مسلمانوں کے معاشرتی مسائل اور ان کا حل

ایک زمانہ تھا جب پوری دنیا گمرہی اور تاریکی میں تھی ،لیکن جب اسلام آیا تو اس نے دنیا کو خدائی روشنی دیجس کی وجہ سے سب سے پہلے مسلمانوں نے ترقی کے منازل طئے کرنا شروع کر دئے۔ایک زمانہ تھا۔ جب اہل یورپ ظلمت بھرے معاشروں میں جیتے تھے اور مسلمانوں کو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کی کتابوں کا ترجمہ کرتے تھے جو ان کی درسگاہوں کی زینت بنتی تھیں۔اس سے بھی نہ بن پڑا تو مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو زبردستی حاصل کرنے کے لئے اندلس (اسپین )پر لشکر کشی کی جس کی تاریخ سے ہر کوئی واقف ہے۔اس وقت اسپین کے ہر مسلمان کے گھر میں چالیس پچاس ہزارکتابیں ہونا معمولی بات تھی گویا ہر گھر لائبریری تھیں۔ اہل یورپ ان کی قیمتی سائنس ،طب اور ٹکنا لوجی کی کتابوں کو لوٹ کر لے گئے اور باقی ماندہ کوجلا کر بحر قلزم میں دریا برد کر دیاجس کا پانی لال رنگ سے سیاہ ہو گیا تھا۔ اسی پر علامہ اقبال نے کہا تھا ع

مگر وہ علم کی موتی کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سے پارہ

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آج مسلمانوں کا درخشاں دور ختم ہو گیا ہے۔کل یورپ کے تاریکی میں ڈوبے ہوئے ماحول میں علم و حکمت کے چراغ روشن کرنے والے آج اپنے گھروں سے تاریکی دور کرنے کے لئے چراغ کے محتاج ہیں۔کل جنہوں نے اپنے کرشماتی ذہنوں کو بروئے کار لاکر مغربی ممالک کو روشنی سے نہلا دیا تھا۔آج وہی اپنے سماج کی تاریکیی کو ختم کرنے کے لئے انہیں ممالک کے محتاج نظر آرہے ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ہمیں جینے کا سلیقہ سکھانے کی بھی بات کرتے ہیں اور ہم بھی ان کے سر میں سر ملاتے ہیں۔وہ ہمیں قومی دھارا میں شامل ہونے کی بات کرتے ہیں اور ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کے لئے ان کی رہبری اختیار کرنے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔مسلمانوں کے سب سے مقدس سر زمین کے حکمراں بھی اہل یورپ اور اہل مغرب کو ہی اپنا قائد ماننے پر مجبور ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا؟اس کا علاج کیسے ممکن ہے ؟آج کل کے دور میں جو حالات ہیں وہ بہت ہی سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔

مسلمانوں کے موجودہ مسائل

مسلمانوں کے موجودہ مسائل میں تعلیمی پس ماندگی اور جہالت سر فہرست ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کی کلیدی حیثیت ہے۔اور جس قوم نے تعلیمی میدان میں قدم آگے بڑھایا اس نے ترقی کی منزلوں کو طے کیا ہے اور جو قوم جہالت کا شکار رہی ہے وہ ہمیشہ پس ماندہ رہی ہے۔

تعلیمی پسماندگی اور جہالت کے علاوہ دوسرا مسلمانوں کا سب اہم مسئلہ فقر و ناداری ہے۔یہ ایک ایسا مرض ہے جو دھیرے دھیرے پورے مسلم معاشرہ کے بدن میں سرایت کر رہا ہے اور اگر جلد اس کا علاج نہیں کیا گیا تو اس کے نتائج بہت ہی سنگین ہونگے اس لئے کہ علم اقتصادیات کے ماہرین کا قول ہے کہ جس معاشرہ کی اکثریت غریب ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی یافتہ سماج کے زمرے میں شامل نہیں ہو سکتا ہے۔ جب تک کہ ہمارے پاس تعلیم نہ ہو یا پھر اپنا کوئی لائحہ عمل نہ ہو۔اس لئے یہ وہم و گمان مسلمان نہ رہیں کہ تعداد میں زیادہ ہونا خوشحال اورترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے۔

تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کا آپسی اختلاف سر چڑھ کر بول رہا ہے۔جب کہ کسی بھی قوم کی بر بادی کیلئے اس سے زیادہ عذاب اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو وہ جہالت اور غربت و افلاس سے جوجھ رہی ہو اور دوسری طرف آپس میں اختلاف و افتراق کا شکار ہو۔وہ چیز جس نے آج مسلمانوں کو بالکل بے بس بنا دیا ہے وہ آپس کا اختلاف ہے۔جبکہ مسلمان وہ ملت ہے جو اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں۔لیکن آج دنیا میں عجب ماحول پر وان چڑھ رہا ہے۔ہر چہار جانب سے اختلاف کی فضا ہموار کی جا رہی ہے ،ملکی ،مسلکی ،تہذیبی ،گروہی گویا کہ اختلاف کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے۔حالات یہ ہیں کہ اختلاف کا فائدہ دنیا حاصل کر رہی ہے اور ہمیں دکھا دکھا کر وہ ہمارے اختلاف سے خوب سے خوب فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہیں اور ہم غربت و افلاس میں جینے پر مجبور ہیں۔ ہمارے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ ملک بدر ہونے پر مجبور ہیں۔لاکھوں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے ،مسلمانوں کے محلے اور شہر خون کی ندیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔مسلمانوں کے محترم جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اجتماعی قبر گاہوں میں دفن کئے جا رہے ہیں، لیکن ہم ہیں کہ اپنی انانیت اور اختلاف کی روش سے ذرہ برابر بھی ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

چوتھی بڑی وجہ مسلم معاشرہ میں بدعت ہے جس کو ہم نے اپنے پورے سماج میں یوں رچا بسا لیا ہے گویا ہمارے لئے کوئی ایسی کتاب نازل ہی نھیں ہوئی جو ہمارے لئے آئین زندگی کی حیثیت رکھتی ہو، جو ہمارے لئے مشعل راہ ہو بلکہ جو کچھ ہے وہ تمام کی تمام وہ چیزیں ہیں جنھیں ہمارا تقلیدی ذہن ہمیں انجام دینے پر اکساتا ہے اور ہم دین سے بے خبر بنا سوچے سمجھے انھیں شریعت کا جز بنا کر انجام دیتے رہے ہیں۔لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ جس جگہ بھی کسی بھی عنوان کے تحت کوئی ایسا نعرہ بلند ہوتا ہے جو ہمیں اچھا لگتا ہو تو فوراً اسے اپنا شعار بنا لیتے ہیں حتیٰ دین میں داخل کرنے سے بھی گریز نھیں کرتے اور بے جا تحلیل اور تفسیر کرکے یہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں کہ یہ چیز تو پھلے سے ہی اسلام میں موجود تھی کوئی نئی چیز نھیں جبکہ اسلام اس طرح کی چیزوں کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتا ہے۔

ان تمام مسائل کو دیکھنے کے بعد ہر احساس رکھنے والا انسان جو ایسے سماج اور معاشرہ سے تعلق رکھتا ہے کہ جس کے اندر لاتعداد ایسے مسائل ہیں جو سماج کو آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں لیکن ان کا کوئی حل کھیں نظر نھیں آرہا، حیران و سرگرداں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبورہیں کہ کل کیا ہوگا؟

یہ چند وہ بنیادہ مسائل تھے جن کو پیش کیا گیا لیکن اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کے مسائل اس سے کھیں زیادہ ہیں جنھیں بیان کیا جاسکے لیکن اگر مسلمانوں کے تمام مسائل کی اصل وجہ ڈھونڈی جائے تو شاید جستجو اور تحقیق کے بعد یھی وجہ کھل کر سامنے آئے گی کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کی اصل وجہ اسلام ،قرآن اور سنت رسول سے دوری ہے اسی لئے کسی اور کے پاس جانے کے بجائے ہم اپنے تمام مسائل کا حل اس ذات کی زندگی کے اندر تلاش کریں جس کی نمونہ عمل زندگی کی ہر سانس زندگی بخش ہے۔

اب تک جن مسائل کا تذکرہ کیا گیا وہ ایسے بنیادی مسائل تھے جن کا تدارک سیرت النبی کی روشنی میں خود باآسانی کیا جاسکتا ہے لیکن چند ایسے مسائل بھی ھیں جن کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں کو متحد کریں،ظالم اور دوست کی پہچان کو یقینی بنائیں اور باطل کی چالوں میں نہ آئیں بلکہ دعوت دین اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کیلئے کوشش کریں تاکہ اسلام کی نعمت سے ایک بار پھر دنیامالامال ہو اور اس کی حقانیت کھل کر عوام الناس میں واضح ہو جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ناصرہ فرحین (مدے بہال)

Leave a Reply