٹا ہوں… مجھے سحری میں اٹھا دیجئے گا۔

مرزا شجاعت علی بہت ہی نیک اور ایماندار مسلمان تھے۔ وہ روزے نماز کے سخت پابند تھے۔ یہی سبب ہے کہ انھوں نے گھر میں بھی اسلامی ماحول بنانے کی کوشش کی۔ بیگم زمانی بھی اپنے شوہر سے کسی طرح کم دیندار نہیں تھیں۔ ہر وقت تسبیح کا ورد رکھتیں، نمازیں پڑھتیں اور قرآن کی تلاوت کرتیں۔ ان کے دونوں بچے، بیٹی ثنا اور بیٹا ساجد بھی والدین کی طرح دین دار تھے۔ ثنا پڑھنے میں بھی بہت تیز تھی۔ گھر کے کام کاج میں بھی ثنا ہمیشہ دلچسپی لیتی۔ گھر پر خادمائیں تھیں۔ پھر بھی ثنا اپنے والدین کی خدمت کرتی۔ دادا، دادی کی ہر بات کا خیال رکھتی۔ ساجد بھی نیک بچہ تھا۔ وہ بڑوں کا کہنا مانتا تھا۔ اس نے قرآن مکمل کرلیا تھا۔ نمازیں پڑھنے لگا تھا۔ اپنے ابو کے ساتھ جمعہ اور اکثر مغرب کی نماز پڑھنے مسجد جاتا تھا۔ مرزا شجاعت علی کے گھر میں رمضان کا انتظار تقریباً ایک ماہ قبل سے ہوتا تھا۔ مکان کی سفیدی ہو رہی ہے۔ سارا گھر الٹ پلٹ، نوکر چاکر لگے ہیں۔ ایسا ماحول بن جاتا گویا شادی کا گھر ہو۔ رمضان کا چاند دیکھنے کا اہتمام ہوتا۔ دعائیں مانگی جاتیں۔ اس بار بھی سب کچھ مکمل تھا، صرف چاند کی خوش خبری باقی تھی۔ چاند کی خبر آتے ہی سارا نظارہ بدل گیا۔ بیگم زمانی سحری کے کھانوں کے انتظام میں لگ گئیں۔ ثنا ان کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔ مرزا شجاعت علی عشاء کی اذان ہوتے ہی، ساجد کے ہمراہ مسجد چلے گئے… بیگم زمانی، ثنا، ثنا کی دادی اور پڑوس کی آمنہ، ان کی بیٹی ہاجرہ… سب نے مل کر عشاء اور تراویح کا اہتمام کیا… تراویح کے بعد ضروریات سے فارغ ہوکر سب بستروں میں جا گھسے۔

صبح تین بجے بیگم زمانی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ بیدا رہوئیں، پہلے وضو کر کے تہجد ادا کی۔ ثنا کو جگایا۔ سحری کا انتظام کیا۔ چار بجے مرزا شجاعت علی کو اٹھایا۔ ساجد کی آنکھ خود بخود کھل گئی تھی… وہ بہت خوش تھا۔ سب نے ایک ساتھ سحری کھائی۔ ثنا نے بہت آہستگی سے اپنی امی کے کان میں کچھ کہا… امی نے بھی آہستگی سے ثنا کو سمجھا دیا۔ ’’اللہ اکبر … اللہ اکبر…‘‘ موذن کی آواز گونجی۔

’’روزہ بند کرلو۔۔۔ ابو سحری کا وقت ختم ہوگیا۔ سب لوگ کلی کرلیں اور روزہ کی نیت بھی۔۔۔‘‘ ساجد نے سارے گھر میں شور مچا دیا۔ عورتوں اور لڑکیوں نے گھر پر نماز کا اہتمام کیا۔ مرزا صاحب مسجد میں نماز پڑھ کر آئے اور بولے:

’’بھئی میں ذرا سا سو لوں۔ میری نیند پوری نہیں ہوئی…‘‘ مرزا حشمت بستر پر دروا زہوگئے۔

’’رمضان میں بس نیند پوری نہیں ہوتی۔ بیٹا ساجد آپ بھی سو لیں…‘‘ بیگم زمانی کی بات پر ساجد بولا،

’’نہیں امی مجھے تو نیند نہیں آرہی۔‘‘ امی آج میرا پہلا روزہ ہے۔ آپ افطار کی دعوت کرونا۔ میرے دوستوں کو بھی بلاؤنا … میں سب سے کہہ دوں… ‘‘ ہاں بیٹا! آج آپ کا پہلا روزہ ہے۔ آپ دھیان رکھئے کچھ بھی کھانا پینا نہیں اور ہاں آج شام کو آپ کے ساتھ افطار پر بہت سے مہمان ہوں گے۔ آپ اپنے دوستوں سے بھی کہہ دیجئے۔‘‘

یہ سنتے ہی ساجد نے چھلانگ لگائی اور سیدھا فرش پر … الٹے سیدھے چپل پہن کر اپنے دوستوں کے پاس رفو چکر ہوگیا۔

مرزا حشمت علی صبح نو بجے اٹھے۔ بیگم زمانی نے انھیں افطار کی دعوت کے اہتمام کے بارے میں بتایا۔ اچھا بیگم میں تو آفس جا رہا ہوں وہاں سے گاڑی اور ڈرائیور بھجوا دوں گا جو سامان منگوانا ہو کہہ دینا اور اپنے میکے فون کر کے خبر کر دیجئے۔ تقریباً سو لوگوں کے کھانے کا اہتمام کرا دیتا ہوں۔ میں میزبان ہوٹل فون کردوں گا۔ بریانی، قورمہ، روٹی وغیرہ سب وقت پر آجائے گا۔

گھر کا ماحول تبدیل ہو چکا تھا… شام کی دعوت کے اہتمام میں سارے لوگ مصروف ہوگئے۔ ثنا انٹر کالج میں پڑھتی تھی۔ ساجد پانچویں کلاس میں تھا۔ وہ تیار ہوکر اسکول جانے لگا۔ ’’ثنا باجی… آج آپ اسکول نہیں جا رہیں۔‘‘

’’ہاں! آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ آپ نے روزہ تو رکھا ہے نا …؟‘‘ ساجدنے شرارتاً آنکھیں مٹکاتے ہوئے پوچھا۔ ثنا ایک لمحے کو تو گھبرا گئی۔ اس نے بیگم زمانی کی طرف دیکھا، بیگم زمانی نے ساجد کو دس روپے دیتے ہوئے کہا:

’’ساجد لو یہ روپے۔ انھیں راستے میں کسی فقیر کو دے دینا۔ بیٹے صدقہ کرنا چاہیے…‘‘

دو بجے کا وقت تھا سارے گھر میں افراتفری کا ماحول تھا۔ ساجد کا رکشہ رکا۔ وہ طوفان کی طرح گھر میں داخل ہوا۔ بیگ ایک طرف پھینکا اور سیدھا سامنے والے کمرے میں جا گھسا۔ اچانک ساجد کو کمرے میں دیکھ کر ثنا گھبرا گئی۔

’’باجی آپ کیا کھا رہی تھیں… میں بھلا کیوں کھانے لگی۔‘‘ ’’نہیں مجھے لگا، جیسے آپ کچھ کھا رہی ہیں۔‘‘

’’چلو کپڑے تبدیل کرو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ثنا گھبرائی گھبرائی سی باہر آگئی۔ ساجد کے ذہن میں کھچڑی پک رہی تھی۔ میں نے باجی کو منہ چلاتے ہوئے دیکھا۔ باجی منع کر رہی ہیں… یہی سوچتے سوچتے اس نے کپڑے تبدیل کیے۔ ظہر کی اذان ہوگئی تھی۔ اس نے وضو کر کے نماز پڑھی اور امی کے سمجھانے پر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ اسے نیند نہیںآرہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی۔ تھوڑی تھوڑی بھوک بھی ستار رہی تھی۔ بہت دیر بعد اسے نیند آگئی۔

مغرب کا وقت قریب تھا، دو رویہ قطاروں میں لوگ آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ سروں پر ٹوپیاں، سامنے انواع و اقسام کی اشیاء۔ سب کی نظریں گھڑی پر۔ ساجد میاں شیروانی میں خوب جچ رہے تھے۔سائرن کی آواز پر سب نے افطار شروع کیا۔ بہت گہما گہمی تھی۔ کافی مہمان تھے۔ افطار کے فوراً بعد کھانا اتار دیا گیا۔ ’’اطمینان سے کھائیں … نماز کا اہتمام یہیں ہو جائے گا۔ قاری شفیق صاحب نماز پڑھائیں گے۔‘‘ مرز شجاعت علی سبھی مہمانوں سے کہہ رہے تھے۔ ساجد نے مردانہ محفل میں افطار کیا۔ افطا رکے فوراً بعد وہگھر کے اندر گیا۔ اندر بہت سی مہمان عورتیں تھیں۔ ممانی، خالی، پھوپھی، پڑوس کی آمنہ چاچی، بلقیس خالہ فرزانہ باجی، شبانہ باجی… سب افطار میں مصروف تھیں۔ اچانک اس کی نظر ثنا پر پڑی۔ ثنا سر جھکائے افکار کرنے میں مصروف تھی۔ ساجد کو دوپہر کی بات یاد آگئی۔

’’ثنا باجی… آپ افطار کر رہی ہیں۔ آپ نے تو روزہ رکھا ہی نہیں…؟‘‘ ساری عورتیں کبھی ساجد کو کبھی ثنا کو اور کبھی ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔ پھر سرگوشیاں شروع ہوگئیں۔ بیگم زمانی ہکا بکا بیٹے کو تک رہی تھیں۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں خاموش رہنے کا اشارہ کر رہی تھیں۔ مگر ساجد کہاں ماننے والا تھا۔ وہ اور زور سے بولنے لگا۔

’’آپ دوپہر میں کھا رہی تھیں۔ میں نے دیکھا تھا۔ آپ سمجھیں میں نے نہیں دیکھا…‘‘

ساجد آناً فاناً پیچھے مڑا اور پلک جھپکتے ہی غائب ہوگیا۔ ثنا سر جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی تھی۔ روہانسی ثنا نے بیگم زمانی کی طرف دیکھا۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ آج ان کا بھی روزہ نہیں ہے۔ مگر معصوم ساجد کو کون اور کیسے یہ سمجھاتا کہ اس کا روزہ کیوں نہیں ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

Leave a Reply