سویرا

اسلم مرزا دوا خانے کے بستر پر نیم درازی کی حالت میں پڑے چھت پر لٹکے پنکھے کو ٹک باندھے گھور رہے تھے۔ ان کی نیم وا آنکھیں ایک داستان کہہ رہی تھیں۔ سامنے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی ان کی اہلیہ نسیم بانو نیم غنودگی کے عالم میں غم کی تصویر بنی ہوئی تھیں۔ وہ ان کی ایک ایک حرکت پر غور کر رہی تھیں۔ ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا کہ یہ پتھر دل انسان آج اندر سے اتنا کیسے ٹوٹ گیا ہے۔ اس کا وجود تو ایک پہاڑ کے مانند تھا۔ پھر آج کیوں کر وہ اس طرح ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گیا ہے۔

ڈاکٹر نے انہیں درد سے نجات کے لیے پین کلر اور نیند آور گولیاں دے دی تھیں۔ مگر دور دور تک بھی دوائی کے اثرات دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ نسیم بانو کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں؟ انھیں لے کر کہاں جائیں؟

وہ ان کی شریک سفر تھی۔ زندگی کا آدھے سے زیادہ حصہ ان کے ساتھ گزار چکی تھی۔ حالات کیسے بھی رہے ہوں، اس نے کبھی حرف شکایت بھی زبان پر نہیں لایا تھا۔ وہ سوچنے لگی وہ کیوں کر شہر آئے۔ شہر نہ آتے تو شاید ان کی زندگی کا رخ بھی نہ بدلتا۔ آج اس واقعہ کو پورے تیس برس گزر گئے تھے، جب وہ ان کے ہمراہ گود میں دو ننھے بچوں کو لیے چلی آئی تھی۔ یہ ساری باتیں سوچتے ہوئے اس کا ذہن ماؤف ہونے لگا۔ آنکھوں کے پردے پر دھندلکا سا چھانے لگا۔ اور من کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک واقعہ کسی فلم کی طرح ذہن کے اسکرین پر رقص کرنے لگا۔

وہ اپنے گاؤں میں خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔ پہاڑوں کی اوٹ میں بسا ان کا چھوٹا سا گاؤں سکون کا گہوارہ تھا۔ ہر طرف ہریالی ہریالی تھی۔ انسان تو انسان جانور بھی خوش تھے۔ زندگی کا دائرہ محدود تھا۔ مادی ضرورتیں بھی کم تھیں اس لیے ہر طرف سکون کا راج تھا۔ مگر یہ سکون تادیر قائم نہ رہ سکا اور ایک برس گاؤں میں سوکھا پڑ گیا۔ فصلوں کو چھوڑ پینے کے پانی کے لیے ہاہا کار مچ گئی۔پیاس کے مارے جانوروں کا برا حال ہونے لگا۔زندگی اجیرن ہوگئی۔ لوگ کب تک صبر کرتے رفتہ رفتہ وہ گاؤں سے ہجرت کرنے لگے۔

ایسی ہی ایک شام اسلم مرزا نے نسیم بانو سے کہا۔

بیگم زمین کے جس حصے پر بھی ہم رہتے ہیں ایک عرصہ بعد وہ بھی ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ بن جاتا ہے، جسے کسی صورت چھوڑا نہین جاسکتا ہے مگر کیا کریں اگر جان بچانی ہے تو ہمیں شہر کا رخ کرنا ہوگا۔

عورت جو شروع ہی سے صبر و شکر کا پیکر رہی ہے، اور شوہر کو اپنا مجازی خدا مانتی ہے، کیسے انکار کرسکتی تھی؟ حسرت بھری نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔

دوسرے روز صبح دونوں بچوں کو گود میں لیے کپڑوں کی گٹھری سنبھالے ان کے ہمراہ وہ شہر کی طرف رواں دواں تھی۔

دو تین روز کی تگ و دو کے بعد انھیں شہر کی ایک بستی میں سر چھپانے کو جگہ مل گئی تو انھوں نے راحت کی سانس لی۔ بستی کیا جھگی جھونپڑیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔ جگہ جگہ پانی کے گڑھے مچھروں کی آماج گاہ بنے ہوئے تھے۔ گلیاں اس قدر تنگ اور تاریک تھیں کہ بہ مشکل ہی ہوا کا گزر ادھر سے ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا لوگ یہاں جینے کے بجائے زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ حالات کے آگے سپر ڈالنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔

اسلم مرزا کو ایک کپڑا مل میں کام مل گیا تو انھوں نے بھی حالات سے سمجھوتہ کرلیا اور انھیں لگا کہ زندگی کی گاڑی اب چل پڑی ہے تو شاید منزل پہ جاکر ہی دم لے گی۔ پیٹ کی آگ کو ایندھن مل جائے تو انسان پیر پسارنے لگتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اسلم مرزا کے ساتھ ہوگیا تھا۔

بستی میں ان کی دوستی نارائن راؤ سے ہوگئی۔ جو مل میں مزدوروں کے مسائل کے سلسلے میں پیش پیش رہتا تھا۔ شام کو جب بھی فرصت ہوتی وہ گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مگن رہتے تھے۔ نارائن راؤ کی باتیں بڑی دلچسپ ہوا کرتی تھیں۔

اسلم مرزا گاؤں کا سیدھا سادہ انسان اس کی باتوں کے سحر میں دیر تک کھویا رہتا۔ کچھ کچھ باتیں تو اس کی سمجھ سے بالاتر ہوتیں مگروہ ان پر بھی سر دھنتا اور اس کی ہاں میں ہاں ملاتا رہتا۔

وہ کہتا کہ انسان کو اپنے حقوق کی حصولیابی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے ورنہ یہ بے رحم دنیا اسے کسی طور پر جینے نہیں دے گی۔ ہمارے اسلاف نے جگہ جگہ ہماری رہ نمائی فرمائی ہے۔ بس ذرا نظر اٹھا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ جو بستی ہے جہاں ہم رہتے ہیں کیا یہ انسانوں کی بستی ہے؟

اسلم مرزا حیرت سے اس کا منہ تکتے رہتے۔

ایک دن نارائن راؤ نے اسلم مرزا سے کہا۔

یہ مل مالکان ہیں نا یہ ہمارے دشمن ہیں۔

اسلم مرزا کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں۔ وہ کہنے لگا۔ کیا بات کرتے ہو۔ ان کے ذریعے ہی تو ہماری روزی روٹی چل رہی ہے۔ پھر بھلا یہ ہمارے دشمن کیسے ہوسکتے ہیں۔

اسلم تم نہیں سمجھوگے۔ یہ لوگ ہمارا خون چوستے ہیں۔ ہماری محنت کا بدلہ وہ نہیں دیتے جو دینا چاہیے۔ وہ تو بس اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ اسلم میں چاہتا ہوں کہ سب کو انصاف ملے۔ اس کے لیے ہمیں آگے آنا ہوگا، مزدوروں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا اورمالکان سے اپنا حق حاصل کرنا ہوگا۔

اب مزدوروں کو اکٹھا کرنا ان کے مسائل کو سمجھ کر حل کرنا اس کا معمول بن گیا تھا۔ ڈیوٹی کے ختم ہوتے ہی وہ مزدوروں میں گھرا رہتا۔ اسے محسوس بھی نہ ہوسکا کہ اس کے علاوہ بھی اس کی کوئی ذمہ داری ہے۔ ادھر بیوی بچے اس کی راہ تکتے رہتے۔ دیر رات گئے جب کبھی گھر آتا بھی تو دوچار لقمے زہر مار کر کے نیند کی آغوش میں چلا جاتا۔

دن رات یوں ہی گزرتے رہے۔ وہ دوسروں کی پریشانیاں اور مشکلات دور کرتا رہا مگر اس کی اپنی مشکلات اور پریشانیاں وہیں منہ پھاڑے کھڑی رہیں جہاں پہلے سے تھیں۔

ایک دن صبح جب وہ منہ اندھیرے بغیر ناشتہ کیے گھر سے جانے لگا تو نسیم بانو نے ٹوکتے ہوئے اس سے کہا۔

دیکھئے جی! نارائن راؤ بھی آپ ہی کی طرح مل میں مزدوری کرتے ہیں۔ مگر ان کے حالات ہم سے کتنے الگ ہیں۔ کیا آپ نہیں چاہتے کہ ہم بھی چین کی زندگی گزاریں۔

اسلم ایک لمحہ کے لیے رکا۔ پھر کہنے لگا۔ انسانی زندگی میں مساوات کی بڑی اہمیت ہے۔ میری ساری سرگرمیاں اسی مقصد کے گرد گردش کرتی ہیں۔ کیا تم چاہتی ہو کہ تھوڑے سے عارضی سکھ کے لیے اپنے اصولوں کو قربان کردوں۔

ابھی وہ یونین دفتر میں پہنچا ہی تھا کہ ان کا ایک ساتھی کہنے لگا۔

’’مرزا جی نارائن راؤ مل مالک کی کار میں بیٹھے پتہ نہیں کہاں جا رہے تھے۔‘‘

مرزا نے گردن کو تھوڑی سی حرکت دی۔ اور سوچنے لگے کیا یہ وہی نارائن راؤ ہے۔ جس نے ان کی زندگی میں انقلاب برپا کر رکھا تھا۔ اور پھر سوچتے سوچتے بہت دور نکل گئے۔ پچیس سال پہلے کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔

جب بھی شام کو وہ تھکے ہارے گھر آتے راموں کی چائے کی دکان پر ہی اپنا زیادہ تر وقت گزارتے۔ ان کی باتیں اس قدر گہری اور سنجیدہ ہوتیں کہ آس پاس کے لوگ بھی انھیںبڑے غور سے سنتے۔ ایسے ہی ایک دن وہ نارائن راؤ کے ساتھ بحث میں الجھ پڑے تھے۔ اور کسی صورت نارائن راؤ کی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔

وہ کہنے لگے تھے یہ تو قدرت کے اصولوں کے منافی ہے۔ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ دولت کی مساوی تقسیم ہوجائے۔ وہ نارائن راؤ کو سمجھانے لگے کہ قدرت ہر ایک کو یکساں طور پر کہاں نوازتی ہے پھر یہ دولت جو انھیں وراثت میں ملی ہے یا انھوں نے اپنی محنت سے کمائی ہو کیوں کر بے تعلق انسانوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ اس پر ہمارا حق نہیں بنتا۔ وہ ہمیں ہماری محنت کا معاوضہ دیتے ہیں۔

نارائن راؤ کو جب کوئی جواب نہیں سوجھتا تو وہ پہلو بدل کر کہنے لگتا۔ انسانی زندگی میں دولت کی بڑی اہمیت ہے۔ اور ہمیں کسی بھی طرح اسے حاصل کرنا ہی چاہیے۔ اس کے لیے اپنے اصولوں کو بالائے طاق رکھنا پڑے بھی تو کوئی مضائقہ نہیں۔

وہ حیرت سے اس کا منہ تکتے۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ مساوات کی ڈگر کا یہ راہی تو کسی اور ہی راستے کا مسافر ہے۔ وہ سوچتے کہ انسان کو زندہ رہنے کے لیے کیا چاہیے۔ دو وقت کی روٹی اور بس۔ پھر یہ لوگ دولت کے پیچھے کیوں پڑے ہیں۔ اس سوال کا ان کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا۔

مجھے مساوات کی راہ پر لانے والا بھٹک جائے مگر میں اس راہ سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ بس چلتا ہی رہوں گا۔ اسلاف نے انسانی فلاح کے لیے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔

ان کے سامنے میری حیثیت ہی کیا ہے۔ یہ سوچ کر وہ مطمئن ہوجاتا۔

ماضی کی دنیا سے جب اسلم حال کے سمندر میں غوطہ زن ہوا تو دیکھا نسیم بانو ان کی اس کیفیت سے بے چین ہے۔

اپنی بے چینی کو چھپاتے ہوئے جب اس نے اس کی طرف دیکھا تو قدرے ہمت جٹا کر وہ کہنے لگی۔

دیکھئے۔ میں زیادہ سمجھ دار تو نہیں ہوں لیکن میں نے بھی زندگی کو قریب سے دیکھا ہے اتنا ضرور جانتی ہوں کہ قدرت کے بنائے اصول اور انسانوں کے پیدا کردہ قوانین میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے بے شمار مثالیں ہیں۔ کیا تم نے کبھی دیکھا کہ چرند پرند اور دیگر جاندار انسانوں کی طرح اپنا رزق اٹھائے پھرتے ہیں؟

اسلم مرزا اپنی کم پڑھی لکھی بیوی کی فلسفیانہ باتوں پر چونک پڑے۔ انھیں لگا کہ وہ سرخ و سبز ملبے میں تمیز نہیں کرسکے تھے۔ شاید زندگی کا طویل حصہ گم رہی کی نذر ہوگیا تھا۔

وہ خاموشی کی زبان میں نسیم بانو سے مخاطب تھے۔

اور نسیم بانو کہہ رہی تھی جب آنکھ کھلے تب ہی سویرا سمجھنا چاہیے۔

ادھر اطمینان کی ایک لکیر ان کے چہرے پر نمایاں تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
معین الدین عثمانی

Leave a Reply