خواتین پر تشدد کی ممانعت

تاریخ عالم کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ دین اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب عالم میں عورت کی حیثیت جانور سے بھی بدتر تھی۔ دنیائے افق پر جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو جبر و استبداد کی دبیز چادر تار تار ہوگئی۔ ظلم، سفاکیت، تشدد اور ایذا رسانی کے گہرے بادل چھٹ گئے۔ جہاں ایک طرف انسانی زندگی کے دیگر شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں واقع ہوئیں، وہیں دوسری طرف انسانی قہر و غضب او رناانصافی کی چکی میں پستی مظلوم عورت کو بھی عزت و تکریم اور تقدس و احترام ملا۔ اسلام نے اس بات پر زور دیا کہ عورت کو بھی مردوں کی طرح جذبات و احساس کی حامل ہستی سمجھا جائے، اس لیے کہ چند طبعی و فطری استثنائی امور کے علاوہ انسان ہونے کے اعتبار سے عورت اور مرد میں کوئی امتیاز نہیں۔ اس طرح اسلام نے مرد و زن کے حقوق و فرائض میں مساوات قائم کردی۔

یہ اسلام کی برکات ہیںجس نے عورت کو ذلت و رسوائی کے گڑھے سے نکال کر اسے معاشرے کی ایک قابل احترام ہستی کا مقام عطا کیا۔ اسے ماں، بیٹی، بہن اور بیوی جیسے مقدس اور محترم رشتوں کے بندھن میں باندھ دیا۔ قرآنی تعلیمات اور احادیث نبویؐ اور خود رسول کریمﷺ کی حیات طیبہ میں اس کی قابل تقلید مثالیں موجود ہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے اپنی عملی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ عورت ہر حال میں قابل احترام اور محبت کا مرکز ہے اور اس کے ساتھ محبت اور صبر و تحمل کا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔ بلاشبہ اسلام عورت پر ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔ اسلام نے اپنی بیٹی کے قتل کی سختی سے ممانعت کی اور بیٹی کی شفقت آمیز پرورش، تعلیم و تربیت، انصاف پروری اور بلوغت کے بعد خوش اسلوبی سے اس کا نکاح کردینے کی تاکید فرمائی۔ اس کے علاوہ جائیداد میں اس کا حصہ، شوہر پر اس کے حقوق کی ادائگی کو واجب قرار دیا۔ شوہر پر نان و نفقہ اور رہائش مہیا کرنے کی ذمہ داری ڈالی۔ بیوی کے ساتھ محبت آمیز رویہ اور اس کے میکے والوں کی عزت و احترام۔ یہ تمام احکامات اسی لیے دیے گئے کہ انسانیت کی سطح پر عورت، مرد کے مساوی ہے۔

ازدواجی زندگی جس مین شوہر اور بیوی کے درمیان تلخیاں اور تنازعات فطری بات ہیں وہاں بھی آپؐ نے تشدد اور سخت روی سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ دیکھئے حدیث کے الفاظ:

’’عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے، اگر تم اسے سیدھا کروگے تو توڑ ڈالوگے پس اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو تو اچھی زندگی گزرے گی۔‘‘

بعض لوگ پسلی سے پیدا ہونے کا مطلب یہ گردانتے ہیں کہ عورت فطری طور پر ٹیڑھی ہوتی ہے یہ غلط ہے۔ دیکھئے اور غور کیجئے کہ انسانی جسم میں پسلی کا کیا مقام ہے۔ حقیقت میں انسان کے تمام نازک اعضاء کی حفاظت کے لیے وہ ڈھال ہے اگر وہ سخت اور مڑی ہوئی نہ ہو تو دل، جگر اور جسم کے تمام اندرونی اعضاء کو سخت خطرات لاحق ہوجائیں۔

حقیقت میں یہ ایک تعبیر ہے جس طرح قرآن میں فرمایا گیا کہ : ’’انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ (خلق الانسان من عجل)

رسول کریمؐ نے اپنے الوداعی خطبے میں عورتوں کے بارے میں فرمایا: ’’اے لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کیوں کہ وہ تمہاری دست نگر ہیں اور اپنے لیے خود کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ ان کا تم پر حق ہے اور تمہارا ان پر کہ وہ تمہارے سوا کسی اور کو تمہارے بستر پر نہ آنے دیں اور کسی ایسے شخص کو گھر میں نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ ان کی نافرمانی پر ان کو نصیحت کرو۔ تم نے ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے اور ان کی ناموس کو اللہ کے نام پر حلال کیا ہے۔‘‘

اس بے مثال خطبے میں عورت کے اصل مقام و مرتبے کو واضح کر دیا گیا ہے مگر افسوس کہ فکری انحطاط، اخلاقی کجی اور دین سے دوری کے سبب جہاں دیگر احکام الٰہی اور قرآن کی تعلیمات سے رو گردانی مسلمانوں کا وتیرہ بن گیا ہے وہیں عورتوں کے حقوق کا صحیح شعور بھی ذہن سے اوجھل ہوگیا ہے اور مختلف حیلے بہانوں سے عورتوں کے جائز حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے بھی ہے کہ اگر آج کی عورت کے طرزِ زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ موجودہ دور کی عورت نے اسلام کے دیے ہوئے عزت و تکریم کے مقام کو خود اپنے ہاتھوں سے کھو دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو گھر کے معمولات، بچوں کی اخلاقی تربیت، امور خانہ داری اور شوہر کی خدمت کی ذمہ داریاں سونپی تھیں مگر عورت نے اس کو اپنی آزادی پر قدغن سمجھا۔ اسلام نے عورت کو جس مقام و حیثیت، خاندان، معاشرے اور تمدن میں کردار، اعلی و ارفع اصولوں اور اسلامی تعلیمات اور قوانین سے نوازا تھا، عورت نے اس کو قابل اعتنا ہی نہ سمجھا، بلکہ کہ ان اعلیٰ قدروں کو غیر معتبر جانتے ہوئے حقیر و کم تر سمجھ لیا۔

خاندان ایک ایسے خط مستقیم کا نام ہے، جس کے ایک سرے پر مرد اور دوسرے سرے پر عورت کھڑی ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ میں جو خلا ہے، وہ تمام رشتے ناتوں، مرد و عورت کی ذمے داریوں، حقوق و فرائض کا تعین اور مرد و عورت کے کردار و عمل کی حدود سے پر کر دیا گیا ہے۔ یہ تمام حیثیتیں تسبیح کے ان دانوں کی طرح ہیں کہ اگر اس کی ڈور ٹوٹ جائے تو تمام دانے بکھر جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر مرد یا عورت اپنی صحیح حیثیت اور اپنے اصل مقام سے ہٹ کر کسی گم راہ کن فلسفے سے متاثر ہوکر یا اپنے خود ساختہ نظریات کی تکمیل میں اپنی راہ کھو بیٹھے تو اس کی بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
راحیل گوہر

Leave a Reply