ذکر چند عظیم خواتین کا

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سب سے کمسن اور ذہین بیوی تھیں۔ آپ ؓ سے ۲۲۱۰ احادیث مروی ہیں۔ اکثر عورتیں اپنے خصوصی مسائل جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی تھیں تو نبی اکرم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب حضرت عائشہ ؓ کو بتاتے تھے اور آپ عورتوں کو الگ سے سمجھاتی تھیں۔ آپ ؓ لوگوں کو دینی تعلیم دیتی تھیں۔نبی ﷺ کے وصال کے بعد آپ ؓ صحابیوں کو ان کے شکوک کو دور کرنے میں مدد فرماتی تھیں۔

حضرت عمار بن یاسرؓ کی والدہ ، یاسر ؓ کی زوجہ محترمہ حضرت سمیہؓ بنت خباط نے جب اسلام قبول کیا تو ان کا آقا ابوحذیفہ بن مغیرہ مخزومی اور اس کے خاندان والوں نے ان کو سزائیں اور تکلیفیں دینی شروع کیں۔ابو جہل نے انہیںبہت زودوکوب کیا۔اور اتنی تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں کہ حضرت سمیہ ؓ جام شہادت نوش فرما لیا مگر اسلام سے منہ پھیرنے سے انکار کردیا۔ یہ پہلی مسلمان خاتون تھیں جنہوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔

حضرت عمر فاروقؓ کی بہن حضرت فاطمہؓ بنت خطاب ایمان لے آئیں تو حضرت عمر ؓ نے ان کو اس قدر زودوکوب کیا کہ لہو لہان ہوگئیں لیکن اس کے باوجود اپنے مولا سے جو عہد وفاباندھا اس میں کوئی کمزوری نہ آنے پائی۔ اپنے بھائی سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں تو ایمان قبول کرچکی ہوں۔ اب جو چاہے کر گزرو میں اس سے پھر نہیں سکتی۔ اس جواب نے حضرت عمر ؓ کو ایمان لانے پر مجبور کردیا۔

ابوسفیان ایمان لانے سے پہلے اپنی بیٹی ام حبیبہؓکے گھر گئے۔ انہوں نے اپنے باپ کو رسول اللہ ﷺ کے بستر پر بیٹھنے سے منع کردیا۔اور صاف کہہ دیا کہ یہ بستر رسول اللہ ﷺ کا ہے اورکسی مشرک نجس کو اس پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔

رقیہ بنت ابی صیفی ؓ نے مکہ کے نازک ترین دور میں صدائے حق پر لبیک کہا۔قریش نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو آپ ؓ نے ہی نبی ﷺ کوقبل از وقت متنبہ کیاجس سے آپ ﷺ اللہ کے حکم سے راتوں رات مدینہ منورہ ہجرت فرماگئے۔

ایک انصاری صحابیہ امّ عمارہؓ نے جنگ احد میں مردوں کی سی ثبات قدمی اور بے باکی کا مظاہرہ کیا۔ جنگ احد کی ابتداء میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا۔ لیکن بعد میں جب فتح و نصرت نے ان کا ساتھ چھوڑدیا تو آپ نبی اکرم ﷺ کے قریب پہنچ کر آپ ﷺ کی مدافعت میں تیروتلوار چلانے لگ گئیں۔ اسی اثناء میں ایک دشمن نے آپ ؓپر تلوار سے وار کیا اور انہیں کاری زخم لگا۔جنگ احد کے علاوہ انہوں نے خیبر، حنین اور یمامہ کی جنگ میں بھی شرکت کی۔ یمامہ میں لڑتے لڑتے ان کا ہاتھ شہید ہوگیا۔

رومیوں سے مسلمانوں کی جنگ میںعکرمہؓ بن ابوجہل کی بیوی ام حکیمؓ بھی شریک تھیں۔اجنادین کی لڑائی میں عکرمہ ؓ شہید ہوگئے۔چند دن بعد ام حکیم ؓ کی شادی خالد بن سعید ؓ سے ہوگئی۔ابھی لوگ ولیمہ کی دعوت سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ رومیوں کی صف بندی شروع ہوگئی۔جب گھمسان کی لڑائی ہوئی تو ام حکیم ؓ جن پر اب تک عروسی کے آثار نمایاں تھے، وہ تو آپ اپنے خیمے کا ایک ڈنڈالے کر میدان میں کود پڑیں اور دشمن کے سات افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔

اسماء بنت یزیدکے ہاتھ سے جنگ یرموک میں نو رومیوں کی موت ہوئی۔

ایک انصاری خاتون امّ حارثؓ کی ثابت قدمی اور شجاعت کی وجہ سے جنگ حنین میں جب اسلامی فوجوں کے قدم میدان جنگ سے اکھڑ گئے تھے وہ چند باہمت نفوس کے ساتھ پہاڑ کی طرح جمی ہوئی تھیں۔

حضرت انسؓ کی والدہ امّ سلیم ؓ جنگ احد اور جنگ حنین میں ہاتھ میں خنجرلئے ہوئے تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے سبب پوچھا تو عرض کیا کہ اگر کوئی مشرک قریب آئے تو اس سے اس کا پیٹ چیردوں۔

غزوہ خندق میں رسول اللہ ﷺ نے خواتین کو ایک محفوظ مقام پر چھوڑ رکھا تھا۔ اس کے باوجود یہود مسلسل اس کے اطراف چکر لگا رہے تھے۔ان میں سے ایک یہودی خندق کود کر وہاں پہنچیمیں کامیاب ہوگیا۔نبی ﷺ کی پھوپی حضرت صفیہ ؓ نے اس کا سر قلم کردیا اور جہاں دوسرے فتنہ باز تھے وہاں پھینک دیا۔یہ دیکھ کر یہود وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

ربیع بنت معوّذ کا بیان ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد پر جاتی تھیں اور ہماری خدمات یہ ہوتی تھیں کہ مجاہدین کو پانی پلائیں اور زخمی ہونے والوں کو مدینہ پہنچائیں۔ ایک اور صحابیہ جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ غزوات میں شریک ہوئیں بیان کرتی ہیں کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کا علاج معالجہ اور ان کی تیمارداری کرتی تھیں۔

امّ عطیہ ؓ اپنے متعلق فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ کے ساتھ میں نے سات غزوات میںشرکت کی۔ وہاں میں مجاہدین کے سامان کی نگہداشت کرتی ، ان کے لئے کھانا تیار کرتی، زخمیوں کا علاج اوربیماروں کی تیمارداری کرتی۔حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ جنگ احد میں حضرت عائشہ ؓ اور امّ سلیم ؓ نے بھی مجاہدین کی خدمت کی۔ ایک انصاری خاتون امّ سلیم ؓ، حضرت امّ ایمنؓ اور حمنہ بنت جحش ؓ احد کے دن پانی سے بھرے ہوئے مشک اٹھاکر لاتی تھیں۔

طبرانی کی روایت ہے کہ جنگ احد سے مشرکین واپس ہوئے تو خواتین صحابہ کی معاونت کے لئے روانہ ہوئیں۔ حضرت فاطمہ ؓ بھی انہی میں سے تھیں۔ چناں چہ نبی اکرم ﷺ اس دن زخمی ہوئے تو حضرت فاطمہ ؓ نے زخم چٹائی کی راکھ سے بھرا۔

حشرج بن زیاد کی دادی، ابورافع ؓ کی بیوی سلمٰی ؓ، قبیلہ اشہل کی ایک خاتون امّ عامر، ایک انصاری خاتون امّ خلا، کعیبہ بنت سعد ؓ اور پانچ اور عورتیں جنگ خیبر میں شامل تھیں۔ عبداللہ بن زیدؓ احد کے دن مجروح ہوگئے تو ان کی والدہ امّ عمّارہ ؓ نے مرہم پٹی کی ا ور لخت جگر کو تکلیف میں دیکھ کرآرام کرنے اور سستانے کا مشورہ دینے کی بجائے انہیں اٹھ کر اور تلوار لے کر مشرک قوم پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا۔

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو سولی دینے کے بعد حجاج ان کی والدہ اسماءؓ کے پاس گیا اور کہاکہ آپ کے صاحب زادے نے خدا کے گھر میں بے دینی اور الحاد پھیلایا جس کی سزا خدا نے اس کو ددردناک عذاب کی شکل میں چکھائی ہے۔اسماء ؓ نے کہا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ وہ بے دین نہیں تھا۔وہ تو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا، روزے داراور تہجد گزار تھا۔حقیقتاً تم نے اس پر ظلم و زیادتی کی ہے۔ قسم خدا کی نبی اکرم ﷺ نے ہم سے کہا تھا کہ قبیل ثقیف سے دو جھوٹے پیدا ہوںگے۔ اس میں بھی دوسرا پہلے سے بدتر ہوگاکیونکہ وہ ہلاکت و تباہی مچائے گا۔ ثقیف کے پہلے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کو تو دیکھ چکے اوراب دوسرے تم ہو۔

صلح حدیبیہ کے بعد صحابہ کرام ؓ اس صلح نامے سے خوش نہیں تھے کیوں کہ وہ اس صلح کی حکمت سے ناواقف تھے۔اس صلح کی شرائط پر نبی اکرمؐ نے صحابہ کرام ؓ کو حدیبیہ کے ہی مقام پر قربانی دینے اور احرام کھولنے کا حکم دیا مگر اس حکم کی تعمیل کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔نبی اکرم ؐ نے بہت افسوس کے ساتھ حضرت ام سلمہؓ سے ذکر کیا تو انہوں نے صحابہ کی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے انتہائی دانشمندانہ مشورہ دیاکہ آپؐ کسی سے مزید گفتگو نہ فرمائیں بلکہ مراسم کو خودادا کریں تاکہ آپ کو دیکھ کر صحابہ خاموش رہنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسے ہی رسول اللہؐ نے قربانی دی، بال اتروائے اور احرام نکالا تو تمام صحابہ کرام ؓ نے فوراً آپ کی تقلید کی۔اس طرح ایک خاتون کا مشورہ مفید ثابت ہوا۔

جنازہ کی موجودہ شکل کا مسلمانوں میں رواج نہیں تھا۔ حضرت اسماءؓ بنت عمیس نے اس کو حبشہ میں نصارٰی کے پاس دیکھا تھا۔ انہوں نے مشورہ دیا اور وہ قبول ہوگیا۔

ابن سیرینؒ حضرت عمر ؓ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر پیش آمدہ مسائل میں اصحاب الرائے لوگوں سے مشورہ کرتے حتٰی کہ ان مسائل میں سمجھ بوجھ رکھنے والی کوئی عورت ہو تواس سے بھی مشورہ کرتے اور بسا اوقات اس کی رائے میں خیروخوبی کا کوئی پہلو دیکھتے تو اس کو اختیار کرلیتے۔

جس زمانے میں حضرت عائشہ ؓ حضرت عثمان ؓ کے قاتلین سے قصاص لینے کی تیاری کررہی تھیں اپنی تقریر میں فرماتی ہیں: عثمانؓ پر لوگ بے بنیاد الزامات لگاتے اور ان کے اعمال کی عیب گیری کرتے تھے۔اور ہمارے پاس مدینہ آکران گورنروں کے متعلق جو کچھ وہ ہمیں بتاتے، اس سلسلے میں مشورہ کرتے۔ ہم غور کرتے توحضرت عثمانؓ کوہر الزام سے بری ، خداترس اور اپنی ذمہ داریوں کو پوراکرنے والے پاتے اور ان کو فاجر و فاسق، دھوکے باز، جھوٹا اور جو کچھ ظاہر کرہے ہیں اس کے خلاف سعی وتدبیر کرتے ہوئے دیکھتے۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اپنی ایک لونڈی کو حکم دیتے تھے کہ وہ رمضان المبارک کی راتوں کی نماز (تراویح) میں ان کے گھر کے عورتو ںکی امامت کرے۔

ایک جرمن خاتون مروہ الشربینی نے جو بعد میں شہیدۃ الحجاب کے نام سے مشہور ہوئیں اپنے قبول اسلام کے ساتھ ہی اسکارف استعمال کرنا شروع کیا۔وہ صبح کے وقت ہواخوری کے لئے اسکارف پہنے ایک پارک میں داخل ہوئی۔جیسے ہی ایک درندہ صفت یہودی کی نظر اس پر پڑی تو اس یہودی نے اسے اسکارف اتارنے کو کہا۔ اس مجاہد کے قطعی انکار پر اس نے مغلظات کی بارش کردی اور کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا۔کورٹ میں حاضری کے وقت جب جج کے سامنے وہ خاتون اپنے موقف واضح کرنے کے لئے بیان دے رہی تھی وہ ظالم یہودی پوری درندگی پر اتر آیاتھا۔ بھری عدالت میں اس نے جج کے سامنے اپنے ذاتی چھرے سے پے درپے وار کرکے موقع واردات پرہی اس خاتون کو شہید کردیا۔اس کا شوہر اس کی دفاع بھی نہ کرسکا اور خود بھی زخمی ہوگیا۔

اسلام کی تاریخ سے لے کر اب تک عظیم خواتین کی بہت ساری مثالیں ملیں گی مگر مضمون کی طوالت کے خوف سے قلمبند نہیں کیا جاسکتا۔ ان خواتین کی عظمت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کو سمجھ لیا تھا اور اس کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ آج ہمیں بھی اسلام کو اسی طرح گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہماروی خواتین کو چاہیے کہ وہ:

۱۔ روزانہ قرآن کا مطالعہ کریں۔ ہر ایک آیت کا معنی اورمطلب کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب مطلب سمجھ میں آئے تو اس پر سختی سے عمل کریں۔اور پھر اپنے شوہر، بچوں، پڑوسیوں، رشتہ دار، دوست واحباب کوبتائیں اور دعوت کا اہتمام کریں۔

۲۔ اپنے بچوں کو سب سے پہلے دینی تعلیم دیں۔یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب آپ خود دینی تعلیم سے آراستہ ہوں۔

۳۔ دینی اجتماعات کا اہتمام کریں تاکہ دوسرے خواتین بھی اس سے استفادہ کرسکیں۔اپنے استطاعت کے لحاظ سے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں۔

۴۔جہاںجہاں خواتین کو اجتماعات میں شامل ہونے کی سہولت حاصل ہو تو اس میں ضرور شامل ہوں۔

۵۔ دعوت الی اللہ میں حصہ لینے کی کوشش کریں۔ اور مسلموں اور غیر مسلموں کو اپنی ملاقات کے دوران دعوت الی اللہ دیں۔ ۶۔ جو خواتین ملازمت کرتی ہیں وہ اپنی فرصت کے اوقات میں اپنی ساتھی خواتین کو اسلام کی دعوت دیتے رہاکریں۔

۷۔ جب کبھی کسی کو غلط کام کرتے ہوئے دیکھیں تو اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اصلاح کے دوران حکمت، نرمی اور صلہ رحمی سے کام لیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلیم شاکر (چنئی)

Leave a Reply